New Age Islam
Fri Jul 01 2022, 05:42 AM

Urdu Section ( 21 Feb 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

KL Sehgal Had Predicted In Muhammad Rafi's Childhood That This Boy Would One Day Become an Emperor Singer کے ایل سہگل نے محمد رفیع کے بچپن ہی میں یہ پیش گوئی کردی تھی کہ یہ لڑکا ایک دن شہنشاہ گلوکار بنے گا

انیس امروہوی

20 فروری،2022

گذشتہ دنوں لتا منگیشکر کا انتقال ہوا تو انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے محمد رفیع صاحب بھی بہت یاد آئے۔ ان کے انتقال کو 40 سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا لیکن وہ آج بھی اپنے مداحوں کے دلوں میںبستے ہیں ۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بلاتفریق مذہب و ملت ،قوم و ملک دنیا بھر کے لوگ آج بھی انہیں اسی طر ح اور اتنی ہی شدت سے چاہتے ہیں جیسا کہ ان کی زندگی میں ان سے محبت کرتے تھے۔ محمد رفیع 24 دسمبر،1924 ء کو ضلع امرتسر کے کوٹلہ سلطان سنگھ نامی ایک قصبہ میں پیدا ہوئے ، جو اب پاکستان میں ہے۔ ان کے والد کا نام حاجی علی محمد اور والدہ کا نام اللہ رکھی تھا۔ محمد رفیع کے دادا بڑے مذہبی قسم کے انسان تھے۔ یہ شاید انہی کے دعاؤں کا اثر تھا کہ ان کے گھر پیدا ہونے والے ایک بچے نے ساری دنیا میں اپنے نام کی دھوم مچادی تھی ۔ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب پوری کائنات اس کی آواز کے سحر میں کھو گئی تھی۔ جی ہاں! محمد رفیع صاحب کو تین دن تک خانہ کعبہ میں اذان دینے کا شرف حاصل رہا ہے۔

محمد رفیع کو بچپن ہی سے گانے اور گنگنانے کا شوق تھا۔ یہ ان کے بچپن ہی کی بات ہے کہ ایک فقیر اکثر ان کے محلے میں بھیک مانگتا ہوا گزرتا تھا او ربڑی درد بھری آواز میں نعت یا منقبت پڑھا کرتا تھا۔ وہ بڑے غور سے اس فقیر کو سنتے تھے او رکبھی کبھی اس کے آواز کی دہراتے ہوئے اس کے پیچھے دور تک نکل جاتے تھے۔ محمد رفیع کے تایا نے جب ان کا یہ رنگ دیکھا تو ہمت افزائی کی اور صوفیوں کی محفلوں میں نعت و منقبت گانے کی اجازت دے دی۔ اس سلسلے میں ان کے بڑے بھائی محمد شفیع نے بھی ان کی بہت ہمت افزائی کی اور ان کو ایسے مواقع فراہم کرتے رہے جن میں وہ ریاض جاری رکھ سکیں۔حالانکہ ان کے والد حاجی علی محمد، ان کے گانا گانے کے شوق کے خلاف تھے لیکن تایا او ربھائی کی مدد سے انہوں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم پہلے فیروز نظامی سے حاصل کی اور بعد میں استاد وحید خاں سے باقاعدہ شرف تلمذ حاصل کیا۔

محمد رفیع نے 40 ؍سالہ فلمی کریئر میں 36؍ زبانوں میں 30 ؍ ہزار سے زائد نغموں کو آواز دی

