New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 08:04 PM

Urdu Section ( 29 Jun 2016, NewAgeIslam.Com)

Ulema should take a clear stand on offensive Jihad اقدامی جہادپرواضح موقف اختیار کرنے کی ضرورت

 

عبدالرحمن حمزہ ، نیو ایج اسلام

26 جون ، 2016

عصرحاضرمیں انٹرنیٹ دودھاری تلوارثابت ہورہاہے ،خاص طورپرمذہب کے نقطۂ نظر سے ۔مزید برآں قرآنی آیات کی متضاد تشریحات نوجوان ذہنوں میں کنفیوزن پیداکررہی ہیں۔انٹرنیٹ پر جاری بحثیں اوران بحثوں پرعوامی تبصرے اس کا واضح ثبوت ہیں۔جہاں ایک طرف کچھ لوگ انٹرنیٹ کا استعمال اسلام کوبدنا م کرنے کیلئے کررہے ہیں،وہیں دوسری طرف کچھ سادہ دل مسلمان بزعمِ خود اسلام کی خیر خواہی میں ادھوری معلومات کی بنیادپرایسے مضامین اورکتابیں لکھ رہے ہیں جوبظاہر اسلام کا دفاع کرتی نظر آتی ہیں لیکن حقیقت میں وہ اسلا م اورمسلمانوں کوناقابل تلافی نقصان پہنچارہی ہیں ۔ایسیے ہی ایک کتاب بنگلور کے سلام سینٹر کے ذمہ دار جناب سید حامد محسن صاحب نے ’’غلط فہمیا ں‘‘کے نام سے شائع کی ہے جسکا اردواخبارات میں کافی چرچا رہاہے ۔یہ کتاب انٹرنیٹ پر قارئین کے لئے بآسانی دستیاب ہے ۔اس کتاب میں جہاد سے متعلق ایک مضمون ،’’قرآن کی منتخب آیات پراعترضات اورانکا جواب ‘‘پڑھ کرحیرانی ہوئی ۔ موصوف نے کچھ آیات کی ایسی تشریح کی ہے جنکی وضاحت بے حد ضروری ہے اورایسا نہ ہونیکی صورت میں بڑی غلط فہمیاں پیداہونیکااندیشہ ہے۔

سیدحامدمحسن صاحب اپنے مضمون میں رقم طرازہیں‘ ’’اسلام کے اپنے ناقدین بھی ہیں اوردشمن بھی۔انکی تہمت سازیوں میں اسلام پرتشددکوبھڑکانے کاالزام اہم مقام رکھتاہے ،انکے مطابق اسلام نے غیرمسلموں کے خلاف تشددکی مسلمانوں کو اجازت دے رکھی ہے‘‘ وہ مزیدلکھتے ہیں ‘ ’’اس بات کوذہن نشیں کرناضروری ہے کہ قرآنی آیات کوانکے خاص پس منظر اورسیاق وسباق سے علیٰحدہ کرکے پڑھنے کی کوشش عموما قرآن کی تفہیم اوراس سے نصیحت حاصل کرنے میں مانع ہوتی ہے ۔ہندوستان اوردیگر ممالک میں ایسی کئی کوششیں ہوئی ہیں جس سے آیات کو غلط معنٰی پہنائے گئے ہیں اورعوامی ذہنوں کوگمراہ کیاگیاہے یہاں ذیل میں ہم ایسی آیات پیش کرتے ہیں جوکئی ایک مصنفین نے قارئین کوگمراہ کرنے کیلئے سیاق وسباق سے علیحدہ کرکے پیش کی ہیں۔

اس کے بعدانہوں نے جن آیات کاذکرکیاہے وہ مندرجہ ذیل ہیں‘‘سورۃ بقرہ کی آیات نمبر ۱۹۱ تا ۱۹۴۔اور سورۃ برأۃ کی قتال سے متعلق متعدد آیات خاص طورپر آیت نمبر ۔۵جسے آیت سیف یعنی تلواروالی آیت بھی کہاجاتا ہے اورجس کے بارے میں فقہا کا موقف یہ ہے کہ اس نے امن سے متعلق پچھلی تمام آیتوں اور معاہدوں کومنسوخ کردیاہے (بحوالہ الموسوعۃ الفقہیہ ،کتاب الجہاد جس کااردومیں ترجمہ قاضی مجاہدالاسلام صاحب کی نگرانی میں انجام پذیرہواہے )

