New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 05:54 AM

Urdu Section ( 22 Aug 2012, NewAgeIslam.Com)

Ramadan Forever In September ہمیشہ کے لیے ستمبر میں ماہ رمضان

 

ڈاکٹر عدیس ددریجا، نیو ایج اسلام

20جولائی، 2012

(انگریزی سے ترجمہ‑ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام)

پہلے ایک تردید۔  درج ذیل میں جو کچھ پیش کیا جا رہا ہے وہ  اس مسئلہ پر  ایک جامع یا تعلیمی   انداز کی کوشش نہیں ہے بلکہ  یہ  مصنف کی جانب سے کی گئی کم و بیش   بے ترتیب غور و فکر ہے۔

 دیگر مذاہب کے بر عکس عالم گیر مذہب کا دعوی کرنےوالے ، اسلام کو عصر حاضر میں بہت سی مشکلات کا سامنا  ہے، جس میں  حیاتی اخلاقیات (مثال کے طور پر ہیومن کلوننگ) سے لے کر سیاست  (مذہب، ریاست اور سماج کے درمیان تعلقات) سماجی و اقتصادی ترقی اور تعلیم تک شامل ہے۔

 ان مسائل پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور  بشمول اس مصنف کےآگے بھی  لکھا جاتا رہے گا۔  تحریر کا یہ ٹکڑا اس سوال سے نمٹنے کی کوشش کرے گا ، تاہم وہ اتنے بلند مرتبے والا تو نہیں ہے، جیسا کہ درج بالا میں ذکر کیا گیا ہے لیکن ان پر خاطر خواہ بحث اور تکرار ہو چکی ہے۔ سوال روزے کے مسئلے سے متعلق ہے، خاص مسٔلہ دنیا کے دونوں قطب  کے قریب کے جغرافیائی علاقوں میں  روزہ رکھنے کے سوال  کا حل تلاش کرنا ہے۔ خاص طور پر مندرجہ بالا میں جن کا ذکر کیا گیا ہے، ان کے با لمقابلے پہلی نظر میں ہی اس مسئلہ کومعمولی مانا جا سکتا ہے، امید ہے جیسے جیسے قارئین اسے پڑھیں گے ان  پر  اس مسئلے اور اس پر  مصنف کی تجویز  اور  اس  بحث کے  فائدے کا انکشاف ہوتا جائے گا۔  ایسا  اس لئے ہے  کیونکہ بعض وجوہات کی بناء پر اس مسئلے کی تحقیق ضروری ہے کیونکہ تحقیق ایسےمزید اہم سوالات کے دروازے کھولتا ہے جن کا تعلق اسلامی روایات اور  اس کے مستقبل کی شکل سے  ہے۔

کچھ سال پہلے 1990کی دہائی کے آخیر میں میں نے بڑی تعداد میں مسلم فورم اور ویب سائٹ پر  اس مسئلے پر ہوئے کچھ مباحثوں میں شرکت کی تھی اور جہاں تک مجھے علم ہے  روزے کے تعلق سے درج بالا میں  پیش کشمکش کے بارے میں دو تجاویز پیش کی گئی تھی:

 1۔ مکہ میں روزے  کے اوقات کو ماننا۔

2 ۔ اگر روزے کا مہینہ نہ ہو تو جیسے عام طور سے  کوئی شخص ناشتا اور کھانا کھاتا  ویسے ہی ناشتہ اور کھانا کھانا چاہئے۔

