New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 02:23 AM

Urdu Section ( 17 Dec 2015, NewAgeIslam.Com)

Saudi Arabia Must Stop Funding Islamic Extremism سعودی عرب کو اسلامی انتہا پسندی کو فنڈنگ روکنا ضروری ہے

 

 

 

 

امندا پاؤل

12 دسمبر، 2015

اسلامی انتہا پسندی جو ان وحشیانہ مظالم فروغ دیتے ہیں جن کا ارتکاب نام نہاد اسلامی ریاست (داعش) کرتا ہے وہ انتہاپسندی پر مبنی وہابی اسلام میں پایا جاتا ہے جس کی جڑیں سعودی عرب بیٹھی ہوئی ہیں۔

صرف سعودی عرب اور قطر ہی اس دنیا کے ایسے ممالک ہیں جہاں وہابی سلفیت کو سرکاری مذہب کا درجہ دیا گیا ہے۔ تاہم، یہ ایجنڈے صرف ان ریاستوں میں ہی محدود نہیں ہیں اس لیے کہ فعال طور پر اس کا پروپیگنڈہ دیگر مسلم ممالک میں بھی کیا جاتا ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران اعتدال پسند اسلام کو ختم کرنے اور اس کی جگہ انتہاپسندی کو فروغ دینے کے لیے ایک بڑی مہم میں اربوں ڈالر روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ اگر مغرب واقعی داعش پر لگام لگانا چاتا ہے اوراس طرح کے پر تشدد انتہا پسندی کے فروغ کے لئے فنڈز کی فراہمی میں کمی پیدا کرنا چاہتا ہے، تو اس کے لیے اسے ریتیلے میدان کو میدان جنگ بنانے کے بجائے سعودی عرب کا مقابلہ کرنا ہوگا ہے۔

آج، جبکہ امریکہ کی قیادت والا اتحاد جس کا ایک رکن سعودی عرب بھی ہے شام اور عراق میں پر بمباری کررہا ہے، وہاں فوجی طاقت جو کچھ بھی حاصل کرنے کے قابل ہے وہ واضح طور پر محدود ہے۔ داعش کو صرف سیاسی اور نظریاتی وسائل کے ذریعہ ہی شکست دیا جا سکتا ہے لہٰذا، فضائی حملوں سے شاید صرف ایک عارضی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہےکہ داعش کے نظریات کے خلاف جنگ کے لحاظ سے بہت کم اقدامات کیے جا رہے ہیں، جس کا منبع سعودی عرب ہے۔ در اصل، ایسا لگتا ہے کہ سعود کے گھر میں وہابی انتہا پسندی کو فروغ دینے میں سعودی عرب کے کردار پر خدشات پر گفتگو کرنے میں ہچکچاہٹ ہے پیدا ہو رہی ہے جو کہ مغرب کا اور خاص طور پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور فرانس اور برطانیہ جیسے یورپی یونین بہت سارے ارکان ممالک کا ایک اہم اتحادی ہے۔ اب تک سعودی عرب کے ساتھ مغرب کے تعلقات ایسے رہے ہیں جن میں ملک کی انتہائی خراب انسانی حقوق کے ریکارڈ اور اس کے وہابی ایجنڈے سمیت داخلی معاملات کے بارے میں کچھ سوالات پوچھے گئے ہیں۔ بلکہ یہ خاص طور پر ہتھیاروں اور تیل کی تجارت اور ریاست کی جغرافیائی اہمیت پر مرکوز ہے۔

