New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 10:57 AM

Urdu Section ( 26 Aug 2012, NewAgeIslam.Com)

Quranic Assumptions and Their Importance in Understanding the Qur'anic Principles قرآنی اصول کی تفہیم میں قرآنی مفروضات اور ان کی اہمیت

 

ڈاکٹرعدیس ددریجا، نیو ایج اسلام

26 جولائی، 2012

(انگریزی سے ترجمہ‑ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام)

نسل در نسل مسلم، فلسفیوں، فقہا، وکلاء ( اور ساتھ ہی ساتھ  عام مسلمان)  نے  کسی خاص موضوع یا مسئلے  میں قرآن کا کیا  کہنا ہے کے سوال کے ساتھ خودکو وابستہ رکھا ہے۔اورانھوں نے  قرآن مجید کے مفسرین کی بنیادی تشریحی مفروضات کے نتیجے میں  کثیر تعداد میں مختلف تشریحات کو تشکیل دیا ہے ۔ تاہم،میرے( مصنف) کے نقطہ نظر کے مطابق  ان مفسرین حضرات نے  اس امر پر خاطر خواہ توجہہ نہیں دی کہ پہلے کس نوعیّت کے قیاس اور مفروضات قرآن کے اصل  متن سے ظاہرھوتےھیں۔ اور کس طرح وہ قرآنی تشریح کے اسلوب اثراندازھوتے ھیں۔  اس مضمون کا مقصد  سماجی’ ثقافتی’ اخلاقی اور قرآنی ماحول کو  نظام عقیدت   کے دائرے میں کچھ مفروضات  کا مختصر خاکہ پیش کرنا ہے۔  قرآنی  احکامات  کی  اصل نوعیت  اور مقصد کو سمجھنے کے لئے ان مفروضات  کے اہم کردار  پر  یہ مضمون مزید زور د یتا ہے جوقرآن کی تشریح میں ایک ضروری عنصر/اسلوب کے طور پر استعمال کیا گیا۔اس مضمون کے آغاز میں میں (مصنف)نے متعدد قرآنی احکامات  کے مقصد اور معنی کو سمجھنے کے لئے خاص طور سے یہ ظاہر کر دینا چاہتا ہوں کہ  یہ جاننا کافی نہیں ہے کہ قرآن کیا کہتا ہے بلکہ یہ جاننا بھی ضروری ھے کہ ان آیات سے کس طرح حقوق فرض ھوتے ھیں؟ اس تجویز کو صحیح طریقے سے سمجھنے کے لئے ہمیں ان مفروضات کی تحقیقی کرنی ہو گی جوقرآنی وحی کوبراہ راست حاصل کرنے والوں کے نظریات کی رہنمائی کرتے ھیں اور ساتھ ہی ساتھ ان اسلوب لی بھی تحقیق کرنی ہوگی جو قرآن کے متن سے ظاہر ہوتے ہیں ۔  اس مضمون  کی لمبائی کو محدود کرنے کے لئے کچھ منتخب تعداد میں   مفروضات  پر غور کیا جائے گا۔  مفروضات کا انتخاب   مجموعی طور پر  تشریح کے قرآنی طریقہ کار پر مبنی ہے ۔۔  اس سے پہلے کہ ان قیاس اور مفروضات پر کچھ غور کیا جائے جو براہ راست قرآن کے متن سے ظاہر ہوتے ہیں کچھ ابتدائی  تبصرہ پیش ہے

1)قرآنی مفروضات  کا اپنے متن میں ہی ظہور

جیسا کہ ہم آنے والی سطروں میں قرآنی مفروضات کا اظہاراوراسکے مماثل تصورات کو دیکھیں گے۔ مثال کے طور یہ کہ اللہ کی سنت رہی ہے کہ وہ  لوگوں کی حکایات بیان فرماتا ہے مثال کے طور پر حضرت لوط، حضرت نوح، حضرت ابراہیم  علیہ السلام وغیرہ کی حکایتں۔اورفرشتے،صحیفے وغیرہ پرعقائد کا بیان اور مخصوص الفاظ، جملے،اورعبارات میں مر د مومن کی جمع  شکل مومنین کےاستعمال(اس پربراہ راست ایمان رکھنے والے)میں صاف ظاہر ہے۔ان مفروضات کو واضح طور پرسمجھنے کے لئے انہیں ہم سماجی‑ثقافتی، اخلاقی اور  عقیدے پر مبنی تین  شعبوں میں تقسیم کریں گے۔

