New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 12:58 AM

Urdu Section ( 21 Apr 2014, NewAgeIslam.Com)

Controversial Martyrdom شہادت متنازعہ


  

اداریہ

شہادت کے فرضی تاج پر پاکستانیوں میں اختلاف

امیر جماعت اسلامی منور حسن صاحب کا انٹرویو آج کل موضوع بحث بنا ہوا ہے ۔ کیونکہ  انہوں نے فرمایا کہ امریکی مفادات کےلئے  ہمارا فوجی طالبان کے  ہاتھوں مارا جائے تو وہ شہید  نہیں ہے ۔  ان کے جواب سے ہلچل مچ گئی فوج بھی حرکت میں آگئی اور سیاست  دانوں  کو بھی موقع ہاتھ آیا کسی کا خیال  ہے ان پر مقدمہ چلایا جائے کوئی کہہ رہا ہے انہیں غدار قرار دیا جائے ۔ یہ کوئی بتا نہیں رہا ہے کہ شہادت ہے کیا؟  شہادت کا تاج منور حسن صاحب پہناتے ہیں یا یہ ڈیوٹی مولانا فضل الرحمان صاحب کی ہے کہ چاہے انسانوں کو پہنائیں یا کتے کو ۔ جذباتی تقریریں  ہیں جو شخص دل کی بھڑاس نکال رہا ہے اُن کی آواز زیادہ بلند ہے جو جماعت اسلامی سے پر خاش رکھتے تھے ۔ قرآن کریم کو کوئی قابل توجہ نہیں سمجھتا ، کہ اس میں جھانک کر دیکھے کہ قرآن کریم  میں لفظ شہادت اور شہید کے کیا معنی ہیں ۔ کیا یہی ہیں جو ہمارے علماء حضرات نے لوگوں کے ذہنوں میں بٹھا رکھے ہیں؟ ۔ پھر تو وہ اسی زاویئے سے سوچیں گے اگر اس کے خلاف کوئی بولے گا تو ان کے دل کو ٹھیس تو پہنچے گی ۔ ہر ایک کو یہی تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ  کی راہ میں جان دینے والا شہید  ہے ۔ پھر اس میں 21 قسم کے  اموات  کو بھی شامل کیا ہے کہ یہ بھی شہید  ہیں ۔ اور شہید  کے لئے مراعات اتنی بیان کیں کہ ہمارے جوان خود کہتے  ہیں لائیے پہنائیے جیکٹ یہاں تو ہم محروم ہی رہے ہیں وہاں تو موج  اڑائیں گے ۔

سچی بات اللہ کی ہے شہید کا لفظ اپنے مادہ کے تحت قرآن کریم میں تقریباً 155 بار آیا ہے ۔ لیکن کہیں  بھی رب نے اپنی راہ میں جان دینے کو شہید نہیں کہا البتہ انہیں بلند درجے کی نویددی ہے ۔ حتیٰ کہ اس پر بھی ٹوکا گیا ہے کہ اگر کوئی اللہ کی راہ میں جان دے تو اس کو مردہ  مت کہو ۔ فرمایا ۔ وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ (2:154)

اللہ کی راہ میں جو مارے جائیں انہیں  مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تمہیں شعور نہیں ۔ ملا حظہ فرمائیے پوری آیت  میں شہید کا لفظ کہیں نہیں ہے ۔ قرآن کریم میں ایسے لوگوں مقتولین فی سبیل اللہ کہا گیا ہے  یعنی ( اللہ کی راہ میں جان دینے والے ) ایک جگہ تو یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ وہ زندہ ہیں اور اللہ کے ہاں سے رزق پاتے ہیں ۔ شہید لفظ ہے تو عربی کا اور قرآن کریم میں موجود ہے مگر اُن معنوں کے ساتھ نہیں جو مروج  ہیں ۔ اگر منور حسن والجماعہ نے مسلمانوں کو شہید  و شہادت  کے بارے میں  صحیح طور پر آگاہ کیا ہوتا تو آج وہ تنہا  نظر نہ آتے ۔ اور چاروں طرف سے تیروں  کی بوچھاڑ نہ ہوتی۔  ملٹری والے اور جان قربانی دینے والوں کے لواحقین جو اپنے پیاروں کو کھوکر مطمئن تھے کہ وہ شہید  ہوئے ہیں ، وہ مایوس ہوکر میدان میں نہ آتے ۔ مگر ہماری بد قسمتی  ہے کہ گدلا پانی  ہے اور اندھی مچھلیاں ہیں کوئی نہیں  سوچتا  کہ وہ کیا  کہہ رہا ہے اور کیا کررہا ہے ۔

