New Age Islam
Fri Jul 01 2022, 05:55 AM

Urdu Section ( 25 Apr 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Burning the Quran in Sweden: How Should Muslims Respond? سویڈن میں قرآن سوزی: مسلمانوں کا ردعمل کیا ہونا چاہیے؟

ارشد عالم، نیو ایج اسلام

20 اپریل 2022

یہ یقینی طور پر ایک اشتعال انگیزی ہے لیکن کیا انہیں سڑکوں پر آتش زنی کرنی چاہئے؟

اہم نکات:

1.     انتہا پرست سوڈانی سیاستدان راسموس پالوڈن قرآن سوزی کر مسلمانوں کو ایک بار پھر مشتعل کر رہے ہیں

2.     مسلمانوں نے کچھ شہروں میں سڑکوں پر آتش زنی کر کے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے

3.     انہیں املاک کو جلانے کے بجائے احتجاج کے مہذب طریقے اختیار کرنے چاہیے تھے، اس طرح تو ریاست اور عام شہری بھی ان سے الگ ہو جائیں گے

4.     انہیں اپنے مذہبی اور ثقافتی مفروضوں پر خود سے چند مشکل سوالات بھی کرنے کی ضرورت ہے

-----

سویڈن کے مسلمان ملک کے مختلف شہروں میں قرآن مجید کو جلانے اور اس کی بے حرمتی کی کوشش کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایک انتہاپسند جماعت (Stram Kurs)نے سویڈن کے اندر مختلف مقامات پر قرآن مجید کو جلانے کا منصوبہ پیش کیا تھا۔ اسٹاک ہوم کے کسی مضافاتی علاقے میں انہوں نے قرآن سوزی کی لیکن باقی دوسرے علاقوں میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ یقیناً یہ ایک سوچی سمجھی اشتعال انگیزی ہے، لیکن کیا مسلمانوں کو عقلمندی اور تحمل سے کام نہیں لینا چاہیے تھا؟ سڑکوں پر ہنگامہ آرائی کرنا، سرکاری املاک کو نذر آتش کرنا اور پولیس کو زخمی کرنا مسلمانوں کے لیے بدنامی کا باعث ہے، جو کہ پہلے سے ہی اسلام کی انتہائی منفی تصویر سے دوچار ہیں۔

Rasmus Paludan has been appealing his prison sentence following a district court conviction last year of hate-speech, discrimination and racism (photo: News Øresund / Johan Wessman)

-----

یورپ میں انتہاپسندی کے دوبارہ عروج کے ساتھ، بہت سے ایسی چہرے بھی سامنے آئے ہیں جو اسلام مخالف بیان بازیوں سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ بعض اوقات یہ بیان بازی سنگین شکل اختیار کر جاتی ہے اور نفرت انگیز حملوں سے مسلمانوں کی جان و مال کو نقصان پہنچا دیا جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک فرد راسموس پالوڈن ہے، جو ایک انتہاپسند پارٹی کا رہنما ہے ۔ ڈنمارک اور سویڈن کے دوہری شہریت والے پالوڈن کو پہلی بار شہرت 2017 میں اس وقت ملی جب اس نے اسلام مخالف یوٹیوب ویڈیو بنائی۔ اس نے ایک انتہائی اشتعال انگیز حرکت کی اور قرآن مجید کو خنزیر کے گوشت میں لپیٹ کر جلایا اور فیس بک پر اپنے اس عمل کا جواز اسے آزادی اظہار کو خراج تحسین قرار دیکر پیش کیا۔ لیکن آزادی اظہار کے شتر بے مہار کے بجائے لوگوں نے اسے مسلمانوں سے نفرت رکھنے والا ایک نسل پرست قرار دیا۔ اپنی ایک تقریر میں اس نے کہا کہ ہمارے "دشمن اسلام اور مسلمان ہیں۔ اچھی بات تو یہ ہوگی کہ اس روئے زمین پر ایک بھی مسلمان باقی نہ بچے، ہمارا ہدف پورا ہو جائے گا"۔ اسلام کو بطور ایک نظریاتی نظام کے تنقید کا نشانہ بنانا ایک چیز ہے، لیکن ایک پوری قوم کو دشمن قرار دینا بالکل الگ بات ہے۔ اس کی جن تقاریر اور اقدامات کے لیے اسے وقتاً فوقتاً جیل بھیجا جا چکا ہے، وہ آزادی اظہار کے بجائے مسلمانوں کے خلاف نسل پرستانہ نفرت کو بھڑکانے کا عمل ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ سوڈانی حکام ایسے مسائل سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی تیار کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ایک طرف، انہوں نے پلوڈن کو قرآن جلانے کی ریلی نکالنے کی اجازت دے دی؛ جبکہ دوسری طرف وہ مسلمانوں کی جانب سے تشدد کے محرکات کو سمجھنے میں کافی حد تک ناکام رہے۔ مسلمانوں کی جانب سے کی جانے والی آتشزدگی میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ کچھ حکام کا کہنا ہے کہ یہ آتشزدگی کا اب تک کا سب سے سنگین واقعہ ہے جو انہوں نے مشاہدہ کیا۔ یہ کافی حیرانی کی بات ہے کہ پولیس قرآن کے حوالے سے مسلمانوں کے جذبات کو نہیں سمجھ سکتی کیونکہ یہ ان کی مقدس ترین کتاب ہے۔ یہ واضح تھا کہ رمضان کے مقدس مہینے میں قرآن سوزی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے لہٰذا کسی بھی طرح اسے اس کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے تھی۔ سوڈان کی حکومت پہلے سے ہی اس نسل پرست انسان کے ساتھ باہوں میں باہیں ڈالے نظر آ رہی تھی، جس کی وجہ سے ضروری ہے کہ مسلمانوں کے اندر حکومت مخالف جذبات پیدا ہوئے ہوں گے۔ دوسری طرف، یہ بھی سچ ہے کہ یورپی روایت میں ’مذہب سے آزادی‘ کو ایک اہم مقام حاصل ہے اور یہ ایک ایسی چیز ہے جو زیادہ تر مسلمانوں کے لیے ناگوار ہے۔

