New Age Islam
Sun Sep 27 2020, 07:58 AM

Urdu Section ( 13 May 2018, NewAgeIslam.Com)

Our Educational Institutions, Democracy and Islam ہمارے تعلیمی ادارے ، جمہوریت اوراسلام؟

  

احمد جاوید

13مئی،2018

اگر کوئی آپ سے یہ سوال کرے کہ اسلام کی تاریخ کا سب سے بڑا لمیہ ، مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کی سب سے بڑی ٹریجڈی او ران کے زوال کا سب سے بڑا سبب کیا ہے تو آپ کیا کہیں گے؟ شاید آپ سے اس سوال کا کوئی سیدھا جواب نہ بن پڑے کیونکہ یہ کوئی آسان سوال ہے بھی نہیں ۔ اسلام او رمسلمانوں کی ٹریجڈی ایک نہیں کئی ہیں،ان کے زوال کے اسباب ایک دو نہیں انگنت ہیں بلکہ جتنے منھ اتنی باتیں ، ہر کسی کو مسئلے بھی الگ الگ نظر آتے ہیں او ران کے حل بھی الگ الگ پھر ان میں سے ہر شخص او رہر گروہ اس پر بضد اور اٹل ہے کہ جو کچھ وہ دیکھ رہا ہے وہی صحیح ہے اور اسی راہ سے مسلمانوں کی نجات کی سبیل نکلتی ہے جو اس کے پاس ہے۔ اگر میں کہوں کہ یہی اسلام اور مسلمانوں کی سب سے بڑی ٹریجڈی ،ان کا سب سے بڑا المیہ اور ان کے زوال کا سب سے بڑاسبب ہے تو شاید آپ چونک کر میری جانب دیکھیں ؟

عین اس وقت جب مسلمانوں پر چوطرفہ حملے ہورہے ہیں ، جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ فرقہ پرستوں کے نشانے پر ہیں، مسلمانوں کی درسگاہیں ان کے دشمنوں کو ایک آنکھ نہیں بھارہی ہیں ، یہ سوال میرے ذہن میں اپنی پوری شدت کے ساتھ اس وقت آیا جب ہمارے ایک دوست نے یہ پوچھا کہ مسلمان پچھلے ایک ہزار سال سے کیا کررہے ہیں؟ یہ تو آج تک اپنا ایک نصاب تعلیم و تربیت بھی طے نہیں کر سکے ہیں۔ دنیا کی ایک سو بڑی یونیورسٹیوں میں ایک بھی عالم اسلام میں نہیں ہے، اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہیے کہ کیا آپ کعبہ کی حفاظت اور اس کے تحفظ کی پاسبانی کی اہلیت بھی رکھتے ہیں؟ وہ کہہ رہے تھے کہ ہندوستان ہی کو لے لیجئے ،سرسید نے مسلمانوں کے لئے ایک جدید نصاب تعلیم و تربیت مرتب کیا ، ان کو ایک یونیورسٹی دی لیکن مسلمانوں نے اس کے ساتھ کیا کیا؟ سرسید کا مطمح نظر یہ تھا کہ اب کسی بھی قوم کے حقوق کا تحفظ اور اس کے ساتھ انصاف تب بھی ممکن ہے جب نظام حکومت و معیشت میں اس کی متناسب نمائندگی ہو، جمہوریت کا کارواں جیسے جیسے آگے بڑھتا گیا یہ صداقت زیادہ قوت کے ساتھ سامنے آتی گئی لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کا رویہ کیا ہے۔ آپ مسلمانوں کے مزاج کو صرف ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں کہ ایک ہی ماڈل کے الگ الگ مدارس او رجامعات میں بھی یکسانیت نہیں ہے او ر یہ اپنے یہاں موجود تفادت ، تضادات اور بعض بہت چھوٹی موٹی غلطیوں کودرست کرلینے سے بھی عاجز ہیں اور اتنا حوصلہ نہیں جٹا سکتے کہ سر جوڑ کر بیٹھیں او راپنی اصلاح کرلیں۔

