New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 10:32 PM

Urdu Section ( 18 Dec 2014, NewAgeIslam.Com)

Islamophobia as a Muslim Problem اسلام ہراسی- ایک مسلم مسئلہ

 

 علی ہاشم

04 نومبر 2014

برسوں سے اسلام فوبیا دنیا بھر کے مسلمانوں کی سب سے بنیادی شکایت رہی ہے؛ اپنے معمولات و معتقدات اور مشابہت کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے شکار ہونے کے احساس نے مسلمانوں کو آواز بلند کرنے اور اسلام اور انتہاپسندی کے درمیان خط امتیاز کھینچ کر مسلمانوں کے تئیں تصورات کو بدلنے کے مطالبہ پر مجبور کر دیا ہے، ہر ایک مسلمان القاعدہ کا نمائندہ نہیں ہے، حجاب بنیاد پرستی کی ایک نشانی نہیں بلکہ ایک لائف اسٹائل ہے، اور داڑھی ہمیشہ اسامہ بن لادن کے پیروکار ہی نہیں بڑھاتے ہیں۔

11 ستمبر کے بعد، مشرق وسطی کے کسی بھی مسافر کو جہاز میں شک کی نظروں سے دیکھا گیا،لفظ اللہ اکبر کہنے سے کئی کئی گھنٹے اور کئی کئی دن تفتیش میں گنوانے پڑ سکتے ہیں، مسلمانوں کو زبانی اور جسمانی زیادتیوں کا سامنا کرتے ہوئے بے شمار ڈرامائی حالات سے گزرنا پڑا، بعض ممالک میں خواتین حجاب یا برقعہ پہننے پر مجبور ہیں اور مسلمان مساجد اور دینی مراکز قائم کرنے کے حق سے محروم ہیں۔ مسلم مخالف جذبات اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو یورپ اور امریکہ میں قدامت پسندوں کی توہینی مہمات کا نشانا بنایا گیا اور قرآن پاک کو عوام میں جلا دیے جانے کی دھمکی دی گئی۔

جب سے عرب بہاریہ کے دوران دہشت گردی کی نئی لہر پیدا ہوئی ہے جس نے مشرق وسطی کو متاثر کر کے رکھ دیا ہے، اس خطے کی نہ صرف  سیکولر عوام بلکہ مذہبی حلقوں میں بھی ایک نئے رجحان کا آغا ہوا ہے۔ معمول سے زیادہ بڑی داڑھی والے شخص کو ایک داڑھی والا شخص بھی برداشت نہیں کر سکتا ہے؛ اس کی ایک اچھی مثال 21 جنوری کو بیروت کے جنوبی مضافات میں عینی شاہدین کے مطابق "مشکوک" داڑھی رکھنے کے جرم میں ایک شخص کی گرفتاری ہے اور پھربعد میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ مشتبہ خودکش بمبار ایک "ریپر" اور ایک شہری کارکن تھا۔

صرف یہی ایک کہانی نہیں ہے، یہ ہر اس ملک میں ہو رہا ہے جہاں دہشت گردانہ حملوں کا خطرہ موجود ہے، لوگوں کا خوف لوگوں کو خود کو اپنی حفاظت کے لیے متحرک ہونے پر آمادہ کر رہا ہے۔ اور بات اسی پر تمام نہیں ہوتی ، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلامائزیشن مخالف ایک لہر شروع ہو چکی ہے  اور اس نے پہلے ہی سے مصر جیسے ملک میں اسلام پسندوں کا تختہ الٹنے اور تیونس اور لیبیا میں ان کے اثر کو کم سے کم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

