New Age Islam
Fri May 20 2022, 08:02 AM

Urdu Section ( 25 Feb 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Religious Supremacist Attitude, Bigotry and Rigidity – Curse for the Humanity مذہبی بالادستی، تعصب اور سنگ دلی،انسانیت کے لیے لعنت

ارمان نیازی، نیو ایج اسلام

18 اکتوبر 2021

مذاہب کا مقصد ایک ہم آہنگ اور جامع معاشرے کا قیام ہے

اہم نکات:

1. مذہب ایک درست اخلاقی نظام سے عبارت ہے جس میں تمام مذاہب کے لوگوں کے لیے باہمی احترام اور قبولیت کا تصور موجود ہو

2. مذہب شرافت، نرمی اور ضبط نفس کی تعلیم دیتا ہے

3. جو لوگ معاشرے میں تفرقہ اور انتشار پھیلاتے ہیں وہ کچھ بھی ہو سکتے ہیں مگر مذہبی نہیں ہو سکتے۔

4. سیاسی نظریات، فلسفے اور ثقافتی تنوعات معاشروں کو تقسیم نہیں کرتے، لہٰذا مذہب کو اقتدار کے حقیر فائدے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

------

مذہب کا مقصد ایک ہم آہنگ معاشرے کا قیام ہے

مذاہب کا مقصد ایک ہم آہنگ اور جامع معاشرے کا قیام ہے۔ مذاہب بے حیائی کی تعلیم نہیں دیتے۔ مذہب ایک درست اخلاقی نظام سے عبارت ہے جس میں تمام مذاہب کے لوگوں کے کے لیے باہمی احترام اور قبولیت کا تصور موجود ہو۔ مذہب شرافت، نرمی اور ضبط نفس کی تعلیم دیتا ہے۔ مذاہب میں نفرت، غصہ، دشمنی اور حسد جیسی صفات نہیں ہو سکتیں۔ جو لوگ معاشرے میں اختلاف و انتشار پھیلاتے ہیں وہ کچھ بھی ہو سکتے ہیں مگر مذہبی نہیں۔ سیاسی نظریات، فلسفے اور ثقافتی تنوعات معاشروں کو تقسیم نہیں کرتے، لہٰذا مذہب کو اقتدار کے معمولی فائدے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

انسانیت اس دنیا کے آغاز سے لے کر اب تک کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے۔ انسانوں کو بے شمار ماحولیاتی اور انسان ساختہ واقعات و حادثات کا سامنا کرنا پڑا ہے جن سے انتہائی مہلک تباہیاں ہوئی ہیں۔ یہ مشکل وقت آئے اور لوگوں نے اپنی اجتماعی جدو جہد سے انہیں شکست دی۔ حال ہی میں، پوری دنیا وبائی مرض کوویڈ 19 کی لپیٹ آئی تھی جو کہ اب بھی موجود ہے، لیکن انسانوں نے مل کر جدوجہد کی اور اس پر فتح حاصل کر لی ہے۔ ان آزمائشی اوقات پر قابو پا لیا گیا کیونکہ وہ کھلی آنکھوں سے دکھائی دے رہے تھے۔ لوگوں کو معلوم تھا کہ دشمن کون ہے اور اس کی نوعیت کیا ہے اس لیے ان پر قابو پالیا گیا۔

An open Bible sits on a map. Photo courtesy of Creative Commons

-----

مذہبی بالادستی کی انتہا پسندی اور مذہبی تعصب

تمام سونامیوں اور وبائی امراض سے خطرناک 'مذہبی تعصب' ہے۔ ہم سب اس دشمن کو جانتے ہیں جس نے دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے لیکن ہم اسے تسلیم نہیں کر رہے ہیں۔ ہم نادیدہ دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ عالمی قومیں دشمن کو اس لیے تسلیم نہیں کر رہی ہیں کیونکہ ان کی خواہش ہے کہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اس مذہبی تعصب کا الزام دوسری قومیں لیں۔ ترقی یافتہ قوموں کے لیے ترقی پذیر یا غیر ترقی یافتہ ممالک میں خامیاں تلاش کرنا آسان ہے۔ لہٰذا، وہ یہی کر رہے ہیں۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مذہبی تعصب کسی ایک ملک کو نہیں کھائے گا بلکہ دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔

مسلم اقوام پر مذہبی تعصب کا الزام اس طرح لگایا جاتا ہے جیسے باقی تمام لوگ متقی و پارسا ہیں۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ مذہبی تعصب کی وجہ سے پیدا ہونے والی ایسی خطرناک صورت حال کی ذمہ دار مسلم قومیں ہیں تو وہ اسے برقرار رکھنے میں کیوں ناکام رہی ہیں کیونکہ سارے وسائل پر ان کا قبضہ ہے؟ اگر مذہبی تعصب دہشت گرد تنظیموں کا کارنامہ ہے تو پھر انہیں برقرار رکھنے، مضبوط ہونے اور پھر انسانوں کو بے دردی سے کچلنے کے لیے وقت کیوں فراہم کیا جاتا ہے۔ اس طرح کے بہت سے سوالات ہیں جن کے جوابات عالمی طاقتوں کو دینے کی ضرورت ہے۔ مذہبی تعصب کی چکی میں پسے جانے والی انسانیت کی حفاظت کے پیش نظر اس کا الزام ایک دوسرے کے سر مڑھنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ مذہبی تعصب کے ذمہ داروں کو بلا تفریق انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

مذاہب پر ان کے پیروکاروں کی غیر اخلاقی حرکتوں کی وجہ سے مذہبی تعصب کا الزام لگایا جاتا ہے۔ جس طرح معاشرے میں انسان کو اس کے رویے کے مطابق پرکھا جاتا ہے، اسی طرح مذہب کو اس کے پیروکاروں کے رویے کے مطابق پرکھا جاتا ہے۔ انسانیت کی ذلت و رسوائی کے لیے مذہب کو مورد الزام ٹھہرانا کوئی اچھی بات نہیں ہے کیونکہ مذہب نے ہی انسان کو تخلیق کیا ہے اور اسے اخوت اور جامعیت کے مثبت جوہر کے ساتھ تخلیق کیا ہے جس میں دوسرے انسانوں کی طرف روحانی جھکاؤ ہے۔

قرآنی آیات میں تعصب اور تنگ نظری سے متعلق مذہبی تعلیمات

اور اللہ کی راہ میں لڑو ان سے جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے نہ بڑھو اللہ پسند نہیں رکھتا حد سے بڑھنے والوں کو۔ (البقرہ-190)

اے ایمان والو! حرام نہ ٹھہراؤ وہ ستھری چیزیں کہ اللہ نے تمہارے لیے حلال کیں اور حد سے نہ بڑھو، بیشک حد سے بڑھنے والے اللہ کو ناپسند ہیں۔ (المائدہ-87)

بیشک انصاف والے اللہ کو محبوب ہیں۔ (الممتحنہ -8)

کچھ زبردستی نہیں دین میں۔ (البقرہ-256)

اور جو مال تجھے اللہ نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول اور احسان کر جیسا اللہ نے تجھ پر احسان کیا اور زمیں میں فساد نہ چاه بے شک اللہ فسادیوں کو(جو بڑے بڑے جرائم اور گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں، اور جو ظالم، جابر، فسادی اور بدعنوان ہیں) دوست نہیں رکھتا۔(القصص-77)

بیشک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی اور رشتہ داروں کے دینے کا اور منع فرماتا بے حیائی اور برُی بات اور سرکشی سے تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو۔ (النحل-90)

انصاف کرو، وہ پرہیزگاری سے زیادہ قریب ہے، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ کو تمہارے کامو ں کی خبر ہے۔ (المائدہ-8)

بیشک اللہ ان کے ساتھ ہے جو ڈرتے ہیں اور جو نیکیاں کرتے ہیں- (النحل – 128)

بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے۔ (النساء-58)

تعصب اور سختی کی مذمت میں بائبل کی آیات

میرے بھائیو، کسی قسم کی طرف داری نہ کرو کیونکہ تم ہمارے خُداوند یسوع مسیح پر ایمان رکھتے ہو — جیمس 26-2:1

اور ہمارے قرض معاف فرما، جیسا کہ ہم اپنے قرض داروں کو معاف کر دیتے ہیں- متھیو 6:12

کیونکہ سب نے گناہ کیا ہے اور خدا کے جلال سے محروم ہیں، - رومنز 3:23

کیونکہ گناہ کی بدلہ موت ہے لیکن خدا کا تحفہ ہمارے خداوند یسوع مسیح میں ہمیشہ کی زندگی ہے۔ — رومنز 6:23

....."مبارک ہیں وہ جو روح کے غریب ہیں، کیونکہ آسمان کی بادشاہی ان کی ہے۔ "مبارک ہیں وہ جو ماتم کرتے ہیں، کیونکہ ان کے لیے تسلی ہے۔ "مبارک ہیں حلم و بردباری والے، کیونکہ وہ زمین کے وارث ہوں گے۔ ... – میتھیو48- 5:1

قومیں کیوں غصہ کرتی ہیں اور لوگ فضول میں سازشیں کیوں کرتے ہیں؟ ..... تب وہ اپنے عتاب کے ساتھ ان سے بات کرے گا، اور اپنے غضب میں انہیں خوفزدہ کرے گا، کہے گا،... - زبور 2:1-12

