New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 02:08 AM

Urdu Section ( 27 Nov 2015, NewAgeIslam.Com)

Opposing Terrorists Is A Matter of Opportunism or Sincerity? دہشت گردوں کی مخالفت مصلحت ہے یا اخلاص؟

 

امان عباس

24نومبر، 2015

لکھنؤ : فرانس کے دارالحکومت پیرس میں حال ہی میں ہوئے ہولناک دہشت گردانہ حملہ جس میں ڈیڑھ سو (150) سے زیادہ بے گناہ انسان موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے ۔ دہشت گرد گروہ داعش کے ذریعہ کئے گئے اس وحشیانہ فعل کی پوری دنیا میں مذمت کی جارہی ہے۔ ہمارے ملک ہندوستان میں بھی عوام کے ہر طبقہ کی جانب سے اس کی مذمت کی گئی چاہے وہ کسی بھی مذہب اور مسلک سے تعلق رکھتا ہو ۔ اس حادثہ کے بعد ملک کی مسلم تنظیموں میں فوری طور پر سب سے زوردار طریقہ سے مذمت اور احتجاج کا اعلان جمعیۃ علماء کے محمد مدنی گروپ کی جانب سے ہوا۔ اس کے روح رواں مولانا محمود مدنی نے ملک کے 75 شہروں میں احتجاج کا اعلان کیا۔ جس کے بعد ٹی ۔وی ۔ چینلوں اور سوشل میڈیا میں یہ بحثیں بھی ہونے لگیں کہ ایسا احتجاج او رمذمتی سلسلہ پہلے کیوں نہیں ہوا، ساتھ ہی یہ سوالات بھی اٹھنے لگے کہ ان احتجاج او رمذمتی بیانات سے کیا دہشت گرد ی کا خاتمہ ہوجائے گا۔ یا پھر اس فکر سے لڑنے اور اس کے خاتمہ کی ضرورت ہے جس کے سبب دہشت گرد پیدا ہورہے ہیں ۔

دراصل جو سوالات آج لوگوں کی زبان پر آرہے ہیں او رعلماء کے دوہرے کردار و اندیشوں کا اظہار کیا جارہا ہے اس کی طرف اشارہ ہم نے 2010 ء میں صحافت کے انہیں کالموں میں کیا تھا۔ جس میں ہم نے لکھا تھا کہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے تفرقوں سےبھرے کورس جس میں ‘‘تقویۃ الایمان ’’ جیسی کتاب پڑھائی جارہی ہے اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے کردار پر ہم صرف اس لئے مسلسل تنقید کررہے ہیں کہ ان کے طرز عمل سے نہ صرف مسلمانوں کے مجموعی مفاد کو خطرہ ہے بلکہ اس ملک کا اتحاد بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ ہمیں اس سے کوئی مطلب نہیں ہے کہ ندوۃ العلماء یا مسلم پرسنل لابورڈ سدھرتے ہیں یا نہیں ہم تو بس ان فیکٹریوں کی نشاندہی کررہے ہیں جہاں نفرتوں کے بم بنانے جیسا خطرناک کھیل کھیلا جارہا ہے۔ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم نے دارالعلوم ندوۃ العلماء کے کورس جن اندیشوں کے مد نظر اعتراض کیا تھا وہ اب نہ صرف عالم اسلام بلکہ برادران ملک کے لئے بھی تشویش کا سبب بن گئے ہیں ۔ اسلامی ملک اور ان کے علماء بھی اب یہ محسوس کررہے ہیں کہ نفرتوں سےبھری تعلیم کا نوجوانوں پر برا اثر پڑر ہا ہے ۔ وہ اس طرح کی تعلیم کی آڑ میں دہشت گردی کی طرف مائل ہونے کے بہانے تلاش کررہے ہیں ۔ اس لئے اس طرح کی تعلیم کو چھوڑ دیا جانا چاہئے۔ اہم بات یہ ہے کہ اب یہ آواز سعودی عرب سےبھی اٹھ رہی ہے جو اُسی مسلک اور اسی فکر کا علمبردار ہے جسے دارالعلوم ندوۃ العلما ء اور دیوبند کی کل اساس کہا جاسکتا ہے ۔ اُس وقت ہمارے اس نحیف آواز پر صرف مسلم پرسنل لاءبورڈ کے سینئر رکن مولانا ظفر مسعود کچھوچھوی نے لبیک کہتے ہوئے بورڈ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

دہشت گردی و ماحولیات سے مل کر ساتھ کام کرینگے:

