New Age Islam
Fri May 01 2026, 10:45 AM

Urdu Section ( 31 Oct 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Did Prophet Muhammad Marry Hazrat Ayesha When She Was A Child? New Research Casts Doubt About This Islamic Narration کیا محمد نے عائشہ سے بچپن میں شادی کی تھی؟ نئی تحقیق میں اس اسلامی روایت کے حوالے سے شکوک کا اظہار کیا گیا ہے

ارشد عالم، نیو ایج اسلام

 29 اکتوبر 2022

 بہت سے اصلاح پسند مسلمانوں کے حوصلے اس وقت سرد پڑ جاتے ہیں جب ان سے اسلامی صحیفوں کا تنقیدی نقطہ نظر سے مطالعہ پیش کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔

 اہم نکات

1.      احادیث میں بیان وارد ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ سے اس وقت شادی کی جب وہ چھ سال کی تھیں اور نو سال کی عمر میں عقد کو مکمل کیا۔

2.      آکسفورڈ یونیورسٹی کے محقق جوشوا لٹل کی تحقیقات کے مطابق یہ حدیث آٹھویں صدی میں عراق میں گڑھی  گئی تھی۔

3.      اولین اسلامی ماخذ میں عائشہ کی عمر کا ذکر ہی نہیں ہے۔

4.      اس موضوع حدیث کی وجہ خالصتاً سیاسی تھی اور اسے اس وقت شیعہ اور سنی کے درمیان فرقہ وارانہ تصادم کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

 -------

 احادیث کے ذخیرے سے بہت سی روایات کے مطابق، کہا جاتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس وقت شادی کی جب وہ چھ سال کی تھیں اور جب وہ نو سال کی ہوئیں تو شادی مکمل کر لی گئی۔ اور بھی دیگر ایسی روایات ہیں جن میں تکمیل نکاح کے مختلف سال بیان کیے گئے ہیں لیکن یہ بھی ضرور ہے کہ چھ اور نو سال پر ایک مضبوط اتفاق ہے۔ اسلام کے مخالفوں کے لیے یہ ایک ایسا ہتھیار بن گیا ہے جسے وہ پیغمبر اسلام کے خلاف استعمال کرتے ہیں اور آپ کی سیرت و اخلاق پر سوال اٹھاتے ہیں۔ اس تنقید کا بڑی حد تک تاریخ سے کوئی سروکار نہیں ہے کیونکہ یہ موجودہ اخلاقیات کو ساتویں صدی کے عرب کے ثقافتی منظر نامے میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔ اس زمانے میں شادی وغیرہ کی عمر کے حوالے سے تصورات کافی مختلف تھے اور یہ حال صرف عرب کا ہی نہیں بلکہ دنیا کے بہت سے دوسرے حصوں کا بھی تھا۔ بہر کیف، لوگ ماضی کے بارے میں بات اسے سمجھنے کے لیے نہیں کرتے، بلکہ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی زندگی پر کلام کر کے آج کے مسلمانوں کو بدنام کیا جائے۔ ہم نے حال ہی میں دیکھا ہے کہ کس طرح سابق بی جے پی ترجمان نوپور شرما نے اس کا استعمال کیا اور اس کے بعد کیا ہوا۔

 لیکن مسلمان بھی اس صورتحال کو نہیں سنبھال سکے۔ مین اسٹریم اسلامی فقہ میں محمد کی زندگی کو ایک نمونہ عمل مانا گیا ہے۔ اور مسلمانوں کے اوپر ضروری ہے کہ وہ آنے والے ہر زمانے میں ان کی تقلید کریں۔ پیغمبر کو نمونہ عمل بنانے اور ان کی زندگی اور زمانے کو سیاق و سباق سے آزاد رکھنے کا ہی نتیجہ ہے جس نے انہیں اس طرح کے حملے کے سامنے لا چار و مجبور بنا دیا ہے۔ آخر کار، نوپور شرما نے جو کہا وہ اس کے تصور میں بھی نہیں تھا۔ یہ سب ہمارے اپنے مجموعۂ احادیث میں لکھا ہوا ہے! اور اسلامی مذہبی تعلیمات کے اندر احادیث کو قرآن کے مقابلے میں دوسرے نمبر پر تصور کیا جاتا ہے۔ درحقیقت، بہت سے معاملات میں یہ حدیثیں ہی ہیں جو قرآن پر روشنی ڈالتی ہیں نہ کہ اس کے برعکس۔ اگرچہ پیغمبر اپنی طرف سے اپنے پیروکاروں کو یہ یاد دلاتے رہے کہ میں صرف ایک انسان ہوں، لیکن مسلمانوں نے انہیں اس مقام پر بیٹھا دیا ہے کہ انہوں نے جو کچھ بھی کیا اس کی پیروی کرنا ایک فضیلت کی بات بن گئی۔ چونکہ ہمیں قرآن سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار اور آپ کی شخصیت کے بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں ملتی ہیں، اس لیے احادیث کا سہارا لیا جاتا ہے جن میں ہمیں لمحہ بہ لمحہ یہ تفصیلات ملتی ہیں کہ نبی کون تھے اور ان کا کارنامہ کیا تھا۔ اس لیے نبی کو نمونہ بنانا بنیادی طور پر اس عقیدہ پر منحصر ہے کہ حدیث کی تمام روایات صحیح ہیں۔ لیکن جونہی آپ احادیث کی صداقت پر شک کرنے لگتے ہیں، تو اس کا فطری نتیجہ یہ سوالات ہوتے ہیں کہ نبی واقعی کون تھے اور ہم ان کے بارے میں کیسے جانتے ہیں۔

