New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 01:22 PM

Urdu Section ( 18 Jul 2018, NewAgeIslam.Com)

Darul Qazas or Sharia Courts: Why both must be Opposed? دارلقضاء یا شرعی عدالتوں کی مخالفت کیوں ضروری؟

 

 

 

 

 

ارشد عالم ، نیو ایج اسلام

13 جولائی 2018

ہر ضلع میں دارلقضاء قائم کرنے کے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی حالیہ 'خواہش' کی مزاحمت بجا طور پر صرف مختلف سیاسی جماعتوں کی ہی جانب سے نہیں بلکہ خود مسلم برادری کے اندر بھی کی گئی۔ تاہم یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ اسے شرعی عدالت کے مساوی کوئی ادارہ قرار دینا واضح طور پر غلط ہے۔ عدالتوں کے پاس معاملات میں فیصلہ سنانے کا 'اختیار' ہوتا ہے؛ دارالقضاۃ کے پاس ایسی کوئی طاقت نہیں ہوگی اور اس کی حیثیت ایک ثالثی کونسلوں کی ہو گی۔

جہاں تک آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی بات ہے تو اس طرح کے نیم عدالتی ادارے دیگر برادریوں میں بھی موجود ہیں، مثلاً مغربی اتر پردیش اور ہریانہ میں کھاپ پنچایت کا نظام دیکھ لیا جائے۔ کچھ قبائلی علاقوں میں ان اداروں کو قانونی حیثیت بھی حاصل ہے۔ لہٰذا ہو سکتا ہے کہ دار القضاۃ کا قیام قانون کے دائرے میں ہو۔ دار القضاۃ پر پابندی کا مطالبہ کرنا اور کھاپ پنچایت پر خاموش رہنا واضح طور پر منافقت ہے۔

ہمیں یہ بھی سمجھ لینا چاہئے دارلقضاۃ اس ملک میں 1972 سے اپنا کام کر رہے ہیں۔ اور اگر ان کونسلوں کی مخالفت کرنی ہے تو پورے ملک میں دار القضاۃ قائم کرنے کے لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے حالیہ کوشش کی بنیاد پر نہیں بلکہ مجموعی طور پر ان کی مخالفت کی جانی چاہئے۔

ناقدین کا کہنا یہ ہے کہ اگر ان نیم عدالتوں کے پاس اپنے فیصلوں کو نافذ کرنے کا اختیار نہیں ہے تو پھر انہیں قائم ہی کیوں کیا جائے؟ یہ اس سوال کو غلط طریقے سے پیش کرنا ہے۔ اس لئے کہ فرض کریں اگر ان شرعی عدالتوں کو اپنے فیصلے نافظ کرنے کی طاقت حاصل ہو تو کیا اس مطلب یہ ہے کہ ملک میں شرعی عدالتیں ٹھیک ہیں؟ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جدید قانونی نظام کی ایک طویل تاریخ رہی ہے اور اس زمانے میں اس کی بنیاد انسانی حقوق اور قانون کی نظر میں مساوات کے مقدس تصورات پر رکھی گئی ہے۔

شریعت جیسا نظام کہ جس کے آسمانی ہونے کا دعوی کیا جاتا ہے –جمود و تعطل کا شکار ہے ، اور اس کی بنیاد اب بھی صدیوں پرانے تصورات اور اصولوں پر قائم ہے ، اور اس میں جدید تقاضوں اور مطالبات کو نفرت اور کراہت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ شرعی قانون کے اندر اب بھی مردوں اور عورتوں کے درمیان قانونی عدم مساوات کا غلبہ ہے اور اس کے اندر بہت سے معاملوں میں عورتوں کو مرد کی ملکیت تصور کیا جاتا ہے۔ متبادل جنسیت کے بارے میں اسلام کے موقف کی جتنی کم بات کی جائے اتنا ہی بہتر ہوگا۔ کیا ہم شرعی قانون کے اس فیصلے کو مان لیں کہ ہم جنس پرستوں کو موت دے دی جائے؟

اس طرح کے دلائل کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہے کہ شرعی قوانین آسمانی ہیں اسی لئے انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین سے بہتر ہیں، جیسا کہ کچھ اسلام پسند اکثر یہ بات کرتے ہیں۔ ہمیں یہ مان لینا چاہئے کہ سیکولر قانون کسی بھی آسمانی قانون سے زیادہ ترقی یافتہ ہے کیونکہ اس میں فروغ پانے اور تبدیلی قبول کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

