New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 04:24 PM

Urdu Section ( 7 Aug 2011, NewAgeIslam.Com)

What lies Behind the Unrest in Syria شام میں انقلاب کی حقیقت

An Editorial in an Urdu Daily

 

Analysis of incidents of North African and Arab countries has taken an important place in the international politics. Because of these rapidly happening incidents not only that governments of this part of the world are falling but America, which proud itself to be the lone super power of the world and Israel which takes its help on unethical grounds have also got badly affected. These countries are trying their best to turn these revolutions in their favour. America and Israel are cooperating Saudi Arabia the most in an effort to get their objectives in other Arabian countries.

Getting awakened because of the incidents was natural for the Syrians as well. There, in Syria, also people agitated in different cities and pressurised the government for political reforms. In the beginning President Assad accepted the public demands to a great extent and promised to sympathetically look into their demands. But in a very short span of time situation started taking a turn for the bad as some armed anti nationals started taking the agitation in their own hands.   Hand of Saudi anti-social elements also came in to light.

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/what-lies-behind-the-unrest-in-syria--شام-میں-انقلاب-کی-حقیقت/d/5209

 

شام میں انقلاب کی حقیقت

اداریہ روز نامہ اردو

شمالی افریقہ اور عرب ممالک کے انقلابات میں تیزی سےرونما ہونے والے واقعات کا جائزہ بین الاقوامی سیاست میں مسلسل ایک اہم موضوع بنا ہوا ہے۔ تیونس میں بظاہر ایک چھوٹے سے واقعہ کے بعد جس تیزی سے خطے میں واقعات رونما ہوئے ہیں ان سے نہ صر ف خطے کی حکومتیں ایک کے بعد ایک گررہی ہیں بلکہ خود کو دنیا کا سپر پاور سمجھنے والا امریکہ اور اس کے ذریعہ غیر اخلاقی بنیادوں پر تعاون حاصل کرنے والا اسرائیل غیر معمولی طور پرمتاثر ہیں۔ یہ ممالک موجودہ تحریکوں کا رخ اپنے حق میں تبدیل کرنے کی بھر پور کوشش کررہے ہیں۔ امریکہ، اسرائیل اور دیگر مغربی ممالک کے مقاصد کی تکمیل کی کوششوں میں سعودی حکومت ان کا سب سے زیادہ تعاون کررہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسا کرکے سعودی حکام ایک طرف اپنے آقاؤں کو خوش رکھنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف اپنی سرزمین پر ایسے عوامی انقلاب کوملتوی رکھ کر شہروں میں احتجاجات کئے اور حکومت پر سیاسی اصلاحات لانے کےلئے دباؤ ڈالنا شروع کیا۔ شروعاتی واقعات میں صدر بشا رالا سد نے عوام کےمطالبات کو کافی حد تک تسلیم کرتے ہوئے ان پر ہمدردی سے غور کرنے کی یقین دہانی کرائی لیکن چند ہی دنوں میں ایسے واقعات رونما ہوئے جس سے کچھ مسلح عناصر  کے ذریعہ حالات خراب کرنے کی کوششیں شروع ہوگئیں اور سعودی عرب کے شدت پسند عناصر کی حکومت مخالفین کو پشت پناہی بھی واضح طور پر ثابت ہوگئی ۔