(2)  سماجی ثقافتی مفروضات’موروثی نظام حکومت

قرآن کے بعض حصوں میں  سب سے واضح مفروضہ جو وحی کے ماحول میں تاریخی اعتبارسے بلکل واضح ھے وہ  موروثی نظام حکومت کو  قبول کرنا ہے۔قرآن لسانی سطح پر مردوں کو طلاق اور شادی کے معاملات میں جوہدایت دیتا ہے وہ قرآنی احکامات میں  ظاہر ہے ، قرآن فرماتا  (5:2؛ اور 2:229 میں بھی) ہے: " طلاق (صرف) دو بار (تک) ہے، پھر یا تو (بیوی کو) اچھے طریقے سے (زوجیت میں) روک لینا ہے یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے"

قرآن (2:230) شرط لگاتا ہے کہ  اگر کسی مرد نے کسی عورت کو طلاق دیاتو وہ مرد اس عورت سے تب تک شادی نہیں کر سکتا ہے جب تک کہ  اس کی کسی دوسرے سے شادی نہ ہو جائے۔اسی طرح قرآن آیت  65:1 میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت دیتی ہے کہ اگر مرد اپنی بیویوں کو طلاق دیں تو وہ انہیں ان کے عدت کے ایام  تک  اپنے گھر میں رہنے کی اجازت دیں۔ پھر آیت 33:49 میں مومنوں سے کہا گیا ہےکہ  اگر انہوں نے  مومنہ عورتوں سے شادی کی اور پھر انہیں چھونے سے پہلے طلاق دے دیا، تو ان عورتوں کو  عدت کا شمارکرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ایسا لگتا ہے کہ کم از کم ان صورتوں میں مردوں اور عورتوں دونوں سے متعلق معاملات  کو پوری طرح سے مردوں پر چھوڑدیا گیا ہے اور عورتوں کو صرف ایک غیر فعال کردار میں رکھا گیا ہے۔ سماجی و ثقافتی حقوق قوانین کی سطح پر (4:34) میں عورتوں کے مقابلے مردوں کو نان و نفقہ کی ذمّہ داری دیکر سماجی امتیازپر مبنی فضیلت والے درجات عطا کرتا ہے۔سورۃ البقرہ  میں  وراثت سے متعلق آیات سے یہی مفہوم واضح ہوتا ہے کہ قرآن عورتوں کے مقابلے مردوں کے حق غیر مساوی تناسب کی شرط رکھتا ھے۔ یا قرآن نےجنگ میں یاشکست قبیلے کی عورتوں اور بچوں کومال غنیمت کے طور پر لے جانے کی قبائلی روایت کو برقراررکھتا ھے ،جس کا قرآن میں بالواسطہ طور پرحوالہ دیا گیا ہے اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانے میں ایک روایت تھی۔

مندرجہ بالا تمام مثالیں ایک سماجی اور ثقافتی نظام کا احاطہ کرتی ہیں جو شادی، طلاق، اور یہاں تک کہ عورتوں کو رکھنے کا حق صرف اور صرف مردوں کو عطا کرتی ہیں اور جس کی حقیقت کو قرآن کی طرف سےفرض تسلیم کیا جاتا ہے۔ کیا اس واضح مطلب یہ ہوتا ہے کہ قرآن مردوں کیلیۓاس طرح کے اختیارات کی توثیق کرتا ہے یا یہ کہ اس سے عورتوں ختیارات کو کم کرنے اور  ان کو محدود کرنے کی کوشش کرتا ہے؟ اگرہم احتیاط کے ساتھ  درج بالا میں  طلاق یا شادی سے متعلق  بیان کی گئی آیات  کا دانائی کے ساتھ جائزہ لیں، جیسا کہ  پروفیسر الفضل بتاتے ہیں کہ" جس سماج میں اسلام کا ظہور ہوا تھا قرآن نے ان رسم و رواج اور روایات کے ذریعہ جومردوں پہلے سے ہی حاصل تھا اختیارات دیکر خواتین کو  مردوں کے ذریعہ تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی ھے ۔  اس کے علاوہ پروفیسر الفضل دلیل دیتے ہیں کہ آیت 52:6 58:2، اور 2:229   کو شدّت کم کرنے میں مؤثرآیات کے طور پرسمجھ سکتے ھیں۔

