New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 12:52 PM

Urdu Section ( 7 Aug 2011, NewAgeIslam.Com)

Why justice is impossible for Muslims in Gujarat and Bihar? گجرات اور بہار میں حصول انصاف مسلمانوں کیلئے ناممکن کیوں

By Abid Anwar

Despite numerous efforts for justice in Gujarat and Bihar, it still seems a distant dream for Muslims of these states to achieve fair decision. Both the government’s machinery is trying to put Muslims at bay from getting justice. According to reports SIT had given copy of report to the Modi Govt., so that they can manage to escape from clutches of law, similar attempt is also going on in Bihar where govt. machinery is trying to shield the accused of Forbesganj firing incident.

URL: https://newageislam.com/urdu-section/why-justice-is-impossible-for-muslims-in-gujarat-and-bihar?--گجرات-اور-بہار-میں-حصول-انصاف-مسلمانوں-کیلئے-ناممکن-کیوں/d/5203

 

گجرات اور بہار میں حصول انصاف مسلمانوں کیلئے ناممکن کیوں

عابد انور

ہندوستان میں مسلمانوں کو انصاف دلانے کےلئے جتنی بھی کوشش کی جاتی ہے انصاف اس سے اتنا ہی دور بھاگتا نظر آتا ہے کیونکہ حکومت کی پوری مشنری کی منشا ہوتی ہو کہ مسلمانوں کوعدل سے دور رکھا جائے۔ کم از کم گجرات اور بہار میں یہی فارمولا اپنا یا جارہا ہے دونوں جگہ کی  حکومتوں نے یہ طے کرلیا ہے کہ وہ کسی حالت میں مسلمانوں کے ساتھ انصاف نہیں ہونے دیں گے ۔گجرات میں خواہ سپریم کورٹ خود چلی جائے لیکن اس وقت مسلمانوں کےلئے حصول انصان ناممکن ہوگا جب تک حکومت میں تبدیلی نہ ہو اور خاطی وزرا ،پولیس اہلکار اور سول افسران کو برخاست یا تبادلہ کر کے اس علاقے سے کہیں دور نہ بھیج دیا جائے جہاں سے وہ کسی طرح سے اثر انداز نہ ہوں۔گجرات میں جب تک مودی اقتدار ہیں اس وقت انصاف ناممکنات میں سے ہے ۔ گجرات حکومت ابتدا سے ہی مسلسل انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالتی رہی ہے۔ اسی لئے کئی مقامات کو گجرات سے باہر ٹرانسفر کیا گیا لیکن اس کے باوجود گجرات حکومت کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔ اب ایک نیا معاملہ سامنے آیا ہے جس سے نہ صرف سپریم کورٹ کے ذریعہ تشکیل کردہ ایس آئی ٹی کے رول کو اجاگر کردیا ہے بلکہ اس شبہہ کوبھی تقویت بخشی ہے کہ ایس آئی ٹی گجرات سرکار اور وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو کلین دے رہی ہے۔ایک پرائیویٹ ٹی وی نیوزچینل نے دعویٰ کیا ہے کے اس کے پاس دودستاویز ات ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایس آئی ٹی اپنی خفیہ رپورٹ مودی سرکار کو بھیجتی رہی ہے اور مودی سرکار اور خصوصاً وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے بارے میں اپنی تیار کردہ رپورٹ مودی حکومت کو بھیجتی رہی ہے تاکہ وہ اس کا  جواب تیار کرسکیں اور اپنے بچاؤں کا طریقہ بہ آسانی تلاش کرسکیں ۔ ایس آئی ٹی نے گجرات کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل تشار مہتہ ،مودی کے سکریٹری جی سی مور مو اور سنگھ پریوار کے انتہائی قریبی ایسی گرومورتی کو یہ دستاویز ات بھیجتی رہی ہے۔ اس انکشاف کے بعد گرچہ میڈیا میں کوئی ہلچل پیدا نہیں ہوا ہے اور نہ ہی اس پر بحث و مباحثہ وجاری ہے اور نہ ہی ان اخبارات کی نیند ٹوٹی ہے جس نے غلام وستانوی کے معاملہ پر خصو صی مضامین سے لے کر خصوصی اداریہ تک شائع کئے ہیں ۔کیوں کہ یہاں دارالعلوم دیوبند کو بدنام کرنا تھا اس لئے ان لوگوں نے جم کر اس معاملے کو میڈیا میں کوریج دیا لیکن جیسے ہی مسلمانوں کے حصول انصاف کی راہ میں پہاڑ کھڑا کرنے والوں کا نام سامنے آیا میڈیا کو سانپ سونگھ گیا۔.

