New Age Islam
Sun Sep 19 2021, 08:03 AM

Urdu Section ( 7 Dec 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Tribulation Of Takfiriyyah, Religions, Sects Of Islam And We: Part-2 فتنۂ تکفیریت ، مذاہب و مسالک اسلام اور ہم

احمد جاوید

6 دسمبر 2020

 علامہ کلب صادق نقوی کے جنازے میں سنیوں کی شرکت اور ان کے لیے دعائے مغفرت پر دیوبند کے ایک عالم کے نارواو نامطلوب ردعمل کے تعلق سے میں نے لوگوں کے کفرواسلام کا فیصلہ کرنے والوں سے ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی کی کتاب ’ مسئلہ تکفیرو متکلمین‘ پڑھنے کی گزارش کیا کی کہ ہفتہ بھر سے مجھ پرمتعلقہ موضوعات پرقسم قسم کی کتابوں اور فتووں کی یلغار ہے۔کوئی ابوسعد احسان اللہ شہباز کی ’ تکفیر: اسباب، علامات اور حکم ‘بھیج رہا ہے،کوئی علامہ یوسف القرضاوی کا رسالہ ’ ظاہرۃ الغلو فی التکفیر(تکفیر میں غلو کا ظاہرہ) میل کررہا ہے، کسی نے شیعہ مصنفوں کی مذہبی کتب کے صفحات کے صفحات بھیجنے کا ایسا سلسلہ شروع کیا ہے جو ٹوٹنے کا نام نہیں لیتا، کسی پربنوہاشم ، بنوامیہ اور بنو عباس کی تاریخ اور اس کی باریکیوں سے راقم کو آگاہ کرنے کا دورہ پڑا ہوا ہے اور کسی نے دیوبند اور بریلی کے دارالافتا کے فتاویٰ کی کاپیاں کتابوں سے نکال نکال کر بھیجنے میں جان کھپارکھی ہے۔ایک قاسمی مولوی نے فتاویٰ رضویہ جلد ۹سے امام احمد رضا خاں قادری بریلوی کا ایک فتوی بھیجا ہے جس پر جناب نے’ شیعوں کی جنازہ فتاویٰ رضویہ کے مطابق ‘ کا عنوان لگایا ہے۔شکرہے کہ اس سے بہت زیادہ بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جنھوں میری گزارشات پر پسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور ان میں شیعہ سنی ، دیوبندی بریلوی ، صوفی سلفی ہر مسلک و مشرب کے نوجوان اور نوجوان علما بھی شامل ہیں۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیانے لوگوں کو ایسی رسائی مہیا کرادی ہے کہ جس کو دیکھیے وہی اپنے لاؤ لشکر اور توپ و تفنگ کے ساتھ آپ کی خلوت میں گھسا چلا آتا ہے۔ میں اپنی کاہلی اوراس پر مصروفیات منصبی کے باعث اس دنیاکا نسبتاً بہت ہی کم فعال شخص ہوں اور اس پر شرمندہ بھی تھا لیکن احساس ہواکہ میرے بھی سماجی روابط بہت وسیع ہوتے اورجتنے ہیں وہاں بھی خاطرخواہ فعال و متحرک ہوتا تو بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح کئی حساس و نازک امور میں پہلے کنفیوز، پھر گمراہ یا بےراہ ہوگیا ہوتا۔ اللہ تیرا شکر ہے کہ ان دوستوں سے تونے اس حقیر کو بچالیا جن کی مہربانیوں نے اچھے خاصے مسلمانوں کو دین سے اسی طرح برگشتہ اور دور کردیا ہے جس طرح اکبر کی عبادت گاہ کے علمائےدین کی مہربانیوںنے اس دیندار بادشاہ کو بےدین کردیاتھا۔

