New Age Islam
Thu Dec 02 2021, 04:23 PM

Urdu Section ( 17 Jan 2016, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Madrasas and the Rhetoric of Patriotism مدارس اور حب الوطنی کا نعرہ

 علی ریحان، نیو ایج اسلام

14 جنوری 2016

آر ایس ایس کی ایک ملحقہ تنظیم مسلم راشٹریہ منچ کا مدارس کو یوم جمہوریہ کے موقع پر قومی پرچم لہرانے کا مشورہ دینا ایک اچھی بات ہے۔ مدارس کو قومی پرچم لہرانا چاہئے یا نہیں اس پر کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا ہے۔ جو شخص بھی ایسا کرنا چاہتا ہے وہ ایسا کرنے کے لیے آزاد ہونا چاہئے۔ لیکن آر ایس ایس کی ایک ملحقہ تنظیم کا اس قسم کا مشورہ دینا ایک عجیب بات ہے جو ہمیشہ اپنے ہیڈ کوارٹر پر ترنگا لہرانے سے گریزاں رہا ہے۔ آر ایس ایس کے لئے ایسا ہی ایک مشورہ بہتر ہوگا اس لیے کہ سنگھ اہم مواقع پر کبھی بھی ترنگا نہیں لہراتا بلکہ اپنا زعفرانی پرچم لہراتا ہے۔

بلکہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ گمراہ کن مشورہ اس عام ذہنیت کی پیداوار ہے کہ ایسی کسی بھی چیز کو شک کی نظر سے دیکھا جانا چاہئے جس کا مسلمانوں کے ساتھ دور سے بھی کوئی واسطہ ہو۔ اس ذہنیت کا تصور یہ ہے کہ مسلمان فطری طور پر قوم مخالف ہوتے ہیں اور اس وجہ سے ان کے اندر حب الوطنی اور قوم پرستی کا احساس پیدا کر کے قومی دھارے میں لانے کے لیے تمام کوششیں کی جانی چاہیے ۔ جہاں تک مدارس کا تعلق ہے تو کچھ بھی حقیقت سے دور نہیں ہو سکتا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کچھ مدارس نے قوم مخالف عناصر کو جنم دیا ہے لیکن یہی حال قدامت پسند ہندو تنظیموں سے وابستہ کچھ تنظیموں کا بھی ہے۔ لہٰذا، تمام مدارس پر ایک ہی الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ ایسے کچھ افراد ہو سکتے ہیں جو ملک کے ذوق سے ناواقف ہوں لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ ایسے لوگوں کا تعلق کسی مخصوص مذہبی روایت سے ہو۔ لہٰذ، تمام مدارس کو ایک ہی نظر سے دیکھنا اور انہیں قومی پرچم لہرانے کا مشورہ دینا مدارس کے نظام سے گہری عدم واقفیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اور اس سے مدارس کے بجائے خود اس قسم کا مطالبہ کرنے والی تنظیموں کی ذہنیت کا علم ہوتا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ مدارس مسلم کمیونٹی کے داخلی معاملات کے بارے میں زیادہ ناطق ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مدارس ہندو مت اور عیسائیت جیسے دیگر مذہبی روایات کے بارے میں فکر مند نہیں ہیں بلکہ وہ زیادہ فکر مند دیگر فرقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے بارے میں ہیں۔ اکثر مدارس سے ان کے بانی کے نظریات کی عکاسی ہوتی ہے۔ لہٰذا، ایک دیوبندی مدرسہ کے لئے دشمن کوئی ہندو یا عیسائی نہیں بلکہ بریلوی یا اہل حدیث جیسے دوسرے فرقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان ہی ہیں۔ ان کا پورا نصاب تعلیم مسلم معاشرے کے اندر ہی دیگر فرقوں سے تعلق رکھنے والوں کے عقائد کی تردید کے لیے ہوتا ہے۔ لہٰذا، انہیں دوسرے مذاہب سے متضاد قوم مخالف سمجھنا ایک بہت بڑی غلطی ہے اور اس سے ان اداروں کے بارے میں ان کی زبردست جہالت کی عکاسی ہوتی ہے۔

