New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 04:52 PM

Urdu Section ( 19 Dec 2012, NewAgeIslam.Com)

Past Forgotten, Future Tense ماضی کو بھلا دیا گیا ، مستقبل کی پریشانی

 

 ارشد عالم ، نیو ایج اسلام  کے لئے

19 دسمبر، 2012

(انگریزی  سے ترجمہ   ۔  مصباح الہدیٰ  ،  نیو ایج اسلام )                                                

ابھی جلد ہی میں طلبہ کی ایک جماعت کو  ، ہندوستانی معاشرے اور ان اہم مکالموں کے نقطہ نظر سے جن کا آج ہمیں سامنا ہے ، پڑھانے گیا تھا ۔  جس چیز نے مجھے صدمہ پہونچایا وہ وہاں کے تقریباً بیس سال کے   لوگوں کا   ان مسائل  سے  بالکل دور ہونا تھا سے جس نے ہندوستان کے  سماجی ڈھانچے کو پوری طرح تقسیم کر دیا ہے ۔  اس  متفقہ رائے کے علاوہ  کہ کاسٹ ریزرویشن ملک کے لئے فائدہ سے زیادہ نقصان دہ  تھا ، وہ طلبہ بابری مسجد انہدام اور ان مسلم مخالف حملوں کے بارے میں نہیں جانتے تھے جو بابری مسجد انہدام کے بعد ممبئی جیسی جگہوں میں  اعلیٰ پیمانے پر  وقوع پذیر ہوئے ۔اس سے بھی زیادہ قریب 2002 میں ہونے والے فساد کے بارے میں ان کا نظریہ تھا کہ  ہندو  اور مسلمانو ں نے آپس میں جھگڑا کیا  تھا  اور اس  ‘‘ فساد ’’کے درمیان کچھ لوگ  مارے گئے تھے ۔ انہیں اس نام نہاد  فساد میں  ریاست کی سازش  اور ان ریاستوں میں مسلمانوں کے سوچے سمجھے  قتل کے معاملے میں گجرات بی جے پی قیادت کے کردار کا کوئی تصور نہیں ہے ۔

اسی طرح 1984 میں دہلی میں اور دوسرے مقامات پر  سکھ مخالف قتل عام بھی ان کے لئے جائزہ لینے کا گذرا ہوا ایک ماضی تھا ۔کوئی یہ کہہ  سکتا ہے ( جیسا کہ بہت سے  لوگ کہتے ہیں ) یہ اس معنیٰ میں ایک اچھی چیز ہے کہ  نئی نسل کے پاس پریشان ہونے کے لئے دوسری چیز ہے ، کہ ہندوستان نے  ‘ آپسی نفرت  ’ بھرے پریشان کن ماضی پر آخر کار فتح حاصل کر لی ، اور  اسی لئے آزاد خیالی کے عمل سے پہلے کے نوجوان ذات اور مذہب پر دھیان نہیں دیتے ہیں  ، جو کہ اب ہم جس آفاق گیر دور  میں داخل ہو رہے ہیں اس کا وسیلہ ہو سکتا ہے ۔

لیکن   ماضی کی باتوں کو بھلادینا کیا بہر حال خوش آئند بات ہے ؟ ہندوتوا متعصبین کے ذریعہ  مسجد کا انہدام اور منظم مسلم مخالف قتل  وغارت جو بعد  میں ہوئے  ، وہ ہندوستانی تاریخ کے تاریک تر باب  میں سے ایک تھا ۔ایسا صرف بیس سال پہلے ہوا ہے اور وہ ایسا ماضی نہیں ہے جسے بھلا دیا گیا ہو ، اس بات کی یاد دہانی کروانے والا ہے کہ  اس پیش قدمی کا خاکہ  سیدھے  طور پر نہیں کھینچا گیا  ۔ جن لوگوں نے مسجد کو منہدم کیا وہ کوئی پشیمانی  ظاہر کئے بغیر راہ فرار  اختیار   کر چکے ہیں ، ان میں سے کچھ اب تک یہ سوچتے ہیں کہ اس تباہی کو ہندو قوم کے کی نشأۃ ثانیہ کے طور پر ضرور منانا چاہئے۔ ان لوگوں نے فرقہ وارانہ تشدد کی محفل میں اپنی طاقت کا استعمال کیا ، اور ہندوستان کی بستیاں مسلمان  کی لاشوں سے بھری پڑی   ہیں  ، ان لوگوں نے تمام شہریوں کے  مساوات کے قانونی نظریہ کے تئیں خیر خواہ ہونے کی قسم لے رکھی ہے۔

اس قدر رسمی اس نظریہ اور قسم  کا کیا ہوا  ؟ تاریخ اور انسانوں کے قاتل قائد  بن چکے ہیں،  اور وہ مسلم جو  ہجوم کے ذریعہ مارے گئے  اب تک انصاف کا انتظار کر رہے ہیں ۔ شری کرشنا رپورٹ نے  براہ راست مختلف ہندو لیڈروں کو اس کا ملزم ٹھہرایا ہے ، اور اس طرح با آسانی فریب زدہ کر  دیا تھا ۔