واضح رہے کہ میں نے گزشتہ کئی ہفتوں میں شام کے واقعات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ میں نے اب تک شام سے متعلق واقعات پر محتاط رویہ اس لئے بھی رکھا ہے کہ تبصرہ کرنے میں غلطی سرز دنہ ہو جائے۔ شام عرب ممالک میں تنہا ایسا ملک ہے جس نے امریکہ مخالف ایران کے اسلامی انقلاب کی شروع سے حمایت کی ہے۔ اس نے عراق ۔ایران جنگ میں کھل کر ایران کی حمایت کی ہے۔ شام نے خطے میں فلسطینی حریت پسند تحریک حماس اور لبنان کی تنظیم حزب اللہ کی بھی ہمیشہ سے حمایت کی ہے ۔ یعنی شام کی حکومت عرب خطے میں واحد امریکہ اور اسرائیل مخالف حکومت ہے۔بشا ر الاسد کے والد حافظ الاسد نے ملک میں سلفی نظریہ کی حامل اخوان المسلمین تنظیم کو پھیلنے سے روکا تھا۔ شام ایسا ملک ہے جہاں شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان کشیدگی کے واقعات رونما نہیں ہوتے ۔ شام کے واقعات پر میں نے تجزیہ کرنے میں اس لئےبھی احتیاط سے کام لیا کہ ایک طرف تو صدر بشار الاسد نے ملک میں عوامی احتجاجو ں کے پیچھے لیبیا کے صدر معمر قذافی کی طرح غیر ملکیوں کو ملوث بتایا تھا اور دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل شام میں حکومت کی تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے مغربی ممالک کی جانب سےشام کی موجودہ حکومت کے مخالفین کو حمایت دینا فطری بات ہے۔

اس نکتہ کے پیش نظر میں  نے شام کے واقعات کی تحقیق کرنا اور تجزیہ کرتے وقت ثبوت کے طور پر کچھ واقعات پیش کرنا بہتر سمجھا ۔ ملک بھر میں اور غیر ممالک میں موجود بہت سے قارئین نے شام میں رونما ہونے والے واقعات پر میرے نظریات جاننے کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔ خطے کے موجودہ حالات کا جائزہ ہمیں مسلکی اختلافات کو دوررکھ کر اور حکومتوں کو کسی بھی مسلک کا نمائندہ سمجھے بغیر کرنا چاہئے۔ یہ حقیقت ہے کہ اکثر عرب ممالک میں بادشاہتوں کی امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نےاپنے حق میں رکھتے ہوئے ان ممالک کے قدرتی وسائل کا غیر معمولی استحصال کیا ہے اور خطے کی عوام کو تعلیم و ترقی سے دور رکھتے ہوئے سیاسی واقتصادی حقوق سے محروم رکھا ہے۔ امریکہ ،اسرائیل اورمغربی ممالک نے خطے کے ممالک کو تمام ترقیوں سے محروم رکھنے کے لئے مسلمانوں میں مسلکی اختلافات کو ہوادی ہے ۔1979میں ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ان سازشو ں میں زیادہ تیزی آئی ہے ۔ انقلاب کے بانی رہنما آیت اللہ خمینی مرحوم کی اتحاد بین الملسمین کی اپیل کو کمزور کرنے کے لئے عراق کے صدر صدام حسین کے ذریعہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرانا اور اس جنگ میں خطے کی عرب حکومتوں کو یہ باور کرانا کہ ان کے مبینہ مشترکہ دشمن ایران کا مقابلہ صرف اسرائیل کرسکتا ہے ۔ اس لئے وہ اسرائیل سے نفرت کرنا ترک کردیں بلکہ اسرائیل سے تعلقات قائم کریں۔