مسلمانوں کی مجموعی صورت حال یہ ہے کہ انہیں ہندوستان کی کسی مشنری سے امید نہیں رہتی کہ ان کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرے گی۔ سوال یہ ہے مسلمان کس پر بھروسہ کریں یا اپنے کون کون سے معاملے کو لیکر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا ئیں ۔ سپریم کورٹ نے گجرات فسادات کے اہم معاملے سمیت نریندر مودی کے رول کی تفتیش کے لئے ایس آئی ٹی کی تشکیل کی تھی اور اسے اپنی نگرانی میں رکھا تھا لیکن ایس آئی ٹی کے جو کارنامے سامنے آئے وہ نہ صرف شرمسار کرنے والے ہیں بلکہ ایقان کو متزلزل کرنے والے بھی ہیں جو کسی بھی مہذب سماج او رملک کے لئے نیک فال قطعی نہیں ہے۔ اس سے قبل گجرات انٹلی جنس کے سربراہ سنجیو بھٹ نے سپریم کورٹ ایک حلف نامہ داخل کر کے ایس آئی ٹی کے کردار پر سوال اٹھایا تھا اور انہوں نے اپنے حلف نامے میں کہا تھا کہ گجرات میں سال 2002میں ہوئے فسادات کی تحقیقات کے لئے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم ( ایس آئی ٹی) پر  انہیں بھروسہ نہیں ہے۔47سالہ آئی پی ایس افسر سنجیو راجندر بھٹ اس وقت گجرات کے جونا گڑھ میں ریاستی ریزرو پولس تربینی مرکز کے پرنسپل کے طور پر تعینات ہیں۔ آئی آئی ٹی ممبئی سے پوسٹ گریجویٹ ،سنجیو  بھٹ سال 1988میں انڈین پولس سروس میں آئے اور انہیں گجرات کیڈر ملا۔ گزشتہ 23برسوں سے وہ ریاست کے کئی اضلاح، پولیس کمشنر کے دفتر اور دیگر پولیس اکائیوں میں کام کیا ہے۔دسمبر 1999سے ستمبر 2002تک ریاست خفیہ بیورو میں بطور خفیہ کمشنر کا م کرنے والے گجرات کے داخلی سلامتی سے منسلک تمام معاملے مسٹر  بھٹ کے تابع تھے۔ ان کے دائرہ کار میں حفاظت اور ساحلی سیکورٹی کے علاوہ مخصوص افراد کی حفاظت بھی شامل تھا اس دائرے میں وزیر اعلیٰ کی حفاظت بھی آتی تھی۔ سنجیو بھٹ نوڈل افسر بھی تھے، جو کئی مرکز ی ایجنسیوں اور فوج کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ بھی کرتے تھے، جب سال 2002میں گجرات میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے، اس وقت بھی سنجیو بھٹ اسی عہدے پر فائز تھے۔

