New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 07:59 AM

Urdu Section ( 4 May 2012, NewAgeIslam.Com)

Muslims Should Not Lose Temper in Case of Quran Burning Incidents قرآن سوزی کے بڑھتے واقعات سے مسلمان اشتعال میں نہ آئیں


عابد انور، نیو ایج اسلام

5 مئی، 2012

جب بھی کسی ترقی یافتہ ، صنعت و حرفت سے مالامال اور خوش حال قوم پرتباہی آتی ہے تو قدرت اس سے ایسے ایسے اقدامات کرواتی ہے اور ایسے اعمال سرزد کرواتی ہے جو بہ ظاہر اس کی شان کو دوبالا کرنے والااور اس کے عظیم تر ہونے کے ثبوت دیتے ہیں لیکن درحقیقت اس قوم کی تباہی کی بنیادی رکھی جارہی ہوتی ہے لیکن وہ قوم طاقت کے نشہ میں اس قدر چور ہوتی ہے کہ اسے کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ قومیں کامیابی کے مدارج اس وقت طے کرتی ہیں جب ان کی توجہ تعلیم، اقتصادیات اور معاشرتی فلاح و بہبود پر مرکوز ہو۔ امریکہ دو سو برس سے زائد عرصہ تک اس لئے سپر پاور ہے کہ امریکی قوم نے سائنس و تکنالوجی کے میدان میں ایجادات کئے،تعلیم و تعلم پر پوری توجہ مرکوز کی۔زندگی کے کسی شعبے کواس نے تشنہ نہیں چھوڑا لیکن جب ملک گیری، دوسرے ممالک میں انتشار پھیلانا، دوسری قوموں کو ہیچ تصور کرنا اور مذہبی جذبات مشتعل کرنا شیوہ بن جائے تو اس کی ترقی کی رفتار تھم سی جاتی ہے اورو ہ قوم پوری دنیا کو اپنا دشمن بنالیتی ہے اور وقت آنے پر خصوصاً جب وہ کمزور ہوجاتی ہے تو سب اس سے انتقام لیتے ہیں۔

 حالیہ عرصہ میں کئی ملک کے حکمرانوں کا زوال اس بات کی دلیل ہے کہ اچھے وقت کاساتھی ہر کوئی ہوتا ہے لیکن برے وقت ساتھی کوئی نہیں ہوتا۔ یہ بات امریکہ کو اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ اس کا ایک ایک قدم اسے زوال کی طرف تیزی سے دھکیل رہا ہے۔ وہ اس وقت غربت و افلاس ، عوامی بے چینی، بے رزوگاری، اقتصادی بدحالی کا شکار ہے ۔امریکہ اپنے عوام کی توجہ سے ہٹانے کے لئے طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنارہا ہے۔ دوسرے ملکوں میں مداخلت اور دہشت گردی کے نام پراہل مغرب کو خوف زدہ اور ہراس میں مبتلاکرکے اپنا الو سیدھا کرنے کی ناپاک سعی کرتا رہاہے۔ دہشت گردی کے نام پر اس نے پوری دنیا کو کئی طرح کے فوبیا کا شکار بنادیا۔ دہشت گردی کے دوہرے پیمانے نے اسے پوری دنیا میں بدی محور بنادیا ہے لیکن امریکہ کو ان چیزوں کی اس وقت قطعی پروانہیں ہے وہ اس وقت صرف صیہونی ایجنڈے کے فریب میں مبتلا ہے اور اسی کے اشارے پر اوبامہ انتطامیہ کا رقص جاری ہے۔