تعصب اور سختی کی مذمت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روایات

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ (صحیح مسلم، حدیث 65)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے میرے بندو، میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کیا ہے اور میں نے اسے تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے، لہٰذا ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ (حدیث قدسی – بروایت مسلم، 2577)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تم سے زمانہ جاہلیت کا غرور اور اپنے اسلاف پر فخر کو ختم کر دیا ہے۔ اب انسان یا تو صرف نیک مومن ہوگا یا بد بخت گنہگار۔ تم آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنائے گئے ہیں۔ لوگ اپنے باپ دادا پر فخر کرنا چھوڑ دیں۔ وہ تو محض جہنم کا ایندھن ہیں، ورنہ اللہ کے ہاں ان کا مقام اس کیڑے سے بھی کم تر ہوگا جو اپنی ناک میں گوبر میں رگڑتا ہے۔" (سنن ابی داؤد - ابوہریرہ سے مروہ)

زمانہ جاہلیت کے جن خصائل کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سختی سے تنبیہ فرمائی ہے، ان میں سے ایک خصلت دوسروں کو ان کے نسب کی بنیاد پر بدنام کرنا ہے۔ (صحیح مسلم)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیرا ہو گا۔ (مسند احمد 9361- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مظلوم کی بد دعا سے بچو، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی روکاوٹ نہیں ہے۔ (صحیح بخاری 4090)

ایک حدیث نبوی میں ہے: "سات قسم کے لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے سائے میں اس دن پناہ دے گا جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔" [ان میں سے ایک] عادل رہنما ہے۔ (صحیح مسلم)

ابراہیمی دین کی تمام مذکورہ بالا آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روایات اہل دنیا کے درمیان امن، سکون اور جامعیت کی تعلیم دیتی ہیں۔ ان آیات میں صرف ان کے ہی پیروکاروں سے کلام نہیں ہے بلکہ ان میں تمام لوگوں سے خطاب ہے۔ یہ آیات معاشرے میں ہر قسم کی سختی اور جبر و تشدد کی مذمت کرتی ہیں۔ مذکورہ آیات سماجی فلسفے ہیں۔ ان کو سمجھنے والوں کے لیے ان میں حکمت، عقل اور منطق کا خزانہ موجود ہے۔

دنیا کے تمام مذاہب میں اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس کے متعلق بڑی غلط فہمیاں پیدا کر دی گئی ہیں اور اس ایک فوبیا بنا دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کو بطور شیطان پیش کیا گیا ہے۔ آیات قرآنیہ امن کی تعلیم دیتی ہیں اور ہر قسم کی زیادتی کی مذمت کرتی ہیں۔ سختی اور جبر و اکراہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اس لیے صرف ان لوگوں پر نکیل کسنی چاہیے جو ظلم کرتے ہیں اور اپنی برتری کو دوسروں پر تھوپتے ہیں، نہ کہ مجموعی طور پر مذہب پر۔ اسلام کی رسوائی عالمی سطح پر لوگوں مجبور کر رہا ہے۔ مذہب اور اس کے پیروکاروں کی اس رسوائی کو دہشت گردی کے جواز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس کا ارتکاب دہشت گرد کرتے ہیں۔ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے دنیا کو اسلام فوبک خصائص کا سد باب کرنا ہو گا، جو بہت سے لوگوں کے دل و دماغ میں گھر کر چکے ہیں تاکہ دہشت گردوں کو اپنی غیر انسانی اور وحشیانہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے کوئی بہانہ نہ ملے۔

ہر قسم کی مذہبی بالادستی، تعصب اور مذہبی سخت گیریت کو ختم کرنا آج پوری دنیا کا نعرہ ہونا چاہیے، جس کا ارتکاب شیطانی طاقتیں کر رہی ہیں، تاکہ ایک انصاف پسند اور جامع معاشرے کی فضا پیدا کی جا سکے۔

روایت کی پیروی بالخصوص مسلمانوں اور بالعموم تمام لوگوں کو بیدار کرنے کے لیے کافی ہے جو اپنے معمولی فائدے کے لیے اپنے بھائیوں کو ڈراتے ہیں اور ان کا جینا مشکل کر دیتے ہیں۔

"خوشخبری سناؤ، اور لوگوں کو خوفزدہ نہ کرو۔ چیزوں کو آسان بناؤ اور مشکلیں نہ پیدا کرو۔" - حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم (ابوداؤد)

واللہ اعلم بالصواب۔

ارمان نیازی NewAgeIslam.com کے کالم نگار ہیں۔

---------

English Article: Religious Supremacist Attitude, Bigotry and Rigidity – Curse for the Humanity

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/religious-supremacist-attitude-bigotry/d/126455

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..