اس سے قبل 2005میں آئی پی ایس افسر مسٹر آبی شری کمار بھی نریندر مودی کی پول کھول چکے ہیں۔ ا س وقت کے گجرات کے ایڈیشنل جنرل آف پویس آربی شری کمار نے سینٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبون (سی اے ٹی) سے شکایت کی تھی کہ جب وہ ریاست میں خفیہ پولس کے سربراہ تھے اس دوران وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی یہ بھی ہدایت تھی کہ اپنے مخالفین کے فون ٹیپ کئے جائیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق مسٹر کمار نے اس کے ثبوت میں اپنے ایک خاص دفتر ی رجسٹر کا حوالہ دیا ہے جس میں مسٹر مودی کے ساتھ ان کے ملاقاتوں کی تفصیل ذکر ہے۔ اس ڈائری میں تاریخ بہ تاریخ بہت سے واقعات لکھے ہیں۔ مثال کے طور پر 28جون 2000کی تاریخ میں مودی رتھ یاترا کی تیاریوں کا ذکر ہے جس میں اس وقت کے چیف سیکریٹری سباراؤ نے شری کمار سے کہا تھا کہ ‘‘ اگر کوئی رتھ یاترا میں خلل ڈالنے کی کوشش کرے تو اسے ختم کردیا جائے۔’’مسٹر شری کمار نے مزید لکھا ہے کہ انہوں نے سیکریٹری سے کہا کہ جب تک ناگریز حالات نہ ہوں کسی کو جان سے مارنا غیر قانونی ہے تو چیف سیکریٹری نے کہا کہ اس کے متعلق وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے۔ اسی برس سات مئی کا ایک واقعہ درج ہے جس میں نریندر مودی نے شری کمار سے کہا تھا کہ ‘‘ وہ زیادہ توجہ مسلم ملیٹینٹس پردیں اور سنگھ پریوار پر نہیں کیو نکہ وہ کچھ بھی غیر قانونی نہیں کررہے ہیں ۔ اس رجسٹر کے مطابق جب شری کمار نے مودی کے حکم کے بعد بھی سنگھ کے آدمیوں کو نہیں بخشا تو مسٹر مودی نے کہا کہ وہ سنگھ کے معاملے میں ا ن کی مدد کرسکتے ہیں۔’’شری کمار کا کہنا ہے کہ مودی نے اپنے مخالفین کے فون ٹیپ کرنے کو بھی کہا اور اس  سلسلے میں کانگریس کے لیڈر شنکر سنگھ واگھیلا ،اپنی ہی کابینہ کے ایک سابق وزیر ہرین پانڈیہ اور کچھ مسلمان رہنماؤں اور پولس افسران کے فون ٹیپ کئے گئے تھے۔ آر بی کمار ایک سینئر افسر ہیں اور گجرات انتظامیہ نے انہیں ترقی نہیں دی تھی اور دوسرے افسر کو بڑے عہدے پرفائز کردیا تھا۔ کمار کا کہنا تھا کہ انہوں نے مودی کے بعد غیر قانونی احکامات نظر انداز کیے تھے اسی لیے انہیں یہ سزا ملی ہے۔ نریندر مودی یہ کہنا صحیح تھا کہ سنگھ پریوار کوئی ‘‘غیر قانونی’’ کام نہیں کررہے ہیں کیو نکہ اس کا کوئی بھی غیر انسانی فعل، وحشیانہ حرکت اور مجمع کو ساتھ لے کر قتل کرنا غیر قانونی دائرہ میں نہیں آتا کیونکہ مسلمانوں کے ساتھ ظلم وجبر استحصال ،معاشرتی بائیکاٹ ،خون ریزی اس کی دیش بھتی  ادا جو ٹھہری۔