ہم عربی لفظوں  کا حلیہ اس حد تک بگاڑ دیتے ہیں کہ اُسے پھر عرب بھی پہچاننے سے انکار کر دیں ‘‘ عرس ’’ تو شادی کو کہتے ہیں  ، عروسہ دلہن ، عریس دولہا ، اور عرائیس  وہ کھانا جو شادی  میں دیا جاتا ہے ۔ ہمارے ہاں عروسی جوڑا ( شادی کا جوڑا) اور شب  عروسی شادی کی پہلی رات ۔ تو عام ہے ۔ مگر یہاں  عرس کے معنی ہیں پیروں فقیروں کی قبروں پر میلے ٹھیلے  کے ۔ جلسہ، بیٹھا ہوا، جلوس بیٹھنا مگر ہمارے ہاں  جلوس چلنے کو کہتے ہیں ( جلوس جارہا تھا ) جب کہ جلوس یعنی بیٹھا ہوا کبھی چل نہیں سکتا ۔ بند کمرے میں اجلاس ہورہا ہے ۔ اس کے معنی  ہیں لوگ بیٹھے ہیں نہ کہ چل پھر رہے ہیں یا ناچ رہے ہیں ۔ مجلس بیٹھنے کی جگہ اور ہم جلیس اس دوست کو کہتے ہیں جو آپ کے ساتھ بیٹھتا ہو ۔ مجنون عربی لفظ ہے پاگل کو کہتے ہیں ، سجن المجانین پاگل خانے کو ۔ یہاں عاشق  کو کہتے ہیں ۔ ‘‘ سید’’ خونخوار بھیڑیئے اور بڑے ریچھ کو اور سردار کو کہتے ہیں ۔ یہ رتبہ ہے جیسے کسی قبیلے کا سردار ۔ اس کو خاندان رسول مقبول  صلی اللہ علیہ وسلم سے  کوئی واسطہ نہیں اُن کا خاندان  بنی ہاشم کہلاتا ہے ۔ آج بھی اردن کے ہوائی جہازوں  پر لکھا نظر آتا ہے ۔

The Kingdam of Jordanian Hashmic Air Line

عربی میں لکھا ہوا ہے ۔ ( خطوط الجوّیہ الملکیۃ الاردنیۃ الھا شمیہ)

جو خاندان آج کل عرب میں نظر آتے ہیں وہ ہیں ۔ بنی قحطان ،  بنی عدنان ، بنی عفان، بنی مرہ ، بنی عزیزہ ، بنی بریدہ ، بنی کلاب بنو اسد ۔ اگر نہیں ہے تو وہ سید خاندان نہیں ہے ۔ یہ خالص ایجاد بندہ الہندی ہے ۔ ہندوستان کی ایجاد ہے ۔ ان میں ایک لفظ ‘‘ شہید ’’ کا بھی ہے ۔ جس پر آج جھگڑا چل رہا ہے ۔ یہ وہ ملک ہے کہ یہاں کچھ لوگ ذوالفقار علی بھٹو کو شہید کہتےہیں اور ایسے بھی ہیں کہ اسے  شہادت  کا رتبہ بخشنے والے  اور شہادت کا تاج پہنانے والے ضیا ء الحق کو بھی شہید کہتے نہیں تھکتے ۔ یعنی  قاتل  او رمقتول  دونو ں شہید  ۔ یہ لفظ ہمارے ہاں  اضحو کہ بن گیا۔ حتیٰ کہ بھارت نے اس پر غاصبانہ  قبضہ کر لیا ہے اور وہ اپنے  ہر مرنے والے کو شہید  کہتے ہیں ۔ پہلے انہوں نے کہا تھا ۔