۔۔۔۔۔۔۔۔

ان کا پچپن کافی حد تک لاہور میں گزرا تھا۔ وہیں کسی محفل میں وہ ایک درد بھرا نغمہ گا رہے تھے ۔ اس محفل میں ا س زمانے کے مشہور موسیقار شیام سندر بھی موجود تھے ۔ وہ محمد رفیع کی آواز سے بے حد متاثر ہوئے لہٰذا انہوں نے ان کے تایا سے یہ خواہش ظاہر کی کہ ہم اس آواز کوفلمی گانوں میں پیش کرنا چاہتے ہیں ۔ اس طر ح محمد رفیع نے 18 برس کی عمر میں شیام سندر کی موسیقی میں پنجابی فلم ’ گل بلوچ‘ کے لئے پہلا نغمہ 28 فروری،1941 ء کو لاہور میں ریکارڈ کرایا لیکن اس گیت کو زیادہ مقبولیت حاصل نہ ہوسکی۔ اس کے بعد کچھ دنوں تک محمد رفیع نے لاہور کے آل انڈیا ریڈیو میں ملازمت بھی کی مگر 1943 ء میں انہوں نے ملازمت ترک کرکے بمبئی کا رُخ کیا اور 1944 ء میں ممبئی کی فلمی دنیا میں داخل ہوگئے۔ یہ وہ وقت تھا جب آواز کی دنیا میں کندن لال سہگل اور طلعت محمود جیسے منجھے ہوئے گلوکاروں کا سکہ چلتا تھا او رلوگ ان کی آوازوں میں کھوئے ہوئے تھے۔ محمد رفیع خودبھی کے ایل سہگل سے بے حد متاثر تھے ۔ ایک بار 1938 ء میں لاہور ہی میں کے ایل سہگل کا ایک پروگرام ہورہا تھا ۔درمیان میں لاؤڈسپیکر خراب ہونے کی وجہ سے پروگرام کے منتظم پیارے لال سود نے 14برس کے محمد رفیع کو اسٹیج پر گانے کے لئے کھڑا کردیا۔رفیع اپنے گانے سے تھوڑی ہی دیر میں سامعین کو متاثر کردیا۔ اسٹیج پر موجود سہگل نے رفیع کے گانے سے متاثر ہوکر انہیں شاباشی دی او ر دعادی کہ تم ایک دن بہت بڑے گلوکار بنوگے۔

محمد رفیع نے ممبئی آکر 1944 ء میں شیام سندر ہی کی موسیقی میں فلم ’ گاؤں کی گوری‘ کے لئے پہلی مرتبہ گیت ریکارڈ کرایا۔ حالانکہ یہ گیت بھی زیادہ مقبول نہ ہوسکا مگر اگلے ہی سال کے آصف کے ماموں، فلمساز زنذیر حسین کی فلم ’ لیلیٰ مجنوں‘ میں انہوں نے نہ صرف گیت گایا بلکہ اداکاری بھی کی۔ اس کے بعد ’ سماج کوبدل ڈالو‘ اور فلم ’ جگنو‘ میں انہوں نے گلوکاری کے ساتھ اداکاری بھی کی۔ فلم ’ جگنو‘ میں ملکہ ترنم نور جہاں کے ساتھ ان کا گایا نغمہ ’’ یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے‘‘ اتنامقبول ہوا کہ محمد رفیع نے اداکاری کو ترک کرکے اپنی پوری توجہ گلوکاری کی طرف موڑ دی۔ کچھ عرصہ بعد ہی فلم ’ بیجو باورا‘ میں انہوں نے اپنی آواز کا ایسا جادو جگایا کہ موسیقی کے شائقین آج تک اس جادو کے سحر سے نکل نہیں پائے۔ چار دہائیوں تک محمد رفیع کی آواز دنیا کے گوشے گوشے میں گونجتی رہی۔ درمیان میں کچھ دنوں کے لئے کشور کمار نے نئی نسل کو اپنی طرف متوجہ ضرور کیا مگر محمد رفیع نے اپنی ثابت قدمی سے اس بات کا ثبوت دے دیا کہ سچے فنکار کیلئے وقت اور حالات کے نشیب و فراز کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔وہ اس معمولی تبدیلی سے پریشان نہیں ہوئے، نہ ہی ان کے معمولات میں کوئی فرق آیا۔

محمد رفیع نے اپنی آواز کی 40 سالہ زندگی میں 36 زبانوں میں 30 ہزار سے زائد گیت گائے۔ دنیا کے کسی بھی حصے میں ایسا کوئی گلوکار پیدا نہیں ہوا ۔ ہندوستان میں ان کے گائے ہوئے نغموں میں مقبول نغموں کا فیصد سب سے زیادہ رہا۔ اگر ان کے مقبول گیتوں کا ہی حوالہ دیاجائے تو الگ سے ایک کتاب تیار ہوسکتی ہے۔ ان کی آواز اسٹائل نہیں تھا بلکہ وہ ہر کسی کے لئے خوش اسلوبی کے ساتھ گا لیتے تھے ، وہ جس اداکار کیلئے اپنی آواز دیتے تھے، پردۂ سیمیں پر معلوم ہوتا تھا کہ وہ اداکار خود گا رہا ہے ۔ ان کی آواز کی یہ خوبی ان کے لئے قدرت کا عظیم ترین عطیہ تھا۔ اداکاروں کی مناسبت سے آواز بدلنے پر ان کو ملکہ حاصل تھا۔ آواز کی یہ خوبی آج تک کسی گلوکار میں پیدا نہیں ہوسکی۔ انہیں اپنی آواز اور الفاظ کی ادائیگی پر مکمل گرفت حاصل تھی۔ سنگیت کی ہر لَے پر انہیں کنٹرول تھا اور تمام سُروں پر اُن کو قدرت حاصل تھی۔ استاد فیاض خاں نے انہیں ’ بے عیب سُروں والا فنکار‘ کہا تھا۔

