New Age Islam
Sat Dec 04 2021, 03:52 PM

Urdu Section ( 17 Jun 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Prophets and Ilm ul Ghaib انبیاء علیہم السلام اور علم غیب

 

آفتاب احمد، نیو ایج اسلام

12مئی 2014

خدا نے انسانوں کی رہنمائی کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کو مبعوث کیا۔ تمام نبیوں اور رسولوں کو اللہ والا منتخب کیا گیا۔ اللہ نے ہر کمیونٹی اور ہر قوم میں پیغمبر کو مبعوث کیا۔ دنیا میں ایسی کوئی کمیونٹی یا قوم نہیں ہے جس میں کوئی نبی نہ بھیجا گیا ہو۔ قرآن مجید نے مختلف مواقع پر اس حقیقت کا بر ملا اعتراف کیا ہے۔

"اور ہر امت کے لئے ایک رسول آتا رہا ہے۔" (یونس : 47)

"اور (دنیا کی) ہر قوم کے لئے ہدایت بہم پہنچانے والے ہیں۔ " (الرعد: 7)

"اور کوئی امّت (ایسی) نہیں مگر اُس میں کوئی (نہ کوئی) ڈر سنانے والا (ضرور) گزرا ہے۔" (فاطر : 24)

 تمام نبیوں نے اپنی کمیونٹی یا قوم کو بت پرستی اور شرک اور دیگر سماجی اور اخلاقی برائیوں سے روکنے کی کوشش کی۔ نتیجتاً ان کی قوموں نے ان کی مخالفت کی اس لیے کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے دین کو ترک کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ ان نبیوں کے پیغام کی مخالفت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ بھی انہیں کی طرح انسان تھے اور ان کے معاشرے کا ایک حصہ تھے۔ انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ خدا کی طرف مبعوث کئے گئے ہیں اور انہیں لوگوں کو جھوٹے معبودوں کی عبادت کرنے سے روکنے کے لیے مبعوث کیا گیا ہے تو ان کی قوم کے لوگ حیران تھے کہ ایسا شخص کیوں کر نبی ہو سکتا ہے جو عام لوگوں کی طرح کھاتا پیتا ہے اور بازار میں گھومتا ہے۔ وہ یہ سوچ کر حیران تھے کہ اگر وہ خدا کی طرف سے بھیجے گئے نبی ہیں تو پھر ان کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں ہے اور ان کا ظہور عام لوگوں سے مختلف کیوں نہیں تھا۔ انبیاء کے بارے میں قرآن مجید کا فرمان ہے:

"یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے زمرۂ انبیاء میں سے آدم (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں اور ان (مومنوں) میں سے ہیں جنہیں ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں (طوفان سے بچا کر) اٹھا لیا تھا، اور ابراہیم (علیہ السلام) کی اور اسرائیل (یعنی یعقوب علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں اور ان (منتخب) لوگوں میں سے ہیں جنہیں ہم نے ہدایت بخشی اور برگزیدہ بنایا، جب ان پر (خدائے) رحمان کی آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے وہ سجدہ کرتے ہوئے اور (زار و قطار) روتے ہوئے گر پڑتے ہیں"۔ (مریم : 58)

جو لوگ جھوٹے معبودوں کی عبادت کرنے والے تھے وہ یہ سن کر حیران تھے کہ صرف ایک خدا پوری کائنات کا خالق اور مالک ہے۔ ان کا یہ ماننا تھا کہ کائنات کے مختلف شعبوں میں مختلف معبودوں کی حکمرانی ہے۔ بارش کے لئے ایک خدا ہے جبکہ بیماریوں سے شفا دینے کے لئے ایک الگ خدا ہے۔ اسی طرح آگ کے لیے اور جنگ میں فتح دینے کے دیوتا الگ الگ ہیں۔ لہٰذا جب نبیوں نے ان سے کہ کائنات کا حقیقی خالق و مالک ایک خدا ہے تو وہ حیرت میں ایک دوسرے کا چہرا تکنے لگے۔