گجرات فسادات کو تقریباً دس سال کا عرصہ ہوگیا ہے لیکن حالات جو ں کی توں ہے۔ کسی پارٹی، حکام یا سیاست دانوں ، عدلیہ اور کسی دیگر ذرائع سے انصاف نہ ملنے کی وجہ سے گجرات کے مسلمان مجبوراً بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن بن رہے ہیں تاکہ کسی طرح انہیں تحفظ حاصل ہو۔ اس سے مسلمانوں کی دگرگوں حالت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ قاتلوں کی پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ گجرات میں کچھ نہیں بدلا اور نہ وہاں حکام کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے اور نہ ہی معاشرے میں کسی طرح حسن سلوک کا جذبہ پیدا ہوا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گجرات کے مسلمان شہروں ، قصبوں اور گاؤں ہر جگہ خوفزدہ رہتے ہیں ۔ رفتہ رفتہ ان کی بستیاں افلاس زدہ ہوتی چلی جارہی ہیں۔ ریاست میں ہندو اکثر مقامات پر مسلمانوں کو اپنی آباد یوں میں رہنے کی اجازت نہیں دیتے ۔ سماجی کارکن حنیف لکڑوالا کے مطابق ریاست میں بہت منظم طریقے سے مسلمانوں کو اقتصادی طور پرتباہ کردیا گیا ہے۔ ‘ویشو ہندو پریشد پمفلٹ جاری کرتی ہے۔ جن میں ان اشیا اور برانڈ ز کے نام لیے جاتے ہیں جن کمپنیوں کے مالک مسلمان ہوں اور ہندوؤں سے کہا جاتا ہے کہ وہ یہ اشیا نہ خریدیں ’’۔ناناوتی کمیشن، میں مسلم متاثرین کی نمائندگی کرنے والے وکیل اور حقوق انسانی کے کارکن مکل سنہا کہتے ہیں ‘سماج پوری طرح سنگھ پریوار کے رنگ میں رنگ چکا ہے۔ یہاں قانون کی بلادستی نہیں ہے۔ اتنے بھیانک واقعات اور خونریزی کے باوجود ایک ہزار سے زیادہ مسلمانوں کو قتل کرنے والے آزاد گھوم رہے ہیں ’ ۔ مسٹر سنہا کہتے ہیں ‘یہ ایک منظم عمل ہے۔ یہ کوشش کی جارہی ہے کہ مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنادیا جائے’ ۔‘ ایکشن ایڈ’ کی ذکیہ جو ہر بھی مکل سنہا سے اتفاق کرتی ہیں۔‘گجرات میں خوف کا یہ عالم ہے کہ مودی کی فاشسٹ پالسیوں کے خلاف مزاحمت کے راستے بند ہوتے جارہے ہیں’۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ فسادات کو اتنا طویل عرصہ گزر چکا ہے لیکن مودی کی فاشسٹ پالسیوں کے خلاف مزاحمت کے راستے بند ہوتے جارہے ہیں، افسوس کی بات یہ ہے کہ فسادات کو اتنا طویل عرصہ گزر چکا ہے لیکن سماجی آہنگی پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی گئی اور نہ ہی انصاف کے لئے کوئی راستہ ہموار کیا گیا جس سےمحسوس ہوتا کہ گجرات مسلمانوں کے لئے تنگ یا بند گلی نہیں ہے بلکہ خیر مقدم کرنے والی گلی ہے لیکن ایسا ہونا اس وقت تک ممکن نظر نہیں آتا جب تک مودی اینڈ کمپنی گجرات پر قابض ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ صرف مسلمانوں کو حکومت گجرات پر بھروسہ نہیں ہے بلکہ ہندوستان کی سپریم کورٹ کی بھی یہی رائے ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس نے کئی مقدمات کی سماعت بیرون ریاست کرنے کا حکم دیا۔ اس ضمن میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی۔ اس کی سماعت ایک تین رکنی بینچ نے چیف جسٹس وی این کھرے کی صدارت میں کی۔ سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کو لتاڑتے ہوئے کہا تھا کہ ریاستی حکومت کا فرض تھا کہ وہ لوگوں کو تحفظ فراہم کرتی اور مجرموں کو سزا دلواتی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ عدالت نے کہا کہ ‘‘اگر آپ مجرموں کو سزا نہیں دلواسکتے تو بہتر یہ ہوگا کہ  آپ برطرف ہوجائیں’’۔عدالت نے کہا کہ گجرات حکومت نے مقامی عدالت کے فیصلے کے خلاف جو اپیل درج کی وہ بھی صرف دکھاوے کے طور پر کی ہے۔ عدالت نے ریاست گجرات کے سرکاری وکیل سے کہا کہ ریاستی حکومت اس اپیل کو سنجیدگی سے  نہیں لے رہی ہے کیو نکہ اب تک اس کیس کا از سر نو تفتیش کا جائزہ ابھی تک نہیں شروع کیا گیا ہے ۔ عدالت نے سرکاری وکیل سے مزید کہا کہ ‘ اگر آپ لوگوں نے اس سلسلے میں کچھ نہیں کیا تو پھر ہماری مداخلت ضروری ہوگی۔ ہم محض تماشائی بنے نہیں بیٹھے رہیں گے’’۔سپریم کورٹ کے اس سخت تنقید کے بعد بھی مودی حکومت کا رویہ نہیں بدلا ہے اور وہاں گواہاں پر مکر نے کے لئے زبردست دباؤ ہے۔ یہ جو بھی حق کا ساتھ دینے کی کوشش کرتا ہے اسےسزا دی جاتی ہےایسے کون افسر سامنے آئے گا۔ مرکزی حکومت اس سلسلے میں مکمل لاچاری کامظاہرہ کررہی ہے اور اس کےلئے کوئی کارروائی نہیں کررہی ہے ۔سپریم کورٹ کو جب گجرات حکومت خاطر میں نہیں لاتی ہے اور اس کے ذریعہ تشکیل کردہ ایس آئی ٹی کے افسر ان کو خرید لیتی ہے تو مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے وہ انصاف دلانے کے لئے مودی اینڈ کمپنی کو سلاخوں کے پیچھے ڈالے ۔