محمد رفیع کے گائے ہوئے نغموں میں غیر معمولی گیت وہ قرار دیئے جاتے ہیں جو انہوں نے شمی کپور اور جانی واکر کے لئے گائے ہیں ۔ یہ گیت اتنے پیچیدہ ہیں کہ ان کا گانا ہر کس وناکس کے بس کی بات ہی نہیں تھی۔ ان گیتوں میں شوخی کا انداز بھی بڑا مہذب ہے۔ شمی کپورجیسے کھلنڈرے نوجوان کے ہونٹوں پر یہ گیت ایسے سجتے تھے کہ ان کی اپنی شخصیت کا ایک حصہ معلوم ہوتے تھے۔ دلیپ کمار ہوں یا جانی واکر ، شمی کپور ، محمود ہوں یا جتندر اور امیتابھ بچن یا رشی کپور۔۔۔ محمد رفیع نے ہر کسی کے لئے الگ الگ انداز میں اپنی آواز کومولڈ کیا ہے اور گیت سننے والے بہ آسانی یہ پہچان جاتے ہیںکہ یہ گیت فلا ں اداکار کے لئے گایا ہوا ہے ۔ ان گیتوں سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ وہ گیت گاتے وقت اداکار اور کردار کی نفسیات ، اس کے عادات و اطوار کا کتنا خیال رکھتے تھے ۔ وہ بہت جلد گیت کے مزاج کو سمجھ لیتے تھے او رمیوزک ڈائریکٹر کی خواہش کے مطابق گیت ریکارڈ کرادیا کرتے تھے۔

محمد رفیع ایک عظیم گلوکار ہونے کے ساتھ ہی ایک بہترین انسان بھی تھے۔ وہ فلمی دنیا کے 2؍ میں سے ایک ایسے فنکار ہیں جنہیں فلم انڈسٹری کے اندر او رباہر بھی ہمیشہ احتراماً ’ صاحب‘ کہہ کر مخاطب کیاجاتا رہا ہے ۔ ایک دلیپ صاحب اور دوسرے محمد رفیع صاحب۔ یہ ان کی انسانیت نواز شخصیت کی وجہ سے ممکن ہوا تھا۔ میوزک ڈائریکٹر چھوٹا ہو یا بڑا، محمد رفیع ہر کسی کو تعاون دینے کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ فلمی دنیا جو اسکینڈلوں کی وجہ سے کافی بدنام ہے، اسی کیچڑ میں محمد رفیع جیسا آبدار موتی بھی تھا، جس کے ساتھ کبھی کوئی اسکینڈل نہیں جڑا۔ نہ کبھی محمد رفیع نے شہرت حاصل کرنے کے لئے گھٹیا اور سستے قسم کیفلمی ہتھ کنڈے استعمال کئے ۔ اپنے بیوی بچوں سے محمد رفیع کوبہت محبت تھی۔ وہ فلمی پارٹیوں میں جانے کے بجائے اپنا وقت اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارنا پسند کرتے تھے۔ وہ ایک مذہبی قسم کے نیک دل انسان تھے اور غریبوں ، حاجت مندوں کی بڑی خاموشی سے مدد کیا کرتے تھے ۔ ان کی شخصیت کی اس سے بڑھ کر اور کیا مثال ہوگی کہ انہوں نے کشور کمار کو بھی اپنی آواز اُدھار دی اور طلعت محمود کے لئے فلم ’ لالہ رُخ‘ کا گیت ’’کلی کلی کے لب پر ترے حسن کا فسانہ‘‘ بھی گایا جو کافی مقبول ہوا۔

