افروز خان، نیو ایج اسلام
1 مئی 2025
7ویں صدی کی ایک مسلم سپہ سالار خولہ بنت الازور نے، جنگوں کی قیادت کر کے، اپنے بھائی کو بچا کر، اور قید سے فرار ہو کر دقیانوسی تصورات کو پارہ پارہ کر دیا۔ ان کی یہ داستان زندگی ان دعووں کو جھوٹا ثابت کرتی ہے، کہ اسلام نے خواتین کو ظلم کے پنجے میں جکڑ رکھا ہے، انہوں نے اپنی عسکری صلاحیتوں اور صنفی اصولوں کو توڑ کر، اس دور میں ویمن امپاورمنٹ اور صنفی مساوات کا ثبوت دیا۔
اہم نکات:
1. اپنے بھائی سے تلوار بازی، گھڑ سواری اور جنگی حکمت عملی میں مہارت حاصل کی۔
2. یرموک (636 عیسوی) جیسی اہم جنگوں میں بازنطینی کمانڈروں کو شکست دینے والی خواتین بٹالین کی کمانڈر تھی۔
3. دمشق کے محاصرے (634 عیسوی) کے دوران اپنے بھائی کو آزاد کرانے کے لیے، دشمن کے خیموں پر چھاپہ مارا۔
4. جنرل خالد بن الولید کا بھیس بنا کر اسلامی فوجیوں کا حوصلہ بلند کیا۔
5. قید توڑا، محافظوں کو ہلاک کیا، اور غیر روایتی ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے قیدیوں کو آزاد کیا۔
-----------

خولہ بنت الازور، ایک جنگجو
------
آج ایک عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ اسلام نے عورتوں کو "قید" کر رکھا ہے۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں الگ ہے۔ اسلامی تاریخ ایسی غیر معمولی صلاحیتوں کی حامل خواتین سے بھری پڑی ہے، جنہیں اسلامی فریم ورک کے اندر پوری آزادی حاصل تھی، یہاں تک کہ وہ جنگوں کی قیادت کیا کرتی تھیں، اور تاریخ رقم کیا کرتی تھیں۔ آج ہم آپ کو ایسے ہی ایک اسلامی شہزادی سے ملواتے ہیں: خولہ بنت الازور، ایک ایسی جاتون سپہ سالار جن کی ہمت اور جنگی مہارت نے دقیانوسی تصورات کو پاش پاش کیا، اور تاریخ کے اندر سنہری حروف میں اپنا نام درج کرایا۔
ساتویں صدی میں مکہ میں بنو اسد قبیلے کے ایک سردار الازور الاسدی کے ہاں پیدا ہوئیں، خولہ کی ایک ایسے ماحول میں پرورش ہوئی، جس میں ہمت و بہادری کی قدر کی جاتی تھی۔ ان کے بھائی، ضرار، جو خود ایک زبردست سپہ سالار تھے، خولہ نے انہیں سے تلوار بازی، گھڑ سواری، نیزہ بازی اور فوجی حکمت عملی کی تربیت لی۔ ان کی تربیت کا ہی اثر تھا کہ خولہ ایک مضبوط سپہ سالار بنیں، اور یہ ثابت کر دیا کہ اسلام نے خواتین کی صلاحیتوں کو کبھی محدود نہیں کیا، بلکہ اسلام نے انہیں بااختیار بنایا ہے۔
خولہ کی شجاعت و بہادری کی داستانیں مسلمانوں کے ہاتھوں، لیونٹ کی فتوحات کے دوران خوب پروان چڑھیں۔ 636 عیسوی میں، بازنطینی سلطنت کے خلاف یرموک کی جنگ میں، انہوں نے ایک خواتین بٹالین کی قیادت کی۔ انہوں نے نہ صرف اپنے سپاہیوں کو تزویراتی مہارت کے ساتھ کمانڈ کیا، بلکہ اپنی بے مثال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے، ایک بازنطینی خاتون کمانڈر کو خود اپنے ہاتھوں سے شکست دی۔ اس جنگ میں ایک نڈر لیڈر کے طور پر ان کی ساکھ مضبوط ہوئی۔
دمشق کے محاصرے کے دوران ان کی بہادری مزید اجاگر ہوئی۔ جب ان کے بھائی ضرار کو بازنطینی افواج نے پکڑ لیا، تو خولہ نے دشمن کے عقبی محافظ پر ایک جرات مندانہ حملہ کیا، انہیں آزاد کرایا اور جنگ کا رخ ہی بدل ڈالا۔ ان کے اقدامات صرف جنگوں تک محدود نہیں تھے، بلکہ وہ میدان جنگ میں زخمی فوجیوں کا بھی دھیان رکھا کرتی تھیں، جس سے ان کی شخصیت ہمدردی اور شجاعت و بہادری دونوں کا مرکز نظر آتی ہے۔