اس کے ثبوت کے طور پر آج اکثر عرب ممالک میں یہودی کمپنیوں کا بڑھتا ہوا کاروبار ہے۔ عرب ممالک کو ایران سے خوفزدہ کرنے کا مقصد ان ممالک کو بڑے پیمانے پر اسلحہ فروخت کرنا بھی تھا ۔ لیکن شمالی افریقہ اور عرب ممالک میں پیدا ہوئی حالیہ سیاسی بیداری کی موجودہ تحریکوں کا امریکہ ، اسرائیل اور مغربی ممالک کو اندازہ نہیں تھا۔ گزشتہ ماہ تہران میں امام خمینی کی برسی کے موقع پراسلامی انقلاب کے رہنما آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ خطے میں اسلامی بیداری کی تحریکیں ایران کے اسلامی انقلاب سے تحریک پاکر رونما ہورہی ہیں ۔ البتہ انہوں نے شام کا نام لئے بغیر کہا تھا کہ وہ غیر ملکی عناصر کے ذریعہ چلا ئی جارہی تحریکو ں کی حمایت نہیں کرتے۔ ہندوستان میں سب سے سینئر عرب صحافی وائل عواد کے مطابق شام میں موجودہ تحریک میں اخوان المسلمین کی رہنمائی میں شدت پسند سلفی سنی ملوث ہیں۔ اخوان المسلمین کے ذریعہ 1982میں مصر کے صدر انور سادات کے قتل کے فوراً بعد شام کے صدر حافظ الاسد نے اپنے ملک میں ان کے خلاف بڑی کارروائی کی تھی ۔شام میں موجودہ جمہوریت پسند تحریک کو اخوان المسلمین اپنے حق میں رخ بدل کرکے ملک میں سلفی نظریہ کی حامل شدت پسند اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں ۔ان کے مطابق بین الاقوامی میڈیا نے حالات کو سمجھے بغیر اس تحریک کی حمایت شروع کردی۔ ان کے مطابق طاقتوں کے اشارہ پر سعودی عرب کے عناصر بھی دمشق میں ایران پسند حکومت کے خاتمے کی کوششوں میں شریک ہیں۔

اس کے ثبوت کے طور پر سعودی عرب میں قائم ‘الصفا ’ اور ‘وصال ’ ٹی وی چینلوں کی نشریات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے ۔ شیخ عدنان آئر وران ٹی وی چینلوں پر اکثر یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ ‘‘اللہ کی بادشاہت قائم کرنے کے لئے حلب (شام کے شہر) میں ایک لاکھ لوگوں کو مرنے دو اور ان کا گوشت کتوں کو کھانے دو’’۔یہ بیان یوٹیوب پر دیکھا جاسکتا ہے۔ وائل عواد کا تعلق شام سے ہے اور وہ گذشتہ بیس برسوں سے دبئی کے العربیہ چینل کے نمائندہ کے طور پر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے خطے کی کئی جنگوں کی رپورٹنگ بھی کی ہے ۔ شام میں ایک اہم ایک واقعہ میں 18مارچ کو اردن کے نزدیکی شہر درعہ میں العمر ی مسجد میں جمعہ کی نماز کے بعد ہوئے حکومت مخالف احتجاج کے دوران جو نعرے لگائے گئے وہ مغربی ممالک کے ملوث ہونے کا واضح اشارہ تھے۔ ایک نعرہ یہ تھا کہ وہ نہ ایران اور نہ حزب اللہ چاہتے ہیں بلکہ ایسا مسلمان چاہتے ہیں جو اللہ خوف کرے۔ یہی نعرہ 6ہفتوں کے بعد جسر الشغور شہر میں سنا گیا۔ شام کی حکومت نے دعوی کیا تھا کہ درعہ میں اردن سے بھیجےگئے مسلح عناصر کے ذریعہ حالات خراب کئے گئے ہیں جو کہ اخوان المسلمین کا مرکز ہے۔ اردن کی خبر رساں ایجنسی نے درعہ کے لئے جانے والا غیر قانونی اسلحہ ضبط کرنے کی خبردی تھی لیکن کسی بھی غیر ملکی میڈیا اس کی تفتیش نہیں کی۔ 3جون کو شام کے شہر جسرا لشغور جو ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع ہے، میں بھی ایک عوامی احتجاج میں نامعلوم مسلح افراد کے شامل ہونے سے حالات خراب ہوگئے۔ اس واقعہ میں 120پولیس اور فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔ بی بی سی ،سی این این اور خطے میں امریکہ نواز الجزیرہ چینل نے اس کے پناہ گزینوں اور خطے میں سرگرم کارکنوں کے حوالے سے خبر دیتے ہوئے کہا کہ باغی پولیس کے عوام کے ساتھ مل جانے کے کشیدگی کے نتیجہ میں یہ ہلاکتیں ہوئیں ہیں۔