 درج بالا میں پیش دونوں  حل  سے  مجھے ذاتی طور پر کسی بھی طرح کا کوئی اختلاف نہیں ہے اور میرا یقین ہے کہ روزہ رکھنے کا سوال ایک ذاتی معاملہ ہے۔  درج ذیل خیال ( کچھ دوسرے لوگوں نے ا سے پہلے سوچا ہو گا لیکن مجھے اس کا علم نہیں ہے) :  ستمبر کے مہینےکو ماہ رمضان کیوں نہیں طےکر دیتے جب خزاں کا موسم ہوتا ہےاور  شب وروز میں اعتدال پیداہوجاتا ہے؟  اس سے پہلے کہ میں ممکنہ اعتراضات  کا جواب دوں اس سے بھی  پہلے برائے مہربانی  مجھے میرے نقطہ نظر سے پیش  کردہ تجویزات کے فوائد   کوواضح کر لینے دیں۔

(1) دیگر دو حل  کے برعکس  اس   تجویز پر عمل کرنے سے   روزہ  رکھنے کی شروعات اور اختتام  کے دن کے ایام قرآن کی روح کے مطابق ہوں گے کیونکہ   کوئی بھی  روزے کو شروع اور ختم  سورج کے  طلوع اور غروب ہونے کے وقت کے اصل ترتیب  کے مطابق کر سکتا ہے۔

(2)  پوری دنیا میں  رات اور دن کی مدت میں اتار چڑھائو  کم سے کم ہوتا ہے۔

 (3)  دونوں نصف کرّہ ارض میں درجہ حرارت ممکنہ طورپر یکساں ہوں گے ۔

(4) ذیادہ سے ذیادہ لوگ روزہ رکھنے کے لئے راضی ہوں گے۔

(5)  شمسی کیلنڈر میں  روزہ رکھنے کا مہینہ اسی مہینے میں آئے گا جیسا کہ  قمری کیلنڈر میں  آتا ہے (نواں مہینہ‑  رمضان)

پوائنٹس دو  اور تین خاص طور سے اہم ہیں کیونکہ  ہم میں سے جس نے روزہ رکھا ہے وہ سمجھ سکتا ہے کہ  روزہ جسمانی اور روحانی دونوں اعتبار سے کافی مطالبہ کرنے والا کام ہو سکتا ہے، اور  اکثر روزانہ کی  ذمہ داریوں اور فرائض کو پورا کرنے کی صلاحیت پر کافی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ (مجھے یاد ہے کئی سال پہلے آسٹریلیا میں  موسم گرما میں روزہ رکھنا،  جب  درجہ حرارت  مسلسل 35ڈگری سے زیادہ اور 45 ڈگری سے کم ہوا کرتا تھا اور روزانہ روزہ رکھنے کی مدت  16 گھنٹے سے بھی زیادہ ہوا کرتی تھی۔ خوش قسمتی سے اس وقت میں طالب علم تھا اس لئے کسی خاص دشواری کے بغیر روزے مکمل کر لیتا تھا لیکن ان  لوگوں کے بارے میں  غور کیجئے  جو موسم کے رہم و کرم پر  تھے اور اس کی مار برداشت کرتے تھے!)۔  اس سے کام کی جگہ پر ایک شخص کی  کارکردگی پر  اور  مسلم اکثریت والے ممالک پر اس کی اقتصادی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ ( برائے مہربانی ایسا نہ سوچیں کہ میں خود کے روزہ نہ رکھنےکے لئے ایک 'عذر' کے طور  پر یا روزہ رکھنے کو اپنے لئے آسان بنانے کے لئے  ایسا لکھ رہا ہوں‑  یونیورسٹی کے ایک محقق کی حیثیت سے میں  آب ہوا کی سختی کے معاملے میں  دیگر لوگوں کے مقابلے بہت ہی کم متاثر ہوتا ہوں‑  اگرچہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ ان ایام میں میری کارکردگی تھوڑی  کم ہو جاتی ہے)۔  اس سے کسی کی بھی صحت اور  خیر و عافیت  پر اثر پڑنا کا  ممکن ہے۔ مثال کے طور پر کئی دیندار اور متقی مسلمان ایسی حالت میں روزہ رکھتے ہیں جب ان کی صحت اس کی اجازت نہیں دیتی ہے لیکن اپنے پروردگار کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے  وہ اپنی صحت، خیر و عافیت کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