سورۃ بقرہ کی آیت نمبر۱۹۱ /۱۹۲ کامفہوم یہ ہے ،’’اورانہیں قتل کرو جہاں بھی ان کوپاؤ اوران کونکال باہرکرو وہاں سے جہاں سے انہوں نے تمیں نکلنے پرمجبورکیاہے اورفتنہ قتل سے زیادہ براہے ۔‘‘

سورۃ بقرہ کی آیت نمبر۱۹۳ کاترجمہ یوںھے، ’’اورتم ان سے لڑتے رھو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اوردین اللہ کے لیے ہوجائے پھراگروہ بازآجائیں توسمجھ لوکہ ظالموں کے سوااورکسی پردست درازی روانہیں۔

اس آیت میں مضمون نگارلفظ فتنہ کاترجمہ ظلم سے کرتے ھوئے لکھتے ہیں کہ آیت نمبر۱۹۳کے الفاظ پرغورکیجئے ۔اوروہ یہ ہیکہ ’’ کفار سے اس وقت تک لڑتے رہوجب تک کہ’ فتنہ‘یعنی ’ظلم ‘کاخاتمہ نہ ہوجائے اوردین محض اللہ ہی کے لیے ہوجائے۔اس آیت کا کوئی تعلق اسلام کے غلبہ اورغیرمسلموں کے خلاف ظلم سے نہیں ہے۔

مندرجہ بالاباتوں کومدنظر رکھتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ اب ہم ملک اوربیرون ملک پچھلے پندرہ سوسال میں لکھی گئی مستندعلماء کی تفاسیرپرایک نگاہ ڈالیں کہ انہوں نے لفظ’ فتنہ‘سے کیاسمجھاہے اورکیاوہ بھی ان آیات کی غلط تشریح کرکے جانے انجانے میں اسلام کے خلاف پروپگنڈہ کرنے والوں کوایندہن فراہم کرنے کے مرتکب ہوگئے ہیں۔

تفسیرابن کثیرمیں سورہ بقرہ کی آیت۱۹۱ اور ۱۹۳ جن میں فتنہ کالفظ الگ الگ آیا ہے اس طرح بیان کیاگیاہے ، ’’ظلم زیادتی اللہ کو ناپسندہے اورایسے لوگوں سے اللہ ناخوش رہتاہے ۔چونکہ جہادکے احکام میں بہ ظاہرقتل وخون ہوتاہے اس لئے یہ بھی فرمادیا کہ اِدہراگرقتل و خون ہے تواُدہر اللہ کے ساتھ شرک اورکفرہے اوراس مالک کی راہ سے اس کی مخلوق کوروکناہے اوریہ فتنہ قتل سے بہت زیادہ سخت ہے ‘‘یہ تو آیت نمبر ۱۹۲کی تشریح ہے۔آیت نمبر۱۹۳ کی تشریح اس طرح بیان ہوئی ہے ،’’پھر حکم ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے جہاد جاری رکھو تاکہ یہ شرک کا فتنہ مٹ جائے اوراللہ تعالی کا دین غالب آجائے اوربلندہوجائے اورتمام دنیا پر ظاہر ہوجائے ‘‘۔

