New Age Islam
Sat Sep 18 2021, 05:42 AM

Urdu Section ( 6 Aug 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Madrasas: Islamic or Sectarian? مدارس اسلامیہ: اسلامی یا فرقہ پرست؟

ارشد عالم، نیو ایج اسلام

26 جولائی 2021

ایک دوسرے کو جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے انہیں نظریات کے تنوعات کو قبول کر لینا چاہیے

اہم نکات:

•         فرقہ وارانہ تقسیم مدارس اسلامیہ کے اندر بڑی گہری ہے

•         اس کی جھلک درس حدیث، کتب اور یہاں تک کہ قانونی انتظامات میں بھی ملتی ہے

•         عام مسلمانوں کو پھر سے اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا انہیں اس طرح کے فرقہ وارانہ ایجنڈوں کا مالی تعاون جاری رکھنا چاہئے

 ----

اگر آپ کسی بھی عالم دین سے مدرسوں اور مسلمانوں کی زندگی میں ان کے تعاون کے بارے میں بات کریں تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ اس ادارے کا کردار کتنا بنیادی رہا ہے۔ ان کے لیے مدارس کا وجود اسلامی روایت کی بقاء کے لئے جزو لاینفک ہے؛ ان کے بغیر اسلام کا نور بجھ جائے گا۔ اس طرح کے پاکیزہ دعوے اکثر اس حقیقت کو چھپا دیتے ہیں کہ لفظ اسلام سے ان علماء کی جو مراد ہے وہ خود محل نزاع ہے۔ زیادہ تر علماء کسی ایک مکتب فکر سے منسلک ہوتے ہیں لہٰذا، اسلام کی دعوت سے ان کی مراد اسلام کے اندر ایک خاص مسلک لیا جانا چاہیے۔

عام طور پر اس سے کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ تمام مذاہب کے اندر مختلف مکاتب فکر ہوتے ہیں۔ اس لیے تنوع بہت سے مذاہب کا ایک بنیادی عنصر ہے۔ لیکن ان تنوعات کا اسلام میں ایک مختلف مفہوم ہے خاص طور پر جنوبی ایشیاء میں۔ یہاں داخلی کشمکش اتنی تیز ہے کہ ایک مسلک دوسرے کی حقانیت کو رد ہی نہیں کرتا بلکہ ان میں سے ہر ایک تنہاء حقانیت کے دعویدار ہیں۔ جب علماء اسلامی تشخص کی بات کرتے ہیں تو درحقیقت ان کے ذہن میں ان کی اپنی مسلکی شناخت ہوتی ہے۔

مدارس وہ ادارے ہیں جنہیں علماء نے اپنے افکار و نظریات کی ترویج و اشاعت کے لئے قائم کیا تھا۔ اس لیے یہ ادارے جو کہ اسلام کی نمائندگی کا دعوی کرتے ہیں، اس فرقہ وارانہ افکار و نظریات کی ترویج و اشاعت کرتے ہیں۔ ہندوستان میں تقریبا تمام مدارس (کچھ ریاستی امداد یافتہ کو چھوڑ کر) نجی عطیات سے قائم کئے جاتے ہیں اور اس طرح اپنے بانیان کے افکار و نظریات کا آئینہ دار ہوتے ہیں۔ اگر بانی مدرسہ دیوبندی ہے تو مدرسہ اپنی تعلیم اور درس و تدریس سے اسی نظریہ کی اشاعت کرے گا۔ اگر بانی بریلوی ہے تو وہ مدرسہ دیوبندیوں کے نظریات کی تردید میں اپنی توانائی صرف کرے گا۔ اور خدا نہ کرے اگر بانی اہل حدیث ہو تو وہ مدرسہ دیوبندیوں اور بریلویوں دونوں کے افکار و نظریات اور عقائد و معولات کا رد کرے گا۔ مورخ جارج ماکدیسی شاید بجا طور پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مدارس شروع سے ہی فرقہ وارانہ رہے ہیں: الازہر کو فاطمیوں نے شیعہ نظریات کی تبلیغ و اشاعت کے واضح مقصد کے ساتھ قائم کیا تھا۔

ہندوستانی تناظر میں مدارس ایسا کرنے کے لیے مختلف حکمت عملی اپناتے ہیں۔ مثال کے طور پر اس کا طریقہ علم غیب پر بحث و مباحثہ ہو سکتا ہے۔ بریلوی مدرسے اپنے طالب علموں کو یہ تعلیم دیتے ہیں کہ نبی محمد ﷺ پہلے سے ہی یہ جانتے تھے کہ کون جنت میں جائے گا اور کون جہنم میں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ از اول تا آخر نبی ﷺ کو ہر چیز کا علم تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی استاذ اپنے طلباء کو یہ بھی بتائے گا کہ اس ’’سچ‘‘ کی مخالفت میں دیوبندیوں کا ماننا یہ ہے کہ نبی کے پاس یہ خاص اختیار نہیں تھا۔ تاہم، ایک دیوبندی مدرسے میں یہی بحث ایک مختلف نتیجہ دے گی۔ وہاں طلباء کو یہ تعلیم دی جائے گی کہ علم غیب صرف خدا کے پاس ہے اور بعض اوقات یہ علم نبی ﷺ کو صرف کچھ وقت کے لیے عطا کیا جاتا تھا۔ استاذ اس بریلوی عقیدے کو بکواس سمجھ کر رد کر دیگا۔