ضروری نہیں کہ قوانین کا نفاذ صرف قانونی ذرائع کے ذریعے ہی کیا جائے۔ سماجی دباؤ بھی ایک شئی ہے جو کسی بھی معاشرے میں اصولوں اور قدروں کو جنم دیتی ہے اور عام طور پر انہیں ایک زمانے کے بعد قانونی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے۔ چونکہ ان میں سے زیادہ تر اصول مذہب سے حاصل کئے گئے ہیں اسی لئے مذہبی معاملات میں مہارت رکھنے والوں کو عام طور پر اصولوں اور قدروں کے محافظ و نگہبان کی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے۔ لہذا اس سے یہ بحث کرنے میں کوئی مدد نہیں ملتی کہ کیا دارالقضاۃ کی کوئی قانونی حیثیت ہوگی یا نہیں۔ اگر یہ دارالقضاۃاسی طرح چلتے رہے تو انہیں مختلف طریقوں مثلاً علیحدگی اور سماجی بائیکاٹ وغیرہ کے ذریعہ اپنے فیصلوں کو نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہو جائے گا۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ بالکل یہی کرنے کی کوشش میں ہے، بورڈ ایک counter-hegemonic (کاؤنٹر ہیجی مونی) بیانہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے جوکہ ہندوستانی آئین کی جدید سیکولر منطق سے متصادم ہے۔ ان دارالقضاۃ کے ذریعہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ یہ چاہتا ہے کہ مسلمان صرف مذہبی قانون پر عمل کریں اور وہ (آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ) اس قانون کا ایک واحد ترجمان بن جائے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے سپریم کورٹ کے ذریعہ طلاق ثلاثہ کو منسوخ قرار دئے جانے کے بعد یہ اقدام اٹھایا ہے جس کی وجہ سے مسلم مردوں کو ان کی عورتوں پر بےلگام تسلط حاصل تھا۔

اس کے علاوہ، سپریم کورٹ میں ایسی عرضیاں بھی زیر التواء ہیں جن کے ذریعے مسلمان عورتیں نکاح حلالہ جیسے گھناؤنےعمل کو ختم کرنے اور تعدد ازدواج کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ عدالتوں میں اس کا مقدمہ کمزور ہے۔ طلاق ثلاثہ پر ان کا دفاع مضحکہ خیز تھا اور ان کی اس دلیل کو غیر منطقی مانا جا رہا ہے کہ شریعت ایک آسمانی قانون ہے لہٰذا اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ چونکہ وہ سیکولر عدالتوں کے ذریعے اپنے مفادات کی حفاظت نہیں کرسکتے، اسی لئے وہ ایک متوازی نظام قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں وہی اسلامی قانون کے محافظ ہوں گے۔ اس کے لئے کسی تنبیہ کی ضرورت نہیں ہے اور کوئی بھی آسانی کے ساتھ یہ سمجھ سکتا ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ پس پردہ اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو خارج قرار دیتے ہوئے طلاق ثلاثہ اور نکاح حلالہ کی روایت جاری رکھنا چاہتا ہے۔

اس سے مسلمانوں کا وجود آہستہ آہستہ ریاست کی تاریخ سے محو ہو جائے گا اور وہ خود اپنی ہی دنیا میں گم ہو کر رہ جائیں گے جو کہ ایک خوفناک بات ہے ،اس لئے کہ اگر مسلمان بحیثیت اقلیت اپنے وجود کی بقا چاہتے ہیں تو انہیں حکومت کے ساتھ اپنی دوریوں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈکو اس طرح کے نتیجے سے بہت خوشی ہوگی اس لئے کہ ان کا حتمی مقصد مسلمانوں کو ذہنی، سماجی، ثقافتی اور جذباتی طور پر ملک سے جدا رکھنا ہے۔

لہذا خود کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈکی پھوٹ ڈالنے والی سیاست سے الگ رکھنا مسلمانوں کے مفاد میں ہے اور انہیں یہ واضح کر دینا چاہئے کہ مشکلات کے باوجودوہ دار القضاۃ پر سیکولر ریاست کے قوانین کو فوقیت دیں گے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مزاحمت اس سوال سے شروع ہو جانی چاہئے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندگی کرنے کا انہیں کیا حق ہے۔ کیا وہ ایک منتخب ادارہ ہے؟ اگر نہیں، تو پھر کس نے انہیں ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندہ آواز بننے کا حق دیا ہے؟ کیا وہ ہندوستانی مسلمانوں کی تکثیریت کی مناسب طریقے سے نمائندگی کرتے ہیں؟ اس بورڈ میں کتنے شیعہ اور کتنی خواتین شامل ہیں؟ یا ہمیں یہ مان لینا چاہئے کہ صرف چند سنی مولانا پوری مسلم برادری کی قسمت کا فیصلہ کر سکتے ہیں؟ اب وقت آچکا ہے کہ خود آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو ہی منسوخ کردیا جانا چاہئے۔ اور ایسا کرنے میں خود مسلمانوں کو ہی پہل کرنی چاہئے۔

URL for Urdu article: http://www.newageislam.com/islamic-ideology/arshad-alam,-new-age-islam/darul-qazas-or-sharia-courts--why-both-must-be-opposed?/d/115821

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/arshad-alam,-new-age-islam/darul-qazas-or-sharia-courts--why-both-must-be-opposed?--دارلقضاء-یا-شرعی-عدالتوں-کی-مخالفت-کیوں-ضروری؟/d/115870

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..