New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 04:54 PM

Urdu Section ( 18 May 2017, NewAgeIslam.Com)

Instead of Protecting Our Sect, Let Us Protect Our Religion مسلک جتانے یا بچانے کے بجائے دین کی حفاظت کی جائے

 

عبدالرحمٰن عابد

17مئی،2017

آج ہم اپنے قارئین کے لئے عورتوں سے ہمدردی کے نام پر اسلامی شریعت میں مداخلت کی کوششوں کے تعلق سے لکھنا چاہتے تھے ، چونکہ شریعت کے خلاف بیک وقت تین محاذ کھلے ہوئے ہیں ، ایک سیاسی محاذ ہے، دوسرا میڈیا کا محاذ ہے تیسرا ان نام نہاد مسلمان مرد عورتوں کا محاذ ہے جو اپنی احمقانہ سوچ کی وجہ سے یا اسلام دشمن طاقتوں کے آلۂ کاربن کر ان کو خوش کر کے کچھ حاصل کرنے کے لئے اسلامی شریعت کی کشتی میں سوراخ کرکے بیڑہ غرق کرنے کی بھرپور جد وجہد کررہے ہیں ۔

حکمراں جماعت ان تمام افراد او رگروہوں کی حوصلہ افزاء کررہی ہے جو کسی بھی طرح سے او رکسی بھی وجہ سے اسلامی شریعت میں مداخلت کے لئے حکومت کے معاون کا کردار ادا کررہے ہیں۔ درجنوں شو سل تنظیمیں اور افراد جن کے نام سے بھی عوام واقف نہیں تھے آج وہ میڈیا کی مہر بانی سے پورے ملک میں پہچانے جانے لگے اور حکمراں جماعت بی جے پی او را س کے سرپرست سنگھ پریوار کے بھی منظور نظر بنے ہوئے ہیں ۔ ماناکہ یہ شہرت او رقبولت وقتی اور عارضی ہے۔ لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کئی پٹے ہوئے سیاسی مہرے اسی بہانے سیاست و حکومت میں دین ایمان کا سودا کرکے کچھ حاصل کرنے کی تگ و دو میں کسی حد تک گرنے کو تگر ہیں بلکہ توگراوٹ او رذلالت کی آخری حد تک جاچکے ہیں ۔ بہر حال ہم آج بہت کچھ لکھنا چاہتے تھے لیکن شوسل میڈیا پر ہمیں ایک مغز مدلل تحریر حاصل ہوئی، اس کا مطالعہ کرکے ہمیں محسوس ہوا کہ آج ہم اپنے کالم کی جگہ اسی تحریر کو قارئین تک پہنچائیں ، ہمیں امید ہے کہ شفیق اعظمی صاحب کی اس تحریر کامطالعہ کرکے بہت سے نادان دوستوں او ردانا دشمنوں کی بھی آنکھیں کھلیں گی۔

یہاں ہم ایک بات اور بہت صاف طور سے بتادینا ضروری سمجھتے ہیں کہ جو حضرت مسلک کی وجہ سے یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس بہانے ائمہ اربعہ کے مسلک کو یا کم از کم حنفی مسلک کی بالا حیثیت کو اس بہانے ختم کرنے یا دبانے کا سنہری موقعہ ہاتھ آگیا ہے اس لئے دشمنان دین کے ساتھ کھلے عام یا بیک ڈور رہاں میں ملا کر دل کی مراد پوری کرلیں۔ تو ان کو سمجھ لینا چاہئے کہ شریعت اسلام کے ایک گو شے میں اگر خدانخواستہ آگ لگانے والے کامیاب ہوگئے تو یہ رفتہ رفتہ پورے گھر میں ضرور پھیلے گی پھر اسے بجھانا آپ کے بس کی بات نہیں ہو گی۔ اس لئے دانشمندی کا تقاضہ یہ ہے کہ بروقت اسلامی فراست سے کام لیتے ہوئے مسلک بچانے اور مسلک جتانے کے بجائے اسلامی شریعت کے تحفظ کیلئے مخلصانہ جد وجہد کیجئے ورنہ شریعت پر آنچ آئے تو کوئی مسلک نہیں بچے گا۔ بہر حال اب آپ شفیق اعظمی صاحب کی تحریر ملاحظہ کیجئے ، اور خود سوچئے کہ وقت اور حالات کا تقاضہ کیا ہے۔ ( عبدالرحمن عابد)

