New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 03:48 AM

Urdu Section ( 7 Oct 2016, NewAgeIslam.Com)

Beyond the Moderate and Radical in Indian Islam ہندوستانی تناظر میں اعتدال پسند اور بنیاد پرست اسلام سے بھی اہم مسائل

 

 

 

 

ارشد عالم، نیو ایج اسلام

5 اکتوبر 2016

حال ہی میں ایک مشہور و معروف انگریزی نیوز چینل نے دو حصہ پر مشتمل ایک پروگرام نشر کیا جس کا عنوان تھا ' On the Trail of Salafism in India'۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ سوالات کی زد میں آنے والے صحافی اور چینل کا تعلق اجانب بیزار انتہائی قوم پرست طبقے سے نہیں ہے،اس پروگرام میں خاص طور پر مسلم کمیونٹی کے داخلی مسائل پر کچھ سنجیدہ بحث و مباحثہ کیا گیا تھا جس کی کمی اب تک محسوس کی جا رہی تھی۔ اس پروگرام کا دعوی یہ تھا کہ اسلام کی ایک مزید لغوی اور خالص تشریح ہندوستانی مسلمانوں کے ذہن و دماغ پر غلبہ حاصل کرتی جا رہی ہے اور اس طرح کا اسلام ہندوستان کی تکثیریت پسند ثقافت کے لیے بالآخر نقصان دہ ہے۔

یہ دعویٰ اکثر کیا جاتا رہا ہے کہ اسلامی روایت کی ایک لغوی تعبیر و تشریح میں اسلام کے اندر تکثیریت پسند روایات کو مٹانے کی صلاحیت موجود ہے۔ تاہم، صوفی اسلام کے لبرل اقدار کا موازنہ دیوبندیت اور سلفیت کی زہریلی روایات کے ساتھ کیا جاتا ہے تو اس وقت تسہیل کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ میں نے پہلے بھی کہا کہ ہندوستان کے تناظر میں صوفی بریلوی روایت کو اور دیوبندی سلفی روایت کو ایک دوسرے کا متضاد نہیں سمجھنا چاہیے۔ بلکہ ان دونوں کو ایک ہی تسلسل کا حصہ سمجھا جانا چاہیے۔ اس تفہیم کے تناظر میں بریلوی روایت بھی اسلامی ہندوستانی ثقافت کا اتنا ہی حصہ ہے جتنا وہابیت ہے۔

دونوں کے درمیان فرق نوعیت کا نہیں بلکہ درجے کا ہے۔ تنگ نظری اور انتہاپسندی پر صرف دیوبندی کی اجارہ داری نہیں ہے بلکہ یہ بریلوی روایت کے اندر بھی پائی جا سکتی ہے۔ان دونوں کو ایک دوسرے کا مخالف ماننا ایک غلط فہمی ہے جس کا شکار ہم میں سے اکثر انتہا پسند اسلام بمقابلہ اعتدال پسند اسلام پر جانبدار بحث و مباحثہ کرتے ہوئے ہو جاتے ہیں۔ جب ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ کتاب (Satanic Verses شیطانی آیات) پر پابندی عائد کرنے کے مطالبہ میں بریلوی سب سے آگے تھے اور وہ سلمان تاثیر کے قاتل کے جشن میں بھی ملوث تھے تو بریلویوں کی نام نہاد رواداری اور تکثیریت پسندی کا بھرم ٹوٹ ہو جاتا ہے۔ اکثر قدامت پسند معاملات میں ہندوستانی بریلوی کا بھی وہی موقف ہے جو دیوبندیوں کا ہے، خواہ وہ درگاہ یا مسجد میں عورتوں کی حاضری کا مسئلہ ہو یا تین طلاق کا سوال ہو۔ اس کے علاوہ، دیوبندی یا بریلوی مدارس کا نصابِ تعلیم شاید ہی مختلف ہے۔ ان دونوں کے مدارس میں حدیث اور قرآن کی تفاسیر بھی ایک ہی پڑھائی جاتی ہیں۔