تفہیم القرآن میں ان دونوںآیات کی تشریح مولانا ابوالاعلی مودودی صاحب نے مندرجہ ذیل الفاظ میں کی ہے۔ آیت نمبر۱۹۱/۱۹۲ جس کا مفہوم ہے’’ ان سے لڑوجہاں بھی ان سے تمہارا مقابلہ ہواورانہیں نکالوجہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا اس لئے کہ قتل گرچہ بُراہے مگرفتنہ اس سے بھی زیادہ براہے۔پھراگروہ بازآجائیں توتم سمجھ لوکہ ظالموں کے سواکسی پر دست درازی روانہیں،، اس پر اپنے نوٹ نمبر۲۰۲ میں مولانامودودی صاحب لکھتے ہیں’’یہاں فتنے کالفظ اسی معنی میں استعمال ہواہے جس میں انگریزی کا لفظ persecution بمعنی ظلم استعمال ہوتاہے ۔آیت نمبر۱۹۳ جس کا مفہوم ہے (تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اوردین اللہ کے لئے ہوجائے پھراگروہ بازآجائیں توتم سمجھ لو کہ ظالموں کے سواکسی پردست درازی روانہیں)اس پراپنے نوٹ نمبر۲۰۴ اور۲۰۵ میں مولانامودودی صاحب رقمطرازہیں’’یہاں فتنہ کالفظ اوپرکے معنی سے ذرا مختلف معنی میں استعمال ہواہے سیاق وسباق سے صاف ظاہر ہے کہ اس مقام پر’فتنہ‘ سے مرادوہ حالت ہے جس میں دین اللہ کے بجائے کسی اورکے لئے ہو،اورلڑائی کامقصد یہ ہے کہ فتنہ ختم ہوجائے اوردین صرف اللہ کے لئے ہوجائے۔بازآجانے سے مراد ہے کافروں کااپنے کفروشرک سے بازآجانا نہیں،بلکہ فتنہ سے بازآجانا ہے۔کافرمشرک ،دہریے ہرایک کواختیارہے کہ اپنا جوعقیدہ رکھتا ہے رکھے اورجس کی چاہے عبادت کرے یاکسی کی نہ کرے ۔اس گمراہی سے اسکو نکالنے کے لئے ہم اسے فہمائش اورنصیحت کریں گے مگراس سے لڑینگے نہیں۔لیکن اسے یہ حق ہرگزنہیں ہے کہ خدا کی زمین پرخدا کے قانون کے بجائے اپنے باطل قوانین جاری کرے اورخدا کے بندوں کوغیرازخدا کسی کابندہ بنائے ۔اس فتنے کودفع کرنے کے لئے حسب موقع اورحسب امکان تبلیغ اورشمشیر دونوں سے کام لیاجائیگا اورمؤمن اس وقت تک چین سے نہ بیٹھے گاجب تک کفاراپنے فتنے سے بازنہ آجائیں ۔

مفتی شفیع عثمانی صاحب اپنی تفسیرمعارف القرآن میں مذکورہ بالاآیات کے لفظ فتنہ کے بارے میں لکھتے ہیں،’’یہ بات اپنی جگہ بالکل صحیح ہے کہ کسی کوقتل کرناسخت براکام ہے مگرکفارمکہ کا اپنے کفروشرک پہ جمے رہنا اورمسلمانوں کوادائے عبادت حج وعمرہ سے روکنااس سے زیادہ سخت وشدید ہے ،اس سے بچنے کے لئے انکو قتل کرنے کی اجازت دیدی گئی ،آیت میں لفظ فتنہ سے کفروشرک اورمسلمانوں کو ادائے عبادت سے روکناہی مرادہے (جصاص،قرطبی وغیرہ)،البتہ اس آیت کے عموم سے جویہ سمجھاجاسکتاتھاکہ کفارجہاں کہیں ہوں انکاقتل کرناجائزہے اس عموم کی ایک تخصیص آیت کے اگلے جملے میں اسطرح کردی گئی ولاتقتلوہم عندالمسجدالحرام حتی یقاتلوکم فیہ یعنی مسجد حرام کے آس پاس جس سے مراد پورا حرم مکہ ہے اس میں تم ان لوگوں سے اس وقت تک قتال نہ کرو جب تک وہ خودقتال کی ابتدا نہ کریں۔وہ مزیدلکھتے ہیں کہ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہواکہ ابتدائی جہادوقتال (offensive jihad )(یعنی اقدامی جہادجس میں مسلمان کفروشرک کومٹانے اوراللہ کے دین کو غالب کرنے کے لئے خودپہل کریں) کی ممانعت صرف مسجدحرام کے آس پاس حرم مکہ کا احاطہ مخصوص ہے دوسرے مقامات میں جیسے دفاعی جہاد ضروری ہے اسی طرح ابتدائی جہادوقتال (offensive jihad)بھی درست ہے ۔‘‘

