New Age Islam
Wed Sep 30 2020, 09:33 PM

Urdu Section ( 1 Jan 2014, NewAgeIslam.Com)

Resurgence of Islam Today عصر حاضر میں اسلام کا احیاءنو

  

ایمن ریاض ، نیو ایج اسلام

23 دسمبر 2013

حالیہ دہائیوں میں پوری دنیائے اسلام نے بڑے پیمانے پر نجی اور عوامی دونوں زندگی میں تجدید و احیاء کا مشاہدہ کیا ہے ۔ ہم اس بات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ نجی زندگی میں مزید خارجی مذہبی علامت اور شناخت کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔ مثال کے طور پر ایسے مسلمانوں کی تعداد میں جنہوں نے داڑھی کی حمایت شروع کر دی ہے اور ایسی عورتوں کی تعداد میں جو برقع کی حمایت کرتی ہیں بڑی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ۔ عوامی زندگی میں ایران، سوڈان اور افغانستان میں نئی اسلامی حکومتیں اور جمہوریتیں قائم کی جا چکی ہیں۔ اور سیاسی منظر ناموں پر مسلم بینر بکثرت نظر آ رہے ہیں ۔

جان او وال (John O Voll) کے مطابق ‘‘اسلام کی تجدید اور احیاء نو’’ کے مختلف محرکات ہیں ۔20 ویں صدی کے دوران تقریبا تمام اسلامی ممالک تباہ برباد ہو چکے تھے اور اس کی جگہ جدید حکومتوں اور ریاستوں نے لے لی تھی۔ وال کا کہنا ہے کہ دونوں جنگ عظیم کے دوران تقریباً تمام نئی ریاستوں نے یوروپین نوآبادیاتی حکمرانوں سے آزادی حاصل کر لی تھی۔ حالات ایسے تھے کہ ان معاشروں پر یوروپین تہذیب و ثقافت کا غلبہ تھا ۔ اور نام نہاد ‘‘اسلامی’’ سوسائٹی پر ‘‘مغربی’’ سوسائٹی کا مکمل غلبہ تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی قومی، سماجی، ثقافتی اور یہاں تک کہ مذہبی شناخت بھی پردہ خفاء میں ہی رہی ۔

ونسنٹ جے کورنل نے ‘The Fruit of the Tree’ میں یہ کہا ہے کہ ‘‘ایک مرتبہ جب مسلم ممالک میں جدید قومی ریاستیں وجود میں آ گئیں’’ تو ان سے اس بات کی امید کی جاتی ہے کہ وہ تعمیر و ترقی کے ‘‘جدید’’ یعنی مغربی سیکولر طریقہ کار کا انتخاب کریں گے۔

ان نئی قومی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے اکثر مسلمانوں نے پارلیمنٹ، سیاسی پارٹی کا نظام، انشورنس کمپنی اور بینک وغیرہ جیسے ‘‘جدید’’ یا مغربی طرز کے اداروں کا انتخاب کیا۔ اس لئے کہ مصر، شام، ایران، انڈونیشیا جیسے ان میں سے بہت سارے ممالک نے ایسی مسلم ریاستوں کا قیام کیا جن میں آبادی تو مسلمانوں کی تھی لیکن انہوں نے مغربی اداروں کو اپنا لیا۔

20ویں صدی میں یہ بات بھی منظر عام پر آئی کہ ترکی، تونس، مصر اور ایران جیسے ممالک جو کہ زیادہ ‘‘جدید’’ یعنی مغربی یا سیکولر تھے وہ سعودی عرب افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ ترقی یافتہ تھے اس لئے کہ مؤخر الذکر ممالک کو مذہبی اور روایتی سمجھا جاتا ہے لہٰذا وہ ‘‘پسماندہ’’ تھے ۔

لیکن 1960 کے اخیر اور 1970 میں ایک نیا منظر نامہ سامنے آیا اور وہ یہ تھا : ‘‘جدت پسندی ’’ ایسے اثرات مرتب کرنے میں ناکام ہو چکی ہے جس کی توقع کی جا رہی تھی اور جو دیر پا ہو ۔ اس دوران جنگ اور فسادات کے ایک تسلسل کی وجہ  سے امت مسلمہ کے درمیان خود احتسابی کا جذبہ پیدا ہوا۔ انہیں یہ محسوس ہوا کہ جدت پسندی حل نہیں ہے بلکہ یہ صرف ایک چمک دھمک ہے اور اس چکا چوندھ کے پیچھے اس کی حقیقت انتہائی بدصورت اور بے رحم ہے ۔

