New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 05:41 PM

Urdu Section ( 4 Oct 2016, NewAgeIslam.Com)

Last Hope for Humanity (انسانیت کا آخری سہارا (4

 

 

 

علامہ غلام احمد پرویز

یہ ہے عزیز ان من ! وہ مقام، جس پر انسانیت اس وقت کھڑی ہے۔ اس سےیہ کرۂ ارض انسانوں کی بستی نہیں رہا، ایک ایسا مذبح بن چکاہے جس میں جسد انسانیت ٹکڑے ٹکڑے ہوکر بکھر پڑا ہے ۔ او روہی نوع انسانوں جو کبھی ایک برداری تھی، اس کی کیفیت یہ ہے کہ يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ (36۔34۔80) بھائی بھائی سے الگ ہے ،بیٹا  ماں باپ سےجدا، میاں ،بیوی سے اور بیوی میاں سے بےگانہ ۔ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ (37۔80) ہر ایک اپنی اپنی مصیبت میں اس طرح گرفتار کہ ایک کو دوسرے کی خبر تک نہیں ۔

ہوس نےٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے نوع انسان کو

قیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہے

اقوام عالم کی باہمی آویز ش : قومیتوں کی اس تفریق سے پیدا شدہ نفسانفسی اور افراتفری سے انسان کی حالت کی ہوچکی ہے، اس کےمتعلق ہم سے نہیں،خود ان اقوام سے پوچھے جو ابھی تک نیشنلزم کو خدا کی رحمت قرار دیا کرتی تھیں ۔ سنئے کہ اب انہی اقوام کے مفکرین اس عفریت کے ہاتھوں کس قدر نالاں ہیں۔ لندن یونیورسٹی کا پروفیسر ، الفریڈ کو بن، اپنی کتاب The Crisis of Civilisationمیں لکھتا ہے۔

قومیت پرستی کا احساس نفرت سےپیدا ہوتا ہے اور عداوت پر پرورش پاتا ہے ۔ ایک قوم کو اپنی ہستی کا احساس ہی اس وقت ہوتا ہے جب وہ کسی دوسری قوم سے متصادم ہو۔ پھر ان اقوام کا جذبہ عداوت و پیکار اپنی قوم وحدت کی تکمیل پر ہی ختم نہیں ہوجاتا ۔ جو نہی کوئی قوم اپنے حق خود مختاری کو مستحکم کر لیتی ہے ،تو ان اقوام کو دبانا شروع کردیتی ہے جو اپنے لئے حق خود مختاری مانگتی ہوں ۔ (صفحہ 166)

برٹرینڈر سل اپنی کتاب The Hope for A Changing Word میں لکھتا ہے۔

ہمارے زمانے میں جو چیز معاشرتی روابط کو قومی حدود سے آگے بڑھانے میں مانع ہے وہ نیشنلزم ہے۔ اس لئے نیشنلزم ، نوع انسان کی تباہی کے لئے سب سے بڑی قوت ہے۔ پھر تماشہ یہ ہے کہ ہر شخص تسلیم کرتا ہے کہ دوسرے ملکوں کی نیشنلزم بڑی خراب چیز ہے لیکن اس کے اپنے وطن کی نیشنلزم بہت اچھی ہے ۔

ہمارے زمانے میں نیشنلزم کی حیثیت ایک سیاسی نظریہ ہی کی نہیں رہی، اس نے ایک مذہبی عقیدہ کی شکل اختیار کرلی ہے۔ آلڈوس ہکسلے کے الفاظ میں:

نیشنلزم ایک بت پرستانہ او رمشرکانہ مذہب کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ ایسا مذہب جو فساد اور تفریق انسانیت کےلئے ایسا طاقتور ہے کہ کوئی توحید پرست مذہب فلاح اور وحدت انسانیت کےلئے اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا ۔ نیشنلزم یا نسل پرستی کا جذبہ بالکل پاگلوں کا مسلک ہے۔

اس نیشنلزم نےانسان اور  انسان میں کس حد تک مغائرت پیدا کر رکھی ہے، اس کا اندازہ اس سے لگائیے کہ اس وقت امریکہ کا شمار دنیا کےخوشحال ترین ممالک میں ہوتا ہے ۔ پسماندہ ممالک کے لئے اس کی ‘‘امداد’’ نے (جس کی نقاب کشائی میں ابھی ابھی کر چکا ہوں) ساری دنیا میں اس کے جذبہ ہمدردی  نوع انسان کی دھاک بٹھا رکھی ہے ۔ لیکن یہ اس امریکہ کی بات ہے جو اس خطہ زمین کے شمال اور  میں واقع ہے۔ اسی امریکہ سے ایک  قدم کے فاصلے پر جنوبی امریکہ ہے۔ اس کی حالت کیا ہے ،اس کا اندازہ ان چند اعداد و شمار سے لگایا جاسکتا ہے جنہیں (Felix Green) نےاپنی کتاب ( A Curtain of lgnorance) میں پیش کیا ہے ۔ وہ لکھتا ہے ۔