"اور انہوں نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس اُن ہی میں سے ایک ڈر سنانے والا آگیا ہے۔ اور کفّار کہنے لگے: یہ جادوگر ہے، بہت جھوٹا ہے۔ کیا اس نے سب معبودوں کو ایک ہی معبود بنا رکھا ہے؟ بے شک یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔" (صاد: 4-5)

اسی موضوع کو ایک اور آیت میں بیان اس طرح کیا گیا ہے:

‘‘کیا یہ بات لوگوں کے لئے تعجب خیز ہے کہ ہم نے انہی میں سے ایک مردِ (کامل) کی طرف وحی بھیجی کہ آپ (بھولے بھٹکے ہوئے) لوگوں کو (عذابِ الٰہی کا) ڈر سنائیں اور ایمان والوں کو خوشخبری سنائیں کہ ان کے لئے ان کے رب کی بارگاہ میں بلند پایہ (یعنی اونچا مرتبہ) ہے، کافر کہنے لگے: بیشک یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے’’۔ (یونس : 2)

لہذا جب نبیوں نے انہیں بت پرستی سے روکنے کی کوشش کی تو مشرکوں نے ان کی مخالفت کی۔ نوح علیہ السلام سے لیکر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام نبیوں کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔

نوح علیہ السلام کی قوم کے سربراہان نے کہا کہ:

‘‘سو ان کی قوم کے کفر کرنے والے سرداروں اور وڈیروں نے کہا: ہمیں تو تم ہمارے اپنے ہی جیسا ایک بشر دکھائی دیتے ہو اور ہم نے کسی (معزز شخص) کو تمہاری پیروی کرتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے ہمارے (معاشرے کے) سطحی رائے رکھنے والے پست و حقیر لوگوں کے (جو بے سوچے سمجھے تمہارے پیچھے لگ گئے ہیں)، اور ہم تمہارے اندر اپنے اوپر کوئی فضیلت و برتری (یعنی طاقت و اقتدار، مال و دولت یا تمہاری جماعت میں بڑے لوگوں کی شمولیت الغرض ایسا کوئی نمایاں پہلو) بھی نہیں دیکھتے بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں’’۔ (ھود : 27)

نوح علیہ السلام نے جواب دیا:

"اور میں تم سے (یہ) نہیں کہتا کہ میرے پاس اﷲ کے خزانے ہیں (یعنی میں بے حد دولت مند ہوں) اور نہ (یہ کہ) میں (اﷲ کے بتائے بغیر) خود غیب جانتا ہوں اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں (انسان نہیں) فرشتہ ہوں (میری دعوت کرشماتی دعوؤں پر مبنی نہیں ہے) اور نہ ان لوگوں کی نسبت جنہیں تمہاری نگاہیں حقیر جان رہی ہیں یہ کہتا ہوں کہ اﷲ انہیں ہرگز کوئی بھلائی نہ دے گا (یہ اﷲ کا امر اور ہر شخص کا نصیب ہے)، اﷲ بہتر جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر ایسا کہوں تو) بیشک میں اسی وقت ظالموں میں سے ہو جاؤں گا"۔ (ھود : 31)

حضرت شعیب علیہ السلام کے ساتھ ان کی قوم کا رویہ وہی تھا جو نوح علیہ السلام کے ساتھ ان کی قوم کا تھا۔ شعیب علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو بت پرستی سے روکنے کی کوشش کی اور کاروبار میں ایمانداری کے ساتھ چیزوں کو وزن کرنے کے لئے ان کو نصیحت کی تو ان کی قوم نے کہا کہ وہ ان کے لئے ایک عام شخص ہیں اور وہ انہیں کوئی اہمیت نہیں دیتے۔

‘‘وہ بولے: اے شعیب! تمہاری اکثر باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم تمہیں اپنے معاشرے میں ایک کمزور شخص جانتے ہیں، اور اگر تمہارا کنبہ نہ ہوتا تو ہم تمہیں سنگ سار کر دیتے اور (ہمیں اسی کا لحاظ ہے ورنہ) تم ہماری نگاہ میں کوئی عزت والے نہیں ہو’’۔ (ہود : 91)

