New Age Islam
Wed Dec 01 2021, 03:48 AM

Urdu Section ( 29 Nov 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Bihar Elections: ‘Radical’ Owaisi Is Not The Problem; بہار اسمبلی انتخابات: اسد الدین اویسی کی کامیابی مسئلہ نہیں بلکہ سیکولرزم کی پریشانی یہ ہے کہ مجلس مسلمانوں کو سیاسی قوت مہیا کرے گی

 ارشد عالم، نیو ایج اسلام

 11نومبر 2020

بہار کے مسلمانوں کے لئے ، بہار کے حالیہ اختتام پذیر انتخابات کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ اسدالدین اویسی کی پارٹی  آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین ( اے آئی ایم آئی ایم)  نے مسلم ووٹوں کا ایک بڑا حصہ حاصل کرنےمیں شاندار کامیابی کا مظاہرہ کیا ۔ لیکن ایک ایسی پارٹی کے لئے جس نے پچھلے پانچ سالوں سے  ریاست میں کام کرنا شروع کیا اس کے لیے صرف پانچ اسمبلی سیٹوں پر جیت درج کرنا کوئی بڑی کامیابی نہیں کہا جا سکتا ہے۔  اس حقیقت کا اہم نقطہ یہ ہے کہ یہ سیٹیں  مشرقی بہار سے حاصل کی گئیں ہیں جہاں کی آبادی کا 30 فیصد سے زیادہ حصہ مسلمان ہیں۔  یہ وہی  علاقہ ہے جسے  بہار میں سب سے کم ترقی یافتہ علاقوں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔  اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کانگریس ، جے ڈی یو  یا آر جے ڈی کی زیرقیادت حکومتوں کے کھوکھلے وعدوں نے ان پارٹیوں سے مسلمانوں کے ایک بڑے حصے کو الگ کردیا۔

اسدالدین اویسی

------

 آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین  نے ان مسلمانوں کو ایک ایسا  متبادل پلیٹ فارم دیا جس کے ذریعے وہ اپنے مسائل کا حل اور اپنے موجودہ حالات میں کچھ مثبت تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ اویسی کی شخصیت کو  مسلم نوجوانوں میں خاص طور سے  مسلمانوں پر روزانہ ہو رہے  حملوں اور ان کی شناخت کے تناظر میں کافی اہم خیال کیا جاتاہے۔

بہت سارے مسلمانوں کا ماننا ہے کہ اویسی تنہا ان کی آواز بن چکے ہیں وہ بھی ایسے حالات میں جبکہ  بیشتر سیکولر جماعتوں نے مسلم شہریوں کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری   ترک کر دی ہے۔یہی وہ سبب ہے کہ اسد الدین اویسی  ایک  ہمدرد  ہندوستانی مسلم لیڈر کے طور پر ابھر رہے ہیں ۔

مجلس کی شاندار جیت کو شمالی ہندوستان میں سیکولر پارٹیوں کی ہار کی وجہ بنا کر پیش  کیا جارہا ہے ۔  الزام یہ عائد کیا جا رہاہے  کہ اویسی بی جے پی کے ایجنٹ ہیں اور ان کی پارٹی کی موجودگی نے مسلم ووٹ کو تقسیم کردیا جس کی وجہ سے حکمران جماعت جے ڈی یو - بی جے پی گٹھ بندھن مشرقی بہار میں اکثریت کی سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔  اور یہ الزام عام لوگوں کی طرف سے نہیں بلکہ تعلیم یافتہ اسکالرز، سیکولر دانشوروں اور نام نہاد سیکولر پارٹیوں کی طرف سے لگایاجا رہاہے۔  جبکہ   یہ  بے بنیاد اور حقیقت سے خالی الزامات ہیں۔  کسی کو بھی  کسی بھی پارٹی کو کہیں سے بھی الیکشن  لڑنے سے روکنے کی اجازت نہیں ہے ۔ جو پارٹی جہاں سے بھی چاہے الیکشن لڑ سکتی ہے۔   اس لیے  اے آئی ایم  آئی ایم حق پر  ہے اور اسکا یہ حق ہے کہ کہیں سے بھی وہ اسمبلی الیکشن لڑ سکتی ہے۔