ہندوستان اور ملیشیا نے سائبر سیکورٹی کےشعبے میں ٹیکنالوجی اور تجربے کا اشتراک کرنے ، سائبر حملوں سےبچاؤ کے اقدامات کرنے جیسے باہمی امور پر تعاون بڑھانے کے سلسلے میں ایک معاہدے پر دستخط کئے۔ دوسرا معاہدہ ثقافتی تبادلے کے سلسلے میں ہوا، جس کے تحت دونوں ملکوں کے آرٹ کی نمائش ، ثقافتی پروگراموں کا اہتمام ، ماہرین کے لیکچر وغیرہ کے شعبے میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ تیسرا معاہدہ ، انتظامی صلاحیت کو بڑھانے کے سلسلے میں ہوا۔ اس معاہدے میں سرکاری پروگراموں او رمنصوبوں کے نفاذ ، نگرانی ، کار کردگی کو بہتر کرنے کے طور طریقوں کا تبادلہ اور تجربہ او رپالیسی ساز اقدامات کے امور شامل ہیں ۔ مودی نے سائبر سیکورٹی معاہدے کو اہم بتاتے ہوئے کہاکہ ہماری زندگی ایک نیٹ ورک کی طرح ایک دوسرے سےوابستہ ہوگئی ہے اور یہ ہمارے وقت کی سنجیدہ امور میں سے ایک ہے ۔ انہوں نے تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کے سلسلے میں نجیب رزاق کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان آسیان سمجھوتوں اور ہند۔ ملیشیا سمجھوتے سے مکمل طور پر استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے علاقائی جامع اقتصادی شراکت سمجھوتے پر جلد از جلد عمل در آمد کرنے پر بھی زور دیا۔ وزیر اعظم نے ڈھانچہ جاتی ترقی میں ملیشیا کی مہارت کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہندوستان میں ڈھانچہ جاتی منصوبوں ، میک ان انڈیا، اسمارٹ سٹی کے پروجیکٹوں میں ملیشیا کے زیادہ سے زیادہ اشتراک کے خواہش مند ہیں ۔ انہوں نے ملیشیا کے زیادہ سےزیادہ اشتراک کے خواہش مند ہیں ۔ انہوں نے ملیشیا میں ریلوے کی ترقی میں ہندوستانی ریلوے کے کارخانہ ارکان کے رول کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملیشیائی اقتصادی نظام میں اپنی اشتراک بڑھاناچاہتا ہے۔ مسٹر مودی نے ہندوستان او رملیشیا کے درمیان ثقافتی اور عوام کے درمیان تعلقات پر خصوصی زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ ملیشیا طلبا کو ہندوستان میں پڑھنے کے لئے مدعو کرتے ہیں او رملیشیا کی حکومت سےاپیل کرتے ہیں کہ وہ ڈگریوں کی منظوری کے سلسلے میں سمجھوتے کو جلد از جلد عملی جامہ پہنائیں ۔ انہوں نے آیورویدک اور دیگردیسی طریقہ علاج کے شعبے میں بھی تعاون بڑھنے پر خوشی کا اظہار کیا۔ مسٹر مودی نے مسٹر رزاق کو ہندوستان آنے کےلئے مدعو کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کی اسٹریٹجک اشتراک کاایک نیا باب کھولے گا۔

سنگاپور کی ترقی ہندوستانیوں

دوستوں کی اپنی نیک خواہشات دینے کے ساتھ ماڈرن سنگاپور کے معمار لی کو ان کو خراج عقیدت پیش کی انہوں نے کہا میرے لئے وہ ذاتی ترغیب تھے ۔ سنگاپور ہمیں بہت سی باتیں سکھاتا ہے۔ کسی ملک کا حجم اسکی ترقیوں کا پیچانہ ہونے میں رکاوٹ نہیں بنتا ۔ سنگا پور کی ترقی ہندوستانیوں کے لئے ترغیب ہے۔

مسلم خواتین سے امتیازی سلوک

بنچ نے سماعت ملتوی کرتےہوئے کہاکہ اسے تین ہفتے بعد درج کیا جائے گا ۔چیف جسٹس ایچ ایل دتو اور جسٹس امیتابھ رائے کی بنچ کے سامنے قومی قانونی سروس اتھارٹی کے وکیل نے اپنی موجودگی درج کرائی ۔ اس سے پہلے جسٹس اٹل اڑ دوے کی صدارت والی بنچ نے چیف جسٹس سے ایک ‘مناسب بنچ’ قائم کرنے کی درخواست کی تھی جو اس سوال پر غور کرے کہ کیا مسلم خواتین کے ساتھ صنفی بنیاد پر امتیازی سلوک ہورہا ہے۔ بنچ نے ایک مفاد عامہ کی عرضی کو رجسٹر کرنے کاحکم دیا تھا جسے نئی بنچ کے سامنے پیش کیا جاناتھا ۔ اس بنچ کو مسلم عورت (طلاق پر حقوق کا تحفظ ) قانون کے آئینی جواز سے متعلق مسائل پر غور کرنا ہے۔ بنچ نے کہا تھا کہ یہ صرف پالیسی معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ آئین میں خود تین کو فراہم کردہ بنیادی حقوق سے متعلق موضوع ہے۔ بنچ نے کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس پر کوئی قدم اٹھایا جائے۔سپریم کورٹ کے ہی سابق کے فیصلوں کی مثال دیتے ہوئے ججوں نے کہاکہ کثرت از داج کی روایت عوامی اخلاقیات کے لئے مہلک ہے۔ اس پر بھی ستی کے رواج کی طرح پابندی لگائی جاسکتی ہے۔ عدالت عظمٰی کا کہنا ہے کہ اس طرح کی روایات خواتین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں ۔ یہ روایات آئین کی طرف سے دیئے گئے مساوات اور زندگی گزارنے کے حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔ بنچ نے کہا یہ دھیان دینے کی بات ہے کہ آئین میں مکمل ضمانت دئے جانے کے بعد بھی مسلم خواتین امتیازی سلوک کا شکار ہیں ۔ من مانے طلاق او رپہلی شادی باقی رہنے کے باوجود شوہر کی طرف سے دوسری شادی کرنے جیسے معاملات میں خواتین کے حق میں کوئی قانون نہیں ہے۔ یہ عورتوں کے احترام اور تحفظ کے مسئلے کو مسترد کرنے جیسا ہے۔ بنچ نےسابق کے ایک فیصلے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جاوید بنام ہریانہ حکومت معاملے میں تین ججوں کی بنچ نے کہا کہ تھا کثرت ازدواج عوامی اخلاقیات کےلئے مہلک ہے۔ اسے بھی حکومت کی جانب سے ستی کےرواج کی طرح ختم کیا جاسکتا ہے۔ یہ پہلے بھی محسوس کیا جاچکا ہے کہ ایک شادی کا قانون نافذ کرنا کسی بھی مذہب کے خلاف نہیں ہے اور اس سے مسلم پرسنل لاء بورڈ پر کوئی آنچ نہیں آتی۔ چند ہفتے پہلے مسلم پرسنل لاء میں اصلاح کےلئے کام کرنے والے ایک این جی او بھارتی مسلم خواتین تحریک کا ایک سروے سامنے آیا تھا، جس کے لئے تنظیم نے ملک کے 10 صوبوں میں 4،710 مسلم خواتین کی رائے معلوم کی تھی ۔

