New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 09:11 AM

Urdu Section ( 22 Jul 2012, NewAgeIslam.Com)

Why Nobody Conspires against the British? انگر یز و ں کے خلا ف کو ئی سا زش کیو ں نہیں کر تا؟


افضال احمد

23 مئی، 2012

بہت دنوں سے یہ سوال اٹھاتا پھررہا ہوں کہ کیا کبھی انگریزوں کیخلاف بھی سازش ہوتی ہے یا ساری سازشیں مسلمانوں کیخلاف ہی ہوتی ہیں ۔ لیکن مجال ہے کہ کوئی ڈھنگ کا جواب مل پائے ۔ کوئی انگریز بات ہی نہیں کرتا کہ سازش ہورہی ہے یا تاریخ میں کبھی سازش ہوئی ۔ براہ راست سوال پوچھنے پر کوئی ایسی بات معلوم نہ ہوسکی تو یونہی باتوں باتوں میں بات چھیڑ کر بھی دیکھ لیا ۔ لیکن کچھ حاصل نہ ہوا ۔ کوئی انگریز تاریخ پرستی اور ماضی کی پوجاکرنے کو تیار ہی نہیں کہ دنیا پر ہم نے اتنے ہزار سال تک حکومت کی یا ہماری سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا ۔ کسی دانشور ،کسی صحافی ،کسی طالب علم اور کسی عام آدمی کے منہ سے یہ الفاظ نکلتے ہی نہیں کہ دنیا کبھی ہمارے قبضے میں تھی یا کسی ملک نے ہمارے خلا ف سازش کرکے دنیا ہم سے چھین لی یا ہم لاکھوں مربع میل پر حکمران تھے اور آج پاکستان کے صوبہ پنجاب سے بہت تھوڑا رقبہ ہمارا ہے ۔ جبکہ دوسری طرف مسلمان خاص طورپر پاکستانی مسلمان اس احساس محرومی میں شدت سے مبتلا نظر آتا ہے کہ عرب کے ریگستانوں سے لے کر افریقہ کے جنگلوں تک اور ہندوستان کے میدانوں سے لے کر یورپ کے سپین تک ہماری حکومت تھی اور پھر اسلام مخالف قوتوں نے سازشیں کی اور ہم سے حکومت چھین لی ۔

یہ مضحکہ خیز احساس محرومی صرف ہمارے ہاں ہی شدت سے پایا جاتا ہے ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں نے ہمیشہ دوسرے ممالک کے حکمرانوں کو دعوت دی کہ وہ ہندوستان پر آکر قبضہ کریں اور انہی نجات دلائیں ،یہ میموگیٹ صرف آج کی کہانی نہیں ہماری صدیوں پرانی روایت اور عادت ہے ۔ حسین حقانی صرف آج کا کردار نہیں ،صدیوں سے ایسے کردار ہماری کہانی کا اہم ترین حصہ رہے ہیں جو کبھی افغانوں کو اور کبھی ایرانیوں کو تو کبھی عربوں کو میمولکھتے رہے ہیں ۔ کبھی آپ نے سوچا کہ یہ وہم ہمیں کیوں ہے کہ دنیا ہمارے خلاف سازش کررہی ہے ۔اس کا تجزیہ بہت ضروری ہے کہ واقعی سازش ہورہی ہے یا ہم نفسیاتی بیماری شیزوفرینیا کا شکار صدیوں سے چلے آرہے ہیں اور اس  کو نسل درنسل منتقل کررہے ہیں جن لوگوں کو شیزوفرینیا کے بارے میں معلوم ہے وہ جانتے ہیں کہ اس مرض کے شکار فرد کو یقین ہونے لگتا ہے کہ جہاں بھی دو لوگ کسی بات پر مل کے ہنس رہے ہیں یا بات کررہے ہیں اور اسکے خلاف سازش کررہے ہیں ،کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم بحیثیت قوم شیزوفرینیا کا شکار ہیں ۔