اوبامہ کا 2009 میں مسلم مسلکوں سے کیاگیاوعدہ کال کوٹھری میں دم توڑ چکا ہے۔ امریکہ میں آج جوکچھ ہورہا ہے اس میں اوبامہ انتظامیہ کی پشت پناہی شامل ہے خواہ وہ مسلمانوں پربڑھتے ہوئے حملے ہوں یا امتیازی سلوک یا قران سوزی کا واقعہ ۔اس طرح کے واقعات نے امریکہ کے مہذب ہونے کے اصلی چہرہ کو اجاگر کردیا ہے۔ امریکہ اور ہندوستان سمیت مختلف ممالک میں قرآن سوزی کے واقعات کا پے در پے ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ منظم منصوبہ کے تحت مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی لامتناہی سازش کا ایک سلسلہ ہے۔

امریکہ ابھی گزشتہ دنوں بدنام زمانہ (بدنام زمانہ اس لئے کہ اس سے پہلے اس پادری کی نگرانی میں قران سوزی کا مذموم واقعہ انجام دیا جا چکا ہے)امریکی پادری ٹیری جونز نے ایک بار پھر پولیس اور انتظامیہ کے سامنے قرآن سوزی کرکے ناقابل معافی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔امریکہ کی جنوب مشرقی ریاست فلوریڈا کے گنیزولے میں ایک چھوٹا سا چرچ ہے۔ چرچ کا نام ہے ’ڈوو ورلڈ آرٹ ریچ سینٹر‘۔ یہ چرچ 20 ایکڑاراضی پرپھیلا ہوا ہے۔ اسے ایک بنیاد پرست عیسائی چرچ مانا جاتا ہے۔ 1996 میں ایک ہوٹل منیجر ٹیری جونز اس چرچ کاہیڈ بنا۔جونس کی عمر 58 سال ہے اور وہ 30 برسوں سے یوروپ میں مشنری کام کررہا ہے۔اس نے ایک کتاب بھی لکھی ہے ’اسلام اِز آف دی ایوِل‘۔ یہ جملہ اس کے چرچ سے متعلق سبھی تختہ ہائے اعلانات اور بورڈوں پر درج ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر مغربی معاشرے کو اسلام سے اس قدردشمنی کیوں ہے ۔

 نائن الیون کے بعد مغربی ممالک میں مسلمان، اسلام اورقرآن کے خلاف پوری شدومد کے ساتھ آواز اٹھنے لگی۔ نائن الیون کے پراسرار حقائق کو پوشیدہ رکھنے کے لئے امریکہ نے طرح طرح کہانیاں گھڑیں اورمغربی ممالک اس کے سحر سے متاثرہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔امریکہ کی خوشنودی اور اسلام دشمنی میں یہ ممالک غیر اعلانیہ طور پر ایک پلیٹ فارم پر آگئے اور ہر جگہ سے اسلام ، مسلمان، آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نازیباالفاظ استعمال کرنے کا سیلاب آگیاہے۔ اسلام کے خلاف اشتعال پھیلانے میں ایک طرح سے مسابقت ہونے لگی۔ دنیا ہمیشہ ابھرتی ہوئی چیزسے خوف کھاتی ہے اور اس کے بارے میں طرح طرح کے وسوسے دوچاررہتی ہے۔ یہی صورت حال مغرب میں اسلام کی ہے۔

نائن الیون کے بعد جہاں مغرب میں مسلمانوں کی زندگی تنگ ہوئی اور انہیں ہر طرح کی امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ ہر جگہ ان پر حملے ہوئے وہیں کھلے مغربی معاشرہ کاایک مثبت پہلو بھی سامنے آیا اور لوگوں کی توجہ اسلام کو جاننے کی طرف مائل ہوئی ۔ آج قرآن مغرب میں بہت پڑھا جارہا ہے اور اس کے ذریعہ اہل مغرب اسلام کی پناہ میں آرہے ہیں۔ دنیا کی بڑی بڑی شخصیتوں نے اسلام کا دامن تھاماہے۔ ٹونی بلےئر کی سالی مشرف بہ اسلام ہوئی توایک ہنگامہ ہوگیا۔ اسی طرح اہم شخصیات اور امریکی فوج میں اہم عہدے پر فائز افسران اسلام قبول کرنے سے خود کو روک نہ پائے۔