یاد آیا کہ کئی سال قبل پٹنہ کی مولانا مظہرالحق عربی فارسی یونیورسٹی نے یونیورسٹی گرانٹ کمیشن میں اپنی منظوری کی درخواست پیش کی تھی۔ یہ درخواست یوجی سی سے ایکسپرٹ کی ایک ٹیم کو سونپ دی تاکہ اس کی رپورٹ کے مطابق یوجی سی ضابطہ کی کارروائی کرے ۔ کمیٹی کے چیئر مین اسلامیات کے ایک نامی گرامی پورفیسر او رملک کی ایک مرکزی یونیورسٹی کے سابق ڈین تھے ۔ ایک طریقہ تو یہ تھا کہ وہ یوجی سی کی شرائط اور معیارات کی روشنی میں مظہرالحق یونیورسٹی کے نصاب کا جائزہ لیتے اور رپورٹ دے دیتے ۔ مولانامظہر الحق یونیورسٹی ایک ریاست نے قائم کیا ہے جس کے پاس پہلے ہی ایم اے او رپی ایچ ڈی تک منظور شدہ مساوی نصاب موجود ہے اور جس کے مدرسہ ایجوکیشن بورڈ (2+) کو مرکزی اسکول ایجوکیشن بورڈ ( سی بی ایس سی) کی منظوری حاصل ہے۔ اس نظام میں دسویں کو فوقانیہ ، بارہویں کو مولوی، گریجویشن کو عالم اور ایم اے کو فاضل کہتے ہیں اوریہ کوئی آج سے نہیں، مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی کے قیام کے ساتھ 1912ء سے اسی شکل میں نافذ ہے۔نہ تو ماہرین کی کمیٹی کے لیے کوئی پریشانی تھی نہ یوجی سی کے لیے کوئی وقت ۔ دوسرا طریقہ یہ تھا کہ ملک میں اس نظام تعلیم کی دوسری جامعات او رمدارس کے نصاب کا بھی جائزہ لیا جاتا او راس کی روشنی میں رپورٹ دی جاتی ۔ چیئر مین موصوف نے دوسرے متبادل کو اختیار کیا ۔ انہوں نے اس میں جامعہ عالیہ کولکاتہ ، مدرسہ نظامیہ حیدر آباد، مدرسہ تعلیمی بورڈ لکھنؤ ،ندوہ اور دارالعلوم کی اسناد پر بھی غور وخوض شروع کردی۔ اب انہوں نے پایا کہ مدرسہ عالیہ میں فوقانیہ کو ملا، مولوی کو عالم اور فاضل کو ممتاز المحدثین کہتے ہیں ۔ نظامیہ حیدر آبا د میں بھی کچھ یہی صورت حال ہے ۔ اسی طرح ندوہ اور اشرفیہ کا عالم بار ہویں کے مساوی ہے تو دیوبند اور دوسرے مدارس کا فاضل اس کے مساوی تسلیم کیا جاتاہے۔ پروفیسر موصوف کو ان مدارس سے جذباتی لگاؤ ہے۔ انہوں نے ان کے ذمہ داروں کو مل بیٹھ کر نصاب اور کم از کم درجات کے ناموں میں یکسانیت لانے کی گزارش کی۔ اب اس واقعہ کو تین سال ہونے کو آئے ان میں سے کوئی بھی اور تو اور اپنی اسناد پر لکھے جانے والے نام تک کو درست کر لینے کا حوصلہ پید ا نہیں کرسکے ۔ نہ مدرسہ عالیہ اپنے ملا کو فوقانیہ کرسکتا ہے ، نہ ندوہ اپنی بارہویں کو عالم کے بجائے مولوی کرنے کو تیار ہے نہ مدرسہ نظامیہ اپنے عالم کو تین سالہ گریجویشن کرنے کو تیار او راب یہ درخواست یوجی سی میں تین سال سے زیر التوا ہے۔ اس کا نقصان مولانا مظہرالحق یونیورسٹی او راس کے فارغین اٹھارہے ہیں ۔

یہ مدارس اور جامعات او رکچھ نہ کرتے، اپنے نصاب تعلیم و تربیت میں کوئی تبدیلی گوارہ نہیں تھی تو نہ کرتے، صرف تعلیم کی مدت کے مطابق درجات کے نام درست کرلیتے تو ان کے فارغین کے بہت سے مسائل حل ہوجاتے ، یوجی سی اور دوسری اتھارٹیز کے ساتھ ساتھ سرکار اور اس کے محکموں کو یہ طے کرنے میں پیش آنے والی پریشانی دور ہوجاتی کہ کون سی سند کتنے سال کی تعلیم پر مبنی ہے اوریہ ہمارے اس مزاج کو جو اسلاف کی پہاڑ جیسی غلطیوں کو بھی مقدس گائے کا درجہ دے دیتا ہے اور ان کی اصلاح کو وقار کا سوال بنا کر صدیوں تک ڈھونڈتا رہا ۔ ندوہ او ردیوبند کو جانے دیجئے جن کے ذمہ داروں کو سرکاری محکموں سے اپنی اسناد کو تسلیم کرانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ وہ اس میں دین کا خسارہ دیکھتے ہیں لیکن آپ ہی بتائیے کہ ایک ہی نظام کے ان تعلیمی اداروں کی اس کم ہمتی کو کیا نام دیں گے جہاں ایک ہی درجہ کو الگ الگ ناموں سے پکارا جاتا ہے اور وہ کوئی ایک متفقہ نام اختیار کرنے سے قاصر ہیں اور یو جی سی انتظار کررہا ہے۔ یہ تو صرف ایک مثال ہے ورنہ ہر جگہ او رہر شعبے میں کئی کئی مثالیں مل جائیں گی۔

مسئلے ہیں، پریشانیاں ہیں، دقتیں ہیں، اختلافات و تنازعات ہیں تو ان کے حل بھی ضروری ہوں گے، کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہوتا جس کا حل اللہ نے پیدا نہ کیا ہے لیکن اصل پریشانی یہ ہے کہ نہ تو مسائل کی تشخیص پر کوئی اتفاق کرلینا تو درکنار ان کو پس پشت ڈال کر آگے بڑھ جانے کاحوصلہ تک نہیں پیدا کیا۔ یہ قوم اپنے اسلاف کی پہاڑ جیسی غلطیوں کو بھی مقدس بنا لیتی ہے اور ان کو چھوڑ نے یا درست کرنے کے بجائے ان کو دوہراتی رہتی ہے ۔ ایسا ہی ایک مسئلہ ہماری تعلیم او رنصاب تعلیم بھی ہے جس نے اس کو مقام پر لاکھڑا کیا جہاں اس سے پوچھا جارہا ہے کہ اس نے پچھلے ایک ہزار سال میں دنیا کو کیا دیا؟ کوئی نئی چیز، نئی ایجاد ، کوئی نئی تحقیق ،کوئی اصول ، کوئی نظریہ ؟ اور اس کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہے۔ کیا نئی دنیا میں اسلام او رمسلمانوں کے تحفظ کی سب سے بڑی جدوجہد یہ نہیں تھی کہ ہم اس سوال کا جوا ب دینے کے اہل ہوتے؟

13مئی2018، بشکریہ : انقلاب ، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/ahmad-javed/our-educational-institutions,-democracy-and-islam--ہمارے-تعلیمی-ادارے-،-جمہوریت-اوراسلام؟/d/115231

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism


Loading..

Loading..