صرف رسمی نصاب ہی نہیں بلکہ مدارس کے 'خارجی مطالعہ' میں شامل مشہور کتب سے بھی گہرے فرقہ وارانہ نظریات کی اشاعت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر بریلوی مدرسوں میں دو مشہور کتابیں زلزلہ اور دعوت انصاف مروج ہیں۔ ان دونوں کتابوں کے مصنف علامہ ارشد القادری (2002-1925) ہیں جو ایک ممتاز بریلوی مدرسے سے فارغ التحصیل ہیں۔ طارق رحمان ذکر کرتے ہیں کہ یہ دونوں کتابیں صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پاکستان میں بھی مقبول عام ہیں۔ یہ کتابیں ایک استغاثہ کے طور پر لکھی گئی ہیں جن میں علامہ قادری برصغیر کے مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ حق و باطل کا خود فیصلہ کریں۔ یہ کتابیں واضح طور پر یہ بتاتی ہیں کہ دیوبندی 'سچے' مسلمان نہیں ہیں کیونکہ وہ نبی کی 'توہین' کرتے ہیں۔ ان جیسی کتابوں کو پڑھ بریلوی مدارس کے طلباء یہ سیکھتے ہیں کہ مسلمان اور اسلام کے 'حقیقی' دشمن دیوبندی ہیں۔ بریلوی مدارس میں یہ بات مشہور ہے کہ 'چونکہ دیوبندی متقی نظر آتے ہیں اور اسلامی اصولوں کے پابند ہوتے ہیں اس لیے وہ اور بھی خطرناک ہیں کیونکہ کوئی بھی انہیں اسلام کے بنیادی اصولوں پر غلط نہیں کہہ سکتا'۔

دوسری طرف دیوبندی مدرسوں کے اندر یہ بات پختہ یقین کے ساتھ کہی جاتی ہے کہ بریلویوں کو مسلمان کے بجائے ہندو کہنا زیادہ بہتر ہوگا کیونکہ وہ مزاروں پر حاضری دیکر شرک کرتے ہیں۔ دیوبندی اور بریلوی دونوں ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہیں جس کے مطابق حضرت محمد ﷺ نے یہ پیشن گوئی فرمائی تھی کہ اسلام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ایک ایسی قوم سے پیدا ہوگا جو مسلمانوں کی بود و باش اختیار کریں گے اور کثرت کے ساتھ نمازوں کا اہتمام کریں گے لیکن در حقیقت وہ اختلاف و انتشار برپا کرے گی۔ بریلوی عام طور پر موجودہ دور کے دیوبندیوں کو وہ قوم قرار دیتے ہیں جبکہ دیوبندی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ قوم بریلوی ہے۔

اس طرح کی گہری فرقہ وارانہ تقسیم صرف علمی و فکری دائرے تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ اس قدر اہم ہے کہ مدارس اپنے ضمنی قوانین میں بھی اس کی وضاحت کر دیتے ہیں۔ شمالی ہندوستان کے ایک بڑے بریلوی مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم کو ہی دیکھ لیں، اس کے دستور میں ایک حصہ ہے جسے غیر متبدل اصول کہا جاتا ہے، اس کے تحت واضح طور پر یہ مندرج ہے کہ ’چپراسی سے لیکر ناظم اعلی تک اس مدرسے کے تمام عہدیداروں کا اہل سنت و جماعت کا پیروکار ہونا ضروری ہے‘، مزید اس میں ہے کہ 'اگر کسی وجہ سے یہ مدرسہ کسی غیر سنی کے ہاتھ میں چلا جائے تو ہندوستان میں کہیں سے بھی کسی بھی سنی (بریلوی) کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ اس مدرسے کو دوبارہ سنیوں کے ہاتھوں میں واپس لانے کے لیے عدالت جائے‘۔

مزید یہ کہ اس مدرسے کی ورکنگ کمیٹی مندرجہ ذیل عہد کرتی ہے: میں ایک سچا سنی مسلمان ہوں اور میں حسام الحرمین کے ہر لفظ کی تصدیق کرتا ہوں۔ اب حسام الحرمین کیا ہے؟ یہ ایک متنازعہ فیہ کتاب ہے جسے 1906 میں بریلوی مفکر امام احمد رضا خان نے لکھا تھا۔ یہ بنیادی طور پر دیوبندیوں اور وہابیوں کے رد میں فتووں کا مجموعہ ہے۔ اسی کتاب میں امام احمد رضا خان نے دیوبند کے بعض علماء اور دیوبند مدرسے سے وابستہ کسی بھی شخص پر کفر کا فتویٰ دیا تھا۔ اس بات کو واضح کرنا ضروری ہے کہ عام طور پر ایک مسلمان قرآن پر حلف لیتا ہے لیکن یہاں عہد ایک ایسی کتاب پر لیا جاتا ہے جو انتہائی فرقہ پرست اور تفرقہ باز ہے۔ اس سے ہمیں ان مدارس کے اندر فرقہ وارانہ شناخت کی جڑوں کی گہرائی کا ندازہ ہوتا ہے۔

لہٰذا، کیا ان مدارس کو اسلامی کہا جائے یا پھر انہیں فرقہ وارانہ ادارے قرار دیا جائے؟ یا کیا ہم یہ مانتے ہیں کہ اسلام کو صرف مسلک کی عینک سے ہی سمجھا اور تجربہ کیا جا سکتا ہے؟ عام مسلمان جو ان مدارس کو فنڈ دیتا ہے شاید اس بات سے واقف نہ ہو کہ اس کے وسائل فرقہ وارانہ نظریات کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ مدارس فرقہ واریت کی یہ دیواریں گرا دیں؟ ایک دوسرے سے ٹکرانے کے بجائے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ایسے بہت سے طریقے ہیں جن کے ذریعے اسلام کو سمجھا اور سراہا جا سکتا ہے؟

-------------------

Related Article:

Madrasas: Islamic or Sectarian?

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/madrasas-sectarian-islamic-/d/125188

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..