New Age Islam
Sat Jun 27 2026, 11:15 AM

Urdu Section ( 2 Aug 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

How Relevant is the Prophetic Model Today? پیغمبرانہ نمونہ آج کتنا افادیت بخش ہے؟

 ارشد عالم، نیو ایج اسلام

 29 جولائی 2022

 زیادہ تر مسلمان عصری اخلاقی اقدار کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں لیکن پیغمبرانہ نمونے پر یقین رکھتے ہیں

 اہم نکات:

1.      پوری دنیا میں مسلم نشاۃ ثانیہ کی تحریک مسلمانوں کو نبی اور ان کے صحابہ کے نمونے کی تقلید کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

2.      آج زیادہ تر مسلمان بالکل مختلف معیار کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں، اور معروضی طور پر اس طرح کے ایک پیغمبرانہ نمونے میں بہت زیادہ کمی محسوس کریں گے۔

3.      پیغمبر اسلام اور ان کے صحابہ کی زندگی کے پہلو، جیسا کہ ہمارے مذہبی لٹریچر میں درج ہے، آج انسانی حقوق اور صنفی مساوات کے دور میں تقلید کا نمونہ نہیں بن سکتے۔

4.      مسلمانوں کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا وہ کسی ایسے مذہبی اصول پر کاربند ہونا چاہتے ہیں جس کی بالعموم پیروی نہیں کی جا سکتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پوری دنیا کے باضمیر مسلمان ہمیشہ یہ مانتے رہے ہیں کہ پیغمبر اسلام کا دور اور اس کے فوراً بعد کے کچھ سال مسلم تاریخ کے بہترین سال رہے ہیں۔ ایک روایت ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا ہر زمانے سے بہترین ہے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ نبی کے زمانے کے بعد خلافت راشدہ قائم ہوئی۔ انہیں اس لحاظ سے ہدایت یافتہ مانا گیا کہ وہ نبی کے قریبی ساتھی تھے اور انہوں نے اسلام اور اس کی تعلیمات کو براہ راست اپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سیکھا۔ یہاں تک کہ جب 18ویں صدی کے بعد مسلمانوں نے دنیا کے بیشتر حصوں میں اپنی سیاسی طاقت کھو دی، تب سے ہی پیغمبر اور ان کے صحابہ کے دور کی طرف لوٹنے کی دعوت شروع ہو گئی۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ اس زمانے میں اسلام اپنی خالص ترین شکل میں رائج تھا اور مسلمان اپنی زندگی دین کے مطابق گزار رہے تھے۔ نبوت کے نمونے اور خلافت راشدہ کے زمانے کی طرف واپسی کی یہ دعوت صرف اسلام پسندوں نے ہی نہیں دی بلکہ نیم سیاسی مسلمانوں نے اسے اپنا وطیرہ بنا لیا۔

 اس مقام پر ہمیں ایک بنیادی سوال یہ پوچھنے ضرورت ہے کہ کیا پیغمبرانہ نمونہ اور خلافت راشدہ واقعی تقلید کے لائق ہیں اور کیا آج مسلمانوں کو اس کی طرف متوجہ ہونا چاہئے؟ ہمارے مذہبی لٹریچر کے مطابق، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ تر وحی مکہ میں نازل ہوئی اور کچھ مدینہ میں۔ جب کہ مکہ میں نازل ہونے والی وحی میں کوئی اصلی بات نہیں ہے، کیونکہ اس یہودیوں اور عیسائیوں وہی کہانیاں دوبارہ پیش کی گئی ہیں، لیکن ان کے درمیان ایک خاص یکسانیت ہے جو کہ قابل تعریف ہے۔ لیکن مدینہ میں نازل ہونے والی ایک چھوٹی سی وحی ان سب چیزوں کو بدل دیتی ہے، کیونکہ اس میں مسلمانوں کو تحکم دیا جاتا ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی کافروں کو پائیں انہیں قتل کر دیں۔ ان دونوں متضاد پیغامات کی پیروی نبی نے کی: جب وہ مکہ میں رہے انہوں نے امن کی تبلیغ کی لیکن جب وہ مدینہ میں طاقتور ہو گئے تو انہوں نے جنگیں کیں اور عورتوں اور بچوں کو غلام بنایا۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ دفاعی جنگیں تھیں لیکن ظاہر ہے کہ یہ درست نہیں ہے۔ اگر جنگ اس بنیاد پر ہو کہ یا تو مذہب تبدیل کیا جائے یا جزیہ ادا کیا جائے تو اسے شاید ہی دفاعی جنگ کہا جا سکے۔ مزید یہ کہ بہت سی صورتوں میں انہی تو جنگ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ انہیں چھاپہ ماری کہنا زیادہ مناسب ہوگا اور الطبری نے ان میں سے بہت سے واقعات کو اپنی سیرت کی کتاب میں درج بھی کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ قافلوں پر چھاپہ مارنا اس علاقے کے قومی کھیل کا حصہ ہے جو 18ویں صدی تک جاری رہا، یہاں تک کہ عثمانی عازمین حج پر حملہ کیا گیا، تاوان کے لیے انہیں اغوا کیا گیا اور بعض اوقات عربوں کے ہاتھوں ان کا قتل بھی ہوا۔ ایسے چھاپے نبی سے پہلے بھی ہوتے رہے ہوں گے اور ان کے بعد بھی ہوتے رہے ہوں گے۔ اہم بات یہ ہے کہ نبی نے اسے تبدیل کرنے کے لیے بہت کم کام کیا۔ بلکہ، طبری اور دیگر کے مطابق، بعض چھاپوں میں حصہ لینے اور اس کی قیادت کرنے کے لیے، انہوں نے اسے مذہبی جواز بھی فراہم کیا۔ کیا یہ ایک ماڈل ہے جو آج تقلید کے لائق ہے؟

