New Age Islam
Wed Apr 14 2021, 09:08 AM

Urdu Section ( 22 Nov 2017, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

How to Make Sense of the Saudi Purge سعودی پارسائی کا مطلب کیا ہے




ارشد عالم، نیو ایج اسلام

13 نومبر 2017

سعودی سیاست میں بہت عجیب و غریب باتیں رونما ہو رہی ہیں۔

عرب شہنشاہیت کے وارث محمد بن سلمان نے حکومت کے انسداد بدعنوانی کاروائی میں اپنی ہی سلطنت میں شریک اپنے رشتہ داروں اور دوسرے بااثر لوگوں جیل بھیج دیا ہے۔ ایک ایسی ریاست میں جہاں ذاتی ملکیت اور قومی دولت کا مطلب ایک ہی ہے ، بدعنوانی کے خلاف اس جنگ کو سمجھنا ایک مشکل امر ہے، خاص طور پر ایسی صورت حال میں کہ جب شاہی خاندان کے ارکان کی سرگرمیاں حکومتی قوانین کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔

لیکن صرف یہی ایک جنگ نہیں ہے جسے محمد بن سلمان نے شروع کیا ہے۔ انہوں نے یہ عہدہ سنبھالتے یمن میں ریاستی دہشت گردی کی ظالمانہ مہم شروع کر دی ہے جہاں ہزاروں خواتین اور بچوں کی موت یا تو ہو چکی ہے یا وہ موت کے منھ میں جا رہے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں بطور وزیراعظم لبنان کے ایک سعودی جاگیردار سعد حریری کے استعفی کا انتظام کیا ہے جو کہ ایک ایسا اقدام ہے جس میں سعودی کا ہاتھ ظاہر ہو چکا ہے اس لئے کہ اس کا اعلان ایک سعودی اتحادی ٹیلی ویژن پر سعودی عرب میں کیا گیا تھا۔ ان تمام معاملات کے درمیان انہوں نے بحرین کی طرح قطر کو بھی اپنا ایک ضمیمہ بنانے کی کوشش کی لیکن قطر نے مزاحمت کی اور واضح طور پر اس چھوٹے ملک کے خلاف یہ سعودی محاصرہ قطر کو ملنے والی متعدد امداد کی بنا پر دھواں ہو گیا۔

یہاں تک کہ شام میں جنگ کی صورت میں سعودی پرنس اسد کو اقتدار سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہو سکے جزوی طور پر اس کی وجہ اسد حکومت کو روس اور ایران سے موصول ہونے والی حمایت ہے۔ اور اسی طرح سعودی پرنس کے تمام تر تدبیری اقدامات ناکام ثابت ہوئے۔ اگر ان سب کا مقصد شیعہ اثرورسوخ کو توڑنا تھا تو یہ مکمل طور پر ناکام رہا۔ اب ایران پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہے اور اپنے اس رقیب کو خاموش کرنے میں سعودیوں کو ابھی اور وقت درکار ہے۔

لبنان میں رونما ہونے والے واقعات اس حقیقت کی طرف غماز ہیں کہ ایران کا مقابلہ اور اسے جنگ پر مجبور کرنے کے لئے محاذ قائم کئے جا رہے ہیں۔ شیعوں کے تئیں اپنی اندھی نفرت میں سعودی عرب حزب اللہ کے اثر و رسوخ والے لبنان پر بم باری کرنے کے لئے اسرائیل کے ساتھ اتحاد قائم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو یہ اقدام ضرور ایران کو سفارتی طریقے کے علاوہ کسی اور طریقے سے بدلہ لینے پر مجبور کر دیگا۔ سعودی اور ایرانیوں کے درمیان سرد جنگ کے دوران یمن سے شام اور قطر سے بحرین تک عام مسلمان پریشانیاں جھیل رہے ہیں۔

یہ تھوڑی دیر کے لئے تھا۔ سعودی حکومت کو جنگ کے اپنے منصوبہ کو انجام دینے کے لئے طاقتور اتحادیوں کی تلاش تھی۔ کچھ وقت سے اس کی کوششیں جاری ہیں۔ جارج کوشنیر کے دورے کے بعد سعودی دارالحکومت کے لئے ڈونالڈ ٹرمپ کے دورے کو اسی خاکہ کو عملی شکل دینے کا منصوبہ مانا جانا چاہئے۔ اربوں ڈالر کے آلات جنگ و حرب سعودی کے ہاتھوں بیچنے کے بعد امریکی حکومت نے سعودیوں کے تعریف کی ہے اور اسے مشرق وسطیٰ میں استحکام کا علمبردار کہا ہے۔ آخر کار جب اربوں ڈالر خرچ کئے گئے ہوں تو کسے یمن اور شام میں جنگی جرائم کی پرواہ ہو، اور بحرین میں سعودی افواج کے ذریعے غیر قانونی مداخلت کی بات کون کرے؟ کسے اس بات کی پرواہ ہے کہ جب وہی ٹرمپ صدر کا انتخاب لڑ رہے تھے تو انہوں نے سعودی عرب کو دہشت گردی کا سہولت کار کہا تھا ؟ ایک شاندار کاروباری معاہدے پر یہ تمام باتیں فراموش کر دی گئیں۔ در اصل ایران جوہری معاہدے کو تحلیل کرنے کی ٹرمپ کی کوشش کو بھی -جس کی کوشش مختلف ملکوں نے بھی کی تھی، ایران کو ایک عظیم خطرہ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کا ہی ایک حصہ سمجھا جانا چاہئے۔

اس کے بدلے میں امریکیوں نے نئے پرنس سے کچھ ترقی پسندانہ بیانات کا مطالبہ کیا۔ اور انہوں نے خواتین کو ڈرائیونگ کا حق دینے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایسا ہی کیا۔ اس اعلان کے بعد میڈیا میں ان پر زبردست چرچے ہوئے۔ گویا کہ اچانک اس دنیا نے ان میں ایک نیا مسیحا دریافت کر لیا ہو جو سعودی عرب کو قرون وسطی کی ہیبت سے ایک جدید روشن خیال استبدادیت کے دور میں داخل کر دیگا۔ لیکن کاروباری رہنماؤں کے اسی پریس کانفرنس میں سعودی پرنس کے دیگر بیانات نے ان کے مقاصد کاپردہ فاش کر دیا۔ انہوں نے شاید بجا طور پر یہ بیان دیا کہ سعودی عرب کو آگے بڑھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کی آبادی کا 30 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ لیکن ان کے اس تجزیہ نے کہ کیوں یہ ملک دلدل میں پھنسا ہوا ہے ان کے اس تصنع کو ظاہر کر دیا کہ وہ سعودی معاشرے اور اس کی سیاست میں حقیقی تبدیلی پیدا کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔ اس نئی نسل کے بارے میں بات کرتے ہوئے جو کہ معاشرے میں تبدیلی چاہتی ہے اچانک گفتگو کا رخ موڑ دینا اور یہ کہنا کہ ملک میں پیدا ہونے والے تمام مسائل کی وجہ ایرانی اثر و رسوخ کی بہتات ہے۔

ایرانیوں کے یہاں ضرور ایسے انقلابات ہیں جنہوں نے شہنشاہیت کا خاتمہ کر دیا اور ہو سکتا ہے کہ ان کے ساتھ سینکڑوں چیزیں غلط ہوں مگر ایرانی حکومت عوامی مرضی کی علامت تھی اور اب بھی ہے برعکس سعودی عرب کے جو اب بھی خود کو آسمانی شہنشاہیت قرار دیتا ہے۔ ایک پرانی کہاوت ہے کہ اگر ہم کچھ تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں اپنے اندر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ خود پر نظر نہ کرنااور اپنی خامیوں کا مورد الزام ایران کو بنانا سعودی عرب کا انتہائی منافقانہ رویہ ہے۔

جیسا کہ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سعودی پرنس کو سعودی بادشاہت کے اعلیٰ نظریہ ساز محمد ابن عبدالوہاب کے ساتھ اس کی شروعات کرنی چاہئے۔ سعودی معاشرے میں آج جو بھی غلط ہو رہا ہے اس کی ذمہ دار وہابیت اور عبد الوہاب کے نظریاتی مربی ابن تیمیہ کی فقہی تعلیمات ہیں۔ سعودی عرب کے اندر عورتوں اور اقلیتی شیعہ پر ظلم و جبر کی وجہ ان کی تعلیمات ہیں کہ جن کی سرپرستی سعودی خاندان نے کی ہے۔ اس کے علاوہ اسی نظریہ نے نہ صرف سعودی سماج کے اندر بلکہ پوری دنیا میں بہت سے دہشت گردوں کو پیدا کیا ہے۔ اس لئے کہ جہادیت وہابی نظریہ کی ہی ایک شاخ ہے۔

اپنے مذہبی نقطہ نظر کے لحاظ سے اس قدر پسمانہ اور قرون وسطی کے اقدار کے حامل ہونے کے باوجود سعودی عرب نے دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی ان مذموم نظریات کی اشاعت کی، اور اس نے انہیں اکثر اسلامی ممالک میں اپنے سفارتی اہداف کا ایک حصہ بنا کر پیش کیا۔ کبھی کبھی غریب مسلم ممالک کو امداد بھی اس مذموم نقطہ نظر کی قبولیت منحصر رہ چکی ہے۔

یہ نظریہ سعودی عرب کا حکومتی نظریہ ہے کہ جو اس کی مخالفت کرے یا اسلام کی اس سے مختلف تعبیر و تشریح رکھے اس کا سر قلم کر دیا جانا چاہئے ۔ ماضی یا حال کی کوئی بھی تنقید سعودی عرب کے اندر اس نظریہ کی تشہیر اور بیرون ملک میں اس کی اشاعت کی وجہ ہو گی۔ ایسا نہ کر کے سعودی پرنس دنیا کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اور سعودیوں اور دیگر مسلمانوں کو اس بیوقوفی کی قیمت میں چکانی ہو گی۔

URL: http://newageislam.com/islam-and-politics/arshad-alam,-new-age-islam/how-to-make-sense-of-the-saudi-purge/d/113207

URL: http://newageislam.com/urdu-section/arshad-alam,-new-age-islam/how-to-make-sense-of-the-saudi-purge--سعودی-پارسائی-کا-مطلب-کیا-ہے/d/113323

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..