رپورٹ نے جس با ت کی سفارش کی اس پر  کوئی تحریک بھی پیدا نہیں ہوئی ۔ چنانچہ پولیس کے مسلم مخالف رویہ کے تعلق سے  مشکل سے ہی کوئی بات سامنے آئی ، یہاں تک کہ پولیس کی اصلاحات کی  بات  بھی بہت کم لوگوں نے کی ۔ بد شگونی سے ابھی جلد ہی یہ بات منظر عام آئی ہے  کہ جھوٹ موٹ میں پولیس نے مکہ مسجد بم دھماکہ اور مالیگاؤں بم دھماکہ  کے کیس میں  بے گناہ مسلم نوجوانوں کو پھنسایا ہے ۔ اور اب تک راجیہ سبھا میں دوسرے دن  شور و غل کے علاوہ  محکمہ سے کچھ بھی برآمد نہیں ہوا  ۔  بے شمار مسلم نوجوانوں کا اٹھایا جانا  ، غیر قانونی طور پر قید کیاجانا  اور منگڑھت الزامات میں  پھنسایاجانا قومی مسئلہ کیوں نہیں ہے ۔ کیا   یہ سب اس لئے ہے  کہ ، ان جیسے نوجوان جن سے میں نے بنگلور میں ملاقات کی ،  اس تکلیف دہ سچائی کو بھول جانا چاہتے ہیں ؟

انصاف کے کسی تصور کے بغیر بھول جانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ٹیلی ویزن پر چل رہے حالیہ مباحثے مسلمانوں کو یہ تمام واقعات بھولنے  پر  ابھار رہے ہیں ، گجرات کا منظم قتل  عام صرف اس بات کی یاد دہانی کرانے والا ہے کہ ہم ایک معاشرے کی حیثیت سے کس طرح ان  تکلیف دہ حقائق کو بھولنے کے عادی  ہوتے ہیں ۔ اس کا مطلب قطعاً یہ نہیں کہنا ہے کہ مسلمانوں کو آگے نہیں بڑھنا چاہئے ۔ در حقیقت  ،اگر وہ آنے  والی نسلوں  کے لئے ایک اچھا مستقبل بنانا چاہتے ہیں تو  انہیں ضرور آگے بڑھنا چاہئے ۔ لیکن اس طرح آگے بڑھنا انصاف کے تصور سے خالی نہیں ہو سکتا ۔ یہ اسی طرح ہو گا کہ خود مظلوم سے قاتل  کو معاف کرنے کے لئے کہا جائے ۔

مزید برآں ، اس طرح  ان کے مقاصد کا اظہار کئے بغیر اس طرح  لوگوں کے  آگے بڑھنے کے رجحان کا تصور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ایک معاشرے کی حیثیت سے ہم  اپنی حیوانیت کو  اپنے  اجتماعی شعور  کا حصہ بنائے رکھنے پر مصر ہونگے  ۔ متأثرین کے متعلق خاطر  خواہ حساسیت اور اس بات کے شعور کے ساتھ   ہی  اس طرح  کی بات پیدا ہوگی  کہ ہم انتہائی کمزور طبقات اور اقلیتوں کی حفاظت کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں  ۔  عوامی تعلیم کا نظام اس طرح وضع کیا جانا ضروری ہے جو ہماری موجودہ  اور آنے والی نسلوں کو  ان خوف اور دہشت سے آگاہ کرے جو وحشی اکثریت کے نام پر  پھیلائے گئے۔

ہمارے بچوں کو ہمدردی کے مطمح نظر  یہ ضرور بتایا جانا چاہئے کہ ایک سوسائٹی کی حثیت سے ممبئی ، گجرات  اور کندھامال  میں اقلیتوں کے ساتھ ہم نے کیا کیا  ۔ ان باتوں کو دھیرے دھیرے ان نوجوانوں کے دماغ میں اتار کر  جن میں اجتماعی تشدد کی قوت ہے جس پر  ہم قابو رکھتے ہیں ایک معاشرے کی حیثیت سے کیا ہم اس بات کو یقینی بنا  سکتے  ہیں  کہ  اس طرح کے واقعات  بغاوت کا شعور پیدا کر سکتے ہیں  اور لوگوں کو اب  مزید اس کا عادی  ہونے کی  ضرورت نہیں ہے ۔ بھولنے کی کوشش کرنا اور خوشی میں مگن رہنا اس کا علاج نہیں ہو سکتا ۔ہم صرف یہ یاد رکھ کر ہی محفوظ ہو سکتے ہیں کہ ہم کس قدر تدوین قانون کی دہشت  پھیلانے کے قابل ہیں ۔

ارشد عالم مسلم اقلیتی مسائل کالم نگار اور  تبصرہ نگار ہیں ۔ اور وہ جواہر لعل نہرو یونیور سٹی میں پڑھاتے ہیں  ۔

 URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-society/arshad-alam-for-new-age-islam/past-forgotten,-future-tense/d/9734

URL for this article:

 http://www.newageislam.com/urdu-section/arshad-alam-for-new-age-islam--ارشد-عالم/past-forgotten,-future-tense-ماضی-کو-بھلا-دیا-گیا-،-مستقبل-کی-پریشانی/d/9752

 

 

Loading..

Loading..