یہاں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ اقدامی جہا د کی کچھ شرطیں ہیں جنہیں پورا کرنا ضروری ہے ۔اول یہ کہ اسلامی حکومت جہاں شریعت پوری طرح نافذہے وہ اپنے علاقہ کے غیرمسلموں اورپڑوس کی غیرمسلم حکومت کوایک باراسلام کی دعوت دے گی ،ان کے اسلا م نہ قبول کرنے پرجزیہ کا مطالبہ کرے گی اورجزیہ سے انکارپران سے جہاد کرے گی۔

اب ذرا سورہ توبہ کی ان آیات پربھی ایک نگاہ ڈال لیتے ہیں خاص طورپرآیت نمبر۔۵(مفہوم :پھرجب حرمت کے مہینے گذرجائیں تواس وقت ان مشرکین کوجہاں پاؤمارو’پکڑو ‘باندھواورگھات میں بیٹھو جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں)ا س کے بارے میں سیدحامد محسن کا کہنا ہے کہ’’ یہ آیت صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو باربارمعاہدوں کی خلاف ورزی کرکے مسلمانوں کی سلامتی خطرے میں ڈال دیتے تھے نہ کہ عام مشرکین کے لئے جوجنگی اصولوں کاپاس ولحاظ رکھتے تھے‘‘ ۔

سعودی عرب سے تقسیم ہونے والی تفسیرقرآن جسکاترجمہ مشہوراہل حدیث عالم دین مولانامحمدصاحب جوناگڑھی اورحواشی مولانا صلاح الدین یوسف صاحبان کے قلم سے ہیں اس میں سورہ برأت کی ان آیات کی تشریح اس طرح بیان ہوئی ہے ۔’’یہ اعلان برأت (یعنی تمام پچھلے معاہدے ختم کرکے چارماہ کی مدت مشرکین کودیکرپھرانہیں اسلام قبول نہ کرنے کی صورت میں قتل کرنے کی اجازت)ان مشرکین کے لئے تھاجن سے غیرموقت معاہدہ تھا یاچار ماہ سے کم کاتھا یاچارماہ سے زیادہ ایک خاص مدت تک تھالیکن ان کی طرف سے عہد کی پاسداری کا اہتمام نہیں تھا۔ان سب کوچارمہینے مکہ میں رہنے کی اجازت دے دی گئی۔جہاں تک ان قبائل کاسوال ہے جنہوں نے پوری ایمانداری سے معاہدوں اورجنگی اصولوں کااحترام کیاتھاانکے ساتھ معاہدے کی بچی ہوئی مدت (غالبا ۹مہینے )کالحاظ رکھنے کاحکم مسلمانوں کودیاگیالیکن انکی مدت ختم ہوجانے کے بعدوہ بھی اس اعلان برأت کے مخاطب قرارپائے جیسا کہ آیت نمبر۴ جسکامفہوم ہے ’’بجزان مشرکین کے جن سے تمہارامعاہدہ ہوچکاہے اورانہوں نے تمہیں ذرا بھی نقصان نہیں پہنچایانہ کسی کی تمہارے خلاف مدد کی ہے توتم بھی ان کے معاہدے کی مدت ان کے ساتھ پوری کرو‘‘صاف ظاہرکرتی ہے کہ انکی مدت ختم ہونے کے بعد انکے سامنے بھی تین صورتیں بچیں گی، یا تواسلام قبول کریںیاجزیرۂ عرب سے باہرنکل جائیںیاموت کاسامنا کرنے کے لئے تیارہوجائیں۔