لیکن لہر پورے مشرق وسطی پر اپنے پنکھ پھیلا رہی ہے اور میڈیا ان چیزوں کی نشاندہی کرنے میں ایک بڑا کردار ادا کر رہا ہے جسے وہ علاقے میں سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔ شام، عراق، لیبیا، تیونس، لبنان میں لڑنے والے انتہا پسند گروہوں کے عادات و اطوار کو شہ سرخی کی اسٹوری بنا کر پیش کیاجا رہا ہے۔ متنازعہ جنسی جہاد (جہاد النکاح) کا معاملہ جب پہلی مرتبہ منظر عام پر آیا  تو یہ پورے ملک کے لیے موضوع بحث بن گیا اور جن لوگوں نے اس کہانی پر یقین کیا انہوں نے اسلام پسندوں سے مذہب کے تئیں ان کے اخلاص کے علاوہ اخلاقی اور معنوی ذمہ داری کا سوال کیا۔ انتہا پسندوں کی مخالفت کرنے والے مذہبی مسلمانوں نے ان کا مذاق اڑانا  اور سوشل میڈیا پر اور عام زندگی میں اپنی واضح  گفتگو میں یہ بیان دینا شروع کر دیا  کہ جو اسلامی تعلیم انہیں دی گئی ہے وہ اسلام نہیں ہے۔ جنت، حوریں اور آخرت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت، یہ تمام باتیں اسلامی ثقافت کا حصہ ہیں اور قرآن و حدیث میں مذکور ہیں، جبکہ ان باتوں کو ان لوگوں نے بھی استہزاء کا موضوع بنایا ہے  جو خود کو مذہبی یا مذہبی معاشروں کے قریب سمجھتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی سے متاثر کئی ممالک مغربی اسلام فوبیا کی نقل کر رہے ہیں  اور اس میں اس کے اکثر اقدار کو شامل کر رہے ہیں، اپنے معاشروں کے بارے میں اپنی  گہری سمجھ بوجھ کے پیش نظر وہ اسلام مخالف سرگرمیوں کے  تئیں اپنی ہمدردی کم کر رہے ہیں ، اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اسلام مخالف سرگرمیاں ناقابل معافی  ہیں۔ شام، عراق، لیبیا، یا مصر میں کسی مسجد کے انہدم کے بارے میں وہ مسلمان سینکڑوں بہانے پیش کر سکتے ہیں جو  اس طرح کے واقعات کی کہانی تاریخ یا قرآن سے پیش کر دیں گے، جبکہ ایسا ایک بھی واقعہ برسوں  پہلے ہی مظاہروں کے ایک تسلسل کا آغاز ہونا چاہیے تھا اور اسے پورے  خطے میں ایک  قابل مذمت عمل قرار دیا جانا چاہیے۔

30 اگست کو لبنانی وزیر انصاف اشرف رفیع  نے ریاستی پراسیکیوٹر کو  بیرو ت میں آئی ایس آئی ایس کے پرچم کو نذر آتش کرنے والے نامعلوم افراد کی تلاش کرنے کا حکم دیا ہے، رافعی کے بیان کے مطابق "چند لوگوں نے ساسین اسکوئر پر ISIS کے پرچم کو نذر آتش کر دیا ہے جس کے علامتی نشان میں 'لا الٰہ الا اللہ محمد الرسول اللہ' لکھا ہوا ہے جو کہ اسلام کی بنیاد ہے"۔ اس اقدام کے اسلامی مقننہ کے عین مطابق ہونے کے باوجود اس کی کھل کر مذمت کی گئی اور مذہبی کارکنوں نے اس بات کے حیلے اور بہانے پیش کیے کہ کیوں اس پرچم کو نذر آتش کیا جانا چاہیے اور اس کےبعد خود غضبناک مسلمانوں نے خود ساختہ اسلامی ریاست کے خلاف زبر دست احتجاج کیا۔ یہ ایک رد عمل ہو سکتا ہے لیکن یہاں بھی اس بات پر دھیان دینا اہم ہےکہ اسلام کی نمائندگی کرنے والوں کی ظالمانہ اور سفاکانہ سرگرمیوں کی وجہ سے کس طرح یکے با دیگرے  خطرے کے نشان سامنے آتے جا رہے ہیں۔

ماخذ: http://www.huffingtonpost.com/ali-hashem/islamophobia-as-a-muslim-_b_6086610.html

URL for English article: http://www.newageislam.com/muslims-and-islamophobia/ali-hashem/islamophobia-as-a-muslim-problem/d/99986

URL for this article: http://newageislam.com/urdu-section/ali-hashem/islamophobia-as-a-muslim-problem--اسلام-ہراسی--ایک-مسلم-مسئلہ/d/100570

 

Loading..

Loading..