New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 08:05 PM

Urdu Section ( 12 Jan 2018, NewAgeIslam.Com)

Making Sense of Afrazul’s Lynching افرازل کے قتل کے مضمرات

 

 

 

 

ارشد عالم ، نیو ایج اسلام

22 دسمبر 2017

ان مناظر کو دیکھ کر دل دہل گیا۔ ایک شخص کلہاڑی سے لیس ، پشت سے دوسرے شخص پر حملہ کرتا ہے اور اس کا قتل کر کے اس کے جسم کو آگ لگا دیتا۔ اور سب سے مہلک امر یہ ہے کہ اس کا ویڈیوں کو ایک چودہ سالہ بچے نے بنایا تھا۔ یہ حقیقت کہ کیمرا اس نوجوان کے ہاتھ میں کوئی حرکت نہیں کیا شاید اس مہلک ترین صورت حال کی غماز ہے جس میں ہم داخل ہو رہے ہیں۔ اس نوعمر لڑکے کا کیمرے کو مضبوطی کے ساتھ تھامنا اس بات کا اشارہ ہے کہ معصومیت والی نسل اب مر چکی ہے۔ قتل کا یہ عمل کیمرے کے لئے انجام دیا گیا تھا۔ یہ ایک کارکردگی تھی۔ افرازل کو ان تصاویر اور اس کے پیچھے مضمر ایک پیغام کی اشاعت کے لئے قتل کیا گیا جس کے لئے افرازل اس حادثے کا شکار ہوا۔ اس کی جگہ کسی اور مسلمان کو بھی آسانی کے ساتھ قتل کیا جا سکتا تھا۔ لیکن بنگال کا ایک مزدور اور غریب مسلم اس کا آسان ہدف تھا کیونکہ اس شہر یا مقامی علاقے میں اس کی گرفت مضبوط نہیں تھی۔ آخر کار شجاعت اور بہادری کی بیان بازی کے لئے قوم پرستی سب سے آسان حیلہ ہے۔

اس حادثے کوکسی پاگل اور مجنوں کے عمل کے طور پر پیش کرنے کی منظم طریقے سے کوششیں کی گئیں۔ ہم سے یہ پوچھا گیا کہ کون ایسا کام کر سکتا ہے۔ تاہم، ‘‘دماغی خلل’’ کا نظریہ ایک مغالطہ آمیز حکمت عملی ہے کیونکہ بعد میں یہ کہا جانے لگا کہ ماضی میں شمبھولال نے کبھی ایسا کوئی کام نہیں کیا ہے۔ اس کے بعد یہ بھی کوششیں کی گئی کہ اسے مسلم قتل کا ایک دوسرا واقعہ نہ سمجھا جائے۔ متعدد اخبارات نے یہ سرخی لگائی کہ انسانیت مر گئی ، جس میں یہ بات فراموش کر دی گئی کہ جس کاقتل کیا گیا تھا اس کا ایک نام اور ایک مذہب بھی تھا۔ سہولت اس حقیقت کو چھپانے میں بھی اپنا ایک کردار ادا کرتی ہے کہ ایک تسلسل کے ساتھ ظالمانہ انداز میں مسلمانوں کو موت کی آغوش میں سلایا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے واقعات راجستھان میں آسانی کے ساتھ انجام دئے جا رہے ہیں جہاں کے وزیر اعلیٰ کی شبیہ لبرل رہ چکی ہے۔

اس ہنگامہ آرائی میں اس حقیقت پر بھی پردہ پڑا رہا کہ اسی طرح کے جرائم کے ملزمین آج آزاد گھوم رہے ہیں۔ بےخووفی ایک ایسی ثقافت ہے جسے ریاستی سطح پر ساز باز کے ذریعہ فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس معاملے میں یہ بالکل واضح ہے کہ عوامی سطح پر قتل کے اس عمل کا مقصد ایک پیغام بھیجنا تھا۔ اس حادثے کے ذریعہ دو مختلف حلقوں کوپیغام پہنچایا گیا: اول انتہاء پسند ہندو اور سبزی خوری کے دعوے کے باوجود مسلمانوں کے خون کے لئے ان کی پیاس اور دوم مسلمان جنہیں ‘‘اوقات’’ میں رہنے کے لئے کہا جا رہا تھا۔