بعض حضرات کہتے ہیں کہ احادیث صحیحہ پر ہی عمل کرنا چاہئے ۔ان سے احادیث صحیحہ کی تشریح معلوم ہوتی ہے تو کہتے ہیں: بخاری اور مسلم۔ یعنی بخاری او رمسلم کے علاوہ جتنی حدیث کی دیگر کتابیں ہیں، عمل سے ان کا تعلق نہیں ، چونکہ وہ سب ضعیف احادیث کا مجموعہ ہیں۔ ضعیف احادیث کو یہ لوگ موضوع روایت سمجھتے ہیں ۔ یہ بڑا ہی خطرناک او ربھیانک نظریہ ہے ، اس لیے کہ ضعیف روایات کواگر منکر او رموضوع مان لیا جائے ، جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں، تب تو ہمارے تمام محدثین بشمول امام بخاری او رامام مسلم ، سب کے سب موضوع روایات کو فروغ دینے اور دنیا میں پھیلانے والے شمار ہوں گے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موضوع او رجھوٹی روایات کو پھیلانے والوں کو سخت ترین انجام کی دھمکی دی ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ترجمہ : جس نے قصداً ہماری جانب جھوٹی بات منسوب کی، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے ۔(بخاری ،ترمذی)

امام بخاری، امام مسلم، امام نسائی، امام ترمذی اورامام ابوداؤد وغیرہ تمام محدثین اپنی کتابوں میں ضعیف احادیث کو جگہ دیتے ہیں۔ امام بخاری ’’ بخاری شریف‘‘ میں نہ سہی، مگراپنی دیگر کتابوں میں ضعیف احادیث کا ذکر کرتے ہیں ۔

