New Age Islam
Wed Jan 28 2026, 04:10 AM

Urdu Section ( 2 Sept 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Islam and Huqooqul Ibad: Extraordinary Importance of Muslims Keeping Promises اسلام اور حقوق العباد:مسلمانوں کے وعدوں پر قائم رہنے اور ذمہ داریوں کو پوری کرنے کی غیر معمولی اہمیت

 

ارمان نیازی ، نیو ایج اسلام

 (انگریزی سے ترجمہ ، نیو ایج اسلام)

23جنوری، 2013

آج  اسلامی زندگی کے ہر پہلو میں نقص اعتماد اور وعدے کی خلاف ورزی کا مشاہدہ کرنا مایوس کن ہے۔ آج کے مسلمانوں کے ذریعہ مسلمانوں کے ساتھ نقص اعتماد خدا کے ساتھ کئے گئے عہد و پیمان کی خلاف ورزی کو ہر قدم پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ مسلمان اب ایسی قوم نہیں رہی جو اپنے وعدوں پر قائم رہے جیسا کہ ان کا مذہب  انہیں وعدوں اور ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی تعلیم دیتا ہے ۔ مندرجہ ذیل قرآن کی آیت اور احادیث اسلام میں وعدوں کو پورا کرنے اور  ذمہ داریوں کو نبھانے کی اہمیت پر زور دیتی ہیں:

• اے ایمان والو ! ذمہ داریاں پوری کرو ۔ ( 5:1 )

• حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا فرمان ہے: جو شخص وعدہ وفاء نہیں کرتا اس کا کوئی مذہب نہیں ہے ۔

ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا مطلب ' تحریری ' یا ' غیر تحریری ' معاہدوں کے مطابق عمل کرنا ہے۔ اکثر ہم ایسے لوگوں کے ساتھ معاہدے اور وعدے کرتے ہیں جن کے ساتھ ہمارا معاملہ ذاتی ، جذباتی ، قانونی یا اقتصادی سطح پر ہوتا ہے ۔ ہمارے عہدو پیمان  خدا کے ساتھ بھی ہیں  جنہیں ہمیں پورا کرنا پڑتا ہے ۔

ہمارے اور ہمارے خاندان کے اراکین کے درمیان کے عہدو پیمان کی طرح مذہبی معاہدے  بھی پورے نہیں کئے جا رہے ہیں  ۔ ہم اپنے بزرگوں کے تئیں  اپنے فرائض کو بھول گئے ہیں ورنہ خیرات پر چلنے والےاولڈ ایج ہوم نہیں ہوتے ۔ یہاں تک کہ ہم میں سے بہت سارے نومولود بچوں کی دیکھ بھال بھی نہیں کرتے اور  انہیں مختلف وجوہات کی بنا پر یتیم خانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں ۔ وہ لوگ جو ایسا کرتے ہیں  وہ ان کے تئیں اپنے فرائض کو بھول جاتے ہیں۔

دور جدید کے  علمائے کرام حقوق العباد ( لوگوں کے حقوق ) کے بارے میں تقریریں کرتے ہیں اور یہ  ثابت کرنے کے لئے قرآنی آیات اور احادیث نقل کرتے ہیں کہ حقوق العباد  حقوق اللہ (خدا کے حقوق ) سے کم اہم نہیں ہیں ۔حقووق العباد ایک ' عہدوپیمان ' اور ایک ' معاہدہ ' ہے جسے  خدا سے  ڈرنے والے لوگوں کے ذریعہ پورا کیا جانا ضروری ہے ۔

اللہ کریم نے بنی نوع انسان کو بارہا ان ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرائی ہے جنہیں پورا کرنا اس کی ذمہ داری ہے ، جیسا کہ مندرجہ ذیل آیت ، 4:58 میں مذکور ہے:

• " خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان کے حوالے کردیا کرو اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو خدا تمہیں بہت خوب نصیحت کرتا ہے بےشک خدا سنتا اور دیکھتا ہے۔"

ہم اپنے ضمیر کا استعمال کریں اور یہ فیصلہ کریں کہ کیا ہم خدائے تعالی اور زمین پر اپنے  بھائیوں کے ساتھ کئے گئے معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کر رہے ہیں یا نہیں۔

اسلام ہمیں خدا، خاندان، معاشرے، ملک، دوست اور یہاں تک  کہ  دشمنوں کے ساتھ بھی اپنی  ذمہ داریوں کو پوری کرتے ہوئے  ایک متوازن طریقے ایک خوش گوار  زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے۔ دوسروں کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو پوری کرتے ہوئے ہم کسی کو اس کے حقوق سےمحروم نہیں رکھ  سکتے۔ ہم نے اپنے روزانہ کے معاملات میں خدا کے بندوں کے تئیں اپنے فرائض سے رو گردانی کرنے کے لئے' نماز کی ادائیگی  '، ' رمضان کے دوران روزہ ' اور ' شب قدر ' میں نماز ادا کرنے وغیرہ کو عذر بنا لیا ہے۔