ویشنو دیوی میں ہیلی کاپٹر حادثہ

موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر میں اچانک آگ لگی جس کے بعد یہ گر کر تباہ ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ حادثے کی وجہ فنی خرابی ہوسکتی ہے تاہم ڈائریکٹر جنرل شہری ہوا بازی کے ذریعے واقعہ کی تحقیقات کرائے جانے کے بعد ہی اصل وجہ معلوم ہوسکے گی۔ حادثے کے بعد جموں و کشمیر نے نائب وزیر اعلیٰ نرمل سنگھ نے جائے حادثہ کا دورہ کیا ۔ انہوں نے کہا پائلٹ بہت تجربہ کا رتھی او رہیلی کاپٹر میں کوئی تکنیکی خرابی نہیں تھی۔ نرمل سنگھ نے بتایا کہ جہاں ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا وہاں ایک مرا ہوا پرندہ بھی ملا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ پرندے کی وجہ سے ہیلی کاپٹر حادثے کاشکار ہوا ہو۔ بتایا جارہا ہے کہ ہیلی کاپٹر ہوا میں ہی آگ کے گولے میں تبدیل ہوگیا تھا ۔ لاشوں کو پورٹ مارٹم کےلئے بھیج دیا گیا ہے۔

کشمیر : تصادم میں چار جنگجو

انہوں نے بتایا کہ مارا گیا جنگجو غالباً غیرملکی ہے۔ کرنل جوشی نے بتایا کےپیر کی علی الصبح سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی کپواڑہ کے مانیگاہ جنگلوں میں جنگجوؤں کے خلاف آپریشن بحال کیا گیا ۔ ذرائع نےبتایا کہ کل اندھیرا چھا جانے کےبعدجنگجو ؤں کے خلاف آپریشن معطل کردیا گیا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ کل حاجی ناکا جنگل میں اُس وقت لیفٹینٹ کرنل کے ایس ناتھ اور ایک فوجی اہلکار زخمی ہوگیا جب جنگجوؤں نے خود کے ہتھیار وں سے سیکورٹی فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی لیکن جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ جنگجوؤں کے فرار ہونے کے راستے بند کرنے کے لئے پورے جنگل کو محاصرے میں لیا گیا ہے۔ شمالی کشمیر کے کپواڑہ میں 17 نومبر کو جنگجوؤں کے حملے میں کرنل سنتوش مہادک ہلاک ہوا تھا ۔ضلع راجوری میں پیر کے روز ایک فوجی جوان اس وقت ہلاک ہوگیا جب پاکستانی فوج نے لائن آف کنٹرول ( ایل او سی) کے نوشہرہ سیکٹر میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرحد کے اس پار فوج کی ایک گشت پارٹی کو نشانہ بنادیا ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے ایک بار پھر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پیر کی صبح ایل او سی پر راجوری کے نو شہرہ سیکٹر میں فوج کی ایک گشت پارٹی پر فائرنگ کی ۔ انہوں نے بتایا کہ ایک جوان گولی لگنے سےشدید زخمی ہوگیا جس کو پہلے نزدیکی طبی مرکز اور بعد میں کمانڈ اسپتال ادھم پور منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا۔ شہید جوان کی شناخت 27 مدراس رائفلز کے سپاہ سکنیش کی حیثیت سےکی گئی ہے۔