امریکہ میں گزشتہ دس برسوں کے دوران ۲۶ لاکھ افراد نے اسلام کے دامن میں پناہ لی ہے اور آج اسلام میں مغرب میں سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے۔ کچھ برسوں کے بعد امریکہ کا دوسرا سب سے بڑامذہب اسلام ہوگا ۔ آج یہ حیثیت یہودی مذہب کو حاصل ہے۔ مسلمانوں کو عملی طورپر اسلام کو پیش کرنے کی ضرورت ہے۔یہ ایسا واقعہ ہے جس سے مغربی مذہبی طبقہ خصوصاً مشنریز سے منسلک پادری اور دیگر افراد کے چودہ طبق روشن ہوگئے ہیں۔ انہیںیہ محسوس ہونے لگا کہ اگراسلام اسی رفتار سے مغرب میں پھیلتارہا تو ایک دن ایسابھی آسکتا ہے جب وہ عیسائی یہاں اقلیت میں آجائیں گے۔ مشنریزکاکام دولت ،سہولت اور دیگرچیزوں کا لالچ دے کر دیگر غریب ملکوں میں عیسائیت کو فروغ دینا ہے اس لئے انہیں یہ قطعی گوارہ نہیں کہ ان کے یہاں کے عیسائی اسلام اختیار کریں۔

اسی نفرت کا اظہار کرنے کے لئے آئے دن پادری یادیگرافراد اسلام ،مسلمان، قرآن اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے رہتے ہیں۔ کچھ سال پہلے ڈنمارک کے ایک اخبار نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک کارٹون شائع کیا تھا۔ اسی طرح ہالینڈ کے ایک سیاسی لیڈر نے قرآن کے خلاف ایک توہین آمیز فلم بنائی تھی اور اس کا نام "فتنہ" رکھا تھا، اس نسل پرست اور انتہا پسند نے مسلمانوں کو یورپ سے نکالنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔چند سال پہلے امریکہ کے تفتیشی فوجی افسروں نے گوانتا نامو جیل میں اسلام پسندوں سے تفتیش کے دوران قرآن کی بے حرمتی کی تھی تاکہ ان انہیں اعتراف کرنے پر مجبور کر سکیں۔

ان دنوں امریکہ میں بھی اسلام دشمنی میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔امریکی فوجی مختلف جیلوں میں قید مسلم قیدیوں کے ساتھ جہاں انسانیت سوزسلوک کررہے ہیں وہیں جہاں بھی موقع ملتا ہے وہ مسلمانوں کی دل آزاری سے گریزبھی نہیں کرتے۔نائن الیون کے9 سال ممکمل ہونے سے چند روزقبل امریکہ میں اسلام دشمن جذبات کی ایک نئی لہرپیدا کرنے کیلئے نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے نزدیک ایک اسلامی ثقافتی مرکز کے قیام کے منصوبے اور امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک چرچ میں گیارہ ستمبر کو قران کے نسخے نذر آتش کرنے کا پادری ٹیری جونز نے منصوبنایاتھا۔ گرچہ اس وقت یہ پادری اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہا تھا لیکن اگلے سال 20 مارچ 2011 کو اس پادری نے یہ گھناؤنافعل انجام دے کر پوری دنیا کو ششدر کردیاتھا۔ فروری 2012 میں بگرام ایربیس پر جس طرح امریکی فوجیوں نے قرآن کریم کے نسخے جلائے اس سے نہ صرف افغانستان کے مسلمان بلکہ عالم اسلام سکتے میں آگیا ۔ امریکی فوجیوں کی دیدہ دلیری کی انتہاء یہ تھی کہ ایک مسلم ملک میں رہتے ہوئے انہوں نے بڑے پیمانے پر یہ مذموم حرکت کی۔