یہ ایک بحث کا عنوان ہے کہ حکومت یا اسلامی یا نیم اسلامی تنظیموں میں ملازمت کرنے  والے  تبلیغی جماعت کے ارکان تبلیغی  دوروں پر صرف  کرنے کے لئے وقت  کیسے نکال پاتے ہیں ۔ تبلیغی جماعت کے یہ ‘ معزز’ ارکان اپنی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرتے ہوئے تبلیغی دوروں پر جاتے ہیں  ۔کسی اور کو کئے گئے  وعدے یا اعتماد کی خلاف ورزی کر کے کوئی مذہبی ذمہ داری اد ا نہیں کی جا سکتی  ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ "جو شخص اپنا وعدہ پورا نہیں کرتا اس  کا کوئی مذہب نہیں ہے۔ " اس حدیث کی روشنی میں ہمیں تمام حالات کے تحت اپنے مذہبی اور سماجی ' فرائض ' پر عمل کرنا چاہئے۔

دفتر کے اوقات میں مسلمانوں کے ایک طبقے میں نمازادا  کرنے کا رجحان ہے۔ ایسی کچھ مثالیں موجود ہیں کہ ایسے لوگوں کو ان کے مذہبی فرائض کی ادائیگی سے روک دیا گیا ہے یا انہیں ان کی ملازمت سے برخاست کر دیا گیا ہے ۔

مذہب کی آڑ میں لوگ اپنی نماز میں اس  وقت کو صرف کرتے ہیں جس کے لئے انہیں رقم دی جاتی ہے  ۔ یہ مکمل اسلامی اقدار کے خلاف ہے اور اسے اسلام میں ' دھوکہ دہی ' کا  عمل سمجھا جاتا ہے۔ اس سے مذہب کی بدنامی ہوتی ہے اور یہ ان  میں سے کسی کے لئے بہتر نہیں ہے۔

اللہ کی راہ میں خدمات انجام دینے  کا مطلب اپنے فرائض کو ترک کرنا  نہیں ہے اور نہ ہی اپنے  اور آجر کے درمیان تحریری یا غیر تحریری اعتماد کی خلاف ورزی کرنا ہے ۔

حضرت علی (کرم اللہ وجہہ الکریم ) کے ذریعہ  لکھے گئے ایک خط کا اقتباس یہاں پیش کیا جاتا ہے۔ مالک الاشتر  حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے چچا زاد بھائی علی بن ابی طالب (کرم اللہ وجہہ الکریم) کے انتہائی وفادار اصحاب میں سے ایک تھے ۔ الاشتر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے زمانے میں مسلمان بن گئے  اور عثمان غنی ( رضی اللہ عنہ ) دور خلافت میں ظاہر ہوئے :

" احکام الہی میں وعدہ پر قائم رہنے جیسا کوئی  موضوع نہیں جس پر دوسرے اختلافات کے باوجود سب سے زیادہ اتفاق کیا گیا ہے ۔ اسی لئے ایام جاہلیت کے دنوں میں بھی وہ اپنے درمیان لئے گئے حلف کا احترام کیا کرتے تھے اس لئے کہ وہ  حلف توڑنے کا نقصان جان چکے تھے ۔ "

حضرت علی (کرم اللہ وجہہ الکریم) کی ایک اور روایت پیش ہے:

" اللہ تعالی اپنے بندوں سے اچھے کام کے علاوہ اور کچھ بھی قبول نہیں کرتا، حلف کی تکمیل کے سوا اس کی عدالت میں اور کچھ بھی قابل قبول نہیں ہے ۔"

میں اللہ کریم سے دعا گو ہوں کہ  اللہ ہمیں' حکمت ' عطاء فرمائے  کہ ہم ہماری ذمہ داریوں کو پوری کرنے اور معاہدوں پر کھرا اترنے کے قابل ہوسکیں،  اور جو بھروسہ ہمارے اور ہمارے ساتھی انسانوں کے اندر اللہ کے ذریعہ رکھا گیا ہے اس  پر کھرا اترنے کے قابل بنیں ۔

واللہ اعلم با لصواب ۔

URL for English article:https://www.newageislam.com/islamic-ideology/-islam-huqooq-ibad-obligation/d/10122

URL for this article:

 https://newageislam.com/urdu-section/islam-huqooqul-ibad-extraordinary-importance/d/13325

Loading..

Loading..