New Age Islam
Thu Apr 30 2026, 04:48 PM

Urdu Section ( 15 Nov 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

What did Gandhi say on Palestine? فلسطین پرگاندھی نے کیا کہا تھا؟

ابھے کمار

14 نومبر،2023

 فلسطین میں انسانیت کا خون مسلسل بہہ رہا ہے۔ہزاروں کی تعداد میں معصوموں کی جانیں جا چکی ہیں اور نہ جانے کتنے فلسطینی بے گھر ہوئے ہیں۔اسرائیلی افواج کی بمباری کے سبب غزہ پرموت کا سایہ چھایا ہوا ہے۔جو مغربی دنیا خود کو انسانی حقوق کا سب سے بڑا چمپئن کہتی ہے، وہ آج لا تعداد فلسطینی بچوں کی ہلاکت پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔بین الاقوامی تنظیموں کا حال اور بھی خراب ہے۔دنیا میں امن و امان قائم کرنا ان کا پہلا مقصد تھا، جس کو پورا کرنے میں وہ پھر ناکام ہوئی ہیں۔مایوسی کے اس لمحہ میں ہمیں مہاتما گاندھی کو یاد رکھنا ہوگا۔وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں، مگر انہوں نے فلسطین اور اسرائیل کے تنازعہ کے بارے میں بہت ہی اہم باتیں کہی تھیں۔ارباب اقتدار آج بھلے ہی متضاد بیانات دیں،مگر گاندھی نے صاف طور پر کہا تھا فلسطین کی سرزمین فلسطینیوں کی ہے۔عدم تشدد کے اس مجاہد کے نزدیک یہ بات قابل قبول نہیں تھی کہ باہر سے آئے ہوئے یہودی عرب کی سرزمین پر قابض ہو جائیں اور مقامی عربوں کا جینا مشکل کر دیں۔اپنے ان خیالات کا اظہار گاندھی نے ۲۶؍ نومبر ۱۹۳۸ء میں ’ہری جن‘ رسالہ میں کیا۔

اپنے مضمون میں انہوں نے بغیر کسی ابہام کے لکھا کہ عرب کی دھرتی پر اسرائیل ریاست کے قیام کا منصوبہ غلط تھا۔ گاندھی نے صاف الفاظ میں کہا کہ عربوں کا فلسطین پر وہی حق ہے، جو انگریزوں کا انگلستان پر ہے اور فرانسیسیوں کا فرانس پر ہے۔گاندھی نے مزید کہا کہ یہ بات غلط ہے اور یہ غیر انسانی بھی ہے کہ یہودیوں کو عربوں کے اوپر غالب کر دیا گیا۔ان کے مطابق جو کچھ بھی عرب میں ہو رہا تھا، اسےکسی بھی اخلاقی بنیادی پر صحیح نہیں ٹھرایا جا سکتا تھا۔ گاندھی اپنے دور میں چل رہے عربوں کی مزاحمت سے واقف تھے، جو برطانوی حکمراں کے خلاف تھی۔اس دور میں عربوں کو اس بات کا غصہ تھا کہ انگریز باہر کے ملکوں سے یہودیوں کو لا کر ان کے گھروں میں آباد کر رہے تھے۔تبھی تو ۱۹۳۶ء میں عربوں نے انگریزوں کے خلاف بغاوت کی۔تین سال چلی اس مزاحمت کے بعد ۱۹۳۹ء میں برطانوی حکمرانوں نے عربوں کی بغاوت کو پوری طرح سے دبا دیا اور رفتہ رفتہ یہودی آباد کار فلسطین پر پھیلتے چلے گئے اور فلسطینیوں کی مصیبتیں بڑھتی گئیں۔عربوں کے خلاف ہو رہی زیادتیوں کو دیکھ کر گاندھی افسردہ تھے۔گاندھی کو یہ بات بخوبی معلوم تھی کہ یہودیوں کے لیے فلسطین میں قومی گھر بنانے کا منصوبہ نوآبایاتی حکومتوں کا ہے۔ گاندھی سے زیادہ نو آبادیاتی دور کی پریشانوں سے کون واقف ہو سکتا تھا۔ اس لیے گاندھی نے کبھی بھی نوآبادیادی منصوبہ کو تسلیم نہیں کیا، جس کے تحت فلسطین میں یہودیوں کے لیے ایک ملک بنانے کی بات کہی گئی ہے۔ گاندھی کو یہ بات منظورنہیں تھی کہ کوئی قوم اپنے مذہبی عقیدہ کی بنیاد پر اس علاقہ میں بسنے کی ضد کریں، جہاں کوئی سینکڑوں اور ہزاروں سالوں سے رہتا آ رہا ہو۔حالانکہ یہ بھی بات صحیح ہے کہ گاندھی مغربی دنیا میں یہودیوں کے خلاف ہو رہے ظلم اور زیادتی کو دیکھ کر بہت زیادہ غمزدہ تھے۔