 اس وقت افغانستان سمیت دنیا کے بہت سے ممالک میں قرآن سوزی کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے۔افغانستان کے دارالحکومت سمیت مختلف شہروں میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن سوزی کے خلاف مسلسل احتجاج ہوا جس میں کم ازکم تیس افغانی شہری جاں بحق اور دو امریکی فوجی ہلاک ہو ئے تھے۔ اس مذموم واقعہ پرامریکی اعلی افسران سمیت امریکی صدر بارک اوبامہ نے معافی مانگی تھی لیکن اس معافی کا کوئی اثرامریکہ میں نہیں دیکھاگیا بلکہ اس میں شدت آئی ہے۔ افغانستان میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں مقدس کتاب قرآن کریم کی بے حرمتی نے پوری دنیا کے مسلمانوں کے غیظ و غضب کو برانگیختہ کر دیا تھا۔ جوواقعہ بگرام میں رونما ہوا تھا وہ نہ تو اسلامی مقدسات کی پہلی مرتبہ توہین ہے اور نہ ہی آخری توہین شمار ہو گی، جبکہ گزشتہ ایک دہائی سے امریکہ اور یورپ میں متعدد مرتبہ اسلام دشمنی کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ امریکہ میں مذہبی تعصب رکھنے والے ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔ انیسویں صدی کے آغاز میں ایسے متعصب عناصر کا نشانہ آئر لینڈ کا کیتھولک چرچ ہوا کرتا تھا، جو اب امریکی معاشرے کا جْزوِ لازم بن چکا ہے۔ خواتین کے حقوق کے آزاد خیال علمبردار خواتین کے اسقاط حمل کے حق کے بارے میں مسیحی انتہا پسند اور بنیاد پرستوں کے موقف کو پوری بیسویں صدی کے دوران جھیلتے رہے ہیں اور آج تک جھیل رہے ہیں۔

راتوں رات امریکہ میں مسلمانوں کے تئیں برتے جانے والے رویے میں تبدیلی نہیں آئی ہے۔ حکومت کا جو رجحان ہوتا ہے وہی عوام کا ہوتا ہے ۔ شرپسند کوئی بھی پرتشددواقعہ کو انجام دینے سے پہلے حکومت کے رجحان کااندازہ لگاتے ہیں جیسا کہ ہندوستان میں ہوتاہے ۔ یہاں ایسے عناصر کو معلوم ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف کچھ بھی کریں گے تو انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ امریکہ میں بھی یہی صورت حال ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں مقیم مسلمان ہمیشہ پولیس اور جاسوسوں کی نگرانی میں رہتے ہیں ان کے خیراتی اداروں کو بند کر دیا جاتا ہے ان کے خطوط اور ایمیلز تک کو چیک کیا جاتا ہے۔ چندہ دینے والوں کی بھی نگرانی کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اسلامی مراکز یا مسجدوں کی تعمیر پر بھی پابندی عائد کی جاتی ہے۔امریکہ اور یورپ میں اسلام کے خلاف اتنی زیادہ پرآشوب فضا ہونے کے پیش نظر، جس وقت مغرب کے فوجی افغانستان اور عراق جیسے ملکوں میں داخل ہوتے ہیں تو مسلمانوں پر ظلم وستم کرنے میں کسی طرح سے دریغ نہیں کرتے اور ان کے کچھ گروہ یادگار کے طور پرقیدیوں کی انگلیاں کاٹ لیتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو بیگناہ انسانوں کو فائرنگ کی مشق کے لیے استعمال کرتے ہیں یہاں تک کہ مرنیوالے مسلمانوں کی لاشیں بھی بے حرمتی سے محفوظ نہیں ہیں۔ افغان اورعراق میں لاشوں کی بے حرمتی کے واقعات فوٹیج اورتصاویرکے توسط اخبارات کی زینت بن چکے ہیں۔