 جوشوا لٹل (آکسفورڈ یونیورسٹی) کی ایک نئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح عائشہ کی شادی کی عمر اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عقد نکاح کی تکمیل کے حوالے سے اکثر جو حدیثیں پیش کی جاتی ہیں وہ صحیح نہیں ہیں۔ مختلف روایات کی چھان بین کے بعد، لٹل نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ حدیث ہشام بن عروہ نامی راوی نے گھڑی ہے۔ لٹل کہتے ہیں کہ اس راوی ابن عروہ کو روایتی علماء کے پیمانے سے بھی بھی ناقابل اعتبار سمجھا جاتا تھا۔ اس پر ’ضعف‘ اور تدلیس کا الزام تھا، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے جان بوجھ کر حدیث کی راویوں میں کسی کمزور راوی کا ذکر نہیں کیا۔ مزید یہ کہ اس کا زمانہ 8ویں صدی کا ہے جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے تقریباً 150 سال بعد اکا زمانہ ہے۔ اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نے یہ حدیث مدینہ سے عراق منتقل ہونے کے بعد بیان کی تھی۔

 لٹل کی دلیل ہے کہ اس طرح کی من گھڑت باتوں کی وجہ عراق کے فرقہ وارانہ ماحول میں مضمر ہے جو شیعہ اور سنی کے درمیان بٹا ہوا تھا۔ ان کے بقول یہ دونوں فرقے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قربت کا ثبوت دے کر اپنی صداقت ظاہر کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ شیعہ علی کو صرف اس لیے نہیں مانتے کہ وہ رسول اللہ کے چچازاد بھائی اور داماد تھے بلکہ اس لیے بھی کہ وہ بچپن سے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں تھے کیونکہ وہ عملی طور پر ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔ دوسری طرف سنیوں نے ابوبکر کے ذریعے اس قربت کی بنیاد رکھی، جسے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک قرار دیا تھا۔ ان کی بیٹی عائشہ کو، جو ابھی تک نابالغ تھی، رسول اللہ کے گھر میں رکھ کر، وہ محض سنیوں کے اس دعوے کی تشہیر کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ابو بکر محمد کے سچے پیروکار ہو اور خلافت کے حقیقی وارث ہیں۔

 اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ لٹل نے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ مدینہ میں تصنیف کردہ قدیم ترین قانون کی کتاب، مثلاً امام مالک کی الموطاء میں اس حدیث کا کوئی ذکر نہیں ہے، حالانکہ اس کتاب میں راوی ابن عروہ کا حوالہ دوسرے سیاق و سباق میں موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امام مالک نے حدیث کو رد کیا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس وقت مدینہ میں یہ حدیث موجود ہی نہیں تھی۔ اگر یہ موجود ہوتی تو اس کی قانونی اہمیت اور ابتدائی مسلم معاشرے پر اس کے اثرات کو بیان کیا گیا ہوتا۔ حتیٰ کہ رسول اللہ کے سب پہلے سیرت نگار ابن اسحاق نے بھی عائشہ کی عمر کا ذکر نہیں کیا ہے۔ لیکن یہ تفصیل بعد میں ابن ہشام نے 9ویں صدی میں اپنی کتاب میں شامل کر لی۔ ابتدائی اسلامی تصانیف میں عائشہ کی عمر کی عدم موجودگی نے لٹل کو اس نتیجے پر پہنچنے میں رہنمائی کی کہ یہ خاص حدیث واضح طور پر آٹھویں صدی کی کی اختراع ہے جو عراق کے مخصوص سیاسی تناظر میں گڑھی گئی اور محمد کی زندگی سے جوڑ دی گئی۔

 اصلاح پسند مسلمان پہلے سے ہی یہ کہتے آ رہے ہیں کہ حدیث میں کوئی نہ کوئی خامی ضرور ہے جس کی وجہ سے عائشہ کی شادی کی عمر 6 برس بیان ہوئی ہے۔ حال ہی میں مشہور عالم جاوید احمد غامدی بھی اس حدیث کی سند پر شک ظاہر کر چکے ہیں۔ تو کیا یہ اس کا ثبوت ہے کہ کس پر اصلاح پسند مسلمان ہمیشہ بحث کرتے رہے ہیں؟ ہو سکتا ہے کہ ایسا ہی ہو لیکن بہت سے اصلاح پسند مسلمانوں کے حوصلے اس وقت سرد پڑ جاتے ہیں جب ان سے اسلامی صحیفوں کا تنقیدی نقطہ نظر سے مطالعہ پیش کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ اگر احادیث کے مجموعوں کی جدید طرز تحقیق سے چھان بین کی جائے تو ان میں سے اکثریت کو مسترد کرنا پڑے گا۔ یادداشت ایک مشکل میدان ہے۔ یہ ایک بہت بڑا معجزہ ہوگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی روایتیں ان کی وفات کے ایک صدی بعد پہلی بار لکھی جائیں۔ لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ہمیں صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عائشہ سے شادی کے بارے میں ہی نہیں بلکہ اس بارے میں بھی سوچنا چاہیے کہ ہم ان کی پوری شخصیت کے بارے میں کیسے جانتے ہیں۔ یہ قرآن تو ہمیں نبی کے بارے میں کچھ نہیں بتاتا۔ بلکہ ساری باتیں حدیثوں میں ہیں۔ اگر ہم اسے ہی ناقابل اعتبار سمجھنا شروع کر دیں تو اسلام کے مبادیات کے بارے میں کیسے جانیں گے؟

English Article: Did Muhammad Marry Ayesha When She Was A Child? New Research Casts Doubt About This Islamic Narration

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/muhammad-marry-ayesha-research-islamic-narration/d/128307

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..