انہوں نے یہودیوں کے لیے اپنی پوری ہم دردی کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کے بہت سارے دوست یہودی رہے ہیں۔اس بات کو کئی بار غلط طریقے سے تشریح کی جاتی ہے اور صیہونی ریاست کے قیام کے حامی گاندھی بھی تھے۔حالانکہ گاندھی نے کبھی بھی ایسا کچھ نہیں کہا اور وہ یہودیوں کے لیے فلسطین میں قومی گھر کے سخت مخالف تھے۔جہاں گاندھی نے یہودی قوم کی خدمات کا اعتراف کیا اور دنیا کی ترقی میں ان کے بڑے رول کو تسلیم کیا، وہیں وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ دنیا کے مختلف حصوں سے یہودیوں کو لا کر عرب میں بسا دیا جائے۔حالانکہ گاندھی جرمنی میں ہٹلر کے راج میں ہو رہی یہودی مخالف زیادتیوں سے بہت افسردہ تھے۔مگر گاندھی یہ ماننے کو تیار نہیں تھے کہ یہودیوں کو عرب کے ملک میں لا کر بسا دیا جائے اور عربوں پر ان کو مسلط کر دیا جائے۔ گاندھی ایک سیکولر خیالات کے انسان تھے۔وہ مذہب کے زاویے سے شہریت کو نہیں دیکھتے تھے، بلکہ ان کا ماننا تھا کہ جو انسان جس ملک میں پیدا ہوا ہے، وہ اسی ملک کا شہری ہے۔ گاندھی کے مطابق ایک ہی ملک میں رہنے والے شہریوں کے مختلف مذاہب ہو سکتے ہیں۔اس لیے گاندھی نے یہودیوں سے اپیل کی کہ وہ فلسطین میں قومی ریاست بنانے کی جگہ اپنے حقوق کی لڑائی وہاں لڑیں، جہاں وہ برسوں سے رہتے آ رہے ہیں۔گاندھی نے کہا کہ یہودیوں کو چاہیے کہ وہ جہاں رہتے آ رہے ہوں، وہاں برابری پانے کے لیے لڑیں۔ گاندھی نے ایک مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ فرانس میں پیدا ہونے والا عیسائی بھی اسی طرح سے وہاں کا شہری ہے، جیسا وہاں کا کوئی یہودی ہے۔ یہودیوں کےتئیں اپنی تمام ہمدردی کے باوجود گاندھی کو یہ بھی بات قابل قبول نہیں تھی کہ یہودی نوآبادیاتی بندوق کا سہارا لیں اور عرب میں آ بسے اور پھر عربوں کے اوپرہی خود کو حاکم مان بیٹھے۔

 گاندھی نے جو بات آج سے برسوں پہلے کہی تھی، آج اس کی معنویت اور بڑھ گئی ہے۔دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ کیسے مغربی ممالک اسرائیل کی جارحانہ کاروائی پر خاموشی اختیار کیے ہوئےہیں۔ہر لمحہ حالات بد سے بدتر ہو رہے ہیں۔اب وہ دن دور نہیں جب غزہ ملبے میں تبدیل ہو جائےگا اور انسانوں کی لاشوںکا پہاڑ کھڑا ہو جائے۔انسانی بحران کا عالم یہ ہے کہ فلسطین میں بچوں کو پینے کے لیے دودھ نہیں مل رہا ہے اور اسپتال میں مریضوں کو دوا تک میسر نہیں ہے۔اسرائیل نے ہر طرف سے فلسطینیوں پر ناکہ بندی کر رکھی ہے۔آج گاندھی ہمارے درمیان ہوتے تو وہ ہمارے حکمرانوں کی طرح خاموش نہیں رہتے۔ گاندھی کی عظمت ان کی حق گوئی ہے۔انہوں نے زور اور زبردستی کے نظام کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ گاندھی نے پرامن طریقے سے سامراجی نظام کو ہلا دیا۔ ان کی طاقت اخلاقی تھی اور ان کی راہ سچی تھی۔گاندھی کا سب سے اہم فلسفہ شاید یہ ہے کہ ظلم اور زیادتی کے خلاف ہر فرد کو آواز بلند کرنی چاہیےاور عدم تشدد کی راہ پر چلتے ہوئے ظالموں کے خلاف مزاحمت کرنی چاہیے۔ گاندھی نے ضمیر کی آواز کو سننے کی بات کہی ہے۔ گاندھی کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ کہ اگر غیر کتنی بھی اچھی حکومت کرنے کی بات کہیں، مقامی لوگوں کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ اپنا نظام، خواہ کتنا بھی برا کیوں نہ ہو، اپنے ہاتھوں میں لیں اور اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کریں۔فلسطینی بھی تو اسی گاندھیائی فلسفہ پر چل رہے ہیں اور اپنے لیے حق خود ارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ کی تشکیل بھی تو حق خود ارادیت کے فلسفہ پر ٹکی ہے، پھر کیوں فلسطینیوں کی آوازوں کو اَن سُنا کر دیا جا رہا ہے؟

کیا یہ تاریخی حقیقت نہیں ہے کہ مسلمانوں کا یہودیوں سے کوئی بڑا جھگڑا نہیں رہا ہے۔مسلمانوں نے یہودیوں کے ساتھ کچھ بھی ویسا سلوک نہیں کیا ہے، جیسا ان کو مغربی ممالک میں جھیلنا پڑا تھا۔آج عربوں اور یہودیوں کے درمیان جو جھگڑا پیدا کیا گیا ہے، اس کی تاریخ ۱۰۰؍ سال سے پرانی ہے۔ مگربڑی سچائی یہ ہے کہ عربوں اور یہودیوں کے تعلقات ہزاروں سال پرانے ہیں۔ آج ہمیں حال کے جھگڑوں کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ جھگڑا نو آبادی دور میں پیدا کیا گیا ہے، جسے گاندھی اچھی طرح سے سمجھتے تھے۔ یہودیوں کو بھی یہ بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جس طرح کی اذیتوں سے ا ن کو خود گزرنا پڑا تھا، ویسی اذیت وہ دوسروں کو نہ دیں۔یہودیوں نے دنیا کو بہت کچھ دیا ہے، آج ان کو عداوت کی آگ کو بجھانے کی ضرورت ہے۔ گاندھیائی فلسفہ عرب اسرائیل تنازعہ کو حل کرنے کا ہمیں راستہ دکھلا رہا ہے۔

14 نومبر،2023، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

------------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/what-gandhi-palestine/d/131113

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..