New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 01:51 PM

Urdu Section ( 4 Apr 2013, NewAgeIslam.Com)

Educational awareness among Muslims need of the hour مسلمانوں میں تعلیمی بیداری کی ضرورت

 

حروف کو چھوٹا یا بڑا کرنے کیلئے او پر  A A A پر کلک کریں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اختر امام عادل قاسمی

3 مارچ، 2013

علم انبیا کی میراث ہے اور دولت قارون و ہامان کی میراث ، علم سے انسانیت ترقی کرتی ہے ۔ اور دولت سے حیوانیت  کو قوت ملتی ہے ، آج علم کو مال  سے جوڑ دیا گیا، علم کو زوال آگیا اور تعلیم  کو پیشہ کمانے کاذریعہ  بنایا گیا ، تعلیم نے دم  توڑ دیا، اگر تعلیم  کو پیسہ کے بجائے انسانیت سے جوڑا جاتا  تو  کبھی  اس کو زوال نہ آتا ، علم کو دولت کی لالچ سے نہیں بلکہ سچے جذبے سے حاصل کیا جاسکتا ہے، علم کی قوت کو حصول زر کا سفلی  جذبہ کبھی قید نہیں کر سکتا، جب علم کو پیسہ  کمانے کے لیے حاصل کیا جائے گا تو جیتے علم سے پیسہ کمانا شروع کر دے گا اس سے آگے اس کا علمی سفر جاری نہیں رہ سکے گا ، یا کسی  کو پیسہ کمانے کا دوسرا ذریعہ  میسر آجائے وہ بھی علم حاصل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرے گا۔ لوگ اس عظیم حقیقت  کو نہیں سمجھ  سکے کہ علم مال  کی طرح انسان کی بنیادی  ضرورت ہے جس طرح دنیا میں مختلف  کاموں کے لئے پیسہ  کی ضرورت ہے، علم  ایک  روشنی ہے جس کے بغیر  زندگی  کا صحت مند سفر ممکن نہیں، دولت  انسان کے جسم کو بناتی  ہے اور علم اس کی روح تیار کرتا ہے ۔ ایک انسان کس طرح زندگی  کا سفر خوشگوار  بنا سکتا ہے علم اس کو راستہ  بتا تا ہے علم کے فروغ کی راہ میں سب سے بڑی روکاوٹ یہی دنیا کی ہوس ہے، علم اورمال  کبھی ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے، مگر اس دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ علم کو مال کمانے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ اور جو علم انسا ن کی اعلیٰ ترقیات کا ضامن  تھا اس کو انتہایئی ادنی ٰ قدروں کے لئے محدود کردیا گیا۔

یہ تو خود علم کو زوال پذیر کرنے کی شعور ی یا غیر شعوری  کوشش ہے، جو ہمارے معتبر  اداروں کی سر پرستی  میں  کی جارہی ہے ۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس منصوبہ  بندی کے منفی  پہلو  ں سے سب سے زیادہ مسلمانوں  نےاثر قبول کیا، اگر وہ دوسری  برادریوں  کی طرح اس پروگرام سے مثبت  فوائد بھی حاصل  کرتے  اور تعلیم میں کمزور رہنے کے باوجود  دنیا کے دیگر معاملات  میں آگے  بڑھتے  تو کس حد تک قابل  قبول بات تھی، لیکن انہوں نے اس کے مثبت فوائد  کو یکطرفہ  طور پر نظر انداز  کر کے صرف  اس کے منفی  اثرات مقبول  کیے ، اور علم کے علاوہ  دنیا کے ہر راستے  پر جد وجہد  شروع کردی ، اور اس ذہنی پسماندگی  کے شکار ہوگئے کہ مال کی ضرورت علم سے زیادہ ہے۔ اس لئے کہ علم بجائے خود مقصود نہیں ہے بلکہ علم برائے مال مطلوب ہے، اس طرح ہماری  قوم نے علم سے ایسی دور ی اختیار کر لی کہ آج اس کے سامنے علم کے فروغ کی بات کرنا بھی دقیانوسیت ہے ۔حیرت اس لئے زیادہ  ہے کہ یہ وہ قوم ہ جس کو حامل قرآن بنایا گیا ۔ قرآن جیسا علم کا سب سے عظیم سر چشمہ اس کا عطا کیا گیا، قرآن کے معنی ہی پڑھنے کے ہیں، یعنی ایسی  کتاب جو اپنے نام ہی سے پڑھنے  کلی دعوت دیتی ہے معلم  انسانیت حضرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا پیغمبر جس کو ملا، جن کا لقب ہی تھا، قاسم العلوم (علم بانٹنے والا پیغمبر)اس  لئے کہ آپ ہی کی بدولت دنیا کو علم و شعور کی دولت ملی اور دنیا کو جہالت و افلاس کی اندھیرے سے نجات  ملی۔

