New Age Islam
Sat Mar 14 2026, 08:48 PM

Urdu Section ( 4 Dec 2024, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Hate In The Name Of Religion مذہب کے نام پر منافرت

عبداللہ خالد قاسمی خیر آبادی

1دسمبر،2024

ہندوستان کے موجودہ ماحول میں مذہب کے نام پر منافرت،ایک دوسرے سے عداوت اور غیر اسلامی وغیر فطری حرکات نے پورے ہندوستان کا سکون اور امن و امان کی فضا کو انتہائی مسموم بنادیا ہے، ہمارا وطن ہندوستان جنت نشان رقابتوں اور عداوتوں کے گرداب بلاخیز میں پھنسا ہے، افتراق وانتشار کے ا ژدہے انسانیت کو نگلنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، اس خطرناک صورت حال کی بہت بڑی ذمہ دار یہاں کی فرقہ پرست تنظیمیں اور مذہب وملت کو آلہ بنا کر ہندوستانیوں کے جذبات سے کھیلنے والے افراد ہیں۔

ملک عزیز کو انگریزوں کی دوسوسالہ غلامی سے آزاد ہوئے 77 سال ہوگئے۔ یہ آزادی ایک طویل تر جدوجہد او ربے پناہ جانی ومالی قربانیوں کے بعد حاصل ہوئی، اس میں لاکھوں ہندومسلم سکھ عیسائی جین بدھ نے مل کر انگریزوں کے خلاف جہاد آزادی میں حصہ لیا تھا۔ اس وقت بھی برادران وطن میں ایک جماعت ایسی تھی جو کھل کر انگریزوں کا ساتھ دے رہی تھی، اس کے دل ودماغ میں فرقہ واریت کا زہربھرا تھا، ان کو ان مسلم انصاف پسند ہندوستان دوست حکمرانوں سے نفرت تھی جو فاتح بن کر ہندوستان آئے تھے، وہ مسلم داعی یا صوفی وعالم نہیں تھے، بلکہ صرف بادشاہ و حکمراں تھے، ملک کو فتح کرکے اپنی سلطنت کی توسیع اور اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کا عام رواج پوری دنیا میں ہزاروں سال سے چلا آرہا تھا، چنانچہ غزنوی ہو کہ شہاب الدین غوری کی آمد، یا بابر کا حملہ ہو وہ سب ملک کی توسیع پسندی چاہتے تھے۔ ہندوستان کی سرزمین ان کو اتنی راس آئی کہ اپنا وطن بھول گئے اور یہیں کے ہوکر رہ گئے اور اس وطن کو سجانے میں اپنی پوری دولت وطاقت لگادی۔ محبت کی علامت تاج محل کا تحفہ دیا، جامع مسجد دلی کو پرشکوہ تعمیر کرکے پاکیزگی اور عبارت کا شاہکار پیش کردیا، لال قلعہ کی عظمت وجلالت آ ج بھی بھارت کی آزادی کی رکھوالی کررہی ہے کہ ہمارا ترنگا اسی لال قلعہ پر ہر سال لہرایاجاتاہے اور ہندوستان کے وزیر اعظم کاہر سال یوم آزادی پر عام خطاب ہوتاہے۔ فن تعمیر کے یہ شاہکار آج بھی ہر سال اربوں کی آمدنی کا سبب بنے ہیں مگر انہیں نشانیوں کو مٹانے کی ہر ممکن کوشش ناعاقبت اندیش مخالفین رات دن مصروف ہیں۔

یہ مسلم سلاطین وحکمراں مفتوں ہندواکثریت پرظلم وسمگی بجائے ان کی دلداری میں لگ گئے۔ ان کو ذلت اور پستی کی دلدل سے نکال کر عزت عطا کی۔ جس کے سبب ان نئے مسلم حکمرانوں کی آمد کا غریب ومظلو م ستم رسیدہ عوام نے استقبال کیا، ان کو مسلم بادشاہوں کی شکل میں ’منواسمرتی‘ قوانین سے نجات پاکر انسان بن کر جینے کی امید بندھی اور وہ سلاطین ہند کے حق میں ہوگئے، ان سلاطین نے نہ صرف باصلاحیت اور قابل اعتماد غیر مسلموں کو بڑے بڑے مناصب دیئے بلکہ اپنی مسلم فوج کا سپہ سالار اعظم تک بنا دیا، مالیات کا شعبہ ان کے سپرد کیا، لیکن تحریک آزادی کے خلاف انگریز سامراج کے حمایتی ٹولہ کو یہ سب اچھائیاں نظر نہیں آئیں، اس لئے کہ آنکھوں پر اسلام دشمنی کا چشمہ لگا رکھا تھا، تقسیم ہند نے اس ٹولہ کی عداوت ونفرت کو آتش فشاں بنادیا، وہ رات دن اسلام کوزک پہنچانے او ربھارت کو اپنے باطل وفرقہ پرست نظریات کی بنا پر ہندوراشٹر کا خواب دیکھتے آرہے تھے، لہٰذا آزادی کے بعد سے ہی یہ ٹولہ کبھی ’شدھی کرن‘ کے نام سے تحریک چلاتا تو کبھی ہندومسلم فسادات کراتا رہا ہے۔

ہندوستان سیاسی تاریخ کا ایک دردناک المیہ یہ بھی ہے کہ کانگریس جو پوری تحریک آزادی میں ہندو مسلم اتحاد کا پلیٹ فارم تھی، اقتدار میں آنے کے بعد نہ مسلمانوں کے لئے مخلص ثابت ہوئی،نہ ہی ہندو مہاسبھا اور آر ایس ایس جیسے کٹر مذہبی نظریات کی حامل جماعت کو کنٹرول کرنے میں سخت رخ اپنا سکی۔