خولہ کی سب سے مشہور داستانوں میں سے ایک یہ ہے، کہ انہوں نے ایک مرتبہ میدان جنگ میں جنرل خالد بن الولید کا بھیس بدل لیا تھا۔ ہوا یوں کہ ایک جنگ کے دوران، انہوں نے سبز بکتر زیب تن کر کے اپنے چہرے کو پردے سے ڈھانپ لیا۔ میدان جنگ میں سپاہی، اپنے "جنرل" کی شجاعت و جوانمردی سے متاثر ہو کر، پوری جانبازی سے لڑے، جنگ ختم ہونے کے بعد پتہ چلا کہ وہ تو خولہ تھیں۔ حتیٰ کہ ایک کمانڈر شرحبیل بن حسنہ نے بھی کہا:
"یہ سپاہی خالد بن الولید کی طرح لڑ رہا ہے، لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ خالد نہیں ہے۔"
ان کے حوالے سے ایک اور جنگی افسانہ یوں ہے کہ، خولہ لڑائی کے دوران گھوڑے سے گرنے کے بعد گرفتار کر لی گئیں۔ انہیں بازنطینی کمانڈر کے کیمپ میں لے جایا گیا، لیکن انہوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا۔ خیمے کے کھمبوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے، انہوں نے ساتھی خواتین قیدیوں کو اکٹھا کیا، پانچ محافظوں کو قتل کیا، اور وہاں سے فرار ہو گئیں۔ ان کا یہ عمل مزاحمت اور جنگی حکمت عملی کی علامت بن گیا۔
خولہ بنت الازور کی جنگی صلاحیت کو خلیفہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سراہا۔ پورے سعودی عرب میں، ان کے نام پر سڑکوں اور اسکولوں کے نام ہیں، جب کہ اردن نے تاریخ میں عرب خواتین کی سیریز میں ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ ان کے نام سے جاری کیا۔ متعدد عرب شہروں میں ان کے نام سے منسوب تعلیمی ادارے ہیں۔ عراق نے ان کے اعزاز میں ایک پورا خواتین فوجی یونٹ، خولہ بنت الازور بٹالین قائم کیا ہے۔ خواتین کے لیے متحدہ عرب امارات کا سب سے بڑا ملٹری کالج، خولہ بنت الازور ٹریننگ کالج بھی، ان کی میراث کی یادگار ہے۔
خولہ کی زندگی اس بیانے کو جھوٹا ثابت کرتی ہے، کہ اسلام خواتین پر ظلم کرتا ہے۔ اس کے بجائے، ان کی داستان زندگی یہ بتاتی ہے، کہ کس طرح مذہب نے صدیوں پہلے خواتین کو حق مساوات اور اختیارات عطا کیا ہے۔ ان کی زندگی ان لوگوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ: ’’اسلام نے عورتوں کو غلام بنایا‘‘، ’’اسلام نے عورتوں کی زندگی کو محدود کردیا۔‘‘ اسلام نے عورتوں کے حقوق چھین لیے۔
میدان جنگ میں اور اس کے بعد بھی، ان کی کامیابیاں یہ ثابت کرتی ہیں کہ اسلام نے خواتین کو معاشرے میں اپنے کردار کو بہتر بنانے، اور قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔ خولہ بنت الازور کوئی الگ نہیں تھیں، بلکہ ایک ایسی روایت کا آئینہ دار تھیں جس میں خواتین کی طاقت اور ذہانت کا احترام کیا جاتا تھا۔
-----
English Article: Islam Imprisoned Women? The Untold Story of Khawla bint Al-Azwar, the Warrior Who Defied Stereotypes
URL: https://newageislam.com/urdu-section/islam-imprisoned-khawla-bint-al-azwar-warrior/d/135795
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism