New Age Islam
Thu Sep 24 2020, 01:58 AM

Urdu Section ( 26 Aug 2014, NewAgeIslam.Com)

Saudi Grand Mufti’s Fatwa سعودی مفتی اعظم کا فتویٰ

 

اجمل خٹک کشر

26 اگست، 2014

نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کو اللہ رب العزت نے رحمت اللعالمین  قرار دیتے ہوئے تمام انسانوں کا امام بنایا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد وہ معاشرہ جو جہالت ، جبر اور وحشت کا شکار تھا اُسے علم، مساوات اور قرار نصیب ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے  قول و عمل سے یہ ثابت ہوا کہ بلاشبہ آپ سراپا رحمت اور راہ پر انسانیت ہیں ۔ تبلیغ ہویا جہاد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل انسانیت کےلئے فلاح کا سبب بنا،  قرآن عظیم نے یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی  میں ہی بہترین نمونہ عمل ہے، درحقیقت ایک عملی چار ٹر کو متعارف و متعین کردیا۔ جب تک اس چارٹر کے مطابق زندگی گزارنے کی سعی کی جاتی رہی، اُمت سُرخ رو اور قابل تقلید ٹھہری ، جوں جوں راہ ہدایت  کے برعکس دیگر راستوں کی جستجو سماتی گئی انحطاط  اُمت کے وجود سے نفاست کو مٹاتی چلی گئی ، بالا ٓخر نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ حضرت اقبال کو روحِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور بے بسی  کے آنسو نذرانے کرنا پڑے۔

شیرازہ ہوا ملّتِ مرحوم کا ابتر!

اب تو ہی بتا تیرا مسلمان کدھر جائے!

آج ہمارا جو حال ہے اس میں غیروں سے زیادہ اپنوں کا کمال ہے۔ غیر نے محض یہ سوچا کہ خالص میں ملاوٹ کس طرح کی جائے،اپنوں نے یہ کارنامہ غیروں کیلئے سرکر کے دکھادیا ۔  یہاں تک کہ جہاد کو بھی خالص رہنے نہیں دیا۔ وہ جہاد جس نے دنیائے عرب و عجم کو امن عطا  کیا تھا بہروپیوں  نے اُسے فساد بنا ڈالا؟  فلسطین اور اس حوالے سے فتویٰ  فروشوں  کے بعض ‘ کارناموں’  سے متعلق  راقم کے گزشتہ تین کالموں پر بعض قابلِ احترام  اصحاب نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ علمائے حق کو چاہئے کہ وہ بہروپیوں  کو بے نقاب کرنے کیلئے منصب و منبر کو بروئے کار لائیں، بلاشبہ وقت کا تقاضا یہی ہے ... تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کو اغیار نے سامنے آکر کبھی شکست نہ دی بلکہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے  ہی وہ اپنے مذموم مقاصد  میں کامیاب ہوئے۔ ہر ایک نے ملت جتنا کو ممکن تھا نقصان پہنچایا۔اس حوالے سے سعودی مفتی اعظم کا حالیہ فتویٰ جہاں ہماری  آنکھیں  کھولنے کیلئے کافی ہے، وہاں اس سے ان مجاہدین کی  بھی رہنمائی  ہوسکے گی جو اپنے جذب میں اگرچہ صادق ہیں لیکن باطل  کے آلہ بنتے  نظر آرہے ہیں۔

سعودی عرب پوری اُمت  مسلمہ کا مرکز و محور  ہے لیکن خاص کر جو تنظیمیں قرآن و حدیث کاہی ذکر کرتی ہیں ان کے لئے  اس فتویٰ میں لاثانی درس پنہا ں ہے۔ 20 اگست کو اخباروں  میں شائع ہونے والے ایک بیان کے مطابق ‘‘ سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز نے القاعدہ اور دولت  اسلامیہ نامی تنظیموں  کو اسلام کا سب سے بڑا دشمن  قرار دیا ہے، سعودی  شیخ الا سلام کاکہنا ہے کہ : شدت پسندانہ افکار و خیالات اور دہشت گردی کی اسلام کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔’’ دہشت گردی کا پہلا شکار مسلمان ہی بنتے ہیں جس کی مثالیں ان سے منسلک گروپوں کے ہاتھوں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے  مظالم سے دیکھی  جاسکتی ہیں یہ جنگجو اسلامی تعلیمات کے صریح خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں۔سعودی مفتی اعظم کاکہنا تھا کہ موجودہ حالات میں  اسلامی ممالک کو شدت پسند کمزور کررہے ہیں اور انہوں نے مسلمانوں کو تقسیم کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کفر کے بعد مسلمانوں  میں تفریق پیدا کرنا سب سے بڑا گناہ ہے، داعش اور القاعدہ جیسے خوارج گروپوں کا اسلام سے  کوئی واسطہ نہیں ہے۔ ان کامزید کہنا تھا کہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا کہ آخری زمانے میں کچھ ایسے گروہ  تواتر کےساتھ  سامنے آئیں گے جو نیکی  کی بات کریں ، قرآن پڑھیں گے مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، آپ  انہیں جہاں پائیں قتل کریں، جس کسی نے بھی انہیں قتل کیا قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اسے اس کی جزا دینگے۔ ‘‘ سعودی مفتی اعظم کی علمی بصارت و بصیرت سے بھلا کون انکار کرسکتا ہے ۔

