New Age Islam
Wed Sep 30 2020, 04:38 PM

Urdu Section ( 19 Feb 2018, NewAgeIslam.Com)

Ghazwatul Hind and India: Dar ul Harb or Dar ul Islam غزوۃ الہند او رہندوستان دارالحرب یا دارالاسلام؟

 

 

 

 

 

احمد جاوید

18فروری،2018

ندوہ کے استاذ سیدسلمان حسینی او رمسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان سجاد نعمانی دونوں کاتعلق لکھنؤ سے ہے جس کی ہندو مسلم ہم آہنگی کی ایک شاندار تاریخ اور بڑی مضبوط روایات ہیں ۔ اسی لیے جب مولانا حسینی ایک ویڈیو کلپ دکھا کر مولانانعمان پر ملک میں خوف ودہشت پھیلانے اور خود کو امن و اخوت ، اتحاد و اتفاق اور صحیح اسلام کا داعی و مبلغ بتارہے تھے تو ہماری گنہگار آنکھیں حیران تھیں۔ نعمانی صاحب مسلمانوں کے ایک مجمع میں آر ایس ایس پر ہندوستان میں قتل عام کی تیاری کرنے اوراس کے لیے گاؤں گاؤں تک اسلحہ پہنچ جانے کی خبر دے رہے ہیں ، وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ سنگھ کے کیمپوں میں جاتے رہے ہیں اور آر ایس ایس کے لیڈروں سے ان کی ذاتی مراسم ہیں ۔ عین اسی وقت کئی چینلوں اور ویب سائٹوں پر یہ بحث چل رہی تھی او رچلتی رہتی ہے کہ مسلمان ’ غزوۃ الہند‘ کی تیاری کررہے ہیں جس میں مارے جانے والوں کے لیے حدیث میں جنت کی بشارت آئی ہے۔اگلے ہی لمحے ہم نے دیکھا کہ سلمان حسینی جن پر بابری مسجد معاملے میں سودے بازی کاالززام لگایا جارہا ہے ،ندوہ کی اپنی درسگاہ میں طلبا کے ہجوم میں پھوٹ پھوٹ کر رو رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ خدا گواہ ہے وہ منافر ت کے خلاف لڑرہے ہیں اور مسلم غیر مسلم سب کو اسلام کا اصل پیغام اور صحیح دین پہنچانا چاہتے ہیں ۔ یہ وہ مناظر ہیں جن کو دیکھ کر کوئی حساس ہندوستانی خاموش نہیں رہ سکتا ۔ مسلمانوں کے لیے سلمان حسینی کا موقف شریعت کی رو سے قابل قبول ہویا نہ ہو، قانون یا عدالت میں ان کی رائے کی کوئی حیثیت ہے کہ نہیں لیکن ان کے آنسو اور ان کی ہچکیاں پریشان کردینے والی ہیں او راسی طرح مولانا نعمانی ویڈیو کلپ میں جو کچھ کہہ رہے ہیں یا غزوۃ الہند کے حوالے سے جو کچھ کہنے کی کوشش کی جارہی ہے ، ان کو یونہی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔سوال یہ ہے کہ کیا واقعی مسلمان عزوۃ الہند کی تیاری کررہے ہیں، کیاکہیں سچ مچ میانمار کے روہنگیوں کی طرح ہندوستانی اقلیتوں کے قتل عام کی تیاری ہے اور کیا اسلام او رہندوسناتن دھرم اس طرح کے کسی جہاد یا دھرم یدھ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے؟