امریکہ یا مغربی ممالک اس طرح کے تکلیف دہ واقعات کی انسداد میں کیوں دلچسپی نہیں لیتے۔ آزادی اظہارکے نام پر کیا اس طرح کی مذموم حرکتوں کو انجام دینے کی اجازت ہے۔ اس وقت مغربی ممالک خاص طور پر امریکہ آزادی اور جمہوریت کا کچھ زیادہ ہی دفاع کر رہا ہے۔ یہ لوگ بظاہر عالمی انسانی حقوق کے اعلامیہ کو عمل کا معیار قرار دیتے ہیں اور دنیا کے ممالک سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس اعلامیہ کے مطابق اپنے اپنے ممالک میں انسانی حقوق کا خیال رکھیں۔ پھروہ اپنے یہاں مسلمانوں کے حقوق سے لاپروا کیوں ہیں،کیا قرآن جلانے کا عمل دوران جاہلیت کے تعصبات سے مشابہت نہیں رکھتا ؟۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مغرب نے اپنے غیر منطقی عمل کے ذریعہ اسلام کی طرف لوگوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لئے جو اقدامات کئے ہیں ، اس سے اسلام کی طرف لوگوں کی توجہ کے بڑھنے کے اسباب اور بھی زیادہ پیدا ہوگئے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اس عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جو اس بات کی دلیل ہے کہ مغرب خواستہ یا ناخواستہ طور پر دوران جاہلیت کی طرح عمل کر رہا ہے۔

ٹیری جونز کو اسلام پر الزام تراشی کرنے اور قرآن پاک کو جلانے کی مذموم حرکت کرنے سے پہلے کم سے کم یہ تو سوچنا چاہیے تھا جب مسلمان فاتح بن کر عیسائی ملکوں میں داخل ہوئے تھے تو کبھی انہوں نے بائبل یا کسی بھی مقدس کتاب کی بے حرمتی نہیں کی تھی۔ دہشت گردی کی اس جنگ میں اور ماضی میں بھی کئی مرتبہ صلیبی طاقتوں نے لاکھوں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی لیکن اس کے باوجود الزام بائبل پر نہیں لگایا گیا۔ کبھی مسلمانوں نے تو بائبل کو صلیبی حکمرانوں کی سفاکیت کی وجہ قرار نہیں دیا کیوں کہ قرآن پاک ہمیشہ سے دیگر مذاہب کے احترام کرنے کا درس دیتا ہے۔

اس طرح کے واقعات اس لئے پیش آتے ہیں کیوں کہ عالم اسلام کا اتحاد پارہ پارہ ہے۔ مسلم ایک دوسرے کے خلاف دست بہ گریباں ہیں۔ جو طاقت باطل کے خلاف صرف ہونی چاہئے تھی وہ آج مسلم ممالک ایک دوسرے کے خلاف رہا ہے۔آج عالم اسلام میں اتفاق سخت ضرورت ہے خواہ معاملہ ایران کا یا سعودی عرب کا،عراق کا یا کسی دیگر ملک کا، آپسی اتحاداور اشتراک سے ہی صیہونی اور نصرانی قوتوں کو شکست دیاجاسکتا ہے۔ ایران آج کل اتحاد امت پر بہت زور دے رہا ہے۔ صیہونیوں کے خلاف جنگ میں ایران کا ساتھ دینا ہی چاہئے۔مغربی استعماری قوتوں کاہمیشہ سے یہی منشا رہا ہے کہ عرب ایران کے درمیان کشیدگی کا بادل برستا رہے تاکہ وہ اسلحہ فروخت کرکے اپنی گرتی ہوئی معیشت کو پٹری پردوبارہ کھڑا کرسکیں۔ عرب اورایران کے اگر تعلقات صحیح ہوں گے تومغرب کو قرآن اوراسلام کے خلاف سازش رچنے موقع نہیں ملے گااو رنہ اسلام ،قرآن اورآنحضور کا استہزاء کرنے کی ہمت کرسکے گا۔ مغربی کی ہمت اس لئے بڑھی ہوئی ہے کہ کیوں کہ اس کا موثرجواب نہیں دیا جاتا۔ اس کے علاوہ مسلم ممالک کے حکمرانوں کی شناخت ایک عیاش شیوخ کی ہے۔ جس کے بارے میں کسی کی بھی رائے اچھی نہیں ہوسکتی۔یہی وجہ ہے ان کے اعمال وافعال دیکھ کر اسلام کافعل کا تصور کرلیا جاتا ہے۔ جس کاخسارہ مسلمان اور اسلام دونوں کو اٹھانا پڑتاہے۔اسلام کے تعلق سے مغرب کی مٹی بہت زرخیز ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کے سامنے صحیح اسلام پیش کیا جائے۔ جولوگ بھی آج اسلام قبول کر رہے ہیں وہ صرف پڑھ کر ہورہے ہیں اگر عملی طور پر وہ لوگ اسلام کو دیکھتے توتصورکیجئے کہ اسلام لانے والوں کی تعداد کتنی ہوتی۔