         لیکن شدت کم کرنے کا یہ  عمل اپنے آپ میں مکمل ہے یامزیدمنصفانہ اختتام کا آلہ کار ہے۔میرے (مصنف کے) نقطہ نظر سے اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔کیونکہ یہ حقیقت قرآن کے اجماعی ثبوت اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پرمبنی ہےکہ بعض موروثی روایات اوراس کے بعد شدت کوکم کرنےکے مفروضہ کا یہ اصول اس لفظ کے وسیع ترمعنوں میں اصناف کےدرمیان مکمل انصاف اورمساوات کوحاصل کرنےکا ایک ذریعہ تھا۔

(3) اخلاقی مفروضات ’آزاد افراد کے بمقابلےغلاموں کا معاملہ’ ایک سماجی تقسیم

اگرچہ غلامی ایک سماجی بیماری ہے۔  یقیناًاس سے نفرت کرنا  فطری طور پر اخلاقی عمل ہے۔ غلامی ( بشمول جنسی غلامی اور داشتہ) کی موجودگی ایسی سماجی اورثقافتی حقیقت ہے جسے قرآن مانتا ہےاورجسکی مثال سورۃالنساء میں واضح ہے۔ عرب میں یہ ایک عام روایت تھی کہ اگروہ باعزت زندگی گزارنے کے لئے شادی کرنا چاہتیں توداشتائوں کےمالک ان کوعصمت فروشی کے لئے مجبور کرتے۔اورانہیں آزاد نہیں کرتے۔ قرآن کی طرف سے یہ غلاموں کے مالکان(خصوصی طورپرمردمثال کے لئے آیت4:25 )کےلئے اخلاقی اپیل سے تصوّرکیا جاتا تھا، تاکہ انکی خلاف ورزیوں کو محدود کیا جا سکےاوران کی بد ترحالت کاخاتمہ کیاجاسکے۔ مختلف ذہنیت اورحالات کے تحت غلاموں کورکھا جاتا تھااورقرآن کی آیت (4:25) کے مطابق سماجی برتائو سے متعلق معیارکےعلاوہ غلاموں کے لئےسزاکےمختلف نظام قائم تھے۔  یہ عام طورپریہ مشہور ہےکہ غلاموں کو آزاد کرنےکو قرآن نے گناہوں کےکفّارہ ایک ذریعہ قراردیاھے۔ پورے قرآن میں غلاموں کےساتھ حسن سلوک پرزوردیا گیاہے۔ غلاموں کےساتھ برتائوکےمعاملےمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات اوراحکام انہی قرآنی ہدایات کےمطابق ہیں۔ اس طرح درج بالا سطروں سے قرآن اور سنت کی تعلیمات پرمبنی برتائو کے اثرات کو کم کرنے کا مفرعضہ مزید واضح ھوتا ھے۔ غلامی کے تعلق سےقرآن اورسنت کے مجموعی ثبوت اوراندازبیان کو دیکھتے ہوئے(جیسا کہ موروثی نظام کامعاملہ تھا) یہ دلیل با آسانی دی جاسکتی ہےکہ قرآن اور سنت کا رویہ غلامی کو مکمل طور پرختم کرنے کاہے ۔اسی لئے قرآن نے آزاد اور غلام انسانوں کے لئےکسی بھی امتیازپرمبنی اخلاقی معیارکوختم کرناچاہتا ہے۔

(4) عقیدے پر مبنی  مفروضات،کفر کا تصور

لفظی اعتبار سے  لفظ (کفر) کا بنیادی معنی"چھپانا" ھے یعنی ھاصل ہونے والےفوائداور فیوض کوقصداًنظ اندازکرنا۔اس طرح اس کاواضح مطلب ناشکرگزاراور احسان فراموشی ہے۔ قرآن میں کفرکواحسان فراموشی( شکر کے متضاد کے طور پر) کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔مثال کے طور پر21:94; 14: 33-34; 16: 112-115;2: 147/152;17:66-69;17:47-48 اورد یگرکئی آیات میں بارہا کفرکوایمان کےمتضاد کےطورپربھی پیش کیاگیاہے۔اوراس طرح اس کامعنی انکارکرنابھی ہے۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل صورتوں میں : 3: 63/70; 17: 89/91; 2:26-28;6:29-30اورد یگرآیات میں کیا گیا ہے۔  لہذا قرآن میں لفظ کفر معنی کےاعتبارسے مبہم ہے اسےدو بنیادی معنیٰ ناشکرگزاراورانکارکرنےوالےمیں سےکسی ایک میں استعمال کر سکتے ہیں۔