یہ ایک ہزار سال پہلے کی بات ہے ، جب اس ہندوستان کی تلاش میں جس پرہم کو آپ کو اور ہر باشعور فرزند وطن کو ناز ہے، ایک فقیر نکلا تھا ۔ وہ ریاضی کا ماہر تھا، فزکس او رکمیسٹری میں رسوخ رکھتا تھا ، ہئیت او رنجوم (آسٹرولوجی اور آسٹر ونومی) پر اس کی گہری نظر تھی او ردنیا کے جغرافیہ ، تہذیبوں او رتمدنوں سے اس کی گہری دلچسپی تھی ۔ ایرانی نسل کا یہ آدمی خوار زم ( موجودہ ازبکستان کا خیوا) کے مضافات شہر سے نکلا ۔ وہاں سے غزنہ آیا اور پھر اپنی جان جو کھوں میں ڈال کر سندھ، پنجاب، قنوج اور مالوے تک چلاگیا۔ یہ محمود غزنوی کا زمانہ تھا۔ جس کے حملوں اور جوابی حملوں سے یہ دھرتی لہولہان تھی، آسان نہیں تھا کہ کوئی اجنبی اس سرزمین پر بے سپاہ بے سلاح قدم رکھے اس لیے اس نے محمود کی مدد لی لیکن اس نے جو کتاب لکھی وہ ایک ہزار سال ہونے کو آئے، اب بھی ہندوستان ، ہندومذہب و ثقافت اور ہندو مسلم رشتوں کی باریکیوں کو سمجھنے کے لیے اتنی ہی معقول (Relevant) او رکار آمد ہے جتنی روز اول تھی۔ ابوریحان محمد بن احمد البیرونی (976-1049) نے خود محمود اور اس کے باپ پر بھی تنقید کی ، لکھا کہ : ’ ہمارے اور ہندؤں کے درمیان مغائرت کے بہت سے اسباب ہیں ۔ اس دوری کاپہلا سبب زبان کا اختلاف ہے۔ مغائرت کا دوسرا سبب یہ ہے کہ ہندو دین میں ہم سے بالکل مختلف ہیں ۔ وہ آپس میں مذہبی باتوں پر جھگڑا نہیں کرتے، ان کی مخاصمت کا سارا رخ بدیسیوں کی طرف ہوتا ہے۔ وہ ان کو ملیچھ یا ناپاک سمجھتے ہیں ۔ چوتھا سبب، مسلمانوں کے خلاف ان کا تعصب اس وقت او ربھی بڑھ گیا جب مسلمانوں نے ان کے ملک پر حملہ کیا۔ اگرچہ اس (محمد بن قاسم) کے بعد ترکوں کے زمانہ تک کوئی مسلمان فاتح حدود قابل اور دریائے سندھ سے آگے نہیں بڑھا لیکن سامانیوں کے زمانے میں ترک جب غزنی کی حکومت پر قابض ہو گئے اور ناصر الدولہ سبکتگین اس کے سیاہ و سفید کا مالک بن گیا تو اس نے جہاد کو اپنامشغلہ بنایا اور غازی کا لقباختیار کیا اور اس کا بیٹا یمین الدولہ محمود تیس سال کے عرصے میں کئی بار ہندوستان پر حملہ آور ہوا۔ البیرونی اپنے مشاہدات کی روشنی میں تفصیل سے ہندو مسلم مغائرت و منافرت کا جائزہ لیتا ہے۔ وہ رشی بھووناکوش کی کتاب کے حوالے سے لکھتا ہے کہ آباد دنیا کا نام بھارت ورش ہے۔ اسی کے رہنے والوں کو آخرت میں عذاب اور ثواب ملے گا۔ اس کامطلب یہی ہوسکتا ہے کہ وہ انسانیت کے مرتبے سے بلند ہوکر فرشتے ہوچکے ہیں یا پھر انسانیت کے درجے سے گرکر بے عقل جانوروں کے زمرے میں آگے ہیں ۔ ان کے خیال میں بھارت ورش سے باہر انسان نہیں ہیں ۔

البیرونی کے یہ مشاہدات بتاتے ہیں کہ آج یہاں منافرت کے جس ماحول اور جن نفرت انگیز خیالات کی گرم بازاری ہے، ان میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ یہ مشاہدات بتاتے ہیں ایک ہزار سال پہلے ہم کہاں تھے اور آج کہاں ہیں۔ یہ اس نکتہ پر غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں کہ آج ہم تاریخ اور تہذیب کے جس مقام پر ہیں وہاں کن مراحل سے گزر کر پہنچے ہیں ، ان الگ الگ قوموں، فرقوں اور گروہوں کا حصہ (Contribution) کیا ہے اور تاریخ کے ساتھ ہمارا برتاؤ (treatment) کیاہوناچاہئے ؟ لیکن افسوس اس مدت میں دنیا کہا ں سے کہاں پہنچ گئی، تاریخ نے کیا کیا کروٹیں لے لیں لیکن اگر کسی نے سبق نہیں لیا تو وہ غزوۃ الہند کے دماغی خلل میں مبتلا عناصر ہیں جو اپنے سوا سب کو ملیچھ یا دین کا دشمن تصور کرتے ہیں ۔

جو لوگ غزوۃ الہند کی بات کرتے ہیں وہ لکیر کے اس طرف ہوں یا اس طرف وہ اور کچھ بھی ہوسکتے ہیں ، اسلام کے جاننے والے نہیں ہوسکتے ۔ نہ تو ان کو اسلام کا گیان یا قرآن و حدیث کا علم ہے نہ تاریخ کی سمجھ اور نہ وہ آج کی دنیا کو جانتے ہیں ۔ بعض کمزور روایات کی بنا پر جو لوگ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے، ان کو ورغلانے یا فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی سازش کرتے ہیں، اسی طرح جو لوگ آج دنیا میں ملکوں اور قوموں کو دارالاسلام اور دارالحرب میں بانٹتے ہیں، ان سے پوچھا جاناچاہئے کہ امیر سبکتگین نے جو جنگیں لڑی تھیں وہ غزوۃ الہندتھا، اس کے بیٹے محمود غزنوی کے حملے عزوۃ الہند تھے ، سید سالار مسعود غازی کا جہاد غزوۃالہند تھا، پرتھوری راج چوہان پر محمد غوری کی فتح غزوۃ الہند تھی، اودھ سے خلیج بنگا ل و کوہستان تبت تک بختیار خلجی کی فتوحات غزوۃالہند تھیں یا قیامت سے پہلے ظہور مسیح کے وقت یہ جنگ ہوگی؟ کیوں کہ جن تین چار احادیت کا حوالہ دیا جاتا ہے وہ بنیادی طور پر ایک ہی حدیث ہے اور اس میں تو ایک ہی جنگ کی پیش گوئی ہے۔ (جاری)

18فروری،2018، بشکریہ : انقلاب، نئی دہلی

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..