جو لوگ ان اداروں پر قوم مخالف ہونے کا لیبل لگاتے ہیں وہ ان اداروں کی تاریخ سے واقف نہیں ہیں۔ مدارس اور مسلم علماء نے ہی سب سے پہلے برطانیہ کے خلاف جہاد کرنے کی دعوت دی تھی۔ ایسی دعوت کے پیچھے مضمر مقصد کے حوالے سے بحث کی جا سکتی ہے، کہ برطانوی حکومت کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کرنے کے لیے مختلف تنظیموں کے پاس مختلف وجوہات تھیں۔ بنیادی نقطہ یہ ہے کہ اگر برطانیہ کے خلاف لڑنا کسی کی قوم پرستی کا فیصلہ کرنے کے لئے ایک معیار ہے تو برطانیہ کے خلاف اپنی جنگ کے لئے مدارس اور مسلم علماء یقینا قوم پرست ہیں۔ لہٰذا انہیں قوم مخالف سمجھنا زبردست پریشانی کا باعث ہے اور ایسی باتیں صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو اس کی تاریخ سے واقف نہیں ہیں۔ جنہیں ایسا لگتا ہے کہ ان کے اندر حب الوطنی کا احساس پیدا کرنا چاہیے اور ایسا ان سے ترنگا لہرانے کا مطالبہ کر کے کیا جا سکتا ہے وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کا ہدف بہت طویل عرصہ پہلے ہی حب الوطنی کے احساس کے ساتھ پورا ہو چکا ہے۔ اس طرح کی خوش آمدی کے پیچھے سب سے بڑا مقصد صرف ایک ہی ہو سکتا ہے: آر ایس ایس اور اس کی ملحقہ تنظیمیں مسلمانوں کو بھی دوسروں کی صف میں ہی شامل کرنا چاہتی ہیں۔ صرف اس سیاست کے ذریعے ہی وہ مسلمانوں کو ایک دائمی بیرونی قوم قرار دینے میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور صرف اس مذموم سیاست کے ذریعے ہی وہ اکثریتی ہندو معاشرے کو یہ بتا سکتے ہیں کہ مسلمان مکمل طور پر قومی دھارے میں شامل نہیں ہوئے ہیں۔ یہ ایک ایسی سیاست ہے جو قومی اتحاد قائم کرنے کے بجائے قومی انتشار کا سبب بنتی ہے۔

آج مدارس کے نظام سے متعلق بہت سی چیزوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا نصاب فرسودہ ہو چکا ہے اور بڑے پیمانے پر ان پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے؛ وہ لاکھوں مسلم بچوں کو جو تعلیم دیتے ہیں اسے صرف تشدد کا نام دیا جا سکتا ہے اس لیے کہ یہ انہیں عصر جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کرتا۔ ان کے فرقہ وارانہ نظریات میں اس طرح تبدیلی پیدا کرنی ہوگی کہ انہیں دوسرے فرقوں کے مسلمانوں کو ممکنہ طور پر کافر نہ سمجھنے کی تعلیم دی جائے۔ بنیادی طور پر ان کے نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، اور انہیں اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ سینکڑوں سال پہلے لکھی گئی کتابیں آج کے مسلمانوں کے لئے ہدایت کے لیے معتمد ذرائع نہیں فراہم کر سکتیں۔ لیکن انہیں قوم مخالف قرار دینا اور انہیں قوم پرستی کا درس دینا ایسی باتیں ہیں جو ان لوگوں کا آخری ایجنڈہ ہونا چاہئے جو مدارس کے نظام کو عصر حاضر کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانا چاہتے ہیں۔ مسلم راشٹریہ منچ جیسی تنظیموں کو جتنی جلد اس بات کا احساس ہو اتنا ہم سب کے لیے بہتر ہو گا۔

URL for English article: http://newageislam.com/islamic-society/ali-raihan,-new-age-islam/madrasas-and-the-rhetoric-of-patriotism/d/105991

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/ali-raihan,-new-age-islam/madrasas-and-the-rhetoric-of-patriotism--مدارس-اور-حب-الوطنی-کا-نعرہ/d/106022

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..