قرض ادانہ کرنے والوں کے

کی حیثیت پر بھی بحث ہوئی اور وراثت میں ملنے والا این پی اے کا مسئلہ اب بھی برقرار ہے۔’’ انہوں نے بتایا کہ زیادہ این پی اے والے کچھ خاص بینکوں کےبارے میں بھی بحث ہوئی ۔ ذرائع کےمطابق ان بینکوں سےاپنا این پی اے کم کرنے کے لئے ضروری قدم اٹھانے کو کہا گیا ہے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہاکہ اجلاس میں جان بوجھ کر بینکوں کا قرض ادا نہ کرنے کے رجحان کے بارے میں بھی بات چیت کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ بینکوں کا این پی اے بہت زیادہ ہے اور ا س تناظر میں ایسے قرض خواہوں کے بارے میں بات کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ قرض خواہ تو ایسے ہیں جن کے وجہ سے ایک نہیں بہت سے بینکوں کا این پی اے بڑھ رہاہے وزیر خزانہ نے کہا کہ ایسے قرض خواہوں سےنمٹنے کے لئے بینکوں کے پاس پوری خود مختاری ہے۔ ساتھ ہی ریزروبینک کی طرف سے حالیہ دنوں میں طے شدہ پالیسی تبدیلیوں سےبھی بینکوں کو ان کے خلاف کارروائی کے زیادہ حقوق ملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دیوالیہ قانون جلد بنایا جائے گا جس کے بعد کافی حد تک اس مسئلے کاحل ہوجائے وجے مالیہ کی دیوالیہ طیارہ سروس کمپنی کنگ فیشر ایئر لائنس کی منقولہ جائیداد کی نیلامی کے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے فیصلے کا دیگر سرکاری بینکوں کی طرف پیروی کئے جانے کا امکان کے بارے میں مسٹر جیٹلی نے کہا کہ قانون کے دائرے میں کام کرنے کا تمام بینکوں کو حق اور اختیار ہے۔

مودی نے ملک سے چھوٹے روپے کا قرض معاف کردیا تھا

منریگا کےتحت سو دن کے روزگار کی گارنٹی ہماری حکومت نے دی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس تو کسان اور غریبوں کا ہندوستان چاہتی ہے ۔وزیر اعظم نریندر مودی مسلسل جھوٹے وعدے کرکے ملک کو غیرملکیوں کے ہاتھ میں سپرد کرنا چاہتے ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اتر پردیش کی حکومت بھی وزیر اعظم نریندر مودی کی منصوبہ بندی پر کام کررہی ہے۔ ان کو ریاست کے غریب اور کسانوں کی بات بیکار لگتی ہے۔اتر پردیش کاکسان ہر دن مقروض ہوتا جارہا ہے۔ چینی ملوں کے مالک گنا کسانوں کی رقم ادائیگی روکنے کے بعد نئی ملیں لگاتے جارہے ہیں اور کسان خود کشی پر مجبور ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش کی حکومت کو ترجیح کی بنیاد پر کسان اور غریب کے بارے میں کچھ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش میں چینی ملیں بند ہیں۔ گنا کی خریداری نہیں ہورہی ۔کسانوں کے لئے بینک کےدروازے بند ہیں ۔ ان کو قرض نہیں مل رہا ہے۔ پچھلا بقایا مانگا جارہا ہے اور اتر پردیش حکومت دعوی کررہی ہے کہ کسانوں کا قرض معاف کیا گیا ہے۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ ہم نے آبپاشی معاف کردی ہے، لیکن یہاں تو نہروں میں پانی ہی نہیں ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی پر بھی راہل گاندھی نے نشانہ سادھا ۔ انہوں نے کہاکہ غریبوں کی کہانیاں سنا کر وزیر اعظم کی کرسی پر پہنچے مودی اب غریبوں کوبھول گئے ہیں۔ مرکز سے کسانوں کی کسی اسکیم پر کام نہیں  ہورہا ہے۔ مودی کے اچھے دن کی بات جھوٹی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کسان کانگریس کا ساتھ دیں۔ کسانوں نے پہلے بھی ہماری حمایت کی تھی تو ہم نے ان کےلئے کام کیا تھا۔کانگریس اب بھی کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ ہم نے غریبوں کودنیا کا سب سے بڑا روزگار دیا۔ منریگا سے ان کو کافی فائدہ ملا۔ لوگ کچھ کرنے کے قابل بن سکے۔ ہم نے کسانوں کا قریب 70 ہزار کروڑ روپیہ معاف کرایا۔ انہوں نے مودی کے میک ان انڈیا پرطنز کرتے ہوئے کہا کہ اس کانام ہوناچاہئے ٹیک ان انڈیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت کچھ بنا نہیں رہی ہے بلکہ لوگوں سے ان کی چیز لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج وقت کی ضرورت ہے کہ ہل اور ہاتھ کی طاقت ایک ساتھ آئے۔ ریلی میں سابق وزیر راجیو شکلا ، شری پرکاش پنپا، ریاستی انچارج مدھسودن ، ریاستی صدر نرمل کھتری ، عمران مسعود ، پنکج ملک وغیر ہ سینئر لیڈر موجود رہے ۔ مانا جارہا ہے پارٹی کے اتر پردیش میں مشن 2017 کے آغاز کےلئے یہ سفر کی گزشتہ کسان یاترا بھٹہ پارسول کی طرز پر ہے۔ کانگریس نے سرساوا کے تلکمی سے پیدل مارچ شروع کیا ہے۔ پٹنی تک ہونے والی سات کلو میٹر کی اس یاترا میں راہل گاندھی چوپال لگا کر کسانوں سے بات چیت بھی کررہے ہیں ۔ بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج سےکافی خوش کانگریس کےقومی نائب صدر راہل گاندھی کی سہارنپور میں کسان پیدل مارچ کو پہلے سے مقرر پروگرام کے مطابق صبح 10:30 بجے شروع ہوناتھا۔ دہلی میں دھند کی وجہ سے ان کا ہوائی جہاز نہیں اڑا سکا ۔ اس وجہ سے وہ مقررہ وقت سے تقریباً سوا گھنٹے لیٹ سرساوا پہنچے۔