ایک ایسے شخص کے لئے جو نوٹ بندی کی وجہ سے اپنے اسباب زندگی کھو چکا ہے، اس دن افرازل پر اس کا قہر و غضب بے وجہ نہیں تھا۔ اس واقعے کے پہلے اور بعد کا ویڈیو بنانا اور اس کے بعد اسے وسیع پیمانے پر شائع کرنا ایک شدید خطرے کی علامت ہے۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ افرازل اس مکمل منصوبہ بندی کا معمولی حصہ تھا؛ جس کا مقصد ایک پوری کمیونٹی کو لَو جہاد کا مجرم قرار دینا اور یہ باور کرانا تھا کہ مجوزہ سزا صرف افرازل ہی نہیں بلکہ پوری کمیونٹی کے لئے ہے۔ ایک اعتبار سے پوری کمیونٹی کو ہندوؤں نے اس بات کی تنبیہ کی ہے کہ اگر وہ حد سے تجاوز کرتے ہیں تو ان کا بھی انجام یہی ہو گا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ افرازل کسی قسم کے لَو جہاد میں ملوث تھا یا نہیں، بلکہ فرق صرف اس ذہنیت سے پڑتا ہے جو مسلم کمیونٹی کے خلاف ہندوؤں کے ایک طبقہ میں پیدا کر دی گئی ہے۔ کسی بھی مضبوط بنیاد سے مکمل طور پر خالی مطلق نفرت اور متشدد نظریات پر مبنی اس معاملے کی کئی جہتیں ہیں۔ جبکہ ہمیں اس معاملے میں صرف وہی آوازیں سنائی دے رہی ہیں جو ملزم کی برأت کی حمایت میں اٹھ رہی ہیں جس سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے کے اندر کوئی چیز انتہائی متعفن ہو چکی ہے۔

شمبھولال نے 6 دسمبر کو یہ خوفناک عمل انجام دیا اور یہ علامتی حادثہ صرف ایک اتفاق نہیں ہوسکتا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بابری مسجد 6 دسمبر کو منہدم کی گئی تھی جس دن کو ہندو قوم پرست شوریا دیوس یعنی فتح کے دن کے طور پر مناتے ہیں۔ مسلمانوں کو قتل کرنے سے زیادہ اس فتح کی یاد میں خراج تحسین اور کیا ہو سکتا ہے؟ یقینا، اسی طرح کی مماثلت یہیں ختم نہیں ہوتی۔ بابری مسجد بھی تن تنہا کھڑی تھی اور اسی طرح افرازل بھی شہر میں اکیلا تھا اور اپنی کمیونٹی اور اپنے جان پہچان کے لوگوں سے دور تھا۔ قابل ذکر امریہ بھی ہے کہ 6 دسمبر لاکھوں ہندوستانی اقلیتوں کو بااختیار بنانے کا بھی دن ہے۔ قوم پرست ہندوؤں نے ہمیشہ اقلیتوں کو وسیع ترین ہندو دائرے میں لانے کی کوشش کی ہے۔ ہم نے اس کا مشاہدہ بابری مسجد انہدام کے معاملہ میں اس کے بعد گجرات میں کیا اور اب راجستھان میں اس کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایک اقلیت کے لئے اس سے ہندو سماجی نظام کو تسلیم کرنے کا موقع فراہم ہوتا ہے۔

جو لوگ اقلیتی مسلم شناخت کی بات کرتے ہیں ہمیشہ اس حقیقت کو فراموش کرتے ہیں کہ مختلف اقلیتی برادریوں کی خاموشی کے ساتھ ہندوکاری کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف مسلمانوں نے کم و بیش ادنی طبقے سمیت تمام اقلیتوں سے احتراز کیا ہے، اس کی وجہ متشدد تعصب اور ذات پسندانہ رویہ ہے۔ مسلمانوں اور اقلیتوں کے درمیان ایک مکالماتی تعلق کے فقدان کی وجہ سے قوم پرست ہندوؤں نے اقلیتوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے اور ان میں قوم پرست نظریات منتقل کرنے کے لئے سخت محنتیں کی ہیں۔ عام طور پر، کسی کو قوم پرستی سےکوئی پریشانی نہیں ہونی چاہئے۔ تاہم، ہماری قوم پرستی کا مخصوص نظریہ مسلم مخالف نظریات اور طرز عمل کا مترادف ہے۔ آج مسلم اقلیت کے خلاف ایک متوسط اقلیت اتنا ہی سخت مسلم مخالف ہے جتنا ہندو قوم پرست کے زیر اثر کسی سے توقع کی جاتی ہے۔