کِھلیں گے پھول اُس جگہ کہ تو جہاں شہید ہو

وطن کی راہ میں وطن کا نوجوان شہید ہو

پھر کارگل کے شہیدوں کا ذکر عام ہوا ان کی یادگار بنائی گئی اور اب تو روزانہ سنتے ہیں کہ آج کشمیر  میں چار آتنک وادی ( دہشت گرد) مارے گئے ہمارا ایک جوان شہید ہوا ۔ ہمارا ٹی وی کہتا ہے کہ آج وادی کشمیر  میں چا رمجا ہدین  شہید ہوئے اور ایک بھارتی  فوجی ہلاک ہوا ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ لفظ شہید  کے مفہوم سے دونوں  ہی نابلد ہیں ۔ بھارت  تو انجانے میں ہماری دیکھا  دیکھی شہید کے لفظ کو بے دریغ استعمال کررہا ہے ۔

اپنا ٹی وی کھولیے اور کوئی انگریزی  چینل لگا کر دیکھئے ۔ وہ کہے گا ۔You are watching Movie Channel  عربی میں کہے گا ۔ انتم تشا ھدون موی شینل ۔ ہم اردو میں اکثر کہتے ہیں میراذاتی  مشاہدہ ہے ۔ یعنی میں  نے خود دیکھا ہے ۔ عرب کہتے ہیں ۔ حضرات المشاھدین ۔ معزز ناظرین کہتےہیں ۔ مولوی جس طرح جمہوریت کا راگ الاپ رہا ہے اس طرح شہید  کے لفظ کو غلط  معنوں میں استعمال  کررہا ہے ۔ اگر اس نے عوام کو ایجوکیٹ کیا ہوتا تو آج خود پریشان نہ ہوتا ۔

یہ معاملہ بھی صاف ہوجائے کہ پاکستانی فوجی  کی پوزیشن  کیا ہے؟ ۔ عرض یہ ہے کہ تقسیم ہند اس مطالبہ کی بنا ء پر ہوا تھا کہ ہمارے زعماء یہ چاہتے تھے کہ ہم  انگریز یا ہندو کے زیر سایہ  پنپ نہیں سکتے ہمیں احیا ء الدین کے لئے علیحدہ سر زمین چاہئے ۔ اب اگر اس سر زمین پر آنچ آئے گی یا تخریب کاری ہوگی یا حملہ ہوگا تو وہ دین پر حملہ ہوگا ، اس کی حفاظت کے لئے جو جان دے گا وہ اللہ کے ہاں بلند درجات پانے والوں  (مقتولین فی سبیل اللہ) کی صف میں کھڑا ہوگا ۔اس لئے فوجیوں کے  لواحقین  کو فکر مند نہیں ہونا چاہئے ۔ فرضی شہادت کا تاج ہمارے علما ء یا زعما ء کے ہاتھ میں نہیں ہے کہ یہ لوگ چاہیں تو امریکی  کے سر پر رکھ دیں  یا تخریب کار کے، یا اپنے فوجی کے سر یا کتّے کے سر پر رکھ دیں۔

 یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجئے

اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کر جانا ہے

قرآن کریم میں شہید  کا لفظ  جو تقریباً 155 بار آیا ہے ۔ اس کے معنی ہیں  Evidence  گواہی ۔ جس کے معنی  گواہ، یعنی دیکھنے والا، موجود حاضر (Attended, Present , Eye Witness) ہے ۔ عرب اس لفظ کو قسم کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں ۔ مثلاً اقسم با اللہ کے علاوہ تشھد بااللہ ۔ اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہہ رہے ہو؟ ( Sworeby God) شھاد ۃ الا بتدائیۃ پرائمری  سرٹیفکیٹ ۔شھادۃ ثانویہ ۔ سیکنڈری سرٹیفکیٹ ۔ شھادۃ عالیہ ۔ ڈپلومہ یا ڈگری ۔ شھاد ۃ الو فاۃ ۔Death Certificate ۔ شہادۃ حسن سلوک Certificate of good conduct اسے اردو میں بہتر چال چلن کا شہادت نامہ  کہیں گے ۔ جب کوئی نوکری کی تلاش میں جائے تو ملازمت  دینے والے اکثر پوچھتے ہیں ۔  ھل مسعک شھادات الوظائف ۔کیا تمہارے پاس ملازمت کے سرٹیفکیٹ  ہیں؟ کیونکہ وظیفہ نوکری اور ملازمت کو کہتےہیں ۔ سرجھکا کر تسبیح  کے دانوں  پر گننے کو نہیں کہتے ۔ مشھد ۔ کے معنی ہیں ملاقات کی جگہ ۔Visible Seen  ۔ مشاھد ۔ٹیلی سکوپ کو کہتے ہیں ۔ نگران اور نگہبان کو بھی مشاہد کہتے ہیں یوم المشہود Judgment day  قیامت کا دن ۔ قرآن کریم میں اگر نہیں  ہے تو صرف ۔