 قرآن  کریم میں 785 دفعہ علم کا ذکر آیا ہے۔ اور مختلف  لب وہ لہجے میں 19 جگہ قرآت یعنی پڑھنے کا تذکرہ آیا ہے، 24 مواقع پر جہل کی  مذمت کی گئی ہے۔ 4 جگہ  کا ذکر آیا ہے۔ جو تعلیم کا سب سے  مضبوط وسیلہ ہے، قرآن مجید  میں قلم کی قسم کھائی گئی ہے ۔ اور ایک سورت کا نام ہی قلم  رکھا  گیا ہے۔ پیغمبر  اسلام پر پہلی مرتبہ جب وحی نازل ہوئی تو اس میں دو دفعہ  پڑھنے کا حکم دیا گیا۔ تین  دفعہ علم کا تذکرہ اور ایک بار اس جانب توجہ دلائی گئی  کہ قلم علم  کا ذریعہ  ہے۔ اس طرح  قرآن  اور صاحب قرآن کے ذریعہ دنیا میں  زیادہ صحیح   طور پر علم کا پرچار ہوا، شہر شہر  نگر نگر اس کا چرچا  عام ہوا اور ساری دنیا میں علم کے لئے ایک ماحول تیار ہوا۔ ورنہ  حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب اس دنیا میں تشریف لائے تو پورے  مکہ میں صرف تیرہ (13)اور مدینہ میں  صرف گیارہ(11) لوگو ں کو لکھنا آتا تھا، آپ کے برکت سے لکھنے پڑھنے کا وہ ماحول بنا کہ آپ ک ےعہد مبارک ہی میں صرف تبین وحی کی تعداد 43 تک پہنچ گئی۔ جو وقتاً فوقتاً آپ پر نازل ہونے والی آیات قرانیہ کو لکھتے رہتے تھے ۔ آپ نے خواندگی کو عام کرنے کے لئے مذہب کی بھی قید نہیں رکھی  ، جب کہ آپ ہی مذہب کے پیغمبر تھے ، غزو بدر کے قیدیوں میں جن لوگوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں اسی کو آپ خواندگی  ، مہم یا تعلیمی بیداری مہم جو چاہے نام دے سکتے ہیں ۔

 اسلامی  تاریخ کے مطالعہ  سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے زیادہ علم کی خدمت دنیا میں مسلمانوں نے کی ، مسلمانوں  نے نئے نئے علوم و فنون سے دنیا کو آشنا کیا، ریاضی  اور الجبرا جس کے بارے میں  چودھویں صدی عیسوی تک یورپ کو کوئی واقفیت نہیں تھی ، نویں صدی  میں عرب دنیا میں محمد بن موسیٰ خوار زمی ( 750۔850) ا س پر بڑے کام کررہے تھے، وہ ایک غریب خاندان کے فرد تھے، لیکن علم کے شوق نے ان کو  ایک بڑا آدمی بنا دیا ۔ بغداد میں الما مون اور العتصم کے زمانے میں انہوں نے ریاضی پر کام کیا، الجبراور المقابلہ ’’ نام کتاب لکھی  جس کا بارہویں  صدی میں  لیٹن ریاضی  سے بھی واقف تھے چودھویں  صد ی کے بعد پورپ کو جب علم کا شوق ہوا اور اسے ان کی کتابوں  کی واقفیت  ہوئی تو ان کی کتابوں  کا ترجمہ  کیا گیا،  خوارزمی کے مرتب کئے ہوئے اصول  و قواعد آج  کے اسکولوں  میں ریاضی  کی تعلیم  کی بنیاد میں ، انگریز ی میں ان کی کتاب کا ترجمہ  1831 میں ہوا  ، اس طرح  مسلمانوں  نے دنیا میں علم کی شمع روشن کی او رتمام جغرافیائی حدود سے بالا تر ہوکر  انہوں نے کام کیا، بغداد اور اندلس علم کا مرکز بن گئے۔ سائنس  اور فلسفہ کی دنیا میں بڑے بڑے نام پیدا ہوئے علم تاریخ  اور جال پر مسلمانوں نے جو کام کیا اس کی  کوئی نظیر معلوم تاریخ اور فلسفہ  تاریخ  میں ابن خلدون آج بھی  ساری دنیا میں  امامت کا درجہ رکھتے  ترقی کرلینے کے باوجود ان کے بتائے ہوئے اصول سے ایک انچ بھی آگے نہ بڑھ سکی۔