لیکن کیا مسلمانوں کو اس انداز میں احتجاج کرنا چاہیے تھا؟ آخر کار، کیا خدا نے وعدہ نہیں کیا ہے کہ وہ اپنی مقدس کتاب کی حفاظت خود کرے گا؟ تو پھر مسلمان خود کو خدا کیوں سمجھ بیٹھے؟ یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ وہ اس ذلیل حرکت سے غمزدہ ہیں لیکن کیا املاک کو نقصان پہنچائے اور دوسروں کو زخمی کیے بغیر صدائے احتجاج بلند نہیں کی جا سکتا تھی؟ اقلیت میں ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کو ہمیشہ قانون کے دائرے میں رہنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بلاشبہ انہیں احتجاج کرنے کا حق ہے، لیکن کیا اس احتجاج سے مسلمانوں کو ریاست اور دیگر شہریوں کو ناراض کرنا صحیح ہے یا انہیں ایسا راستہ اختیار کرنا چاہیے کہ یہ قوتیں عزت و وقار کی جنگ میں مسلمانوں کا ساتھ دینے لگ جائیں۔ سویڈن کے مسلمانوں کو خود سے یہ سوالات پوچھنے کی ضرورت ہے ورنہ وہ حکومت کے ساتھ ساتھ ان عام شہریوں کو بھی خود سے دور کرنے کا خطرہ مول لے لینگے جو انتہاپسندوں کے حامی نہیں ہیں۔

قرون وسطی کے مذاہب خواہ عیسائیت ہوں یا اسلام، ہمیشہ کتابوں کو جلاتے رہے ہیں۔ تقوی ٰ کے اپنے زعم میں انہوں نے پوری دنیا کے علمی نظام کو تباہ کر دیا ہے۔ یہ صرف جدیدیت ہی ہے کہ جس میں سیکولر ریاستوں اور شہریوں کے دباؤ میں لوگوں کے افکار کی اصلاح ہوئی اور جو مذہب اور اس سے منسلک تشدد سے پریشان ہو چکے تھے۔ بدقسمتی سے، ایسا لگتا ہے کہ مسلمان سیکولرازم کی نظروں سے بچ گئے ہیں اور احتجاج کے طور پر شیطانی آیات کو جلانا شروع کر دیا ہے۔ کئی صدیوں میں یہ پہلا موقع تھا کہ جب کسی کتاب کو سرعام جلایا جا رہا تھا اور مسلمان اس میں آگے آگے تھے۔ جس طرح سے یورپ کی تاریخ کا ارتقا ہوا ہے، اس میں کتابیں مقدس شئی بن چکی ہیں۔ انھوں نے ناول سوزی کو قرون وسطیٰ کی ہولناکیوں کے کا احیاء سمجھا اور ان کے ذہنوں میں اسلام اور قرون وسطیٰ کا ربط تازہ ہوگیا۔ مسلمان جس چیز کو مقدس سمجھتے ہیں اس پر ان کی توہین ہوتی ہے لیکن انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی دوسرے کس چیز کو مقدس مانتے ہیں۔ جب تک ہم اس نفسیاتی بیماری سے نجات حاصل نہیں کر لیتے، ہم اس تصور ہمارا پیچھا کرتا ہی رہے گا کہ مسلمان عدم رودار اور نسل پرستی ہوتی ہیں۔

Sweden has been rocked by days of violence triggered by far-right Danish-Swedish politician Rasmus Paludan/ Photo: DW Made for Minds

----

متنوع معاشروں میں رہنا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ انسان ایسے اصولوں کے مطابق زندگی گزارے جو نہ صرف تکثیریت کو برقرار رکھے بلکہ اس میں استحکام بھی پیدا کرے۔ بدقسمتی سے، مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ صرف مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا کیا جائے، لیکن وہ ہمیشہ دوسروں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان کا احترام کریں، جو کہ مشترکہ بقائے باہمی کے لیے کوئی اچھی مثال نہیں ہے۔ سویڈن میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی گونج پورے یورپ میں ہے اور انتہاپسندی کی سیاست کے عروج سے سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو ہونے والا ہے۔ پالوڈن اور میرین لی پین کی ان کی حرکتوں کی وجہ سے مذمت ضرور کی جانی چاہیے لیکن مسلمانوں کو بھی اپنی مذہبیت اور طرز زندگی کے بارے میں خود سے کچھ چبھتے ہوئے سوالات کرنے کی ضرورت ہے۔

English Article: Burning the Quran in Sweden: How Should Muslims Respond?

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/burning-quran-sweden-muslims/d/126866

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..