New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 02:37 AM

Urdu Section ( 27 Dec 2017, NewAgeIslam.Com)

ISIS in India? کیا یہ ہندوستان میں داعش کی آمد کی دستک ہے؟

 

 

 

 

ارشد عالم ، نیو ایج اسلام

10 مارچ 2017

اتر پردیش میں ایک ٹرین میں حالیہ دھماکے اور اس کے بعد اتر پردیش اور دیگر علاقوں میں ہونے والی گرفتاریوں سے ایک بار پھر ہندوستان میں داعش کی موجودگی پر بحث و مباحثہ کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس بحث و مباحثے کی نوعیت صرف منطقی اور دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ اس طرح کے دہشت گردانہ سرگرمیوں کے جڑی وجوہات کو بھی شامل ہے۔ اگر اس مبینہ حادثہ کو واقعی داعش نے ہی انجام دیا ہے تو ہمیں اس سے پریشان ہونے کے لئے متعدد وجوہات ہیں۔ ہمیں مکمل طور پر پرامن 'مسلم' روایت پر دوبارہ غور و فکر کرنے اور یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان کے اندر کس طرح بنیاد پرستی کا عنصر شامل ہو رہا ہے۔ لیکن موجودہ حقائق کے پیش نظر شاید ابھی ایسی تنبیہ کی ضرورت نہیں ہے۔ جبکہ دوسری طرف ہمیں مطمئن ہونے کی بھی کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ دہشت گردی کا ارتکاب کرنے کے لئے پورے ہندوستانی مسلمانوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ صرف مٹھی بھر چند لوگ ہی اس کام کو انجام دے سکتے ہیں لہٰذا ہمیں ایک معاشرے کے طور پر ایسے امکانات سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

اب تک موجودہ حقائق اتنے واضح نہیں ہیں کہ اس کا سررشتہ داعش کے ساتھ جوڑا جائے۔ ٹرین دھماکے کی ابتدائی رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر سکتا ہے کہ یہ حادثہ بجلی شارٹ سرکٹ کی وجہ سے پیش آیا ہو۔ لیکن اس کے باوجود مبینہ طور پر لکھنؤ میں ایک داعش کے دہشت گرد کو گرفتار کیا گیا ہے اور کچھ دیگر دوسرے افراد کی گرفتاری اتر پردیش اور مدھیہ پردیش کے متعدد مقامات سے بھی عمل میں آئی ہے لیکن پولیس اب تک ان کا تعلق ان دھماکوں کے ساتھ ثابت نہیں کر سکی ہے۔ ریکارڈ میں ابھی تک کچھ بھی ایسا نہیں آ سکا ہے جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ ٹرین دھماکے میں وہی افراد شامل ہیں جنہیں گرفتار کیا گیا ہے۔ اور نہ ہی پولس ابھی یہ بتانے کی پوزیشن میں ہے کہ سیف اللہ کہ جس کا قتل لکھنؤ میں ہو چکا ہے ، مدھیہ پردیش میں پیش آنے والے ٹرین حادثے سے کسی بھی طرح جڑا ہوا تھا۔ ہمیں ابھی صرف یہی معلوم ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ دو علیحدہ واقعات ہوں اور ان کا ایک دوسرے کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو۔ تاہم یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے۔ اگر چہ ان دونوں واقعات کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہیں ، لیکن یہ دونوں واقعات سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور ابھی ان ہتھیاروں کے بارے میں معاملہ واضح ہونا باقی ہے جو مقتول دہشت گرد سیف اللہ کی جگہ سے برآمد ہوئے ہیں۔ مکمل تحقیقات کے بعد ہی یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ ہتھیار کیسے حاصل کئے گئے تھے اور ان کا مقصد کیا تھا۔