شام میں اب تک کئی شہروں میں غیر ملکی افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ ملک میں جاری جمہوریت پسند تحریک کا رخ بدل کر سلفی شدت پسند حکومت کے قیام کی تحریک میں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شام کے واقعات میں امریکہ اور مغربی حکومتوں کی جانب سے مخالفین کو حمایت گزشتہ دنوں اس وقت واضح طور پر سامنے آگئی جب دمشق میں امریکہ کے سفیر رابرٹ فورڈ اورفرانس کے سفیر ایرک شیو یلییر نے حکومت مخالفین کی ہمت افزائی کےلئے شمالی  شہر ہاما کا دورہ کیا ۔ شام کی حکومت نے اس کو سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی بتاتے ہوئے غیر قانونی ہونے کا الزام لگایا ۔دمشق میں عوام نے بھی امریکہ اور فرانس کے سفارت خانوں پر داخلی امور میں مداخلت احتجاج کئے ہیں ۔ شام کے اس الزام اور عوامی احتجاج کے بعد امریکی صدر اوبامہ نے کہا کہ صدر بشا ر الاسد نے حکومت کرنے کا اخلاقی حق کھودیا ہے۔ اس سے پہلے امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے بھی شام کی حکومت کے خلاف کئی بیانات دیئے تھے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک بحرین میں الخلیفہ حکومت  کے مخالفین کو کچلنے کے لئے بحرینی اور سعودی افواج کے ذریعہ کئے جارہے قتل عام پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں جبکہ شام میں ان کے سفیر حکومت مخالفین کی حمایت کررہے ہیں۔ امریکہ اور سعودی عرب یمن میں بھی علی عبداللہ صالح کی حکومت کو باقی رکھنے کی اب تک کوشش کررہے ہیں جبکہ وہ زخمی حالت میں سعودی عرب میں زیر علاج ہے۔12جولائی کو شام کی شمالی ریاست الہسا کا میں شام کے مفتی اعظم بدرالدین حاسون نے کہا ہے کہ شام کی عوام دشمنوں کی سازشوں کے سخت ترین مراحل سے بیداری اور قومی اتحاد کے سبب گزر نے میں کامیاب ہوگئی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ملک کے داخلی مسائل پر قابو پالیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ 12جولائی کو دمشق میں سہ روزہ قومی مذاکرات کے آخر میں جو قرار دادیں پاس کی گئی ہیں ان میں ملک میں خلفشار ختم کرنے کے لئے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔ قرار داد کے مطابق ملک میں سیاسی اصلاحات پر عمل کےلئے استحکام ضروری ہے ۔قومی مذاکرات میں ملک کے اندر کسی بھی قسم کے اشتعال سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ قومی سطح پر مخالف جماعتوں کو سیاسی اصلاحات کے عمل  میں پوری طرح سے شریک رکھنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ حال ہی میں کئی عرب ممالک میں کئے گئے سروے کے مطابق امریکی صدر اوبامہ کی مقبولیت میں دوبرس قبل قاہرہ میں کی گئی تقریر کے بعد اب غیر معمولی کمی آئی ہے۔ عرب عوام امریکی مداخلت کو خطے میں بحالی امن میں بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ یہ سروے گذشتہ ایک ماہ کے دوران مصر، لبنان، اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مراقش میں کیا گیا تھا۔ میرا تجزیہ ہے کہ شام میں سیاسی اصلاحات جمہوری نظام کا قیام اور آزاد خارجہ پالیسی ہی عوام کی خواہشات کے مطابق ہوں گی۔ خطے میں امریکہ ، اسرائیل، مغربی ممالک اور سعودی طرز کی شدت پسندی سےنفرت کی وجہ سے شام کی حریت پسند عوام نے انہیں مسترد کردیا ہے ۔ ایسے میں دنیا کی حکومتوں او ر عوام کو چاہئے کہ شمالی افریقہ اور عرب ممالک میں رونما ہونے والے واقعات کےدوران عوام کی خواہشات کا احترام کریں اور ان کے اندرونی مسائل میں مداخلت سے پرہیز کریں۔

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/what-lies-behind-the-unrest-in-syria--شام-میں-انقلاب-کی-حقیقت/d/5209

 

Loading..

Loading..