ہمیشہ یہ بات یادرکھنے کی ہے کہ قوم ہویا فرد اسے خواب بہت اونچے دیکھنے چاہئیں لیکن اس خوابوں کی تعبیر کیلئے جو مشقت ہے وہ بھی اٹھانے کا حوصلہ ہونا چاہئے ۔ کامیابیاں ایسے ہی قدم نہیں چومتیں کہ جہاں سانس پھولے وہیں سازش کی قوالی شروع کردی جائے ۔ لیکن ہمارا المیہ ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ ہم خواب دنیا کو تسخیر کرنے کے دیکھتے ہیں لیکن اس کیلئے جس محنت ،لگن اور مسلسل عمل کی ضرورت ہوتی ہے اس سے ہم کوسوں دور بھاگتے ہیں  ۔نہ نظم ،نہ ضبط ،نہ ہمت نہ حوصلہ ،نہ محنت اور نہ لگن ،بس صبح اٹھیں اور دنیا ہمارے سامنے جھکی ہو۔ایسا کبھی نہیں ہوتا اور نہ ہوگا۔ یہ خدا کا قانون ہی نہیں ہے ۔یہاں خود کو اہل ثابت کرنا پڑتا ہے ۔ تب جاکے کہیں کوئی مقام ملتا ہے ۔ لیکن بھلا ہو ایسے کٹھ ملاں کا جنہوں نے کروڑوں مسلمانوں کو ماضی کے اس طلسم ہوشربا میں لاکے چھوڑدیا ہے اور وہ صرف ماضی کے نغمے گاتے پھرتے ہیں جبکہ دنیا بہت آگے نکل چکی ۔حکمرانی کے انداز بدل گئے لیکن ہم ابھی تک گھوڑوں سے نیچے نہیں اتررہے ۔ یہی وجہ ے کہ جب کچھ حاصل نہیں ہوپاتا تو دیوار سے سرٹکرانے کے بعد ہر کوئی سازش کی بات کرتا ہے ۔ اپنے کرتوت بدلنے کو تیار نہیں اور دنیا کو برابھلاکہتے رہنا ہے ۔

اگر پاکستا ن کی موجودہ حکومت کی مثال لے لیں تو بھلادنیا یہ سازش کررہی ہے کہ اس حکو مت کے چار سالہ دور میں 8500ارب کی کرپشن ہوئی ۔ کسی کی کرپشن پر بات کرو تو وہ ”سازش ہورہی ہے “ کاراگ الاپنا شروع ہوجاتا ہے ۔،کسی کو کہا جائے کے یہ ذمہ داری آپ کو سونپی گئی ہے اسے ٹھیک طریقے سے نبھائیں تو اسے لگتا ہے کہ سازش ہورہی ہے ۔عوام غریب اور حکمران امیر ترین ہوگئے ،عام آدمی کے پاس کھانے کیلئے دو وقت کی روٹی نہیں اور آج بھی ایوان صدر میں گھوڑوں کے اصطبل کا خرچہ لاکھوں روپے ماہانہ ہے ۔لوگوں کو پینے کیلئے پانی اور کھانے کیلئے دو وقت کی مناسب خوراک دستیاب نہیں اور صاحبان اقتدار نے لوٹ مچارکھی ہے ،اگر کوئی اِس لوٹ مارپر آواز اٹھاتا ہے تو وہ جمہوریت کے خلاف سازش کررہا ہے ۔
یادرکھیں کہ قدرت کا سادہ فارمولا ہے کہ جسم کے کمزور حصے پر جرائم حملہ کرتے ہیں اور جہاں قوت مدافعت کم ہو اس جگہ پر بیماریاں اپنے گھربناتی ہیں ۔ایک شخص اگر اپنی صحت کا خیال نہ رکھے اور صرف صبح شام شورمچاتا ہے کہ بیماریاں مجھ پر حملہ کررہی ہیں تو اکیلا قصور وار تو خود ہے جو اپنی قوت مدافعت کو بہتر نہیں کرتا،اپنی پرفارمنس پر توجہ دینے سے معاملات ٹھیک ہوتے ہیں ۔صرف جلسوں میں گلاپھاڑکے”سازش ہورہی ہے “ کاراگ الاپنے سے کچھ نہیں ہوگا۔

ماخز: http://www.saach.tv/2012/05/23/afzal-23-5-12/

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/why-nobody-conspires-against-the-british?--انگر-یز-و-ں-کے-خلا-ف-کو-ئی-سا-زش-کیو-ں-نہیں-کر-تا؟/d/8021

 

Loading..

Loading..