ان سیکولر پارٹیوں کا  اویسی پر الزام لگا نے  کی اصل وجہ یہ ہے کہ انہیں لگ رہا  ہے کہ اب بہار میں مسلمانوں کو ایک نیا متبادل مل گیا ہے۔  وہ ڈرے ہوئے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس تجربے کو  مغربی بنگال یا اتر پردیش جیسی  ریاستوں میں بھی دوہرایا جاسکتا ہے ۔  کئی سالوں سے  ان سیکولر پارٹیوں  نے مسلمانوں کو اپنے ذاتی  ووٹ بینک کی طرح استعمال کیا ہے  ۔  مسلمانوں کی ترقی کے لئے کوئی خاطرخواہ کام کیے بغیر ان پارٹیوں کو اس بات کا یقین رہتا تھا کہ وہ مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گی اور اس کے لیے انہیں صرف  یہ اشارہ کرنا کافی  ہوگا کہ ہندتوا   کی سیاست وحکومت مسلمانوں کے لیے خطرناک ثابت ہوگی ۔ مسلمان اس بات پر یقینا فکر مند رہتے  ہوئے سیکولر پارٹیوں کو ووٹ دیتے رہے لیکن صبر وتحمل کی بھی ایک حد ہوتی ہے کہ جب مسلمان وقفے وقفے سے بھیڑ کے ہاتھوں مارے جا رہے تھے تو  سیکولر پارٹیاں کس طرح خاموش تماشائی بنی بیٹھی رہیں ۔ بالآخر مسلمانوں کو اس بات کا احساس ہو گیا کہ  جب مسلم نوجوانوں کو جھوٹے الزامات کے تحت گرفتار کیا جارہا  تھا تو یہ پارٹیاں کس طرح مسلسل  خاموش  رہیں ۔  یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو لگتا ہے کہ وہ اویسی کی پارٹی کو ایک مرتبہ آزمائے اور ایسا کرنے میں انہیں کوئی خامی نظر نہیں آرہی ہے ۔  بلا شبہ انہیں معلوم ہے کہ تنہا  اویسی انکی قسمت   نہیں بدل سکتے  لیکن اسکے باوجود  انہیں حوصلہ ملتا ہے اور دل کو تسلی   ملتی ہے کہ کم از کم اویسی  نے مسلم حقوق کے دفاع میں مسلسل آواز تو  اٹھایا ہے۔  مزید یہ کہ  اے آئی ایم آئی ایم کی موجودگی نے مسلمانوں کو ان تمام پارٹیوں  کے ساتھ بہتر انداز میں سودے بازی کا موقع فراہم کیا ہے جنہوں نے انکا اپنے ذاتی مفاد کے لیے  استعمال کیا۔

 کانگریس پارٹی کے ترجمان نے اویسی پر مسلمانوں میں ’عصبیت‘ پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے ۔  لیکن اس طرح کے خیالات صرف کانگریس پارٹی کے نہیں ہیں بلکہ اس طرح کے نظریات عام سیکولر ذہنیت  کا حصہ بن چکے ہیں۔  چنانچہ ، کانگریس مخالف بہت ہی معزز و  ممتاز  کارکن ، یوگیندر یادو کو  یہ کہتے ہوئے کوئی جھجک محسوس نہیں ہوا کہ  اویسی کی پارٹی کا عروج  ان کے لئے  پریشان کن ہے ۔   ہم سب بخوبی واقف ہیں کہ الگاو وادی کے ماحول میں عصبیت  اور بنیاد پرستی پروان چڑھتی ہیں۔لیکن  اس کے باوجود  ایسے ماحول میں  ہندوستانی مسلمان کیوں  بنیاد پرست نہیں  بن رہے ہیں؟  اس کی  ایک وجہ یہ ہے کہ ہندوستان کا  سیاسی طرز  عمل مسلمانوں کو سیاست میں  شامل ہونے ، اپنی ناکامی دور کرنے  اور  مثبت تبدیلی لانے کا خوب  موقع فراہم کرتا ہے۔  اس لیے آئی ایم آئی ایم  جو کچھ کر رہا ہے  اس سے مسلمانوں کو امید پیدا ہو رہی ہے  کہ سیاسی عمل کے ذریعے ہی ان کے حالات کی  تبدیلی ممکن ہے۔  اسے بنیاد پرستی کی راہ پر چلنا نہیں کہا جا سکتا ہے بلکہ یہ  جمہوریت کے عمل کو اور گہرا کررہا ہے جو بنیاد پرستی کے لئے زہر ہے۔  اور  یادو کے پاس یقینا پریشان ہونے کے وہ  تمام وجوہات  موجود ہیں کیونکہ اے آئی ایم آئی ایم  کے ساتھ مسلمان اپنی خود کی  آواز بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بات مسٹر یادو جیسے لوگوں کے لیے انتہائی پریشان کن ہوگا کہ کس طرح برسوں سے وہ مسلمانوں سے مشورہ کیے بغیر مسلمانوں کے مسائل پر نمائندگی کرنے کے عادی ہو چکے ہیں ۔    ان نام نہاد سیکولر پارٹیوں کا  اے آئی ایم آئی ایم  کے ساتھ  واحد مسئلہ یہ ہے کہ اویسی   مسلمانوں کو سیاسی قوت فراہم کریں گے  اور اپنی آواز خود اٹھانے کا موقع عنایت کریں گے ۔