لیکن پھر جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ ہمارے بعض سیاست دانوں اور پولیس افسران کے درمیان صبر کا مکمل فقدان ہے۔ مدھ پردیش کے وزیر اعلی نے ہی چند گھنٹوں کے اندر یہ دعوی کر دیا کہ ان حملوں میں ہندوستان کے اندر سرگرم عمل داعش کارکنان کا ہاتھا ہے اور انہیں اس کی ہدایات براہ راست شام سے موصول ہو رہی تھیں۔ چونکہ داعش پہلے سے ہی شام میں سرگرم عمل ہےاسی لئے یہ بات کچھ حد تک غیر معقول معلوم ہوتی ہے لیکن ریاست کے وزیراعلی کا بیان ہونے کی وجہ سے لوگوں نے اسے سنجیدگی سے لیا۔ پولیس فورس کے کچھ ارکان شیوراج سنگھ چوہان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے معلوم ہو رہے تھے ، لیکن اس کے بعد سینئر پولیس افسران نے اس بیان کی تردید کی۔ یوپی پولیس کے مطابق اس معاملے کی حقیقت یہ سامنے آئی ہے کہ گرفتار کئے گئے اور مارے جانے والے افراد کا تعلق ایک ایسے نیٹ ورک سے ہے جو دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دینے کے لئے پر عزم ہے۔ لیکن پولیس نے واضح طور پر اس بات سے انکار کیا ہے کہ ان کا کوئی بھی تعلق داعش سے ہے۔ بلکہ ان کی ماننا یہ ہے کہ یہ آن لائن مواد سے بنیاد پرستی کا شکار ہونے والی داعش سے متاثر کوئی ایک علیحدہ جماعت ہو سکتی ہے۔ مختصر یہ کہ ابھی تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ جس سے یہ معلوم ہو کہ انہیں شام میں داعش سے ہدایت یا مالی معاونت حاصل ہو رہی تھی۔

اس معاملے میں ذرائع ابلاغ کی پیش قدمی در اصل کسی کے لئے بھی فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکی۔ ہندوستان میں 'داعش' پر میڈیا کے بھڑکاؤ بیان اور تحقیقاتی ایجنسیوں کی جانب سے مبینہ دہشت گردوں کی پروفائل کی تحقیقات شروع ہونے سے قبل ان کے اس نتیجہ پر پہنچنے سے صرف ہندوستانی آبادی کے ایک طبقے کے بارے میں منفی جذبات کو فروغ ملا ہے۔ مزید ایسا اس لئے بھی ہوا کہ اسی میڈیا نے اس وقت دانستہ طور پر مکمل خاموشی کا مظاہرہ کیا جب بی جے پی کے مدھیہ پردیش یونٹ کے کچھ اراکین کے مبینہ طور پر داعش کے ساتھ روابط منظر عام پر آئے تھے یا جب اجمیر دھماکے کیس میں آر ایس ایس کے کچھ ارکان کو مجرم قرار دیا گیا تھا۔ یہ منافقت صرف اس تصور کو مضبوط کرتی ہے کہ میڈیا متعصب ہے اور یہ ایک ایجنڈے پر کاربند ہے جس سے مسلم برادری کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

کچھ مبصرین کا یہ بھی دعوی ہے کہ چونکہ اس واقعہ کا کوئی تعلق داعش کے ساتھ نہیں ہے، لہٰذا اس کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایسے اطمینان پر بھی سوال اٹھانے کی ضرورت ہے۔ یہ حقیقت خاص طور پر مسلمانوں کے لئے فکر کا باعث ہونی چاہئے کہ پولیس نے ایک بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا ہے اور یہ کہ جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان کا منصوبہ تباہی اور تشدد پھیلانے کا تھا۔ اگر داعش نہیں تو وہ کسی دوسرے دہشت گرد گروہ کے رکن ہوسکتے ہیں۔ اگر وہ کسی بھی دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ مسلم معاشرے میں ایسے نظریات کو فروغ پانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے اور ہر وقت اس کے امکانات کو مسترد کرنے کی بجائے اس کے بارے میں مسلم معاشرے کو کچھ کرنا ضروری ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ جب ہندوستان میں داعش کی موجودگی کے بارے میں خدشات سامنے آئے ہیں۔ ہندوستان کے دیگر حصوں سے ثبوت کے ساتھ کچھ رپورٹیں ایسی بھی آئی ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح کچھ مسلمانوں کو آن لائن بنیاد پرست بنایا گیا ہے اور شام جانے کے لئے کچھ لوگوں نے اپنی مرضی کا بھی اظہار کیا ہے۔ یہ دلیل بے معنیٰ ہے کہ یہ کچھ مسلمان ہی ہیں ۔ کیونکہ دہشت گردانہ کے حملوں کو انجام دینے کے لئے صرف چند لوگوں کی ہی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے بعد کی داستان سب پر منطبق ہوتی ہے۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/arshad-alam,-new-age-islam/isis-in-india?/d/110357

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/arshad-alam,-new-age-islam/isis-in-india?--کیا-یہ-ہندوستان-میں-داعش-کی-آمد-کی-دستک-ہے؟/d/113718

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..