لاطینی امریکہ کی بیس کروڑ آبادی کا دسواں حصہ بھی ایسا نہیں ہوگا جسے پیٹ بھر کر کھانا نصیب ہو۔ رائیوڈی جنیرو ، بیونس آئرس او رمیکسیکو جیسے چند شہروں کو چھوڑ کر باقی علاقہ کی حالت یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے معصوم بچے، غلاظت کے ڈھیروں پر پڑے ہوئے روٹی کے ٹکڑوں کی تلاش میں مارے مارے پھرتے  ہیں اور ان کے ماں باپ بیس سینٹ روزانہ اجرت پر دن بھر محنت و مشقت کرتے ہیں ۔

خود اس ملک کے اندر طبقاتی تفریق کایہ عالم ہے کہ ملک کی کل آمدنی کا آدھا حصہ چلی کی آبادی کے دسویں حصہ کی تجوریوں میں چلا جاتا ہے او رنصف آمدنی باقی نوے فیصد آبادی کے حصے میں آتی ہے ۔ فلپائن کی یہ حالت ہے کہ وہاں کی آبادی کے قریب 86 فیصد حصہ کو بمشکل ایک وقت کاکھانا نصیب ہوتاہے او ر وہاں کے بچوں کی بیس سے چالیس فیصد تعداد ،ایک سال کے اندر اندر مرجاتی ہے ۔ یہ ہے اس امریکہ کے ہمسایہ ممالک کی حالت جس کی کشادہ ظرفی او ربنی نوع انسان کےلئے جذبہ خیر سگالی کا ڈھنڈورا اس شد و مد سے پیٹا جاتاہے ۔

آپ نے دیکھا، عزیزان من! کہ وہ جو قرآن کریم نےکہا تھا کہ تم نے اشتراک باہمی کی زندگی کو چھوڑ ا تو تم ایک دوسرے کے دشمن بن جاؤگے اور تم میں (Wedges) حائل ہو جائیں گی وہ کتنی بڑی حقیقت تھی ۔ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے الفاظ میں،اس سے حالت یہ ہوگئی ہے کہ

زیر گردوں آدم را خورد

ملتے بر ملتے دیگر چرد

انسان کی اپنی حالت : اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جہاں تک قوائے فطرت کی تسخیر کا تعلق ہے، دنیا جس مقام پر گذشتہ پچاس سال میں پہنچ گئی ہے ، اس سے پہلے کی چھ ہزار سال کی مجموعی ترقی اس کی گرد تک بھی نہیں پہنچ سکی تھی ۔ لیکن علم، و ہنر کی اس قدر ثریا بوس رفعت اور حدود فراموش وسعت کے باوجود ، انسانوں کی اس عظیم بستی کی کیا حالت ہے جسے زمین کہا جاتاہے ۔ اس کے متعلق مشہور ماہر علم النفس ، ڈاکٹر ینگ ( Jung) کا ایک فقرہ دہرا دینا کافی ہوگا جو اس نے اپنی مشہور کتاب ( Mordern Main in Search of Soul) میں لکھا تھا ۔ اس نے کہا تھا :

آج کرۂ ارض کی عظیم شاہراہوں پر ہر شئے ویران ، اداس اور فرسودہ نظر آتی ہے۔

یہ بات اس نے 1931 ء میں کہی تھی ۔ اگرینگ آج زندہ ہوتا تو ان شاہراہوں کی موجودہ ویرانیوں کو دیکھ کر نہ معلوم کیا کہتا ۔ وہی کچھ کہتا جو چندسال ادھر ، امریکہ دو صحافیوں نےاپنے ملک کی تمدنی او رمعاشرتی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا ۔ اور جو کچھ انہوں نے کہا تھا، وہ ان کی کتاب کاٹائٹل پکار پکار کر کہہ رہا تھا ۔ کتاب تھی اہل امریکہ کے متعلق او راس کا ٹائٹل تھا  ۔ The Lonely Crowd

برادران عزیز! کیا انسانی معاشرہ کی اس سے زیادہ عبرت انگیز تصویر کوئی او ربھی ہوسکتی ہے کہ وہ ایک ایسا ہجوم ہے جس میں ہر فرد اپنے آپ کو تنہا پاتا ہے او رپھر انسان کی بے بسی کا عالم یہ ہےکہ وہ یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے لیکن اس جہنم سے نکلنے کا کوئی راستہ اسے دکھائی نہیں دیتا ۔ اس کی کیفیت یہ ہوچکی ہے کہ