پاکستان کا آئی ایس کے خلاف فوج

ضرورت پر زور دیا ۔ وہ جنرل راحیل شریف کے امریکی دورے میں پاکستانی وفد کے ساتھ تھے ۔ سال کے شروع میں پاکستان نے سعودی عرب کی قیادت میں بنے فوجی اتحاد میں بھی شامل ہونے سے انکار کردیا تھا ۔

آئی ایس میں شامل 23

خلاصہ غیر ملکی ایجنسیوں کی خفیہ رپورٹ میں ہوا ہے جو ہندوستان کے ساتھ ساجھا کی گئی ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق آئی ایس ہندوستان ، پاکستان، بنگلہ دیش ،نائیجریا اور سوڈان جیسے ممالک کے لڑاکوں کو عرب ممالک سے آئے لڑاکوں کے مقابلے کمزور مانتا ہے۔ عربی لڑاکے افسر انہیں فوج میں عرب لڑاکوں کو ترجیح دیتے ہیں ۔ انہیں بہتر ہتھیار ، گولہ بارود ، اسلحہ ، مکان اور تنخواہ دی جاتی ہے۔ جب کہ جنوبی ایشیا سے آئے لڑاکوں کو آئی ایس چھوٹے بیرکوں میں رکھتا ہے کم تنخواہ دی جاتی ہے اور ساز و سامان بھی ہلکے ڈھنگ کا دیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان مبینہ کمزور لڑاکوں کو آئی ایس عام طور پر ہتھیار سےبھری کار میں بھیج دیتا ہے ۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ وہیں پہنچ کر فلاں نمبر پر فون کرنا وہاں سے آگے کہاں جانا ہے تب بتایا جائے گا۔ جیسے ہی فون کیا جاتا ہے پہلے سے طے شدہ میکنیزم کے ذریعہ کار میں دھماکہ ہوتا ہے اور طے شدہ ٹارگٹ پورا کہا جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا جاتا ہے کہ آئی ایس جنوبی ایشیا کے لڑاکوں کو آگے رکھتا ہے اس لیے ذکمیوں میں ان کی تعداد زیادہ ہوتی ہے ۔ ان کے پیچھے عرب لڑاکے رکھے جاتے ہیں۔

جھگیوں میں آتشزدگی سے

مدھوبنی ضلع کے رہنے والے تھے ۔ محکمہ فائر کےایک اہلکار نے کہاکہ صبح تقریباً تین بجے ہمیں بھلسوا ڈیری کے علاقے میں راجا مسجد کے پاس چار جھوپڑ پٹیوں میں آگ لگ جانے کی خبرملی ۔ دو فائر گاڑیوں کو موقع پر بھیجا گیا اور صبح تقریباً ساڑھے تین بجے آگ بجھانے کی مہم شروع کی گئی ۔ آگ پر 30 منٹ میں قابو پا لیا گیا۔ حالانکہ تب تک پانچ لوگوں کی موت ہوگئی تھی ۔ فائر افسر نے کہاکہ واقعہ کے پیش نظر دہلی ڈیزاسٹر منجمنٹ اتھارٹی اور ماڈل ٹاؤن ڈویزن کے تحت آنے والے پولس تھانوں کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی تھیں ۔ ایک پولس افسر نےکہا کہ خاندان کے پانچوں ارکان اور آگ بجھانے کی کوشش کرنے کے دوران زخمی ہوئے کچھ دوسرے لوگوں کو بابوجھگ جیون رام اسپتال لے جایا گیا ۔ وہاں کلام، روینا اور تین بچوں کو مردہ قرار دیا گیا۔ آگ لگنے کی وجہ کا پتہ ابھی نہیں چل پایا ہے۔ افسر نے کہا کہ پولس اس بات کی تحقیقات کررہی ہے کہ کلام کا خاندان آگ سے نکل کربھاگا کیوں نہیں؟ پولیس نے کہا کہ اب تک یہ شبہ ہے کہ ان کی موت سوتے وقت دھویں سےدم گھٹ جانے کی وجہ سے ہوگئی اور بعد میں ان کی لاش آگ میں جھلس گئیں۔