خطاطی اور فنون لطیفہ  (Art) میں مسلمانوں  نے  جو کام کیا دنیا  اس پر انگشت بدنداں  ہے، سیاست اور امور اجتماعی  میں جو ایک مضبوط آئین اس امت  کے ذریعے دنیا کو ملاوہ  آج بھی دنیا کے لئے حرف آخر ہے۔ اسی روشن  تاریخ  رکھنے والی اور زندگی  کی ساری ضمانتوں سے بھر پور ایسی تعلیمی  پسماندگی کی شکار ہوگی کبھی سوچا بھی نہیں  جاسکتا تھا، جس کے پاس مدارس ، مکاتب اور مساجد کامضبوط نظام، جس کے یہاں ہر معاملے میں علم اور صلاح  کا معیار مانا گیا ہو، رنگ اور نسل اور زبان و بیان کی تمام حد بندیوں  کو توڑ دیا گیا ہو اور علم  اور ذاتی صلاحیت کی بدولت ہر شخص کوبلا تفریق  رنگ و نسل  بڑے بڑے منصب  تک پہونچنے کی پوری آزادی دی گئی ہو، جس نے دنیا میں  مساوات کے تحریک چلا ئی ہو ، جہاں خاندانی وراثت کے طلسم کو تار تار  کیا گیا ہو، وہی  قوم علم  سے اتنی دور اور خود ساختہ  بندشوں  کی ایسی شکار  ہوگی، یہ بھی خواب و خیال  میں بھی  نہیں تھا، یہ ہماری تاریخ  کا بدترین المیہ ہے ۔ آج  یورپ  میں مسلمانوں  کے علم و فن کے جو شاہکار محفوظ ہیں، جن میں بعض کو دیکھنے کی سعادت یا حسرت حقیر راقم الحروف کو بھی حاصل ہوئی ہے۔ ان کو دیکھنے سے ایک حساس انسان پر کیا گذرتی ہے وہ ڈاکٹر اقبال سے پوچھئے ، حکومت  و اقتدار  تو تاریخ کی الٹ پھیر  ہے وہ اگر مسلمانوں  سے چھین  گیا تو کوئی بات نہیں مگر وہ علم جو  مسلمانوں کی میراث تھی اس سے یہ محروم ہوگئے  یہ سب  سے زیادہ رونے کا مقام ہے بقول ڈاکٹر اقبال۔

حکومت کا تو کیا تورونا کہ وہ ایک عارضی شئی تھی

نہیں دنیا کے آئین  مسلم سے کوئی چارہ

مگر وہ علم کے موتی، کتابیں  اپنے آباء کی

جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ

1996 میں  اقوام متحدہ  کا جو Human Development Index شائع ہوا ہے اس میں 135 ترقی پذیر ممالک میں ہندوستان میں ہے، اس انڈکس میں مسلمانوں  کے لئے الگ  سےسروے رپورٹ نہیں دی گئی ہے مگر خود ہندوستان میں سچر کمیٹی یا اس قسم کی جو رپوٹیں ادھر وقتاً فوقتاً شائع ہوئی ہیں  ان سے اندازہ  ہوتا ہے کہ اس چالیس  فیصد  میں سب سے زیادہ مسلمان ہیں، یہ بہت  زیادہ سوچنے  اور پوری فکر مندی اور منصوبہ بندی کے ساتھ کوئی قدم اٹھانے کا مقام ہے۔ میرے خیال میں اس کے لئے موثر  ذریعہ  مساجد  ہیں۔ اور ان کے لئے شہر  سے لے کر گاؤں  گاؤں کی ہر مسجد  کو استعمال کیا جائے ، اور اسکو تعلیم  کے ساتھ  جوڑ دیا جائے ، ہر  مسجد کے لئے مر کز  تعلیم  بھی ہو، جس طرح پہلے بھی ہماری  تاریخ  میں مساجد کو یہی مقام حاصل رہا ہے، مقامی طور پر مکاتب  قائم کیے  جائے،  ہر تعلیم یافتہ  خاتون اپنی سطح پر اپنے خاندان کے بچوں کو مفت  تعلیم دینے کی مہم شروع کرے ، مدارس کے ذریعہ تعلیم  دینے کی مہم  شروع کرے ، مدارس کے ذریعہ  تعلیم  کا جو اہم ترین کام ہورہا ہے ۔ اس کو قوت و دسعت دی جائے ، اور اس کی افادیت و معنویت کو بڑھا یا جائے ، اور اس کی افادیت و معنویت  کو بڑھایا جائے ، اردو زبان کو ذریعہ  تعلیم اور ذریعہ اظہار بنایا جائے ،اور گھر گھر اردو مسائل و جرائد کم قیمت پر پہونچائی جائیں ۔ او ر تعلیم کو مذہب  کا حصہ بنا کر پیش کیا جائے ، کہ رسول نے ارشاد فرمایا ‘‘ علم حاصل کرنا ہر  مسلمان  مرد و عورت پر  فرض ہے۔ (مشکوۃ شریف) اسی طرح تعلیم او ر صلاحیت کو ہر ترقی کے لیے  معیار مانا جائے ، ذات  پات اور علاقہ  زبان کی سیاست سے بالا تر ہوکر محض صلاحیت کو ہر چیز کی کسوٹی قرار دیا جائے، انہی  طریقوں  سے ہم نے ماضی  میں بھی  دنیا  کو علم کی شمع جلائی ہے۔ اور آج بھی ہم انہی راستوں سے دنیا کو ایک نئے تعلیمی  انقلاب کی طرف لے جاسکتے ہیں ۔ انشاء اللہ

3 مارچ، 2013  بشکریہ : دور جدید ، نئی دہلی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/akhtar-imam-adil-qasmi--اختر-امام-عادل-قاسمی/educational-awareness-among-muslims-need-of-the-hour--مسلمانوں-میں-تعلیمی-بیداری-کی-ضرورت/d/11011

 

Loading..

Loading..