عشق ناپید و خرد می گزدش صورت مار                             عقل کو تابعِ فرمانِ نظر کر نہ سکا

ڈھونڈنے والا ستاروں کی گذر گاہوں کا                           اپنے افکار کی دنیا میں سفر نہ سکا

جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا                           زندگی کی شب تاریک سحرکر نہ سکا

انسان کس قسم کی دنیا چاہتا ہے؟: اس وقت دنیا کاحساس طبقہ اپنی موجودہ حالت کی وجہ سے سخت مضطرب و بے قرار ہے۔ وہ ہزار جان سےچاہتا ہےکہ کسی طرح یہ دنیاایک اور دنیا میں بدل جائے ۔ اس دنیا کاکس قسم کانقشہ اس کےذہن ( یایوں کہئے کہ ان کےخوابوں) میں آتا ہے ، اس کے متعلق خود انہی کےالفاظ میں سنئے ۔ کیتھو لک چرچ کا راندہ درگاہ اسقف ( Teilard-De-Chardin) ۔ جس کی کتابوں کا کلیسا نےاس کی زندگی میں شائع نہیں ہونے دیا تھا، اپنی کتاب ‘‘تعمیر ارض’’ ( Building The Earth) میں لکھتا ہے:

اب اقوام کا زمانہ گذر چکا ہے ۔ اگر ہم نے ہلاکت سے بچنا ہے تو کرنے کاکام صرف ایک ہے اور وہ  یہ ہےکہ ہم اپنے قدیم تعصّبات کو ختم کریں اور (مختلف ملکوں اور خطوں کی حدود سے آگےبڑھ کر) خود کرۂ ارض  کی تعمیر نو کا انتظام کریں ۔ انسان کو اس کی موجودہ پستی سےاچھال کر بلندیوں کی طرف لئے جانے کا ایک ہی راستہ ہے او روہ ہے وحدت انسانیت کا راستہ ۔ اب شعور انسانی کےلئے ضرور ی ہے کہ وہ خاندان ، وطن او رنسل  کی تنگ ناؤں  سے آگے بڑھ کر ، پوری نوع انسا ن کو اپنے آغوش میں لے لے۔

کیلیفونیا یونیورسٹی کا پروفیسر ( Hugh Miller) اپنی کتاب ( The Community of Man) میں لکھتا ہے کہ تہذیب کا فریضہ ہےکہ وہ پھر سے اس انسانی برادری کااحیاء کرے جو انسانی زندگی ابتداء میں موجود تھی لیکن جو بعد میں عارضی طور پر خاندانوں ، قبیلوں او رنسلوں میں بٹ گئی ۔ تہذیب کہا ہی اسے جاسکتا ہے جو انسانوں کو باہمد گر جوڑے۔ انسانی ارتقاء کااگلا قدیم ایک ایسے معاشرہ کی تشکیل ہوناچاہئے جو تمام نوع انسان پر مشتمل ہو۔

مشہور امریکی مفکر (Lewis Mumford) لکھتا ہے کہ ‘‘ تہذیب درحقیقت اس عمل پیہم وغیر مختتم کا نام ہے جو ایک دنیا او رایک انسانی برادری کی تشکیل کرے’’۔ وہ آگے چل کر کہتا ہے۔

اگر ہم نےاس عملی وحدت کو مزید التوا میں رکھا تو اس کا نتیجہ عالمگیر تباہی کے سوا کچھ نہ ہوگا ۔ مغربی انداز معاشرت کاکھیل کھیلا جاچکا ہے او ریہ تمدن بری طرح نا کام ثابت ہوا ہے ۔ ا ب دنیا کو ایک ایسے بطل جلیل کی ضرورت ہے جو اس کلچر اور تاریخی کی تمام حدود دے کر توڑ دے جنہوں نے انسان کو اپنے اندر قید کررکھا ہے او راس طرح اس کی نشو و نما کے راستے میں بری طرح حائل ہورہی ہیں ۔ اس بطل جلیل کی ضرورت جو کاروان انسانیت کو موجودہ تباہی کے ویرانوں سےنکال کر ، وحدت انسانیت کےعالمگیر نظام کی طرف لے جائے ۔ ( Transfor Mation of Man)

جو لین بکسلے کہتا ہے کہ دنیا کی موجودہ مختلف حکومت کی جگہ ایک عالمگیر واحد حکومت کا قیام، نوع انسان کو تباہی سے بچا سکتا ہے ۔ ( On Living in a Revolutaion)

اس عالمگیر وحدتِ انسانیہ او روحدت نظام حکومت کے تحت جو نئی دنیا وجود میں آئے گی وہ کس قسم کی ہوگی، اس کا نقشہ ، سویڈن کاماہر معاشیات ( Gunner Myrdal) ان الفاظ میں کھینچتا ہے ۔