 فرق صرف ان کی تشریحات میں ہے۔ کبھی کبھی ان دونوں کی تشریحات میں بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے۔ لیکن اسلامی شریعت کے بیشتر معاملات میں اور خاص طور پر عورتوں سے متعلق شرعی قوانین کے معاملات میں شاید ہی ان دونوں کے درمیان کوئی فرق پایا جاتا ہو۔ اس کے علاوہ، ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ لکھے ہوئے الفاظ خود ایک مخصوص روایت کو فروغ دیتے ہیں اور چند روایتی معمولات کا سوالات کی زد میں آنا فطری ہے۔ لہٰذا، اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہونی چاہیے کہ بریلویوں کی بھی کتابوں میں کچھ ہندوستانی اور اسلامی معمولات اور طرز عمل پر زبردست تنقید کی گئی ہے۔ لہذا، ہندوستانی اسلام کی نوعیت کے بارے میں کسی بھی مدلل بحث میں، بریلوی اور دیوبندی کے درمیان اس باطل تفریق کو ترک کر دیا جانا چاہیے۔

بلکہ اسلام کے اندر یہ دونوں فرقے ہندوستانی مسلم کمیونٹی کے اندر روایتی معمولات کی بہت بڑی نقاد ہیں۔ اختلافات کے باوجود بریلوی اور دیوبندی دونوں ان معمولات کو غیر اسلامی مانتے ہیں۔ اور دیوبندی اور بریلوی دونوں فرقوں کے اصلاح پسند ان روایتی معمولات کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں جو متعدد ہندوستانی کمیونٹی کا مشترکہ ورثہ ہیں۔

 مذہبی تکثیریت کے بارے میں بحث و مباحثے کا مرکزایک ایسے نظام کی تعمیر ہونا چاہیے جو ان ثقافتی اور مذہبی رسومات کی حفاظت کرے جو ایک سے زائد مذہبی کمیونٹی کے درمیان مشترک ہیں۔ اعتدال پسند بریلوی اور بنیاد پرست دیوبندی کے درمیان بڑے پیمانے پر ایک جھوٹے بحث و مباحثے کا انعقاد کر کے ہم مسئلہ کی شناخت بھی نہیں کر سکتے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ سب سے پہلے دیوبندیوں نے عام مسلمانوں کے روایتی معمولات کے تئیں سخت رویہ اختیار کیا تھا اور انہیں بدعت قرار دیا تھا۔ اور یہ بھی درست ہے کہ انہوں نے ہی سب سے پہلے اپنے مدارس کے اندر ان معمولات کے خلاف تعلیم شروع کی۔

 تاہم، گزشتہ سالوں کے دوران، خاص طور پر دیوبندیوں کے استبدادانہ موقف کی بدولت بریلویوں نے بھی ان کی پیروی شروع کر دی اور ان روایتی معمولات کی مذمت شروع کر دی۔ بریلوی اور دیوبندی دونوں نے ابتدائی اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اصلاحات کا یہ رویہ اختیار کر لیا ہے۔ تکثیریت پسند روایت کے خاتمے کا خطرہ یہیں سے شروع ہوا، جب تک عرب ثقافتی روایات سے پر ابتدائی اسلام کے اس نظریہ پر سوال نہیں اٹھایا جاتا تب تک بنیاد پرست دیوبندیوں کے خلاف اعتدال پسند بریلوی کو پیش کرنے میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-society/arshad-alam,-new-age-islam/beyond-the-moderate-and-radical-in-indian-islam/d/108766

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/arshad-alam,-new-age-islam/beyond-the-moderate-and-radical-in-indian-islam--ہندوستانی-تناظر-میں-اعتدال-پسند-اور-بنیاد-پرست-اسلام-سے-بھی-اہم-مسائل/d/108793

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..