محمد رفیع اپنے کام کے معاملے میں بہت سنجیدہ رہتے تھے اور باقاعدہ ریہرسل کیبعدہی ریکارڈ نگ کرایا کرتے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ اپناذاتی ریکارڈنگ اسٹوڈیو قائم کریں ۔ وہ کسی اسپتال کے لئے ایک ڈائیلاسس مشین بھی عطیہ کرنا چاہتے تھے او رایک مسجد تعمیر کرانے کی بھی ان کی تمنا تھی مگر وقت نے ان خواہشات کی تکمیل کی مہلت نہیں دی۔

1967 ء میں حکومت کی طرف سے صدر جمہوریہ ڈاکٹر رادھا کرشنن نے انہیں پدم شری کے اعزاز سے نوازا۔ اس سے قبل 1960 ء میں فلم ’ چودھوی کا چاند‘ ، 1962ء میں فلم ’سسرال‘ ، 1964ء میں فلم ’ دوستی‘ ، 1967 ء میں فلم ’ سورج‘ ، 1968ء میں ’ نیل کمل‘ اور 1977 ء میں فلم ’ ہم کسی سے کم نہیں‘ کیلئے انہیں فلم فیئر ایوارڈ سے نواز ا گیا تھا ۔ ایک عرصے سے ان کے لئے ’ بھارت رتن‘ کامطالبہ کیا جارہا ہے او ریہ مطالبہ بلا تفریق مذہب و قوم کیا جارہا ہے لیکن یہ ہماری حکومت کی بے حسی ہے کہ مطالبہ کرنے والوں کی آوازیں اس تک نہیں پہنچ رہی ہے۔

آج محمد رفیع ہمارے درمیان نہیں ہیں، ان کو رخصت ہوئے کافی عرصہ ہوچکا ہے۔ اس عرصہ میں محمد رفیع کی کمی کا احساس بار بار ہواہے، لیکن دور دور تک نظر دوڑانے پر بھی ان کا کوئی نعم البدل ہمیں دکھائی نہیں دیتا ۔

اب کون ہے جس کی آواز میں غزل کی مٹھاس ہو، جس کی آواز میں حب الوطنی کا جوش و خروش ہو، جس کی آواز میں باغی کی جھلاّہٹ ہو، جس کی آواز میں قوالی کی عقیدت ہو، جس کی آواز میں بھجن کی شردھا ہو، جس کی آواز میں پیار کی مدھررا گنیاں ہوں اور جس کی آواز ہر دل کی ترجمانی کرسکے؟وقت کا مرہم رفیع صاحب سے ہماری جدائی کے زخم کوتو بھر دے گا مگر اس خلاء کو پرُ نہ کرسکے گا جو ان کے ہمارے درمیان سے چلے جانے پر پیدا ہوگیا ہے۔

26 جولائی 1980 ء کو محمد رفیع نے موسیقار لکشمی کانت پیارے لال کے ساتھ فلم’ آس پاس‘ کیلئے لتا منگیشکر کے ساتھ اپنی زندگی کا آخری گیت ’’ شہر میں چرچا ہے‘‘ کی ریکارڈنگ کرائی تھی اور خلاف معمول موسیقار سے کہاتھا کہ ’’میں چلوں؟‘‘ موسیقار لکشمی کانت نے انہیں روک لیا او رجاتے جاتے ایک غزل سنانے کی فرمائش کی۔محمد رفیع نے غزل سنائی اور پھر بڑے عجیب انداز میں کہا کہ ’’ اچھا، اب میں چلتا ہوں‘‘۔ ۔۔ اور پھر وہ چلے گئے ۔31 جولائی کی شب میں انہیں دل کا دَورہ پڑا اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

آج ہمارے درمیان نہ ہوتے ہوئے بھی ایسا لگتا ہے کہ رفیع صاحب ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ان کی آواز اب بھی ہمیں ان کی موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔ وہ صرف ان کی آواز نہیں بلکہ ان کی روح ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گی ۔کیونکہ روح کو موت نہیں آتی ۔ اس لئے رفیع بھی ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ آواز کی دنیا کے بادشاہ کو موت کیسے آسکتی ہے؟

20 فروری،2022،بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/kl-sehgal-muhammad-rafi-childhood-emperor-singer/d/126422

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..