یہ وہ دنیا ہوگی جس میں انسان، ہر مقام پر،خود اپنی مرضی کےمطابق اپنے لئے کام اور انداز زیست کا انتخاب کرے گا اور اس میں معاوضہ اس محنت کا ملے گا جس سےکچھ تخلیق ہو ، او ریہ معاوضہ نسل او رکلچر کی تمیز کے بغیر سب کے لئے یکساں ہوگا ۔ یہ وہ دنیا ہوگئی جس میں سرمایہ او رمحنت ، انسانی ضرورتوں کے مطابق ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر منتقل ہوتا رہے گا او را س میں دنیا کے تمام  ممالک او ر تمام افراد کو ان کی صلاحیتوں کی نشو و نما کے لئے یکساں مواقع حاصل ہوں گے۔ جب تک دنیا کی یہ حالت رہے گی کہ اس کی نصف آبادی دولت مند او رباقی نصف مفلس ہے ، کوئی عالمگیر معاشی نظام وجود میں نہیں آسکے گا ۔

جیسا کہ میں نےابھی ابھی کہاہے، یہ صاحب سویڈن کے ماہر معاشیات ہیں اور سویڈن وہ ملک ہے جہاں کی فلاح مملکت ، دنیا میں سب سے آگےسمجھی جاتی ہے ۔ اس فلاحی مملکت کےماہر معاشیات نے جو کتاب لکھی ہے اس کا نام ہے ( Beyond The Welfare state) یعنی اس ماہر معاشیات کےنزدیک ، فلاحی مملکت بھی نوع انسان کےاس بنیادی مسئلہ کا حل نہیں ۔ اس کا حل، اس سےبھی کہیں آگے جاکر ملے گا۔ آگے چل کر یہ مصنف لکھتا ہے ۔

یہ حقیقت  ہے کہ ہمارے یہ بلند مقاصد اسی صورت میں حاصل ہوسکیں گےجب ایک ایسی دنیا وجود میں آجائے جس میں نہ کرۂ ارض کےنقشے  پر کھینچی ہوئی ممالک کی لکیریں ہوں اور نہ ہی قوموں کی خود وضع کردہ حدود۔ یہ وہ دنیا ہوگی جہاں انسان جہاں جی چاہے آزاد نہ چلے پھر ے، رہے سہے، او رہر جگہ یکساں شرائط پر اپنے لئے حصول مسرت کر سکے ۔ سیاسی طور پراس سے مراد تمام دنیا  کی واحد حکومت ہوگی اورجمہوری طور پر یہ تمام انسانوں کے باہمی مشورہ سےاپنا کارو بار سر انجام دے گی ہم اپنی روح کے مذہبی نشیمن میں کسی اس قسم کی حسین دنیا کا تصور محسوس کرتے ہیں جس میں کامل ہم آہنگی او ریکجہتی  ہو ۔‘‘ انسانی روح کےمذہبی نشیمن’’ میں اس قسم کی حسین دنیا کا تصور تو اب عام طور پر کیا جانے لگا ہے ،لیکن اصل سوال یہ ہے کہ یہ حسین خواب محسوس تعبیر کا پیکر کس طرح اختیار کرے۔ جہاں  تک مختلف مذاہب کا تعلق ہے، دنیا ان سے مایوس ہوچکی ہے ۔ کس حد تک مایوسی ، اس کےمتعلق  پروفیسر ( William Ernst Hocking)

اپنی کتاب ( Living Religions And A World Faith) میں لکھتا ہے ۔

یہ تمام مذاہب ٹوٹی پھوٹی کشتیاں ہیں ( جنہیں حوادث زمانہ کےطوفان نے ٹکڑے ٹکڑے کرکےساحل پر پھینک دیا ہے) یہ سب اپنے اپنے تقدس کی چادروں میں لپٹے ہوئے ہیں ۔ اطمینان خویش نے (جو در حقیقت فریب نفس کا دوسرا نام ہے) ان کے متبعین کی آنکھوں میں دھول جھونک رکھی ہے ( جس کی وجہ سے انہیں حقیقت نظر نہیں آسکتی ) ۔ ان کے عقائد و نظریات کے زنگ نے ان کے (افکار و عمل کے) قبضوں کا اس قدر جام کردیا ہے کہ ان میں اب حرکت کی صلاحیت ہی نہیں رہی ۔ یہ لوگ قدامت پرستوں کے کوڑوں کے تصور سے اس قدر ڈر ے او رسہمے رہتے ہیں کہ ان میں بہت کم ایسے ہیں ۔

(شخصیت پرستی، بت پرستی کی بدترین شکل ہے)

جون ، 2016  بشکریہ : صوت الحق ، کراچی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/allama-ghulam-ahmad-pervaiz/last-hope-for-humanity--(انسانیت-کا-آخری-سہارا-(4/d/108758

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..