تمام نبیوں نے یہی کہا کہ انہیں غیب کا علم نہیں ہے جو کچھ بھی علم ان کے پاس ہے وہ خدا نے انہیں عطا کیا ہے۔ لہذا جو بھی خبریں یا بشارات جو انہوں نے اپنی قوم کو دی وہ اس کی بدولت تھیں جو اللہ نے انہیں عطا کیا تھا۔ غیوب کا علم رکھنا صرف خدا کی خاصیت ہے۔

"غیب جاننے والا" (سبا : 4)

‘‘ہر نہاں اور عیاں کو جاننے والا ہے، بڑے غلبہ و عزت والا بڑی حکمت والا ہے،’’ (التغابن :18)

‘‘وہ اُن (سب) چیزوں کو جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی ہیں اور جو اس میں سے باہر نکلتی ہیں اور جو آسمان سے اترتی ہیں اور جو اس میں چڑھتی ہیں، اور وہ بہت رحم فرمانے والا بڑا بخشنے والا ہے۔ اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی، آپ فرما دیں: کیوں نہیں؟ میرے عالم الغیب رب کی قسم! وہ تم پر ضرور آئے گی، اس سے نہ آسمانوں میں ذرّہ بھر کوئی چیز غائب ہو سکتی ہے اور نہ زمین میں اور نہ اس سے کوئی چھوٹی (چیز ہے) اور نہ بڑی مگر روشن کتاب (یعنی لوحِ محفوظ) میں (لکھی ہوئی) ہے’’(صبا :2-3)۔

مکہ کے مشرکوں اور یہودیوں نے یہ پوچھ کر کہ قیامت کب آئے گی اور روح کی حقیقت کیا ہے نبی صلی اللہ علیہ کے علم کو آزمانے کی کوشش کی۔

اللہ نے جواب نازل فرمایا:

‘‘اور یہ (کفّار) آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، فرما دیجئے: روح میرے رب کے اَمر سے ہے اور تمہیں بہت ہی تھوڑا سا علم دیا گیا ہے’’۔ (بنی اسرائیل : 85)

قیامت بارے میں بھی سوال کیے جانے پر اللہ نے اسی طرح کا جواب نازل فرمایا تھا:

‘‘لوگ آپ سے قیامت کے (وقت کے) بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ فرما دیجئے: اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، اور آپ کو کس نے آگاہ کیا شاید قیامت قریب ہی آچکی ہو’’۔ ( الاحزاب :63)۔

مندرجہ بالا آیات سے یہ امر واضح ہو گیا کہ اللہ نے وحی کے ذریعہ اپنے منتخب نبیوں کو غیب کا کچھ علم دیا اور اس کے لیے اللہ نے فرشتوں کو مقرر کیا تاکہ اس کا پیغام کسی شیطانی دخل اندازی کے بغیر ہی لوگوں تک پہنچ سکے:

خدا قرآن مجید میں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح مخاطب ہے:

"آپ فرما دیں کہ میں (انسانوں کی طرف) کوئی پہلا رسول نہیں آیا (کہ مجھ سے قبل رسالت کی کوئی مثال ہی نہ ہو) اور میں اَزخود (یعنی محض اپنی عقل و درایت سے) نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور نہ وہ جو تمہارے ساتھ کیا جائے گا، (میرا علم تو یہ ہے کہ) میں صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف بھیجی جاتی ہے (وہی مجھے ہر شے کا علم عطا کرتی ہے) اور میں تو صرف (اس علم بالوحی کی بنا پر) واضح ڈر سنانے والا ہوں۔"( الأحقاف: 9)۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مشرکوں کو اس بات پر حیرانی ہوئی کہ وہ کیوں کر نبی ہو سکتے ہیں کیوں کہ وہ تو ہماری ہی طرح کھانا کھاتے ہیں اور سڑکوں پر گھومتے پھرتے ہیں۔