اس پوری بحث سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ جمہورعلماء کااس بات پرہمیشہ اتفاق رہا ہے کہ اسلام کا مقصد روئے زمین سے کفروشرک اوراس کے باطل نظام وقوانین کوختم کرکے اللہ کی شریعت کونافذکرناہے ۔اللہ کے نبی ﷺاورانکے اصحاب نے اسکا عملی نمونہ پیش کردیا ۔یہی اسلام کااصلی نظریہ ہے ۔اب یہ بات بقول مولانامودودی صاحب کے دنیاکوپسندہویاناپسندہو(بحوالہ الحہاد فی الاسلام )۔ظاہرسی بات ہے کہ اہل ایمان کے لئے اسے بے چوں وچرا قبول کرنااسلام کی بنیادی شرط ہے اورعقیدتمندوں کواس میں کوئی ناانصافی بھی نظرنہیںآئیگی، لیکن ذرا سوچ کربتائیے کہ آج کے دورمیں کسی ٹی ۔وی بحث میں جہاں بحث عقیدے کی بنیادپرنہیں بلکہ عقلی بنیادوں پرہوتی ہے کیاہم اس موقف کادفاع کرسکینگے ۔شاید مذہب اورعقیدے کی آزادی کے موجودہ تصورکی روشنی میں غیرعقیدتمندوں اورعقلی سوچ رکھنے والوں کواس موقف پرراضی کرنا بہت مشکل ہوگا ۔

لہذا محسن صاحب کی یہ تشویش بالکل جائزہے کہ ان تشریحات سے اسلام کی شبیہ خراب ہورہی ہے اورانٹرنیٹ پراس موضوع پرہزاروں ہزاربحثیں چل رہی ہیں،جس میں اسلام کا دفاع کرنے والے اورمخالفین دونوں اپنی اپنی بات ثابت کرنے کی انتھک کوشش کررہے ہیں۔اسلام کادفاع کرنے والوں میں کچھ وہ ہیں جو ان آیتوں کی معذرت خواہانہ تشریح اور بسااوقات قرآنی الفاظ مثلا کفروغیرہ کے متفق علیہ ترجمہ ومفہوم کویکسرنئے معانی پہناکراس اندازمیں پیش کررہے ہیں جس سے وہ اسلام کوآج کے معیارکے مطابق مذہب اورعقیدے کی آزادی کاعلم بردارثابت کرسکیں، کچھ دوسرے لوگ ہیں مثلا داعش ،بوکوحرام ،الشباب وغیرہ جو اپنے نزدیک اقدامی جہا د کی مذکورہ بالا شرائط کوپوراکرتے ہوئے اوراپنے علماء کی سرپرستی میں اپنے اسلامی علاقوں میں اسلا م کے غلبے کے لئے اپنی اوردوسروں کی جان جوکھم میں ڈال رہے ہیں۔کچھ علماء دین نے اس کشمکش کے ماحول میں جمہورکے موقف سے الگ ایک موقف اختیا رکیا ہے، جیسے کہ ہندوستان میں مولانا وحیدالدین خاں صاحب ،پاکستان میں ڈاکٹر جاوید احمدغامدی صاحب اور سعودی عرب کے جید عالم دین ڈاکٹر سلمان بن فہد بن عبداللہ العودہ وغیرہ جنہوں نے یہ موقف اختیارکیا ہے کہ اقدامی جہادصرف حضرت محمدﷺاورصحابۂ کرام کے دورکے ساتھ مخصوص تھا جس میں اسلا م کی سربلندی کے لئے تبلیغ کے ساتھ تلواربھی استعمال کرنے کی اجازت تھی لیکن اب امت مسلمہ کے کاندھوں پریہ ذمہ داری نہیں ہے اسکے ذمے صرف دفاعی جہاد،دعوت اورتبلیغ ہے۔

Abdul Rahman Hamza is a Delhi-based writer. With his expertise in Arabic language and literature, he has spent decades studying the Holy Quran. He contributed this article to New Age Islam.

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/abdul-rahman-hamza,-new-age-islam/ulema-should-take-a-clear-stand-on-offensive-jihad--اقدامی-جہادپرواضح-موقف-اختیار-کرنے-کی-ضرورت/d/107803

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..