New Age Islam
Sun Sep 19 2021, 11:18 AM

Urdu Section ( 15 Aug 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Mohan Bhagwat’s Plea of Sanity is Welcome موہن بھاگوت کی اعتدال پسندی کی درخواست خوش آئند ہے، لیکن ہندوؤں کا ایک طبقہ پہلے سے ہی اسے ناپسند کر رہا ہے

ارشد عالم، نیو ایج اسلام

7 جولائی 2021

آر ایس ایس سپریمو موہن بھاگوت نے کہا کہ 'ہندو مت اپنی مکالمے کی روایت کے لیے جانا جاتا ہے'

اہم نکات:

·         آر ایس ایس سپریمو موہن بھاگوت کے ہندو مسلم مکالمے کے بیان کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے

·         ان کا یہ بیان ہندوتوا اور ہندوستانی قوم کی نئی تفہیم واضح کرتا ہے

·         لیکن انہیں ہندوؤں کے اس طبقے کو قائل کرنے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑے گا جو پہلے سے ہی ہندوتوا کے مقصد سے غداری کرنے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں

----

جب آر ایس ایس سپریمو کسی بھی موضوع پر بات کرتے ہیں خاص طور پر ہندو مسلم اتحاد پر تو اسے ہمیشہ سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس احتجاج کے باوجود اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آر ایس ایس اس ملک میں ہندوؤں کے ایک بڑے طبقے کے نقطہ نظر کی نمائندگی کرتا ہے۔ حال ہی میں ایک کتاب کی رونمائی کے دوران انہوں نے ہندو مسلم تعلقات کے موضوع پر بحث کی جو کہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر موجودہ سیاسی ماحول میں یقینی طور پر بہت زیادہ غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بیان خاص طور پر خوش آئند ہے کیونکہ یہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ہندو تنظیموں کی جانب سے ملک کے کچھ حصوں میں مسلم مخالف تقاریر معمول بن چکی ہیں۔

Addressing an event organised by the Muslim Rashtriya Manch on the theme 'Hindustani First, Hindustan First', Mohan Bhagwat said that people can't be differentiated on how they worship. (File Photo)

-----

آر ایس ایس سپریمو کی تقریر میں تین اہم نکات ہیں

انہوں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں اور ہندوؤں کا ڈی این اے ایک جیسا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کی بھاری اکثریت ہندو سے مسلمان ہوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس بات کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ہندو اور مسلمان کی اصل ایک ہی اور اس لیے ان کے مابین آگے کا واحد راستہ بات چیت ہونا چاہیے نہ کہ اختلاف۔ دراصل، انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ ہندو مسلم اتحاد کے تصور پر صرف اس لیے یقین نہیں رکھتے کہ یہ دونوں قومیں پہلے سے ہی اپنے نسب کی بنیاد پر ایک ہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے ہندوستان میں مسلمانوں کے موجودہ عدم تحفظ کے سوال پر توجہ نہیں کیا۔ گائے لنچنگ کے معاملے کو سامنے لاتے ہوئے انہوں نے ان ہندوؤں کی مذمت کی جو گائے کے دفاع کے نام پر ایسی گھناؤنی حرکتوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گائے ہندو مذہب میں ایک مقدس جانور ہے لیکن جو لوگ قتل میں ملوث ہیں وہ ہندوتوا پر یقین نہیں رکھتے اور اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے مسائل میں قانون کو اپنا کام کرنا چاہیے۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی اشارہ کیا کہ ہندو گائے محافظوں کے خلاف مقدمات قائم ہیں جو کہ جعلی بھی ہو سکتے ہیں۔

تیسرا اور شاید سب سے اہم نکتہ ہندو مذہب اور قوم کی ان کی وسیع تعریف ہے۔ ایک طویل عرصے سے آر ایس ایس اپنے نظریاتی سرپرست ایم ایس گولوالکر سے متاثر ہو کر یہ کہتا رہا ہے کہ صرف ہندو ہی ہندوستانی قوم ہیں کیونکہ ان کی پنیہ بھومی (مقدس سرزمین) اور پترا بھومی (باپ زمین) دونوں یہاں ہیں۔ اس کے برعکس چونکہ مسلمانوں کی مقدس سرزمین ملک سے باہر ہے اس لیے انہیں ہندوستانی قوم کا حصہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ بھاگوت نے یقینی طور پر ہندوازم کی ایک وسیع تعریف کا راستہ نکالتے ہوئے اس تصور پر نظر ثانی کی ہے اور اسے ثقافت کے بجائے جغرافیائی معاملہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تمام لوگ (بشمول مسلمان کے) جنہوں نے دنیا کے اس حصے میں جنم لیا ہے انہیں ہندو مانا جائے گا۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں جیسی مذہبی اقلیتوں کو ملک کا ایک لازمی حصہ سمجھا جائے۔ یہ آر ایس ایس کے فکری نقطہ نظر میں ایک اہم موڑ ہے اور اس پر وسیع پیمانے پر بحث کی ضرورت ہے۔