اللہ کی راہ میں جان دینے والوں کے لئے شہید لفظ نہیں ہے ۔

ہمارے یہ بد بخت علم کے دعویدار اتنا بھی  نہیں سوچتے  کہ ( تاج کمپنی  کے مطبوعہ قرآن کریم) کے صفاتی ناموں کی جدول میں تر پنواں  نام اللہ کا ( شہید) ہے ۔ اگر یہ ‘‘ شہید کا لفظ ’’ اللہ کی راہ میں مرنے والے کے لئے مخصوص ہے ۔ تو ہمیشہ زندہ رہنے والے رب کے لئے کیوں ہے؟ ان آیات کریمات کو بھی قرآن سے خارج کرنا پڑے گا ، جن میں رب نےاپنے آپ کو شہید کہاہے ۔ملاحظہ فرمائیں ۔

(1) وَاللَّهُ شَهِيدٌ عَلَىٰ مَا تَعْمَلُونَ (3:98)  اللہ شہید ہے تمہارے اعمال کا یعنی ( گواہ)

(2)  فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أَنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (5:117) اللہ شہید ہے ۔

(3) قُلِ اللَّهُ  شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ (6:19) اللہ شہید ہے میرے اور تمہارے درمیان ۔

(4) اللَّهُ شَهِيدٌ عَلَىٰ مَا يَفْعَلُونَ (10:46) اللہ شہید ہے تمہارے اعمال کا ۔

(5) إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (22:17) اللہ ہر چیز پر شہید ہے ۔

(6) اللَّهِ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (34:47) اللہ ہر چیز پر شاہد ہے ۔

(7) أَنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (41:53) بلا شبہ اللہ شہید ہے ۔

(8) هُوَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (58:6) وہ اللہ ہر چیز پر شہید ہے ۔ یعنی  گواہ ہے اردو کا شہید نہیں ۔

ہمارے ہاں عام تصور ہے کہ جو اللہ کے راستے میں مارا جائے وہ شہید ہے ۔ لیکن قرآن کی ایک آیت بھی اس کی تصدیق نہیں کرتی ۔ ہم مردے کو شہید کہتے ہیں اور ان آیات کریمات میں زندہ ( حَیُّ قَیّوم ) رب اپنے آپ کو شہید  کہتے ہیں ۔ سچی بات  رب ذوالجلال کی ہے اور انسانوں کی بات جھوٹی ہے ۔ اس وقت ہر کس ونا کس اپنے آپ کو دانشوروں کی صف میں کھڑا ہونے کے لئے منور حسن صاحب کو دو چار سنا رہا ہے کوئی معافی مانگنے پر مجبور کررہا ہے ، کوئی  کہہ رہا ہے اپنے الفاظ  واپس لو ۔ حالانکہ  یہ خود نہیں  جانتے  کہ وہ کیا کہہ گیا ہے ۔ جو لوگ بضد ہیں کہ ڈرونز حملے بند کئے جائیں ان کا بھی یہی مطلب  ہے ورنہ جاری رہیں ۔

جنوری، 2014  بشکریہ : صوت الحق، کراچی

https://www.newageislam.com/urdu-section/an-editorial-of-monthly-sautul-haq/controversial-martyrdom--شہادت-متنازعہ/d/76663

 

Loading..

Loading..