"اور وہ کہتے ہیں کہ اس رسول کو کیا ہوا ہے، یہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ " (الفرقان: 7)

قرآن مجید میں خدا نے ان کے سوالو کا جواب اس طرح دیا:

"اور ہم نے آپ سے پہلے رسول نہیں بھیجے مگر (یہ کہ) وہ کھانا (بھی) یقیناً کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی (حسبِ ضرورت) چلتے پھرتے تھے" (الفرقان: 20)

اسی طرح اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گزشتہ قوموں کے انجام سے آگاہ کیا تاکہ وہ اس سے کچھ حاصل کریں۔ لوگوں کو ان کے انجام کا کوئی علم نہیں تھا۔ اللہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قوم نوح کی کہانی اور اس کے انجام سے قرآن میں اس طرح آگاہ کیا:

"یہ (بیان ان) غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں، اس سے قبل نہ آپ انہیں جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم، پس آپ صبر کریں۔ بیشک بہتر انجام پرہیزگاروں ہی کے لئے ہے۔" (ھود: 49)

ایک دوسری آیت میں اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح مخاطب ہے:

" فرما دیجئے: میں تو صرف (بخلقتِ ظاہری) بشر ہونے میں تمہاری مثل ہوں (اس کے سوا اور تمہاری مجھ سے کیا مناسبت ہے! ذرا غور کرو) میری طرف وحی کی جاتی ہے (بھلا تم میں یہ نوری استعداد کہاں ہے کہ تم پر کلامِ الٰہی اتر سکے)۔ " (الکف : 110)

ایک اور آیت میں قرآن کا صاف بیان ہے کہ صرف خدا ہی غیب کا جاننے والا ہے:

"اور وہ (اب اسی مہلت کی وجہ سے) کہتے ہیں کہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ان کے رب کی طرف سے کوئی (فیصلہ کن) نشانی کیوں نازل نہیں کی گئی، آپ فرما دیجئے: غیب تو محض اللہ ہی کے لئے ہے، سو تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔" (یونس : 20)

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ وہ نہ تو خدا سے خزانے لے کر آئے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس غیب کا علم ہے اور نہ ہی وہ کوئی فرشتہ ہیں۔ اسی طرح اللہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قوم کے سامنے یہ اعلان کرنے کی ہدایت دی:

"آپ (ان کافروں سے) فرما دیجئے کہ میں تم سے (یہ) نہیں کہتا کہ میرے پاس اﷲ کے خزانے ہیں اور نہ میں اَز خود غیب جانتا ہوں اور نہ میں تم سے (یہ) کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں، میں تو صرف اسی (حکم) کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کیا جاتاہے۔" (الانعام:50)

قرآن مجید میں بار بار خدا کو علیم اور حکیم کہا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ خدا ہی تمام علم اور حکمت کا مالک ہے:

"اور غیب کی کُنجیاں (یعنی وہ راستے جس سے غیب کسی پر آشکار کیا جاتا ہے) اسی کے پاس (اس کی قدرت و ملکیت میں) ہیں۔" (الانعام:59)

بلا شبہ قرآن کا بیان ہے کہ خدا اپنے نبیوں میں سے جسے چاہتا ہے اسے اپنے علم کا ایک حصہ دیتا ہے۔

" اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ (اے عامۃ الناس!) تمہیں غیب پر مطلع فرما دے لیکن اللہ اپنے رسولوں سے جسے چاہے (غیب کے علم کے لئے) چن لیتا ہے ۔" (آل عمران : 179)

قرآن مجید میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ کا فرمان ہے:

" اور وہ (یعنی نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غیب (کے بتانے) پر بالکل بخیل نہیں ہیں (مالکِ عرش نے ان کے لئے کوئی کمی نہیں چھوڑی)۔ اور وہ (قرآن) ہرگز کسی شیطان مردود کا کلام نہیں ہے"۔ (التکویر:23-25)