میری تجویز کافی حد تک  روزے کے لمبے دنوں اور  سخت موسم   کے اثر کو  کم  کرنے میں مدد کرے گی،  جو لوگوں کے اجتماعی اور انفرادی دونوں کارکردگی اور ان کے  بہبود پر اثر انداز ہو گی۔

میں  پھرزور  دینا چاہوں گا کہ اس تجویز کو حالات سے ' نمٹنے' کے ایک ذریعہ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے کیونکہ ستمبر کے مہینے میں روزے کی حالت میں بھی یقینی طور پر حقیقی زندگی کے کئی مطالبات ہو سکتے ہیں۔

 میں یہ بھی مشورہ نہیں دے رہا ہوں کہ  کھانے اور پینے سے اجتناب  کرنا ہی روزہ ہے،  جیسا کہ ہمیں مسلسل خطبات اور بیانات میں یاد دہانی کرائی جاتی ہے، پھر بھی یہ   اس کا اہم حصہ ہے!

اب ممکنہ اعتراضات

شایدسب سے   پہلے قمری سے  شمسی کیلنڈر کی تبدیلی کی طرف اشارہ کیا جائے گا۔  اب اگر کوئی غور کرے کہ اسلام  سے پہلے کے کئی  حجازی طریقوں اور رسوم و رواج قرآنی نظریات اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں  شامل کر لئے گئے تھے، اور وہ  صنفی تعلقات، شرم و حیا  اور صفات کےمتعلق قوانین تھے۔(مثال کے طورپر صرف  مردوں کو  یکطرفہ طور پر طلاق کا حق)،  جنگ (خواتین اور بچے جنگ کے مال غنیمت  کے طور پر،  لڑائی کے لئے  ممنوع مہینہ) اور معاشرتی عمل (جیسے غلامی  اور   ہفتے میں طبقاتی اجتماع کا دن، ' یوم الجمع' اس دن آتا تھا جس دن روایتی طور پر لوگ  بازار میں جمع ہوتے تھے اور یہاں تک کہ  خود قمری مہنیے کا عربی نام)  تک تھا، جس کو  اکثر (غلطی)  سےمذہبی اور قانونی نظام کے لئے  اسلام کے  لازمی حصہ کے طور پر سمجھا جاتا تھا۔  مجھے امید ہے کہ  مجوزہ  تبدیلی کو ایک نئی روشنی میں دیکھا جائے گا اور  اس طرح زیادہ  قابل قبول ہوگا۔

شاید قمری جنتری کی  بنیاد پر ہجری کیلنڈر کے ادارے کے بارے میں بھی معقول طریقے سے  غور  کرنا چاہئے۔   ہجری کیلنڈر کو دوسرے خلیفہ حضرت عمر  رضی اللہ عنہ  نےمتعارف  اور قائم کیا تھا ،  اس طرح اسے قرآن یا سنت کے مطابق  عمل کے طور پر  نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ اور  اس طرح اس پر عمل پیرا ہونا نظریے یا عقیدے کا سوال نہیں ہے۔