 جیسے ہی نبی نے اس دنیا سے پردہ کیا، مسلمانوں نے اپنے 'کافرانہ' عقائد کی طرف لوٹنا شروع کر دیا۔ یہ پہلے خلیفہ ابوبکر تھے جنہوں نے اپنی تلوار کے زور سے انہیں اسلام میں داخل کیا۔ ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ ان کی فوج نے حافظین قرآن کو بھی نہیں بخشا کیونکہ وہ بھی دوسرے مرتدین کے ساتھ مارے گئے تھے۔ مسلمان پوری دنیا کو بتاتے ہیں کہ دین میں کوئی جبر نہیں ہے، لیکن پھر ان مسلمانوں کو اسلام کے دائرے میں رہنے پر اسلام کے پہلے خلیفہ نے ہی مجبور کیا۔ کیا یہ ایک ایسا عمل ہے جو آج کی دنیا میں تقلید کے لائق ہے جس میٹ مذہبی تنوع اور تکثیریت کی قسم کھائی جاتی ہے؟

مسلم فقہاء کا کہنا ہے کہ پہلے چار خلفاء اہل حق و ہدایت تھے۔ لہٰذا وہ اسی بنیاد پر یہ کہتے ہیں کہ کسی کو بھی ان کی نیتوں اور طرز عمل پر شک نہیں کرنا چاہیے۔ اور اسلامی لٹریچر میں یہ بھی موجود ہے کہ تیسرے خلیفہ عثمان نے اپنے رشتہ داروں کو اہم عہدوں پر تعینات کیا اور انہیں ترقی دے کر اقربا پروری کو فروغ دیا۔ عثمان کو انہیں مسلمانوں نے قتل کیا، جن میں سے بہت سے نبی کے صحابہ تھے۔ لہٰذا، اگر یہ اصحاب واقعی مثالی تھے جیسا کہ فقہائے اسلام چاہتے ہیں کہ ہم مانیں، تو انہوں نے اپنے ہی خلیفہ کو کیوں قتل کر دیا؟ اور صرف عثمان ہی نہیں بلکہ ان چار میں سے تین خلفاء راشدین اپنی فطری موت نہیں مرے۔ وہ سب اپنے ساتھی مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ اگر ہم یہ مانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے قریب رہنے والے لوگ آج کے مقابلے میں بہتر مسلمان تھے تو ان کے اندر اس قاتلانہ غصے کی کیا توجیہ کی جائے گی؟ اس کی کیا وجہ بیان کی جائے گی کہ ہدایت یافتہ خلفاء میں سے آخری خلیفہ علی کو نبی کی بیوی کے ساتھ بالادستی کی جنگ لڑنی پڑی؟ جنگ جمل میں کون مارا گیا؟ جواب تکلیف دہ لیکن واضح ہے: نبی کے ان دو رشتہ داروں نے محض اپنی قیادت کی خاطر سینکڑوں مسلمانوں کو قتل کیا۔ کیا وہ تقلید کے لائق ہیں؟

 آج کے مسلمان ان پہلی نسل کے مسلمانوں کے مقابلے بہت بہتر نظر آتے ہیں۔ یقیناً، انتہا پسندی کی لعنت آج مسلمانوں کے ایک چھوٹے سے طبقے کو متاثر کر رہی ہے، لیکن بڑی اکثریت دوسرے کے لیے تشدد اور نفرت کے بغیر انسانوں کے ساتھ مل کر رہنا چاہتی ہے۔ آج کوئی مسلمان قافلوں پر چھاپہ مار کر اور مال غنیمت پر قبضہ کر کے، عورتوں اور بچوں کو غلام بنا کر روزی نہیں کما رہا۔ آج کوئی بھی مسلمان اپنے ساتھی انسان کو محض اس لیے قتل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ وہ کافر ہو سکتا ہے۔ اور پھر بھی، یہ غلط خیال کہ ابتدائی مسلمان بہترین مسلمان تھے، آج تک برقرار ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے پریشان حال ماضی کا سامنا نہیں کرنا چاہتے۔ کسی نہ کسی طرح اسلامی اسکالرشپ کی پوری کوشش ماضی میں جو کچھ ہوا اسے درست ثابت کرنا اور تکلیف دہ حقائق کو پرکشش انداز میں پیش کرنا ہے۔

 ہم ایک ایسے دور میں رہتے ہیں جس کی اخلاقی قدریں ساتویں صدی کے عرب کے مقابلے میں بہت مختلف ہیں۔ زیادہ تر مسلمان بھی عصری اخلاقی قدروں کے مطابق ہی زندگی بسر کرتے ہیں جس کی تشکیل مکافاتی قانون، مذہبی اور جنسی اقلیتوں کو تسلیم کیا جانا، صنفی مساوات اور انسانی حقوق سے ہوتی ہے۔ اور پھر بھی، ہم مسلمان اپنے لیے بنائے گئے مذہبی نظریات اور نمونوں پر سوال اٹھانے میں بہت زیادہ ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ کیا مسلم معاشرے کے لیے ایسے نمونوں کو مسترد کیے بغیر آگے بڑھنے کا کوئی راستہ ہے؟

English Article: How Relevant is the Prophetic Model Today?

URL: https://newageislam.com/urdu-section/prophetic-model-rashidun-caliphate/d/127627

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..