New Age Islam
Sun Feb 08 2026, 10:43 AM

Urdu Section ( 31 Aug 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Bilkis Bano Questions the Republic بلقیس بانو کا جمہوریہ ہند سے سوال

ارشد عالم، نیو ایج اسلام

25 اگست 2022

مجرموں کی رہائی انتہائی پریشان کن ہے۔

اہم نکات:

1.      بلقیس بانو کے ظالموں کو 2008 میں سزا سنائی گئی تھی۔

2.      تمام گیارہ مجرموں کو حال ہی میں گجرات حکومت نے معافی دیدی ہے۔

3.      یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے جس کو ایک بڑا معاشرا تسلیم کرتا ہے۔

4.      مسلمانوں کو اس فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے۔

5.      کیا اتنی بڑی اقلیت کو الگ تھلگ کرنا عقلمندی ہے؟

-------

عدالت عظمٰی بلقیس بانو گینگ ریپ کیس کے 11 مجرموں کی رہائی کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر سماعت کرے گی۔ (اے ایف پی تصویر)

 -----

مسلمانوں پر منظم تشدد کی شکار بلقیس بانو، اب اس بات کی علامت بن چکی ہے کہ نفرت کی سیاست کرنے والے کس طرح حیوان بن سکتے ہیں۔ اس کے خاندان کے چودہ افراد کو ایک ہندو ہجوم نے بے دردی سے قتل کیا، جن میں اس کا تین سالہ بیٹا بھی تھا۔ اور خود بلقیس بانو کی بھی وحشیانہ انداز میں اجتماعی عصمت دری کی گئی اور اسے مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ یہ اس کی بے مثال ہمت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اس نے اپنے مجرموں کی نشاندہی کی، جن میں سے اکثر کو وہ پہچانتی تھی۔ عدالتوں نے بالآخر 2008 میں اس گھناؤنے جرم کے ارتکاب کے لیے گیارہ افراد کو سزا سنائی تھی۔ اس سال ہمارے 75ویں یومِ آزادی کے موقع پر ریاست نے تمام گیارہ مجرموں کو معافی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح کی معافی دینا گجرات حکومت کے اختیار میں ہے اور مختلف وجوہات کی بنا پر ایسا کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ بالکل نئی بات ہے کہ اس شق کا استعمال ایسے مجرموں کو رہا کرنے کے لیے کیا جائے جن پر خوفناک اور گھناؤنے جرائم کا الزام ہے۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں یہ شاید پہلا کیس ہوگا کہ جس میں اس طرح کی معافی کا اختیار رکھنے والوں نے ملزم کے جرم کی نوعیت کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہو۔

بہر حال، معافی کی سفارش کرنے والے کمیٹی کے کچھ ارکان کا تعلق حکمران جماعت سے ہے۔ لہٰذا معاملہ صرف یہ نہیں ہے کہ معافی دی گئی بلکہ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ معافی مناسب غور و فکر کے بعد دی گئی ہو گی۔ مجرموں کی رہائی بنیادی طور پر ایک سیاسی اقدام تھا۔ یہ سوچ کر دل کانپ اٹھتا ہے کہ انہیں یوم آزادی پر رہا کرنے کے پیچھے کی سیاسی چال کیا تھی؟ کیا ریاستی حکومت یہ کہنے کی کوشش کر رہی ہے کہ ہندو کچھ بھی کر کے بچ سکتے ہیں اور یہ کہ مسلمانوں کو مارنا اور معذور کرنا ان کی 'آزادی' ہے؟ اور اس میں بلقیس کے لیے اور اس کے ذریعے امت مسلمہ کے لیے کیا پیغام ہے؟ کیا حکومت ہمیں یہ بتانے کی کوشش کر رہی ہے کہ مسلمان اس حکومت سے قانون کی نظر میں برابری کی تمام امیدیں ترک کر دیں؟ بہت سے مسلمان محسوس کرتے ہیں کہ مجرموں کو رہا کرنا اس بات کی بھی علامت ہے کہ اب وہ اس جمہوریت میں مکمل حصے داری نہیں رہی اور اب ان کی شہریت مخدوش ہو چکی ہے۔ شاید امید کی کرن صرف یہی ہے کہ عدالت عظمیٰ اب اس بنیاد کو چیلنج کرنے والی ایک درخواست کی سماعت کرنے کے لیے تیار ہے جس پر مجرموں کو معافی دی گئی تھی۔

تاہم اس سے زیادہ تشویشناک بات وہ سیاسی سوچ ہے جس نے ان مجرموں کی قبل از وقت رہائی کا جواز پیش کیا ہے۔ بہت سے لوگوں کو یہ بات مضحکہ خیز لگ سکتی ہے کہ حکمراں جماعت کا کوئی رکن یہ کہہ کر مجرموں کی تعریف کر سکتا ہے کہ وہ برہمن ہیں اس لیے ان کے سنسکار اچھے ہیں؛ اس طرح ان کی رہائی کا جواز پیش کیا گیا۔ لیکن ہندوستان جیسے ذات پات میں منقسم سماج میں، اس کا مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ موجودہ حکومت کا ایک حصہ شاید ورنا آشرم دھرم کی واپسی کے لیے تیار ہے جہاں ذات پات نے انصاف کے تصور کو لکھا ہے۔ یہ یقینی طور پر بی جے پی جیسی پارٹی کے لیے اچھا نہیں ہے جسے اس کے سیاسی نظریہ نگار نلین مہتا کے مطابق، اب نچلی ذات اور سماجی انصاف کی پارٹی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اب وقت ہی بتائے گا کہ پارٹی کے دیگر ارکان برہمنیت کی تعریف میں اس طرح کے بیانات پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔

جیسا کہ بہت سے تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے، مجرموں کو رہا کرنے کی ایک وجہ یہ امید ہو سکتی ہے کہ اس سے آنے والے ریاستی انتخابات میں پارٹی کو تقویت ملے گی۔ اگر یہ سچ ہے، تو یہ کم از کم یہ کافی پریشان کن ہے۔ محض الیکشن جیتنے کے لیے قانون کی پامالی کو کسی بھی بنیاد پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر ہندوستان میں اب انتخابات اسی طرح جیتے جائیں گے، تو شاید ہمیں اس ملک میں انصاف کو یقینی بنانے کے ادھورے خیال کو بھی الوداع کہہ دینا چاہیے۔ اس سے بھی بری بات یہ ہے کہ اس طرح کے سیاسی چالوں کو معاشرے کے ایک بڑے طبقے کی حمایت حاصل ہے۔ مجرمین کی رہائی کے بعد عوام کا انہیں پھولوں کی مالا پہنانے مطلب صرف یہ ہو سکتا ہے کہ معاشرہ ایسے اقدام کو تسلیم کرتا ہے۔ اس طرح کے جذبات انہیں انتخابات تو جتا سکتا ہے، لیکن اس کی قیمت یہ چکانی ہوگی کہ ہم ہندوستان کی اس جامع، منصفانہ اور کثیر الجہات ثقافت کو کھو دینگے جس پر ہمیں فخر رہا ہے۔ عصمت دری اور قتل کا جشن منانے کا ایسا جذبہ بالآخر ہندو سماج کو حیوان بنا دے گا۔ کیا انہیں ایسی سیاست چلنے دینا چاہئے جو انہیں بے روح کر دے؟ کیا بی جے پی کو ایسی سیاست کرنی چاہیے جس سے ہندو برادری شرمندہ ہو؟ہندو سماج معاشرے نے ان مجرموں کا جس انداز میں استقبال کیا ڈیوینڈ فڈنوس کو اس پر تنقید کرتے ہوئے دیکھنا اچھا ہے۔ لیکن اور دوسرے لوگ کہاں ہیں؟ وہ لوگ کہاں ہیں جو ہندو مذہب کو ایک بہتا ہوا امرت سمجھتے ہیں، جس سے کوئی بھی روحانی طور پر سیراب ہو سکتا ہے؟

 بلقیس کا بیان آنے والے کئی برسوں تک جمہوریہ ہند کو پریشان کرتا رہے گا۔ رہائی پانے والے بہت سے مجرمین اسے جانتے ہیں اس لیے یہ ایک فطری بات ہے کہ وہ ان سے شدید خطرہ محسوس کریں گی۔ کیا حکومت کے پاس اس کی حفاظت کے لیے کوئی منصوبہ ہے؟ لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ بحیثیت معاشرہ ہم اس قدر پستی میں کیسے چلے گئے کہ آج ہم عصمت دری کرنے والوں اور قاتلوں کو سر پر بیٹھانے لگے۔ کچھ عرصہ پہلے قوم کے نظریہ نگاروں نے ہمیں یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا ڈی این اے ایک ہی ہے، اس طرح باہمی اختلافات کو ختم کرنے کی دعوت دی۔ افسوس کہ آج جب ایسے لوگوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، خاموش ہیں۔

ابھی کہ میں یہ کالم لکھ رہا ہوں، مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے والے راجہ سنگھ کو حیدرآباد پولیس نے پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کرنے پر گرفتار کیا (اور ضمانت بھی دے دی)۔ پیغام واضح ہے: ہم پیغمبر اسلام کے ساتھ کسی قسم کی بدسلوکی برداشت نہیں کریں گے کیونکہ یہ مسلمانوں کے لیے ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے۔ لیکن بہت سے مسلمان یہ بھی محسوس کر سکتے ہیں کہ اس میں شاید ایک اور پیغام ہے: یعنی بطور اس ملک کے شہری کے مسلمانوں کی زندگی، آزادی اور وقار کا سوال ہمارے لیے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا۔ اور بلقیس بانو کے کیس کے ساتھ جو حشر ہوا اس سے یہی پیغام ہمیں ملتا ہے۔

 مسلمانوں کو آج بھی ملک کے نظام پر یقین ہے۔ اس جیال سے بھی ہماری روح کانپ اُٹھتی ہے کہ جب مسلمان ملک کے اداروں پر سے اپنا اعتماد کھو دیں گے کو اس کے نتائج کیا ہوں گے۔ حکمران جماعت کو خود سے ہی یہ سوال کرنا چاہیے کہ کیا اتنی بڑی اقلیت کو الگ تھلگ کر دینا کیا عقلمندی ہے؟ لیکن سب سے بڑا سوال سیکورٹی کا نہیں ہے۔ بلکہ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ بحیثیت معاشرہ ہم اپنی شیطانی فطرت اور نفرت و بربریت کو کیسے روکیں۔

English Article: Bilkis Bano Questions the Republic

URL: https://newageislam.com/urdu-section/bilkis-questions-republic-hate-politics/d/127843

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..