دوسرا اعتراض تشخص کے نقصان اور 'مغرب  ' کی تقلید کرنے کے  تعلق سے ہوگا۔  اب جبکہ اس میں  یقینی طور پر کچھ فوائد ہیں تو اس کا جائزہ وسیع تر تناظر میں  لیا جانا چاہئے۔  اول، چاہے ہم اسے پسند کریں یا  نہیں،  عام  شمسی جار جیائی کیلنڈر 'مغرب' کے اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی غلبے پر مبنی ہے اور  بین الاقوامی سطح پر  اسے قبول  کیا جاتا ہے  اور جس کے ذریعے سے زیادہ تر مسلمان اپنی زندگی کو منظم کرتے ہیں۔  اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ  غیر مسلمان  (ساتھ ہی ساتھ مسلمان بھی) یہ جان جائیں گے کہ کب روزے کا مہینہ شروع  ہو رہا ہے اور کب ختم (جیسے  کرسمس)  ہو رہاہے۔ اور اس موقع پر   گریٹنگ کارڈس وغیرہ کے آپس میں تبادلے سے بین العقائد حساسیت  کو تقویت ملے گی۔ میں اس میں یہ بھی شامل کرنا چاہوں گا کہ  مسلمانوں کو بین العقائد خیر سگالی کو فروغ دینے کے لئے  عیسیٰ علیہ السلام کے جنم دن کو  مذہبی اعتبار سے قابل قبول طریقے سے  اپنے عیسائی دوستوں اور پڑوسیوں  کے ساتھ  ( یا نئے سال کو  اپنے سیکولر دوستوں اور پڑوسیوں کے ساتھ منائیں۔  زیادہ تر مقامات پر نئے سال  کی تقریب کو منانے میں  شامل  رہی مذہبی اہمیت  کھو چکی ہے)  منانے کو  ایک روایت بنا سکتے ہیں ۔ (یہاں ایک غیر معروف  حدیث  سے ایک ممکنہ  اعتراض ہو سکتا ہے ۔ قانونی اور  ثقافتی طور پر لازمی احادیث سے نہیں جو  مسلمانوں کی  رسوم و رواج، تہواروں، اور لباس  کے تعلق سے  امتیازپر زور دیتی ہیں اور جس کا تنگ نظر اور لاعلم مسلمانوں نے غلط استعمال کیا۔ اور غلطی سے جس کی تشریح  تاریخی سیاق و سباق کے بغیر آفاقی انداز میں کی گئی۔ جیسا کہ میں نے  دوسری جگہ  اس موضوع پر زیادہ عالمانہ انداز میں  بتایا ہے کہ  یہ اور اس طرح کی احادیث قرآن اور سنت کی تعلیمات کی جامع اور  منظم طریقہ سے تشریح میں کوئی مقام نہیں رکھتی ہیں۔)

آخرمیں  اختتامی  نقطہ سے متعلق تجویز،  محدود ہی سہی لیکن اہم طریقے سے ہمیں  آپسی مخالفانہ شناخت کی تعمیر کی تاریخ سے دور کرے گی جو پہلے رائج رہ چکی ہے اور کچھ معاملات میں   مسلمانوں اور مغربی تہذیب کے درمیان اب بھی  موجود ہے (جو کہ حقیقت میں اصل تاریخی حالات کے بجائے خود کی اور دوسروں کی  بنائی ہوئی  ہیں اور جو  دوغلے پن اور داخلی رابطے کی سمت میں پختہ طور پر اشارہ کرتی ہیں)

 میں اپنی تجویز پر عمل در آمد کو لے کر منفی سوچ رکھتا ہوں لیکن میں اپنا مقصد حاصل کر لوں گا اگر  میں اپنے قاری کو  کم از کم اپنی تجویز اور درج بالا میں ذکر کئے گئے  وسیع تر اسلامی روایات سے متعلق سوالات پر سنجیدگی سے غور کرنے کا قائل کر سکا۔

ڈاکٹر ادس ددریجا  میلبورن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں ریسرچ ایسوسی ایٹ ہیں اور وہ نیو ایج اسلام کے لئے باقاعدہ کالم لکھتے ہیں۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-ideology/ramadan-in-september-forever!/d/7986

URL for Hindi article:

http://www.newageislam.com/hindi-section/डॉक्टर-अदिस-दुदरीजा,-न्यु-एज-इस्लाम/हमेशा-के-लिए-सितम्बर-में-रमज़ान-का-महीना!/d/8390

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/ramadan-forever-in-september--ہمیشہ-کے-لیے-ستمبر-میں-ماہ-رمضان/d/8391

 

Loading..

Loading..