آسام کے گورنر کو برخاست

متعلق کئی لوگوں کواعلیٰ عہدے پر بیٹھا ہوا ہے۔ جو ہمیشہ ہی آئین کی بنیادی اور صحیح ارادہ سےکام نہیں کرتےہوئے ان کے خلاف ہی بولتے او رکام کرتے رہتے ہیں۔ مایاوتی نے کہاکہ ہندوستان کو آر ایس ایس اور گول والکر کی محدود سوچ اور غور و فکر سے جوڑنے کی کوشش ہمیشہ ہی ملک کی عوام نے ناپسند کیا اور ایسے شر پسندوں کو ایک حد سے زیادہ کہیں بھی نہیں آگے بڑھنے دیا ہے۔ یہ پورے طور سے ملک مفاد میں ہی ہے کہ ذات مذہب کےماننے والے لوگوں کو برابری اور انصاف اور اس کا اختیاری حق ملے۔ انہوں نے کہا کہ قانون اور آئین کے ارادہ کے برعکس کام کرنے والے خاص کر اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے لوگوں کےخلاف فوراً مناسب کارروائی ہو تاکہ ایسے شخص کے ذریعہ غیر مناسب ،متنازعہ بیان بازی کرکے اپنے عہدے کے وقار کو ختم کرنے کا موجودہ وقت میں جاری سلسلہ بند ہو۔ بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی اس طرح کی کارروائی کرکے وزیر اعظم نریندر مودی یہ ثابت کریں کہ وہ خالی اپدیش نہیں دیتے ہیں ۔ بلکہ اپنی کتھنی کے تئیں تھوڑا حساس اور سنگین بھی ہیں ۔ مایاوتی نے کہا کہ خاص کر آسام کے گورنر پی بی آچاریہ کے معاملے میں سخت کارروائی کر کے نریندر مودی حکومت کو یہ ثابت کرنا چاہئے کہ بیرونی دورہ میں بھی وہ سستی مقبولیت اور صرف واہ واہی لوٹنے والی باتیں نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ اب تقریباؑ ڈیڑھ سال کے اپنے مدت کار کے بعد تھوڑا سنگین ہیں اور آر ایس ایس کے ڈکٹیٹ سے زیادہ نہیں ملک مفاد کی فکر ہے۔

اعظم کا آچاریہ کو جواب ،پاکستان کے

ہیں جو ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں ، وہ اپنے لئے راستہ طے کرلیں ۔متنازعہ بیان دینے والے آسام کے گورنر کی شکایت صدر سےکرنے کے امکان سےمتعلق سوال پر خان نے کہا کہ اب کس کی شکایت کریں ۔ بابائے قوم کے قاتلوں سے او رکیا توقع کریں گے۔ غور طلب ہے کہ آسام کے گورنر پی بی آچاریہ نے ہفتہ کو ایک کتاب کی رسم اجرا ء میں یہ کہہ کر تنازعہ کھڑا کردیا کہ ہندوستان ہندوؤں کے لئے ہے۔ متنازعہ بیان پر آچاریہ کی کل صفائی دینے کےلئے کی گئی کوشش سےتنازعہ او ربڑھ گیا جب انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمان کہیں بھی جانے کو آزاد ہیں ۔ اگر وہ یہاں رہنا چاہتے ہیں تو یہاں رہ سکتے ہیں ۔ بہت پاکستان چلے گئے۔ اگر وہ پاکستان بنگلہ دیش جانا چاہتے ہیں تو وہ وہاں جانے کےلئے آزاد ہیں۔

رمضان کی گھرواپسی کی

دیتے ہوئے کہا کہ ‘رمضان اپنی ماں کےساتھ رہنا چاہتا ہے ’۔ انہوں نے ٹویٹ کیا : ‘آج میں بھوپال میں رمضان سے ملی ۔۔۔۔۔ اگر پاکستان رمضان کو اپنا شہری تسلیم کرتا ہے تو ہمیں اسے پاکستان بھیجنے میں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ ’ اس کے ساتھ انہوں نے اپنی اور رمضان کی تصویر بھی ٹویٹ کی ہے۔ رمضان اس وقت غیر سرکاری ادارے‘ آرمبھ نامی چلڈرن ہوم میں رہ رہاہے اور جلد از جلد کراچی جانے کی آس لگائے بیٹھا ہے ۔ اس سے قبل رمضان کے متعلق دستاویزات کی کمی کےسبب اسے واپس بھیجنے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئی تھیں ۔ خیال رہے کہ پاکستان میں کئی برسوں تک رہنے والی لڑکی گیتا جب بھارت آئی تھی تب بھی انہوں نے وزیر خارجہ سشما سوراج سےملاقات کی تھی۔ رمضان کےمطابق وہ کراچی کا رہنے والا ہے اور رمضان کے والد چند سال قبل سے پاکستان سے بنگلہ دیش لے گئے تھے ۔ رمضان کاکہنا ہے کہ بنگلہ دیش پہنچ کر ان کے والد نے دوسری شادی کرلی اور بنگلہ دیش کی سرحد عبور کرتا ہوا ہندوستان پہنچ گیا ۔ سشما سوراج پیر کو اندور میں پاکستان سے بھارت آنے والی لڑکی گیتا سےبھی ملاقات کرنے والی ہیں۔