کئی دہائیوں سے سعودی عرب بیرون ملک میں وہابیت کے فروغ کے لیے بھاری مقدار میں مالی تعاون فراہم کر رہا ہے۔ عین مطابق رقم تو معلوم نہیں ہے لیکن تخمینہ یہ لگایا گیا ہے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران دنیا بھر کے مختلف غریب مسلم ملکوں میں انتہاپسند وہابیت کوفروغ دینے کے لیے 100 ارب امریکی ڈالر خرچ کیا جا چکا ہے۔ مغربی رہنما اچھی طرح واقف ہیں کہ ابھی کیا چل رہا ہے۔ ایک وکی لیکس کیبل نے واضح طور پر اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ سنی دہشت گرد جماعتوں کو مالی امداد فراہم کرنے کا بڑا ذریعہ سعودی عرب ہے۔ ابھی اس سلسلے میں بہت کچھ کیا جانا باقی ہے اس لیے کہ سعودی عرب اب بھی القاعدہ، طالبان لشکر طیبہ اور دیگر دہشت گرد جماعتوں کا سب سے بڑا مالی معاون ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ صرف سعودی عرب انتہا پسند جہادیوں پر پیسے لگا رہا ہے، بلکہ اس سلسلے میں قطر سمیت بعض دیگر خلیجی ریاستوں کا بھی ایک ٹریک ریکارڈ موجود ہے۔ ان ریاستوں نے عالمی سطح پر بنیاد پرست اسلام کے فروغ میں مالی تعاون کر کے بموں کا آگ فراہم کیا ہے۔

اس انتہا پسند ایجنڈے کو براہ راست مالی معاونت سعودی عرب کی قیادت کے ذیعہ نہیں فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ فنڈ مسجدوں اور مدرسوں کے ساتھ ساتھ مختلف مذہبی اور خیراتی تنظیموں سمیت بیرون ملک کے مختلف عناصر کے ذریعہ فراہم کیاجاتا ہے۔ جن اسکولوں میں وہابی نصاب پڑھایا جاتا ہے وہ بھی انتہائی پریشان کن ہے۔ اگر چہ 11/9 حملوں کے بعد اس میں ترمیم کی گئی ہے لیکن یہ اب بھی انتہائی بنیاد پرستی پر مبنی ہے، جس میں "کافروں" کے تئیں نفرت کی تعلیم دی گئی ہے جس میں وہابیت کی پیروی نہ کرنے والے شیعہ، صوفیاء، یہودیوں، عیسائیوں اور سنی مسلمانوں سمت بہت سی دوسری جماعتیں بھی شامل ہیں۔ اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ان ایجنڈوں کی تعلیم صرف سعودی عرب میں ہی نہیں بلکہ بیرون ملک میں بھی پڑھائی جا رہی ہے۔ ایک متاثرہ علاقہ جنوب مشرقی ایشیا ہے جہاں وہابی مدارس کی کثرت ہے۔ اس کی بنیاویں 1970 کی دہائی میں اس وقت مضبوط ہونی شروع ہوئی جب وہ پیٹرو ڈالر کے ساتھ سعودی وہابی انتہا پسندی کی برآمدات شروع ہوئی۔ فوری طور پر انتہاپسندی کے اثرات کو قبول کرنے والے بچوں کی تعداد بھی کم نہیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان بچوں کو اور کسی دوسری تعلیم تک کوئی رسائی حاصل نہیں ہے۔ طالبان کے بہت سے رہنماؤں کی تعلیم اسی طرح کے مدارس میں ہوئی ہے۔

سعودی عرب کی پالیسی مغرب اور مسلم دنیا کے مفادات سے بالکل متضاد ہے۔ مغرب کو اب یہ بات واضح کر دینا چاہیے کہ وہ اب اس نقطہ نظر کو قبول نہیں کر سکتا، اور اگر سعودی عرب نے اپنے ریوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی تو سعودی عرب کے تئیں ہماری پالیسی میں سنجیدہ تبدیلیاں کی جائیں گی۔

ماخذ:

goo.gl/rsTfLc

URL for English article: http://newageislam.com/islam,terrorism-and-jihad/amanda-paul/saudi-arabia-must-stop-funding-islamic-extremism/d/105596

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/amanda-paul,-tr-new-age-islam/saudi-arabia-must-stop-funding-islamic-extremism--سعودی-عرب-کو-اسلامی-انتہا-پسندی-کو-فنڈنگ-روکنا-ضروری-ہے/d/105646

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..