New Age Islam
Wed Apr 14 2021, 06:16 PM

Urdu Section ( 28 Aug 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Suicide Bombers of Taliban طالبان کے خودکش بمبار

 

 

 ایمن ریاض، نیو ایج اسلام

5 اگست، 2014

امریکہ جیسے جیسے افغانستان میں اپنی تاریخ کی سب سے طویل جنگ کے خاتمے کا آغاز کر رہا ہے ہم وہاں کچھ انتہائی پریشان کن رجحانات کو بڑھتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ طالبان نے حال ہی میں دہشت گردی کی اپنی حکمت عملی اس طور پر اصلاح کا کام کیا ہے جو بعید از قیاس ہے۔

وائس ایجنسی کے شین سمتھ کے مطابق اب تک کا سب سے زیادہ کامیاب خودکش حملہ 9/11 کا حملہ ہے۔ دراصل یہ حملہ اس قدر طاقتور تھا کہ عراق اور افغانستان امریکی حملے کی وجہ بن گیا۔ 11 سال پہلے امریکی فوج نے افغانستان پر حملہ کیا جس کا واحد مقصد طالبان اور القاعدہ مار بھگانا تھا۔ اب امریکی حکومت طالبان کے ساتھ یہ دیکھنے کے لیے مذاکرات کر رہی ہے کہ اگر امریکی حکومت اپنی فوج کو وہاں سے ہٹاتی ہےتو انہیں کتنی قوت حاصل ہوگی۔

یہ طالبان کی دہشت گردی کی کامیاب تکنیک، خودکش حملوں اور خودکش بم دھماکوں کے استعمال کا ایک براہ راست نتیجہ ہے۔ اب طالبان نے مزید قوت اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کی اپنی کوشش میں دہشت گردی کی اپنی حکمت عملی کو ایک نئی سطح تک لے جانے کے لیے ایک نئی حکمت عملی تیار کی ہے۔ انہوں نے دریافت کر لیا ہے نقل و حمل کے لیے ایک نئے آلے کا استعمال "قبضے" کے خلاف بہت زیادہ مؤثر ہو گا۔ اب وہ بچوں کو استعمال کر رہے ہیں۔

گرفتار ہونے والوں میں سے ایک نے کہا کہ: "امام معروف نے ہمیں لوگر صوبہ میں جاکر خود کشی کرنے کے لیے کہا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے جسم پر بم رکھ کر بٹن دبا دو وہ مر جائں گے اور تم زندہ رہ  جاؤگے۔ "

کابل کو زبردست ٹریفک کی پریشانی در پیش ہے۔ اس کی بنیادی وجہ افغان پولس کی نگرانی میں 25 سیکورٹی چیک پوائنٹس کا ایک تسلسل"رنگ آف اسٹیل Ring of steel" اور شہر کے مرکز میں داخل ہونے کی تمام گاڑیوں کی نگرانی کرنے کی کوشش ہے۔ وہ ہر گاڑی، ٹرک اور ذاتی گاڑیوں کی مختلف، مکمل اور باریک بینی کے ساتھ جانچ کرتے ہیں اس لیے کہ حال ہی میں وہاں مختلف خودکش حملے ہوئے ہیں۔ بچے سیکورٹی چیک پوائنٹس سے بہت آسانی کے ساتھ گزر سکتے ہیں وہ پر ہجوم شہر سے کسی کی نظر میں آئے بغیر نسبتا آسانی کے ساتھ گزر سکتے ہیں۔

نیشنل ڈائریکٹریٹ آف سیکورٹی کے ترجمان لطف اللہ مشعل کا کہنا ہے کہ "سینکڑوں کی تعداد میں" سالانہ خودکش حملے ہوتے ہیں اور جو لوگ یہ حملے انجام دیتے ہیں ان میں سے 80 فیصد نوجوانوں ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ "خودکش حملوں کے لیے نوجوانوں کو اس لیے منتخب کیا جاتا ہے کیوں کہ جاہل اور پسماندہ لوگ مذہبی علم سے نابلد ہوتے ہیں۔ انہوں نے کبھی بھی قرآن مجید کا مطالعہ نہیں کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں کسی بھی سانچے میں ڈھالا جا سکتا ہے۔"