قرآن جلانا ایک تلخ اور نفرت انگیز واقعہ ضرور ہے لیکن اسلام کے خلاف نفرت کے اظہار کا یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے جب سے اسلام طلوع ہوا ہے اس وقت سے قرآن اورمسلمانوں کامذاق اڑانے کی ناپاک کوشش ہر دور میں کسی نہ کسی صورت میں ہوتی رہی ہے۔ ٹیری جونز جیسے ابوجہل ہر دورمیں پیداہوتے رہے ہیں۔ دور جاہلیت سے لیکر اب تک باطل طاقتوں نے حق کو نیست و نابود کر نے کی انتھک کوشیش کی ہیں۔ پیغمر اسلام کو ساحر اور مجنون کہنے اور کلام وحی کو نہ سننے کی غرض سے اپنے کانوں کو بند کر لیتے تھے۔ قرآن کی بے حرمتی کا منصوبہ 11 ستمبر کے حقائق کو چھپانے کا ایک حربہ ہے۔امریکی حکومت جب بھی انتہائی مشکلات سے دوچار ہوتا ہے تو مختلف بہانوں سے رائے عامہ کی توجہ ان سے ہٹانے کی کوشش کرتاہے۔گزشتہ دوماہ کے دوران ہندوستان میں خصوصاًبہار کے مونگیر، حاجی پور اورگیا کے علاقے میں قران کی بے حرمتی کے متعددواقعات پیش آئے ہیں۔اس کا ایک ہی مقصدہے کہ مسلمانوں کو مثبت عمل سے ہٹاکر منفی عمل پرلگادیا جائے۔مسلم مذہبی رہنماؤں کو کسی بھی پرتشدداعلان سے گریز کرنا چاہئے ورنہ ٹیری جونز اور ہم میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا اس ضمن میں اپنائی جانے والی کوئی بھی مثت پالیسی اسلام کے فروغ میں معاون ثابت ہوگی۔ دشمنان اسلام کو یہ بات ذہن نشیں کرلیناچاہئے کہ اسلام میں وہ لچک ہے کہ جتنا اسے دبایاجائے وہ اسی قوت سے ابھرے گا۔بقول رابندر ناتھ ٹیگور ’’وہ وقت دور نہیں جب قرآن مجید اپنی خوبیوں، سچائیوں اور کرشموں کی وجہ سے پوری دنیا کو اپنے اندر جذب کر لے گا۔ وہ وقت دور نہیں جب اسلام ہندومت پر چھا جائے گا اور پورے ہندوستان میں صرف ایک مذہب ہوگا جس کو ہم اسلام کے نام سے یاد کرتے ہیں۔‘‘

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/muslims-should-not-lose-temper-in-case-of-quran-burning-incidents--قرآن-سوزی-کے-بڑھتے-واقعات-سے-مسلمان-اشتعال-میں-نہ-آئیں/d/7241

 

Loading..

Loading..