بھاگوت کے بیان کا ہر ایک کو اور خاص طور پر مسلمانوں کو خیر مقدم کرنا چاہیے۔ پچھلے کئی سالوں سے وہ ایک مہلک مہم کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے جانیں اور جائیدادیں گنوائی ہیں لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ایک اکثریتی معاشرے سے الگ ہونے کا ایک خاص احساس ان کے اندر آنا شروع ہو چکا ہے۔ مسلمانوں کو ہر اس موقع کا فائدہ اٹھانا چاہیے جو کہ ہندو برادری کے ساتھ بات چیت اور تعاون کے عمل کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ اس تناظر میں موہن بھاگوت کو ان کے 'دوہرے بیان' کے لیے اویسی کی تنقید کا بہتر جواب دیا جانا چاہیے تھا۔ ہندو اور مسلمان مستقل طور پر حالت نزاع میں نہیں رہ سکتے حالانکہ اس ملک میں کچھ قوتیں بالکل یہی چاہیں گی۔

آر ایس ایس سپریمو کے اس بیان کو آئندہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے ایک اعتدال پسند یا سیکولر چہرہ دکھانے کی کوشش نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اس طرح کی وضاحتیں بہت آسان ہیں کیوں کہ موجودہ سیاسی ماحول میں جو کوئی بھی نرمی کے ساتھ مفاہمت کی بات کرے گا اس کا ہندو ووٹ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ اگر بھاگوت نے یوپی انتخابات کو نگاہوں میں رکھ کر بیان دیا ہوتا تو وہ اس کے بالکل برعکس باتیں کرتے۔

ایک وقت تھا جب آر ایس ایس کو ’سخت گیر‘ ہندو جماعت سمجھا جاتا تھا۔ بہت سے ہندوؤں کو اب معاملہ ایسا نہیں لگتا۔ اس ملک میں مسلم مخالف بیان بازیاں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ اب آر ایس ایس بھی ایک اعتدال پسند قوت معلوم ہوتی ہے۔ کچھ سال پہلے یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا کہ ہندو تنظیموں اور افراد میں خود آر ایس ایس سپریمو پر تنقید کرنے کی ہمت ہو گی۔ لیکن موہن بھاگوت کے بیان کے بعد ہمارے سامنے بہت سی ویڈیوز ہیں جن میں ان کے موقف کی زبردست تنقید کی گئی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ آر ایس ایس کے سربراہ ہندوتوا کے بنیادی فلسفے سے بھٹک گئے ہیں۔

مثال کے طور پر غازی آباد میں داسنا مندر کے پجاری نرسنگھانند سرسوتی نے آر ایس ایس سپریمو کو ان کے مفاہمتی موقف کے لیے گالیاں دینے سے بھی باز نہیں آئے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ بھاگوت کا بیان ہندو طاقتوں اور خاص طور پر یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی گرفت کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ سنجے دکشت جیسے افراد جو کہ جے پور ڈائیلاگ کے نام سے ایک سوشل میڈیا چینل چلاتے ہیں انہوں نے بھاگوت کی اس تجویز کا مذاق اڑایا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا ڈی این اے ایک جیسا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو ہمیں پاکستانی یا بنگلہ دیشی گھس پیٹھیوں سے کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ وہ بھی ہندو ہیں۔ واضح طور پر یہ ہندو مزید قدامت پرستی کی طرف چلے گئے ہیں اور اب مسلمانوں کے ساتھ ایک تہذیبی جنگ کے لئے شور مچا رہے ہیں۔ وہ اب آر ایس ایس کو ایک ایسی تنظیم کے طور پر دیکھتے ہیں جو ہندو مفادات کے ساتھ غداری کر سکتی ہے۔

موہن بھاگوت کو اپنی تقریر میں اس قسم کی تنقید کی توقع تھی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ بہت سے ہندو ایسے ہوں گے جو ان کی بات کو پسند نہیں کریں گے۔ لیکن پھر بھی انہوں نے کہا کہ ہندو مت اپنے مکالمے کی روایت کے لیے جانا جاتا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ جو کچھ بھاگوت کہہ رہے ہیں وہ سچ ہو۔ بدقسمتی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ جس روایت کی بات کر رہے ہیں اسے ان کے ماضی کے پیروکاروں نے ترک کر دیا ہے۔ مسلمانوں نے کم و بیش اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے لیکن موہن بھاگوت کو اس ملک کے ہندوؤں کو راضی کرنے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑے گا۔

-----------------------

Related Article:

Mohan Bhagwat’s Plea of Sanity is Welcome; But a Section of Hindus is Already Dissing Him

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/-mohan-bhagwat-hindus-rss/d/125224

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..