ایک طالب علم جس نے قرآن مجید کا مطالعہ کیا ہو وہ خود کو قتل کرنے کے لئے کبھی تیار نہیں ہو گا۔ وہ سامنے آکر لڑے گا اور ہو سکتا ہے کہ وہ لڑائی میں مارا جائے لیکن اپنے جسم پر کبھی بھی دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک جیکٹ نہیں باندھے گا۔ چونکہ وہ بچے ہیں اور انہیں اس بارے میں کافی علم نہیں ہے لہٰذا وہ جھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ کوٹ میں ملبوس ہوتے ہیں اور انہیں یہ نہیں بتایا جاتا کہ وہ دھماکہ خیز مواد سے بھرا ہوا ہے۔ ائمہ انہیں بتاتے ہیں کہ یہ "خفیہ دستاویزات" ہیں اور ان سے کسی ایک خاص ہوٹل کے سامنے جا کر بیٹھنے کے لئے کہا جاتا ہے۔ وہ وہاں بیٹھ کر انتظار کرتے ہیں اور اچانک جب کوئی امریکی یا آئی ایس اے ایف یا نیٹو کا کوئی قافلہ ان کے قریب سے گزرتا ہے تو طالبان اپنے ہاتھ میں موجود ریموٹ کا صرف بٹن دباتے ہیں اور وہ نادان بچہ بہت سے دوسرے لوگوں سمیت ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر جاتا ہے۔

ان کی ایک اور حکمت عملی (جھوٹ) یہ ہے کہ: وہ اس لڑے کو یہ بتاتے ہیں کہ "تمہارے پاس دھماکہ خیز مواد ہے لیکن یہ صرف دشمنوں کے لئے ہے اللہ اس سے تمہاری حفاظت فرمائے گا"۔ بم 'باہر' پھٹے گا 'اندر' نہیں، لہٰذا تم "محفوظ" رہو گے۔ حال ہی میں صوبہ پکتکا میں ایک ایسا ہی معاملہ سامنے آیا جس میں خود کش حملہ انجام دینے والا بچہ صرف چھ سال کا تھا۔

افغانستان کے ایک ناکام خودکش بمبار کنجر کو دراصل پاکستان میں تربیت دی گئی تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ "جب میں پاکستان کے مدرسہ میں تعلیم حاصل کر رہا تھا تو ہمارے اساتذہ نے جنت میں جانے کے لئے ہمیں خود کشی کرنے کی تعلیم دی۔ انہوں نے ہمیں خود کشی کرنے والوں کے ویڈیو بھی دکھائے"۔ جب اس سے کہا گیا کہ قرآن مجید میں خود کشی کرنے سے منع کیا گیا ہے اور بے گناہ لوگوں کے قتل کو حرام قرار دیا گیا ہے تو اس نے کہا کہ "ہم نے قرآن کو اتنا سمجھ کر نہیں پڑھا ہے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم جنت میں جاؤگے اور خود کشی کی اجازت ہے۔"

ایک اور ناکام خودکش بمبار عبدل نے کہا کہ "ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ کافر قرآن کو چاک کر کے آلودگی میں پھینک دیتے ہیں۔ میں اپنے نبی کے نام کی توہین کو دیکھ کر آگ بگولہ ہو گیا تھا۔ پھر ہمیں افغانستان جانے اور کافروں کے خلاف خود کشی کرنے کی تعلیم دی گئی اور یہ بتایا گیا کہ ایسا کرنے سے ہم جنت میں چلے جائیں گے۔ امام نے ہی ہمیں یہ بتایا کہ قرآن میں کیا ہے۔ ہم قرآن کے معانی سے ناواقف ہیں۔"

ہر روز منعقد ہونے والی سینکڑوں مدارس کی ہزاروں درسگاہوں میں یہی تعلیم دی جاتی ہے کہ جس طرح سے بھی ہو سکے کافروں کا قتل کرو اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔

حوالہ جات:

1.    https://www.youtube.com/playlist?list=PLw613M86o5o5BNP8ls1TNDLLHVEi1Mopg

2.    http://en.wikipedia.org/wiki/Madrassas_in_Pakistan#Conservative_fundamentalism

3.    http://www.theguardian.com/world/2010/dec/05/wikileaks-cables-saudi-terrorist-funding

4.    The History of Terrorism from Antiquity to Al Qaeda, Edited by Gerard Chaliand

5.    inside Terrorism, Bruce Hoffman

6.    Complexity in World Politics, Edited by Neil E Harrison

 

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-ideology/aiman-reyaz,-new-age-islam/suicide-bombers-of-taliban--the-role-of-quran-illiteracy/d/98431

URL for this article:

http://newageislam.com/urdu-section/aiman-reyaz,-new-age-islam/suicide-bombers-of-taliban--طالبان-کے-خودکش-بمبار/d/98787

 

Loading..

Loading..