دوسری جانب ہمارے مجاہدین آزادی، علماء مدارس او راکابرملت کی للّٰہیت واخلاص نیت کا یہ حال تھا کہ وہ تقسیم وطن کے بعد سیاست سے اچانک کنارہ کش ہوگئے، سوائے چند مقتدر ومؤقر علماء کے جیسے مولانا ابوالکلام آزادؒ او رمولانا حفظ الرحمن سیوہاویؒ وغیرہ۔ہزاروں علماء کی تحریک آزادی سے وابستگی یقینا اللہ کی رضا کے لئے تھی لیکن سیاست سے علاحدگی نے تقسیم کا زخم جھیل رہے مسلمانان ہند کو پوری طرح غیر مسلم کانگریس لیڈروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا، عقیدہ مذہب کا اثر، پھر پاکستان کا مسلم ملک بننے کا غصہ فطری طور پر سیکولر کانگریس لیڈر ان میں بھی تھا وہ اقلیت میں آچکے ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ روادرانہ معاملہ ضرور کرتے تھے لیکن کانگریس اپنی حکومت کے پورے دورانیہ میں مسلمانان ہند کو سرکاری شعبہ جات، حساس انتظامی اداروں سے دور کرتی رہی۔

اب ملک کو آزاد ہوئے 77سا ل ہوگئے، مسلمان جس مقام پر تھے اس سے دن بدن نیچے گرائے جاتے رہے، دس سال سے بھاجپا سرکار کے نفرتی سیاستدانوں کی سرکا ر میں قسم قسم کے ابتلاء وآزمائش کے باوجود بھی مسلمان سبق سیکھنے کو تیار نہیں، دشمن اپنا کام کررہاہے، مساجد کا مسمار کیا جانا، گھر وں پر بلڈوزر چلانا، مدارس پرپابندی عائد کرنا، ذبیحہ پر قدغن لگانا، مسلم نوجوانوں کو جھوٹے کیسوں میں پھنسانا کیا کچھ کھیل نہیں چل رہا ہے، مسلم لڑکیاں مرتد ہورہی ہیں، مسلمان کو اقتصادی لحاظ سے کمزور کیا جارہاہے، ان سے خرید وفروخت کرنے سے ہندو اکثریت کو منع کیا جارہاہے اور ان سب کے لئے حکومتی سطح پر تحریک چلائی جارہی ہے، گؤ کشی کے نام پر مآب لنچنگ ہورہی ہے،مسلمانوں کو ان کے دستوری و آئینی حقوق سے بے دخل کئے جانے کی مذموم کوششیں کی جارہی ہیں اور مسلمان ہیں کہ عمل وکردار سے دور صرف خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

ملک کے موجودہ حالات میں مسلمانوں کو اپنے عروج او راپنے وجود کے بقا کے لئے وہی تدابیر اپنانی ہوں گی جو اسلام کے ا ولین دور میں رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنائی تھی کہ صرف اور صر ف قرآن و سنت سے اپنا رشتہ مضبوط ومستحکم کریں، صبر وضبط اور تحمل و بردباری سے کام لیں۔ ’اگر تم صبر واستقامت سے کام لو، اور تقویٰ اختیار کرو تو دشمن کی تدبیریں تمہیں نقصان نہ پہنچا سکیں گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی میں اپنائی گئی حکمت عملی کی روشنی میں مسلمانوں کو اپنی منزل تلاش کرنی ہوگی، مسلمانوں کی اصل روح قرآن پاک ہے، اقوام عالم کی مجال نہیں کہ اس روح کے ہوتے ہوئے مسلمانوں کو دبا سکیں، کیونکہ ’حق غالب ہی ہوتاہے مغلوب کبھی نہیں ہوتا‘ کا اصول طے ہے،لیکن جب ہمارا اعتقادی اور عملی رشتہ ہی ”حق“ سے ٹوٹ جائے تو ’حق‘ کو ملنے والی سربلندی کے ہم کیوں کر مستحق ٹھہریں گے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے عمل وکردار کی پوری قوت کے ساتھ زندگی گزاریں، دنیا کی کوئی طاقت دبانا تو درکنار آنکھ اٹھا کر دیکھنے میں بھی خو ف محسوس کرے گی او ریہ قوت او ریہ طاقت صرف اور صرف اسلامی تعلیمات کو عمل میں لاکر ہی حاصل ہوسکتی ہے۔

ہندوستان کے موجودہ حالات میں ملک دشمن عناصر کا جواب دینے کے لئے مسلمانوں میں تعلیمی بیداری اور دینی شعور کا پیدا ہونا بھی انتہائی اہم اور ضروری ہے، اس لئے کہ تعلیم ایک خاموش انقلاب لاتی ہے، مسلم طلبہ وطالبات کو نہ صرف صحیح خطوط پر تعلیم دی جائے بلکہ ان کی تربیت بھی کی جائے، یعنی تعمیر سیرت اور کردار سازی اس کا لازمی حصہ اور نتیجہ ہو، اس سے خود اپنی زندگی میں اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے والے ہوں گے اور اپنے عمل وکردار سے دوسروں کے لئے راہ عمل متعین کریں گے اس طرح سے مسلمانوں کے بہت سے الجھے مسائل از خود سلجھتے چلے جائیں گے اور دشمنان اسلام اپنی سازشوں اور منصوبہ بندیوں میں انشاء اللہ ناکام ہوں گے:

چھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نے

عنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں

سن اے غافل صدا میری، یہ ایسی چیز ہے جس کو

وظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میں

1دسمبر،2024،بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

-----------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/hate-name-religion/d/133913

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..