اس کا مطلب یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کے توسط سے جو کچھ بھی علم انہیں ملا انہوں نے اس میں سے کچھ بھی چھپائے بغیر لوگوں کو اس سے آگاہ کر دیا۔

قرآن مجید میں بہت سے مواقع پر واضح انداز میں یہ ذکر ہے کہ صرف خدا ہی غیب کی باتوں کو جاننے والا ہے، اب اس کے بعد اس معاملے پر میں کسی پیچیدگی یا اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی ہے۔

"یا آپ کا کوئی سونے کا گھر ہو (جس میں آپ خوب عیش سے رہیں) یا آپ آسمان پر چڑھ جائیں، پھر بھی ہم آپ کے (آسمان میں) چڑھ جانے پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ آپ (وہاں سے) ہمارے اوپر کوئی کتاب اتار لائیں جسے ہم (خود) پڑھ سکیں، فرما دیجئے: میرا رب (ان خرافات میں الجھنے سے) پاک ہے میں تو ایک انسان (اور) اﷲ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں"۔ (بنی اسرائیل : 93)

" اور اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی ہے اور اس نے آپ کو وہ سب علم عطا کر دیا ہے جوآپ نہیں جانتے تھے، اورآپ پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہے ۔" (النساء: 113)

‘‘درجات بلند کرنے والا، مالکِ عرش، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے روح (یعنی وحی) اپنے حکم سے القاء فرماتا ہے تاکہ وہ (لوگوں کو) اکٹھا ہونے والے دن سے ڈرائے’’۔ (غافر : 15)

خدا نے یسوع مسیح کو بھی غیب کا علم دیا تھا:

"اور جو کچھ تم کھا کر آئے ہو اور جو کچھ تم اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو میں تمہیں (وہ سب کچھ) بتا دیتا ہوںاور جو کچھ تم کھا کر آئے ہو اور جو کچھ تم اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو میں تمہیں (وہ سب کچھ) بتا دیتا ہوں۔" (آل عمران: 49)

اسی طرح خدا نے حضرت خضر علیہ السلام کو بھی غیب کا علم دیا تھا اور موسی علیہ السلام کو ان سے ملنے ان سے حکمت سیکھنے کا حکم بھی دیا تھا۔

اللہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کتاب اور حکمت سے نوازا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کی عطاء کردہ علم کی بنیاد پر بہت سی پیشن گوئیاں کیں اور خدا کے حکم سے گزشتہ امتوں کی کہانیاں بیان کیں تاکہ مسلمان قیامت تک ان سے فائدہ حاصل کرتے رہیں۔ خدا کی ایک خاصیت یہ ہے کہ خدا عالم الغیب، علیم اور حکیم ہے۔ تمام علوم پر اسی کی اجارہ داری ہے اور وہ نبیوں میں سے جسے چاہتا ہے اپنی مرضی سے اپنے علم سے حصہ فراہم کرتا ہے۔ اس کا نبیوں کی حیثیت، عظمت اور حرمت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اللہ مسلمانوں کو طاقت اور علم کے لحاظ سے خدا کے ساتھ کسی کو شریک کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے قرآن مجید میں بے شمار مواقع پر انبیاء سے یہ اعلان کروایا وہ وہ صرف نبی ہیں اور انسان ہیں اور ان کے پاس غیب کا علم نہیں ہے۔ صرف خدا غیب جاننے والا ہے اور انبیاء اپنی قسمت کے مالک نہیں ہیں۔

"فرما دیجئے: میں اپنی ذات کے لئے نہ کسی نقصان کا مالک ہوں اور نہ نفع کا، مگر جس قدر اللہ چاہے"۔ (یونس : 49)

قرآن کا فرمان ہے کہ خدا نے چند نبیوں کو کچھ انفرادی تحفوں سے نوازا ہے:

‘‘یہ سب رسول (جو ہم نے مبعوث فرمائے) ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، ان میں سے کسی سے اﷲ نے (براہِ راست) کلام فرمایا اور کسی کو درجات میں (سب پر) فوقیّت دی (یعنی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جملہ درجات میں سب پر بلندی عطا فرمائی)، اور ہم نے مریم کے فرزند عیسٰی (علیہ السلام) کو واضح نشانیاں عطا کیں اور ہم نے پاکیزہ روح کے ذریعے اس کی مدد فرمائی۔’’ (البقرہ: 253)

خدا نے عیسی علیہ السلام کو مریضوں کو شفا عطا کرنے اور اللہ کی اجازت سے مردوں کو زندہ کرنے کی طاقت بخشی۔ اللہ نے موسیٰ کو براہ راست خود سے کلام کرنے کا اعزاز بخشا۔

"اور ہر بشر کی (یہ) مجال نہیں کہ اللہ اس سے (براہِ راست) کلام کرے مگر یہ کہ وحی کے ذریعے (کسی کو شانِ نبوت سے سرفراز فرما دے) یا پردے کے پیچھے سے (بات کرے جیسے موسٰی علیہ السلام سے طورِ سینا پر کی) یا کسی فرشتے کو فرستادہ بنا کر بھیجے اور وہ اُس کے اِذن سے جو اللہ چاہے وحی کرے"۔ (الشوریٰ : 51)

خدا نے داؤد علیہ السلام کو پرندوں اور جانوروں کی زبان کا علم دیا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو خدا کی اجازت سے ہوا میں پرواز کرنے کی طاقت دی تھی۔ خدا نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام نبیوں کا سردار بنایا اور معراج کی رات اللہ نے انہیں اپنی مجالست سے نوازا۔

 خدا نے قرآن مجید میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کی قسم کھائی:

" نون (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، قلم کی قَسم اور اُس (مضمون) کی قَسم جو (فرشتے) لکھتے ہیں۔ (اے حبیبِ مکرّم!) آپ اپنے رب کے فضل سے (ہرگز) دیوانے نہیں ہیں۔ اور بے شک آپ کے لئے ایسا اَجر ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا۔ اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں (یعنی آدابِ قرآنی سے مزّین اور اَخلاقِ اِلٰہیہ سے متّصف ہیں)۔"(القلم:1-4)۔

‘‘اے نبیِ (مکرّم!) بیشک ہم نے آپ کو (حق اور خَلق کا) مشاہدہ کرنے والا اور (حُسنِ آخرت کی) خوشخبری دینے والا اور (عذابِ آخرت کا) ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اس کے اِذن سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور منوّر کرنے والا آفتاب (بنا کر بھیجا ہے)’’۔ (الاحزاب:45-46)

قرآن مجید میں اللہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سےاس طرح مخاطب ہے:

‘‘فرما دیجئے: (اے کافرو!) بس میں ظاہراً آدمی ہونے میں تو تم ہی جیسا ہوں (پھر مجھ سے اور میری دعوت سے اس قدر کیوں گریزاں ہو) میری طرف یہ وحی بھیجی گئی ہے کہ تمہارا معبود فقط معبودِ یکتا ہے’’۔ (فصلت : 6)

لہذا خدا نے نبیوں کی عظمت کے تعلق سے واضح آیات نازل فرما دیا ہے جس کی وجہ سے اب ان کے بارے میں مبالغہ آرائی کی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔

(انگریزی سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

آفتاب احمد نیو ایج اسلام کے کالم نگار اور ایک فری لانس صحافی ہیں۔ وہ کچھ عرصے سے قرآن مجید کا مطالعہ کر رہے ہیں۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-society/aftab-ahmad,-new-age-islam/prophets-and-ilm-ul-ghaib-(knowledge-of-the-unseen)/d/76979

URL for this article

http://newageislam.com/urdu-section/aftab-ahmad,-new-age-islam/prophets-and-ilm-ul-ghaib--انبیاء-علیہم-السلام-اور-علم-غیب/d/87611

 

Loading..

Loading..