 شدت پسندوں نے مذہب کے مقدس نام پر مسلمانوں کو تقسیم کردیا ہے۔اس تناظر میں پاکستان بھی متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ اب چونکہ پوری دنیا میں ان نام نہاد جہادی تنظیموں کے اصل عزائم  کھل کر سامنے آگئے ہیں تو عوام و ریاستیں بھی ان کے خلاف عملی اقدامات اٹھا رہی ہیں ، اس حوالے سے پاکستان میں بھی مثبت رجحانات دیکھنے میں آرہے ہیں، ریاست جہاں عوام  کی جان و مال کی حفاظت کے لئے تندہی سے روبہ عمل  ہے تو عوام میں بھی شعور و آگہی  کی شمعیں فروزاں ہونے کو ہیں ۔ حالیہ دنوں میں ایک ایسا  ایس ایم ایس تواتر سے گردش میں ہے جو پاکستانی عوام  کے ادراک و شعور ی جستجو کا آئینہ دار ہے، ایس ایم ایس میں کہا گیا  ہے کہ عراق میں داعش، شام میں النصرف ،افغانستان میں افغان طالبان، صومالیہ میں الشباب، نائیجریا میں بوکو حرام اور متعدد اسلامی ممالک میں القاعدہ  جیسی خود ساختہ جہادی تنظیمیں مسلمانوں کو ہی قتل کررہی ہیں جب کہ ان میں سے  کوئی بھی تنظیم نہ تو فلسطین جاکر لڑنا چاہتی ہے او رنہ ہی ان میں سے کسی  نے اسرائیل کے خلاف اعلان جہاد کر رکھا ہے ، ایسا  کیوں ہے!؟اس سوال کا جواب اگر چہ سیدھا سادہ ہے لیکن یہ اپنےپہلو میں جو وسعت  پذیری لئے ہوئے ہے  اس کی گہرائی و گیرائی پر توجہ کی ضرورت ہے اور اسی سے نفسِ مضمون کی تفہیم  تک رسائی ممکن ہے۔

 مثلاً اس کا آسان جواب یہ ہوسکتا ہے کہ امریکہ،  یہود و ہنود نے مسلمان ممالک  کو کمزور کرنے،  وسائل لوٹنے اور اسلام کو نقصان پہنچانے  کےلئے ایسی تنظیموں کا اہتمام کررکھا ہے!!  لیکن اس جواب میں پنہاں ایک کیوں !! یعنی پھر یہ تنظیمیں مسلمانوں میں ‘‘کیوں’’  اتنی مقبول بلکہ اس حد تک بااختیار ہوجاتی ہیں کہ وہ چاہتی ہیں کر گزرتی ہیں !! اس ‘‘کیوں’’ کا جواب ہی چونکہ دراصل ‘‘روپ ، بہروپ’’ سے متعلق ہے لہٰذا اسے سمجھنے کے لئے غور و فکر مطلوب ہے ۔ باالفاظ دیگر ایسا نا ممکن ہے کہ ریاست کے اندر سے کمک ملے بغیر کوئی خارجی کسی ریاست میں اپنے عزائم کی فتح  کا پرچم بلند کر سکے!! ایسا کھلی جنگ میں طاقت کے بل بوتے پر ہوتا رہا ہے لیکن ‘‘ پر ایسی وار میں گھر کے بھیدی کے تعاون کے بغیر در تو کیا کسی دریچے کا بھی وا ہونا محال ہے!! پشتو میں کہاوت  ہے کہ ‘‘ پیاری امی سچ کہوں گا تو پھر مار ہی پڑے گی ۔ سچ آسان اور سیدھا سادہ ہوتا ہے   ، لیکن پیارے وطن میں سچ کون  بولے گا!!؟ یہ جو سعودی مفتی اعظم  نے القاعدہ کو اسلام کا سب سے بڑا دشمن قرار دیا ہے تو اسلام کے اس دشمن کو پاکستان  میں کون لایا!!؟ وہ کون تھے جنہوں نے 2002 کے انتخابات میں اسامہ بن لادن کی قد آور تصاویر اٹھاکر پختو نخوا حکومت پر قبضہ  جمایا اور پھر جنرل پرویز مشرف کو 17 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ملک کا بلا شرکت غیرے وارث بنوایا!!! ؟ خیر ہم یہاں یوں گنجائش نکال سکتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ بعد ازاں اسامہ  صاحب  کے حامیوں نے رجوع کرلیا تھا  کیونکہ بن لادن کی موت پر کسی کا ایک آنسو بھی نہ ٹپکا تھا!! خیر ہم تو  طالب علم ہیں اور طالب علم بھی ایسے کج فہم کہ اب تک ‘کیوں’ کا جواب تلاش نہیں کر پائے ہیں ۔ جو طالب علم کچھ نہیں جانتے وہ جواب ادھورا چھوڑ جاتے ہیں، ہم بھی ایسا کررہے ہیں۔

26 اگست، 2014  بشکریہ : روز نامہ سیاسی تقدیر، نئی دہلی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/ajmal-khatak-kasar/saudi-grand-mufti’s-fatwa--سعودی-مفتی-اعظم-کا-فتویٰ/d/98750

 

Loading..

Loading..