حکومت کا 26 نومبر کو یوم آئین

اسکولوں میں آئین کے موضوع پرایک آن لائن مضمون نویسی مقابلہ کابھی انعقاد کیا جائے وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کے محکمۂ اعلیٰ تعلیم نےمطلع کیا ہے کہ وہ یوجی سی، اے آئی سی ٹی ای وغیرہ کو پہلے ہی بتا چکا ہے کہ مذکورہ دن کو یوم آئین کے طور پر منایا جائے ۔ یہ درخواست کی گئی تھی کہ 26 نومبر 2015 کو وہ کالج جہاں ممکن ہو ، پارلیمنٹ کے اجلاس پر ماک ڈرل اور ہندوستان کے آئین پر مباحثے کا انعقاد کرسکتے ہیں ۔ یو جی سی نے مطلع کیا ہے کہ اس نے لکھنؤ واقع ڈاکٹر امبیڈکر یونیورسٹی سے درخواست کی تھی کہ وہ کوئز مقابلہ کے انعقاد کے لئے انتظامات کرے ۔ جس میں ہر ریاست کے ریاستی سطح کے فاتحین ایک کل ہند سطح کے کوئز مقابلہ میں حصہ لیں نوجوانوں کے امور کے محکمہ نے درج ذیل سرگرمیوں کو یقینی بنانے کی تجویز رکھی ہے راجیو گاندھی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف یوتھ ڈیولپمنٹ ( آر جی آئی وائی ڈی) آئین کے موضوع پر کوئیز مقابلہ منعقد کرے گا این ایس ایس اپنے کالجوں/ اسکولوں میں آئین کے موضوع پر خطبات کا انعقاد کرے این وائی ایس کے رضا کار / این والی کے ایس یوتھ کلب کے اراکین اپنے اپنے علاقہ میں بیدار ی پیدا کریں گے اور آئین کی تاریخ کے بارے میں بتا ئیں گے آئین کی تمہید کو اپنے صدر دفاتر اور فیلڈ دفاتر میں چسپا ں کریں گے وزارت خارجہ نے مطلع کیا ہے کہ اس نے تمام مشنوں /اسٹیشنوں پرجہاں انڈین اسکول واقع ہیں کو یہ ہدایت جاری کرچکی ہے کہ وہ 26 نومبر 2015 کو یوم آئین کے طور پر منائے جانے کو یقینی بنائیں ۔ یہ تجویز بھی رکھی گئی ہےکہ مشن/ چوکیاں ہندوستانی آئین کامقامی انڈولوجی مراکز وغیرہ میں تقسیم کرسکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ہندوستان کے آئین کا حال ہی میں عربی میں ترجمہ کیا گیا ہے وزارت داخلہ نےمطلع کیا ہے کہ مرکزی مسلح پولس دستے ( سی اے پی ای) او رپولس ۔II ڈویژن کے تحت ان کےادارے وزارت کے تحت آتے ہیں ۔لہٰذا وزارت داخلہ 26 نومبر 2015 کو یوم آئین منانے کےلئے مناسب اقدامات کرے کھیل کود کے محکمہ نےدرج ذیل اطلاع دی ہے۔ تمام چیف سکریٹریوں / اسپورٹس سکریٹریوں ایڈمنسٹریٹر / ایڈمنسٹریٹر کے مشیر سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ‘‘ مساوات کےلئے دوڑ’’ کا انعقاد اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا ( ایس اے آئی) درج ذیل سرگرمیوں کے لئے انتظامات کررہی ہے جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم میں ‘‘مساوات کےلئے دوڑ’’ کے نام سے ایک علامتی دوڑ کا انعقاد کیا جائے گا جس میں ایس ائے آئی کے زیر افراد حصہ لیں گے۔ علاقائی مراکز کےذریعہ بھی ایسی ہی سرگرمی انجام دی جائے گی جس میں ایس اے آئی اور کم اینڈ پلے اسکیم کے تحت تربیت حاصل کررہے افراد حصہ لیں گے اس دوڑ کا انعقاد اسی طرز پر کیا جائے گا جس طرح قومی یکجہتی کے موقع پر 31 اکتوبر ‘‘یکجہتی کے لئے دوڑ’’ کا انعقاد کیا گیا پارلیمانی امور کی وزارت نے 26 نومبر 2015 کو یوم آئین کےموقع پر پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں روشنی کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس نے اس دن پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے سماجی انصاف و تفویض اختیارات کے محکمہ نے تمام ریاستی حکومتوں /مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے 26 نومبر 2015 کو یوم آئین کے طور پر منانے کی درخواست کی ہے۔