ایک ہوتا ہے علم اور ایک ادراک۔ادراکات منظم ہوجائیں تو علم بنتا ہے۔عین ممکن ہے کہ آپ کی معلومات بہت ہوں ، آپ نے روٹیاں کم کھائیں اور کتابیں زیادہ پڑھی ہوں لیکن اس کے باوجود آپ عالم نہ ہوں۔بادشاہ جہانگیر نےاپنے امیر نواب مرتضیٰ فرید بخاری سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ’’ چار دین دار علماء کی ایک جماعت ہر وقت دربار میں اس کے ساتھ رہے جو اسے مسائل شرعیہ سے آگاہ کرتی رہے‘‘توامام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی نے ان کولکھا کہ ’’چار علماء کی بجائے صرف ایک ’ عالم آخرت‘ کو تلاش کرو جو بادشاہ کی دینی اصلاح اور ترویج شریعت کا فریضہ انجام دے‘‘۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسئلہ تکفیر کے موضوع پر کتاب لکھ کر ڈاکٹرذیشان نے صرف معلومات مہیا نہیں کیاہے، اپنے مخاطبوں کو انہوں نےاس مسئلہ کاعلم دینے اور ’عالم آخرت‘ کا فریضہ انجام دینے کی کوشش کی ہےاور اپنی اس کوشش میںوہ کامیاب ہیں۔ میرے ہمدردوں اور خیرخواہوں نےاس موضوع پر جو جو کتابیں، رسائل اور فتاوی مجھے بھیجے ہیں اور مسئلہ کےجن جن پہلوؤں پر توجہ دلائی ہے، یہ کتاب ان سب کا احاطہ کرتی ہے۔ کتاب کا انتساب امام ابوحامد محمدبن محمد غزالی کے نام ہے جن کےافکار کو مصنف افتراق بین المسلمین کے معاصر زہر کا تریاق مانتے ہیں۔یہاں یہ واقعہ قابل ذکر ہے کہ امام غزالی کی شہرہ آفاق کتاب ’ احیاء العلوم‘ منظر عام پر آئی تو ان کے خلاف علما ئے اہل سنت و جماعت کے ایک بڑے طبقہ میں بےچینی پھیل گئی کیونکہ بعض مقامات پر اس میں اشعریوں سےمختلف خیالات پائے جاتے تھے، اشعری فقہا و متکلمین میں سخت ناراضگی تھی، یہاں تک کہ ان کی تکفیرو تضلیل کی صدائیں بلند ہونےلگیں ۔ یہ سب سن سن کر ان کے ایک دوست کا دل دکھتا تھا۔ اس نے ان کو ان واقعات کی اطلاع دی اور امام غزالی نے اس کا جواب دیا۔ وہی جواب ان کی مشہور تصنیف ’ التفرقۃ بین الاسلام و الزندقۃ‘ کے نام سے مشہور ہے۔ ڈاکٹرذیشان کی کتاب انتساب کےبعد آیات ’بینات‘ سے شروع ہوتی ہےجن میں اللہ کا حکم ہے کہ ’’ اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں جہاد پر نکلو تو صحیح سے تحقیق کرلواور جو تمہیں سلام کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو،الخ(نسا:۹۴)۔ اللہ کے رسول ﷺ نے مجاہدین کا ایک دستہ بھیجا تھا، جس کا سامنا ایک شخص سے ہواتو اس نے ان سے کہاں السلام علیکم ۔ پھر ایک صحابی اسے قتل کرنے کے لیے بڑھا تو اس نے کہا کہ میں مومن ہوں ۔صحابی نے کہا کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔تم بس جان بچانا چاہتے ہو۔ یہ کہہ کر صحابی نے اس کو قتل کردیا۔ اس کے بعد اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔کتاب کا اگلاورق ’سرنامہ‘ اور’ عکس سرنامہ‘ ہے جس کے تحت مولانا جامی کے اعتقاد نامہ کے بخش ۲۲سے دس اشعار اور ان کا ترجمہ شامل ہے جس کا عنوان ’ اشارت بہ آنکہ تکفیر اہل قبلہ جائز نیست‘ ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس کو بھی تم اہل قبلہ اور اللہ کے نبی کا ماننے والا جانتے ہو، گرچہ علم و عمل کی رو سے اس کے اندر سیکڑوں بدعات، خطائیں اور نقص و خلل پاؤ، پھر بھی اس کی تکفیر مت کرو، نہ اسے جہنمی سمجھو اور اسی طرح جسے تم صبح و شام متقی و دیندار پاؤ، فرائض و نوافل کا پابند دیکھو، پھربھی اسے قطعی و یقینی جنتی مت سمجھو، سوائے ان کے جن کو پیغمبر دوجہاں ﷺنے جنت کی بشارت دی ہے۔پیش بندی کا ایک صفحہ اور بھی ہے جس پر ’المیے‘کے تحت یہ تین جملے درج ہیں:’’ مسئلہ تکفیر ایک تحقیقی مسئلہ ہے ، افسوس کہ اسے تقلیدی اور جبری مسئلہ بنادیا گیا۔افراط یہ ہے کہ بات بات پر تکفیر کے گولے داغے جائیں اور تفریط یہ ہے کہ تکفیر کو خود ایک جرم سمجھ لیا جائے۔ تکفیر پسند عناصر اپنے مخالفین کی معمولی باتوں پر تکفیر کر گزرتے ہیں اور اپنے محبین کی بڑی بڑی باتوں کی تاویل تلاش کر لاتے ہیں‘‘۔

  اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مصنف کا نقطہ نظر اور اسلوب بیان و تحقیق کیا ہے۔کتاب ایک مختصر پیش لفظ اور دو تقریظ (پروفیسر سید شمیم  الدین احمد منعمی اور ڈاکٹروارث مظہری) کے علاوہ ۱۳؍ ابواب پر مشتمل ہے۔پہلا باب پس منظرہے جس کے تحت فتنۂ تکفیریت، تکفیر میں غلو کے انداز، پہلا فتنہ تکفیر، خارجیت کے جدید اثرات، غلو فی تکفیر کے نقصانات، تکفیریت کے دو بڑے اسباب ، غیر تکفیری جرم ، کافر یا غیر مسلم کو موضوعات بحث بنایا گیا ہے۔ اگلے ابواب حقیقت ایمان،حقیقت کفر، حقیقت تکفیر، اصول تکفیر ، قانون تاویل ، احکام تکفیر، نصوص تکفیرمتعلقات تکفیر، تکفیر مسالک، تکفیر مشاہیر، راہ اعتدال اور خلاصہ بحث ہیں۔تکفیر مسالک میں اہل تشیع ، خوارج، قدریہ، معتزلہ اور وہابیہ کی تکفیر پر تقریباً ساٹھ صفحات میں تفصیلی بحث کی گئی ہے، اسی طرح تکفیر مشاہیر کے تحت دس مشاہیر کو موضوع بنایا گیا ہے جن میں جناب ابو طالب، ابن عربی،فرعون ، یزید ، بایزید بسطامی، ابن منصور حلاج، حکیم ترمذی، امام غزالی ،ا بن تیمیہ اور اسماعیل دہلوی شامل ہیں جن کی تکفیر مختلف فیہ ہے، اس باب کے آخری حصے میں وہ موضوع بنائے گئے ہیں جن کی تکفیر پر مسلمانوں کا اتفاق ہے۔اہل تشیع کی تکفیر کے باب میں یہ کتاب شیعہ فرقوں کی تفصیلات اورعقائد پیش کر نے اور ان کے الگ الگ گروہوں کے عقائد کے تعلق سے ایک معروضی تحقیق کی ضرورت پر زور دینے کے بعد پوری سنجیدگی سےیہ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا بعض اہل تشیع کے عقیدۂ تحریف قرآن یا عقیدہ ٔ الوہیت علی کا حوالہ دے کر ان کی عمومی اور کلی تکفیر درست ہے، خصوصاً اس صورت میں کہ وہ جب ان کفریات سے سرعام اظہار برأت کررہے ہوں؟  (جاری)

6 دسمبر 2020،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

Part: 1- Fitna, Takfiriyyah, Religions, Sects of Islam And Us فتنۂ تکفیریت ، مذاہب و مسالک اسلام اور ہم

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/tribulation-takfiriyyah-religions-sects-islam-part-2/d/123693


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..