بی جے پی کی حکومت والی اور ریاست بہار کا بھی یہی حال ہیں۔ بہار کی مشترکہ تہذیب کوتباہ کرنے کےدرپے سنگھ پریوار بہار کو دوسرا گجرات بنانے کی تیار کرچکا ہے۔ فاربش گنج کے بھجن پور میں بھی پویس فائرنگ کا سانحہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور اس سانحے میں بی جے پی کے ایک ایم ایل سی اشول اگروال ملوث ہیں۔ انہوں نے گاؤں والوں کی سڑک کو مقامی انتظامیہ کو استعمال کرتے ہوئے بند کروادیا تھا اور غیر قانونی طور پر سڑک کو کھود بھی دیا تھا یہ سڑک گاؤں والوں کی اپنی زمین پر تھی۔ گرچہ فاربش گنج کادورہ انسانی حقوق کی ٹیم ، قومی اقلیتی کمیشن اور دوسری سرکردہ تنظیمیں کرچکی ہیں حصول انصاف وہاں بھی ممکن نظر نہیں آتا۔ نتیش کمار نے عوامی اور سیاسی پارٹیوں کے دباؤ میں عدالتی انکوائری کمیشن کا تو اعلان کردیا اور کمیشن کے چئیر مین اور سیکریٹری کی تقرری بھی کردی لیکن یہ کرنا اس وقت تک کافی نہیں ہوگا جب تک  کہ اس واقعہ ذمہ دار قصور وار افسران کو معطل یا برخاست نہ کردیا جائے۔ اس واقعہ اہم ذمہ دار ایس پی گریما ملک اور ایس ڈی او جی ایس دیا ل کو ابھی تک معطل نہیں کیا گیا ہے۔ ان افسران کی موجودگی میں کوئی گاؤں والا جو زیادہ تر ان پڑھ ہیں ان کے خلاف بیان دینے کی ہمت کرسکیں گے؟۔آج تک جہاں عدالتی انکوائری بیٹھی ہے وہاں پہلے متعلقہ افسران کا یا تو تبادلہ کیا گیا یا پھر معطل کردیا گیا یا برخاست، لیکن فاربش گنج کے معاملے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس معاملے میں نتیش کمار حکومت انتظامیہ کو کلین چٹ دینے کا فیصلہ کرچکی ہے جس طرح گجرات میں ایس آئی ٹی نے مودی کلین چٹ دی ہے اور اپنے دستاویز ات ان کے افراد کو فراہم کئے ہیں تاکہ وہ قانونی طور اس کا توڑ نکال سکیں اسی طرح کاکھیل بہار میں دہرانے  کی تیاری کرلی گئی ہے۔

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/why-justice-is-impossible-for-muslims-in-gujarat-and-bihar?--گجرات-اور-بہار-میں-حصول-انصاف-مسلمانوں-کیلئے-ناممکن-کیوں/d/5203

 

Loading..

Loading..