کلام کے پوتے نے ناراض ہوکر

کوالاٹ کیا گیا ہے ۔ جنہوں نے ڈاکٹر کلام کو متنازعہ طریقے سے ‘مسلم ہونے کے باوجود قوم اور انسانیت پرست’ قرار دیا تھا۔ حکومت نے یہ کہتے ہوئے بنگلے کے الاٹمنٹ کو منصفانہ ٹھہرایا ہے کہ میش شرما گزشتہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے واحد وزیر ہیں جنہیں اب تک بنگلہ الاٹ نہیں کیا گیا تھا ۔ اب ابراہیم نے پارٹی کو لکھے خط میں کہا ہے کہ میرے خاندان اور ہندوستانی عوام نے حکومت پر زور دیا تھا کہ دہلی میں واقع بنگلہ جس میں ڈاکٹر کلام رہتے تھے ، کو قومی معلو ماتی مرکز بنایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس مرکز کے قیام کا مقصد طلباء او رملک کے نوجوانوں کو ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی دور اندیشی سے واقف کرانا اور اس کے بارے میں سکھانا تھا لیکن حکومت نے درخواست کو مسترد کر دیا۔ ابراہیم نے کہا کہ مرکز میں حکمران پارٹی، جس میں بھی عوامی خدمت کے لئے شامل ہوا، ملک کے عوام کی مانگ کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے، بی جے پی حکومت کا یہ قدم عوام کا دل دکھانے والا ہے۔ حاجی سید ابراہیم کے مطابق اس کے بعد ان کے چچا کے خیالات کے حامیوں نے انہیں پارٹی چھوڑ دینے کے لئے مجبور کردیا۔ جب حکومت نے کلام کا بنگلہ شرما کو دینے کا فیصلہ کیا تب بھی مخالفت کی آوازیں اٹھی تھیں۔ابراہیم اسی بنگلے میں کلام کے ساتھ رہتے تھے۔

دہشت گردوں کی مخالفت .......

حالانکہ اس وقت ہم نے بورڈ کے صدر سے یہ اپیل کی تھی کہ آپ ندوہ میں چل رہے اس کورس میں اصلاح کرلیں جس میں آپ نے صرف غیر مسلموں بلکہ مسلمانوں کے بھی دیگر فرقوں کو کافر ، مشرک اور جھوٹا مسلمان گردان رہے ہیں اور دوسری طرف بحیثیت صدر مسلم پرسنل لاء بورڈ انہیں فرقوں کےعلماء کے ساتھ بیٹھ کر اتحاد کا پرچم لہرارہے ہیں ۔ یہ دہرا کردار نہیں تو او رکیا ہے۔ لیکن اس وقت تو بورڈ کے بیشتر علماء اہلسنّت کا ایک بڑا طبقہ جو خانقاہوں او رمزارات سے منسلک تھا بیدار ہوا اور علماء اور مشائخ بورڈ کے بینر تلے اس نے مسلمانوں کو اس ‘‘فکر’’ سے آگاہ کرناشروع کیا او ر ملک کے کئی مقامات پر عوامی جلسہ کرکے نہ صرف برادران وطن کو بتایا کہ اس مخصوص فکر کا ‘‘اسلام’’ سےکچھ لینا دینا نہیں ہے بلکہ وزیر اعظم سے ایک وفد کی شکل میں ملاقات کر ان کو کافی تفصیل سے سمجھایا کہ کس طرح اس فکر کے لوگوں کے ذریعہ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے سرکاری اداروں اور اوقاف پر ان کا قبضہ ہوگیا ہےاو روہاں بیٹھ کر یہ ان خانکاہی اور صوفی روایات اور کلچر کو کمزور کررہے ہیں جو ملک میں امن و مساو ات او ربھائی چارے و خدمت خلق کے پیغامات عوام تک پہنچاتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیر اعظم ان حضرات علماء کی باتوں سے کافی مطمئن ہوئے اور انہوں نے ملک میں بھائی چارے کی قدیم روایت کو پھر سے قائم کرنے اور دہشت گردی سے مؤثر طور پر لڑنے کےلئے صوفیانہ فکر کو پھیلانے کی ضرورت پر زور دیا۔ دریں اثنا ءپیرس میں جو دھماکہ ہوئے اس کے فوراً بعد وہاں ایک خاتون ممبر پارلیمنٹ کا یہ بیان آیاکہ فرانس سے اب ‘‘سلفی علماء’’ کو فوراً نکال دیناچاہئے جس کےپیش نظر مولانا محمود مدنی کو اس زوردار ڈھنگ سے اپنااحتجاج درج کرانا پڑا ۔ جس کے بعد ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا میں دہشت گردی کے پیچھے کار فرما فکر اور اس سےمؤثر طور سے نپٹنے کے طریقوں پر بحثیں ہورہی ہیں ۔ نتیجہ کی بات کی جائے تو اگر مخلصانہ طور پر اس طرح کی تعلیم اور وعظ و تقریروں میں اصلاح کی گئی تو ماحول سازگار ہونے میں ضرور مدد ملے گی اور اگر ‘‘اتحاد مسلمین ’’ کی تحریکوں کی طرح فقط ناٹک کیا گیا تو نفرتوں کے یہ بم شاید پھٹتے ہی رہیں کیونکہ جب ما ل تیار ہورہا ہے تو کہیں نہ کہیں .............

24 نومبر 2015  بشکریہ : روز نامہ صحافت، لکھنؤ

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/aman-abbas/opposing-terrorists-is-a-matter-of-opportunism-or-sincerity?--دہشت-گردوں-کی-مخالفت-مصلحت-ہے-یا-اخلاص؟/d/105445

 

Loading..

Loading..