سب سے زیادہ پریشان کن پہلو اس معاملے میں یہ ہے کہ میڈیا نے اس حادثے کو کسی پاگل اور مجنوں کی کارستانی قرار دینے کی کوشش کی تھی۔ اس امر پر کوئی بات نہیں کی گئی کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے والے نظریات کو اس کے لئے ذمہ دار کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ اس پر کوئی بحث نہیں ہوئی کہ یہ کس طرح ایک مسلمان کا ایک منصوبہ بند قتل تھا۔ اور اس امر پر کوئی بات چیت نہیں کی گئی کہ کس طرح اس قسم کی ہلاکت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک قاتلوں یا ممکنہ قاتلوں کو قانون کی گرفت سے اپنی آزادی کا یقین رہے گا۔ معتمد ذرائع یہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ کچھ ہندو قوم پرست شمبھولال کے خاندان کے لئے پیسہ جمع کر رہے ہیں اور دیگر اس کی قانونی مدد کے لئے تیار ہو رہے ہیں۔ اس سے ہمیں یہی معلوم ہوتا ہے کہ نفرت کا وائرس ہندوؤں کے ایک طبقے میں اپنی جڑ مضبوط بنا چکا ہے اور اکثر لوگ اسے انتقام کا ایک درست عمل مانتے ہیں۔

سوشل میڈیا اور دوسری جگہوں پر افرازل کے لئے غم و افسوس کا زبردست اظہار کیا جا رہا ہے۔ تاہم، دوسرے معاملات میں ہم نے جو مشاہدہ کیا ہے وہ اس سے قریب بھی نہیں ہے۔ یہ بہت مایوس کن ہے مگر سچ ہے کہ ہم ایک ایسے وقت میں زندگی گزار رہے ہیں کہ جب مسلمانوں کی زندگی دوسروں کی زندگی سے ارزاں ہے۔ افرازل کے قتل کے خلاف احتجاج کا اہتمام کرنے والوں کو بھی اس بات پر یقین نہیں ہے کہ اسے مسلم شناخت کے خلاف ایک مخصوص نفرت انگیز جرم کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔ گویا کہ وہ سیاسی طور پر درست ہونے کے لئے اپنی مہم میں یہ نعرہ بلند کر رہے ہیں کہ – ہر زندگی قیمتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ احتجاج خاص طور پر مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے اس کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ ان دوسروں کے لئے بھی ہے جن کا یہی حشر ہو رہا ہے۔

میں یہاں ایک تنبیہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔ میرا کہنا یہ نہیں ہے کہ کسی کو ہر قسم کے قتل اور ہر قسم کے ظلم و تشدد کے خلاف احتجاج نہیں کرنا چاہئے۔ بلکہ اس تناظر میں کہ مسلمانوں کی زندگی محض مسلم ہونے کی وجہ سے معمولی ہوچکی ہے ؛ افرازل کے قتل کے خلاف احتجاج میں پوری بے باکی کے ساتھ یہ بیان دیا جانا چاہئے تھا۔ توازن پیدا کرنے کی کوشش میں ان مظاہروں نے صرف اس منصوبہ بند قتل کے فاسد نظریاتی کی شدت کو کم کیا ہے۔ اس میں تھوڑی اچھی بات یہ تھی کہ ان میں سے کچھ احتجاج ان لوگوں نے منعقد کئے تھے جنہوں نے نندیگرام اور سنگھ میں مسلمانوں کے قتل کا دفاع کیا تھا۔ اگر ہندو قوم پرستی کا احیاء مسلمانوں کی لاشوں پر کیا جانا ہے تو پھر خود مسلمانوں کو ہی بربریت کے خلاف احتجاج میں سب سے آگے ہونا چاہئے اس لئے کہ آج ہندوستان میں مسلمان ہونے کا درد صرف ایک مسلمان ہی محسوس کر سکتا ہے۔

URL: http://www.newageislam.com/islam-and-politics/arshad-alam,-new-age-islam/making-sense-of-afrazul’s-lynching/d/113660

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/arshad-alam,-new-age-islam/making-sense-of-afrazul’s-lynching-افرازل-کے-قتل-کے-مضمرات/d/113914

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..