 کانگریس کو اے آئی ایم آئی ایم پر بی جے پی کے ایجنڈے پر کام کرنے کا الزام لگانا بند کرنا چاہیے ۔ کیوں کہ بی جے پی ہندو اکثریت پسندی کی اصل پارٹی ہے۔ جب مہاراشٹرا میں ایک مسلم مخالف پارٹی کے ساتھ حکومت بنانے کے لئے بابری مسجد کا مسمار کیا جارہا تھا تو  کانگریس نے اس ملک میں مسلم مخالف بیان بازی کو بڑھاوا دیا  تھا ۔   اقلیتوں کے بے شمار افراد موت کے گھاٹ اتار دیے گئے  لیکن اس کے باوجود کانگریس خود کو سیکولر پارٹی ہونے کا دعوی کرتی ہے ۔  یہ صرف  وقت وقت  کی بات تھی کہ  جب مسلمان اس  دام بے  فریب کو نظر انداز کر دیتے تھے  لیکن  اب وہ   اپنے حالات میں تبدیلی لانا چاہ رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ  ایک ایسی پارٹی کے ساتھ صف بندی کر رہے ہیں جس کا ایجنڈا سماجی و معاشی ترقی ہے۔

 یقینا کسی کا اے آئی ایم آئی ایم  کی سیاسی سرگرمی سے اختلاف ہوسکتا ہے۔  تین طلاق  جیسے مسئلے پرمجلس کے  ’نظریہ'  سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ وہ ترقی پسند پارٹی نہیں ہے۔ جب بات آتی ہے مسلم سیاست کی اور خاص طور پر بہار کی تو انہوں نے ذات پات کے سوال پر کوئی کلام نہیں کیا ہے۔  تاہم  اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اویسی کی پارٹی پر سیکولر پارٹیوں کو نقصان پہنچانے کا   الزام عائد کیا جائے۔  اگر یہ سیکولر قوتیں واقعتا ہندو  اکثریت پسندی کو شکست دینے کے لئے  سنجیدہ تھیں تو پھر انہوں نے اسدالدین اویسی کے مطالبات کو کیوں قبول نہیں کیا اور ان کی پارٹی کو عظیم اتحاد کا حصہ کیوں نہیں بنایا؟  سیکولرازم کو برقرار رکھنے کے لئے صرف مسلمانوں  کو ہی  اپنے جائز حقوق ترک کرنے کی ضرورت کیوں  ہے؟  یہ وہ سوالات ہیں جن  کے جوابات اب ہر اس  پارٹی  کو دینا ہے جو مسلم ووٹ حاصل کرنا  چاہتی ہے۔

(انگریزی سے ترجمہ ، عمران عالم ، نیو ایج اسلام )

URL for English article:   https://www.newageislam.com/islam-and-politics/arshad-alam-new-age-islam/bihar-elections-radical-owaisi-is-not-the-problem-the-shallowness-of-this-secularism-definitely-is/d/123443

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/bihar-elections-radical-owaisi-problem/d/123607


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..