تاہم کفرکا تصورکوئی معنیٰ نہیں رکھتا اگرقرآن نے یہ  واضح نہ کیا ہوتا کہ قرآن کے براہ راست مخاطب پہلے سےہی مالک حقیقی اور انعامات سےنوازنےوالےاللہ کےتصور(جیسا کہ قرآن ہمیں بتاتا ہے) سےواقف تھے ۔ جس کاانسانوں کواحسان مند ہونا چاہئےاورجس کی توحیدمیں ان کوعقیدہ رکھناچاہئے۔ قرآن کےبراہ راست مخاطبین نے اللہ کےوجود پرسوال نہیں کیا بلکہ تصورتوحید (اللہ اور انسان کے درمیان کچھ لوگوں کو یہ شریک کرتے تھے)  اورحشر وقیامت کے دن سےانکارکرتےتھے۔

درج بالا میں کفرکےبارےمیں اس قرآ نی تصوکو مد نظررکھتے ہوئےاسے کسی شخص پرلاگوکرنا(یا کسی پرالزام لگانا)مکمل طورپر ناجائزہے (کیونکہ  کبھی کبھی کچھ مسلم گروہوں کی طرف سے اس کا ارتکاب کیا جاتا ہے)اگر وہ  شخص جوخدا پریقین نہیں کرتا ہے۔ لیکن خدا کےانعامات کااقرارکرتا ہے۔ خدا کا شکراداکرتا ہےاورخدا کی وحدانیت میں یقین رکھتا ہے (جسکی مختلف شکلیں ہو سکتی ھیں)۔لہذا قرآن میں کفرکا تصوراس مفروضہ پرمبنی ہےکہ انسان رازق کے طورپرخدا کےوجودکو تسلیم کرے اور کفرکا اطلاق ان لوگوں پرکیاجاسکتاہےجوجان بوجھ کرخداکاانکارکرتے ہیں اوراس کے رزق پراحسان فراموشی ظاہر کرتےہیں اورخداکی وحدانیت سےانکار کرتے ہیں۔

قرآن اورسنت کےنظریےکومجموعی طورپرسمجھنےکےلئےاسکےایک اہم جزیعنی اسکےمفروضات کوذہن میں رکھنا ضروری ھے۔  جیسا کہ موروثی نظام اورغلامی کےبارے میں بتایا گیاتھا۔ موروثی نظام اورغلامی کی شدت کو کم کرنے میں مؤثرقرآن اورسنت کےوہاثرات اس بات کا اشارہ دیتےہیں کہ موروثی نظام اورغلامی کی روایات اس کےنظریےکےفطری جزکاحصہ ہے۔ لیکن پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم کےزمانےمیں قرآن وسنت کےاصولوں نےان روایات کی شدت کوکم کیااورمستقبل میں ان کومکمل طور پر ختم کرنےکی راہ ہموارکی ۔ عصرحاضرکے معاشروں کےحقائق کودیکھتے ہوئےاس1400 سالہ قدیم "وژن" کوضرورحاصل کیاجا ناچاہئےلیکن  "شریعت"کی شکل میں اس پرعلیٰ اعلان مسلسل عمل کرنے کواصل میں قرآن اورسنت کے مخالف ہی ماناجائےگا۔

ڈاکٹر ادس ددریجا  میلبورن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں ریسرچ ایسوسی ایٹ ہیں اور وہ نیو ایج اسلام کے لئے باقاعدہ کالم لکھتے ہیں

URL for English article:

http://newageislam.com/islamic-ideology/by-adis-duderija,-new-age-islam/qur-anic-assumptions-and-their-importance-in-understanding-of-qur-anic-principles/d/8056

 

URL for this article

http://www.newageislam.com/urdu-section/quranic-assumptions-and-their-importance-in-understanding-the-qur-anic-principles--قرآنی-اصول-کی-تفہیم-میں-قرآنی-مفروضات-اور-ان-کی-اہمیت/d/8434

 

Loading..

Loading..