عرب اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان چھ دنوں کی جنگ کے بعد مسلم دنیا کو ایک بہت بڑا جھٹکا لگا ۔1967 کی جنگ میں یروشلم کی شکست نے مسلمانوں کو ایک گہرا محاسبہ کرنے پر مجبور کر دیا۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کی بری حالت نے جدت پسندی اور تعمیر و ترقی کے اس کے طریقوں سے متعلق شکوک و شبہات کو جنم دیا ۔ کیونکہ اس کی وجہ سے غربت و افلاس، اقتصادی ناکامی، بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح اور لوگوں کے درمیان مال و دولت میں عدم مساوات جیسے مسائل پیدا ہو گئے، مختصر یہ کہ ہر قسم کی اقتصادی پریشانیوں نے مسلمانوں کو جھنجھوڑکر رکھ دیا ۔

ایرانی انقلاب سے بڑے پیمانے  پر تبدیلیوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا جو کہ عام طور پر مسلم ممالک اور  مسلم عوام میں پیدا ہونا چاہیے تھا ۔

انسان ہمیشہ ایک ایسےپلیٹ فارم اور ایک ایسے مرکز کی تلاش میں سرگرداں رہا ہے جو کہ انہیں ایک ایسی بنیاد فراہم کرے جس پر وہ انحصار کر سکیں ۔ جب جدت پسندی سے ان کا بھروسہ ختم ہو گیا تو ان کے اندر ایک نقطہ ارتکاز کی تلاش شروع ہو گئی اور وہ  نقطہ ارتکاز تھا اسلام کی تجدید اور اس کا احیاء۔  اسے خودی کی تلاش اور تمام اسلامی شناخت کی برتری پر گہری عقیدت کی تلاش و جستجو کی ایک علامت سمجھا گیا ۔ ہر اسلامی چیز کو مغربی اور سیکولر ممالک  سے تعلق رکھنے والے سے بہتر سمجھا گیا ۔ 1973 میں تیل پر پابندی، افغانستان پر سوویت کے قبضہ کے خلاف جنگ میں افغان مجاہدین کی فتح  اور 79- 1978 میں انقلاب ایران کے عالمی اثرات کی وجہ سے فخر اور قوت کا ایک نیا شعور بیدار ہوا ۔ ان تمام امور کو ‘‘ اسلام کی تجدید و احیاء اور ان لوگوں کو اللہ کی مدد سمجھا گیا جنہوں نے اسلام کے نام پر بھاری مشکلات کے خلاف جد و جہد کی تھی’’۔

لیکن پھر اکیسویں صدی میں ان کا یہ نقطۂ ارتکاز ختم ہو گیا؛ ‘‘اسلام کی تجدید و احیاء’’ کی بنیاد متزلزل ہو گیا اور بہت سارے  مسلمانوں نے ایک نئے نقطۂ ارتکاز کی تلاش شروع کر دیا ہے اور وہ ایک ‘جدید اور قابل انطباق تشریح’ ہے اور یہی مسلمانوں کے مسائل کا حل ہوگا۔

(انگریزی سے ترجمہ : مصباح الہدیٰ ، نیو ایج اسلام)

حوالہ جات:

1.      جان ایل ایسپوسیٹو، “?Contemporary Islam: Reformation or Revolution دی آکسفورڈ ہسٹری آف اسلام۔

2.      جان او وال Islam: Continuity and Change in the Muslim World، ابواب 6-7 ۔

3.      ونسنٹ جے کورنل “The Fruit of the Tree دی آکسفورڈ ہسٹری آف اسلام، باب 2 ۔

4.      جان الڈین ولیمز The Word of Islam(Austin, TX: University of Texas Press, 1994)

(نوٹ  اس مضمون کا محرک  Great World Religions: Islam بھی ہے )

URL for English article:

https://www.newageislam.com/the-war-within-islam/aiman-reyaz,-new-age-islam/resurgence-of-islam-today/d/34957

URL for this article:  

https://www.newageislam.com/urdu-section/aiman-reyaz,-new-age-islam/resurgence-of-islam-today-عصر-حاضر-میں-اسلام-کا-احیاءنو/d/35098

 

Loading..

Loading..