یہ انتہائی جہالت کی بات ہے ، ورنہ جن حضرات کو علم حدیث کی ’’ہوا ‘‘ بھی لگی ہے ، وہ جانتے ہیں کہ احادیث کی صرف دو ہی قسمیں : صحیح اور ضعیف نہیں ، بلکہ اس کی متعدد اقسام ، مثلاً: صحیح ، صحیح لغیرہ ، حسن ، حسن لغیرہ وغیرہ ہیں ۔ اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ امام بخاری اور امام مسلم نے چونکہ التزام کررکھا ہے کہ وہ اپنی کتاب میں صرف انہی راوایات کو جگہ دیں گے، جو ان قسموں میں سے اوّل درجے کی ہوں گی۔بقیہ قسمیں بخاری او رمسلم میں جگہ نہیں پاسکیں۔ لیکن اس کامطلب یہ نہیں کہ وہ حدیثیں جانچا ، ان کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان جتنے لوگ اس روایت کی نقل کرنے میں واسطہ بنتے ، ان کے احوال زندگی، کے قوت حفظ ، مہارت، ضبط اورعدالت وغیرہ کو جانچنے کے بعد اس حدیث پر صحیح ، حسن ، صحیح لغیرہ یا حسن لغیرہ اور ضعیف وغیرہ کا حکم لگادیا۔ اگر روایت سب سے اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے،تواس کو صحیح کہہ دیتے ،اگر کہیں کوئی کمی کوتاہی نظر آتی تو اس کو حسن وغیرہ کہہ دیتے ، بعض مرتبہ تمام شرائط پائی جاتیں ، مگر اس کو محض اپنے خاص ذو ق ( علۃ خفیہ) کی وجہ سے چھوڑ دیتے ۔ ہاں! اگر اس روایت کے بارے میں معلوم ہوجاتا کہ وہ جھوٹی ہے تو اس کو منکر اور موضوع قرار دیتے او راپنی کتابوں میں نقل ہی نہ کرتے۔ موضوعات کی کتابیں الگ سے لکھی گئی ہیں، تاکہ کسی موضوع روایت کے بارے میں تحقیق کرنی ہوتو اس کتاب میں اس کی تفصیل مل جائے ۔ مگر یہ سارے فیصلے اجتہادی ہوا کرتے ہیں، ان میں غلطی بھی ہوسکتی ہے۔ یہ بات نہیں ہے کہ امام بخاری او رامام مسلم رحمۃ اللہ علیہا نے جن روایتوں کو ترک کردیا ہے، وہ صحیح نہیں ہوسکتی ہیں، یا جن کو اختیار کیا ہے وہ ہر اعتبار سے صحیح ہی ہیں ۔ کیونکہ ان حضرات کی بیسیوں روایات پر محدثین نے کلام کیا ہے، بلکہ بعض کو تو شاذ بھی کہا ہے۔ مثلاً : بخاری کی وہ روایت جس میں واقعہ ’’ افک‘‘ کے تعلق سے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا نام آیا ہے۔ایسے ہی امام مسلم کی وہ روایت جس میں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے تعلق سے حضرت سفیان کا نام آیا ہے۔ جن روایات کو ان حضرات نے ترک کیا ہے، ان کے لیے بھی ضروری نہیں کہ وہ صحیح نہ ہوں، چو نکہ بہت ساری ایسی روایات ہیں جو ان دونو ں اماموں کی شرائط پر مکمل اترتی تھیں، مگر ان حضرات نے اپنے خاص ذوق ( علۃ خفیہ)کی وجہ سے ان کو ترک کردیا ۔ چنانچہ بعد میں ’’ امام حاکم نیساپوری‘‘ نے انہی روایات کو جمع کرکے ’’ مستدرک حاکم‘‘ تصنیف فرمائی، اسی وجہ سے مستدک حاکم کی روایات کو ’’ صحیح علی شرط الشیخین ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتاہے۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ ایک محدث ایک حدیث پر صحیح ہونے کا حکم لگاتا ہے تو دوسرا اسی حدیث پر حسن ہونے کا حکم لگادیتا ہے ، کسی حدیث پر ایک محدث صحت کا حکم لگاتا ہے تو دوسرا اسی پر ضعیف کا حکم لگا دیتا ہے ۔ اسی وجہ سے امام بخاری او رامام مسلم نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ تمام صحیح احادیث ان کی کتاب میں آگئی ہیں، یا ان کی کتاب کے علاوہ صحیح روایات کہیں او رنہیں ہیں۔ مگر احکام شرعیہ او رحرام و حلال کا فیصلہ کرنے کے لیے احادیث کا صرف صحیح ہونا کافی نہیں ہے۔ بلکہ حدیث کا صحیح او رحسن ہونا، احکام شرعیہ کی راہ میں ابتدائی مرحلہ کی چیز ہے۔ چونکہ روایت کتنی بھی مضبوط ہو، مگر اس پر عمل ہونا ضروری نہیں ،مثلاً ، ترجمہ : یعنی آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو ٹوٹنے کی روایت بہت ہی مضبوط ہے،ایسے ہی بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے والی روایت بہت ہی اعلیٰ درجے کی ہے، مگر ان پر عمل نہیں کیا جاسکتا ۔ چونکہ روایات کا محض صحیح او رمضبوط ہونا ہی عمل کے لیے کافی نہیں ۔ عمل کے باب میں اصل چیز ان روایات کی گہرائی میں جاکر ان کی صحیح سمجھ حاصل کرنا ہے،اور اسی گیرائی و گہرائی کو ’’فقہ‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ شریعت اسلامی میں یہی درجہ مطلوب ہے۔ فقہ کہتے ہیں دینی سمجھ کو ۔ یہ ایسا فن ہے جس میں صحابہ کرام کے مابین بھی باہم فرق مراتب تھا، چنانچہ صحابہ میں بھی اختلافات ہوئے او رکہنا چاہئے کہ ائمہ اربعہ کے اکثر اختلافات کی بنیاد صحابہ کے اختلافات ہی ہیں، اور وہ غلط بھی نہیں ، چنانچہ حضرت عون بن عبداللہ تابعی فرماتے ہیں مجھے یہ بات نا پسند نہیں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں اختلاف نہ ہوتا اس لیے کہ اگر وہ حضرات کسی چیز پر مجتمع ہوں اور پھر کوئی شخص ان کے خلاف کرے تو وہ تارک سنت ہے او راگر اختلا ف ہو ،پھر کوئی شخص ان میں سے کسی کے بھی قول کے مطابق عمل کرے تو وہ حدود سنت سے نہیں نکلا۔(دارمی)

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ترجمہ: مجھے یہ بات پسند نہیں کہ صحابہ میں اختلاف نہ ہوگا، کیونکہ اگر صحابہ میں اختلاف نہ ہوتا تو رخصتیں نہ ہوتیں ۔( زرقانی علی المواہب بحوالہ اعتدال فی مراتب الرجال)۔

حضرت عبداللہ بن المبارک فرمایا کرتے تھے: قرآن و حدیث کے مقابلے میں ، ایسے ہی صحابہ کے اجماعی قول معتبر ہے نہ رائے ۔ ہاں جہاں صحابہ میں اختلاف ہے، اس میں ہم اس چیز کو اختیار کریں گے۔ جو قرآن و حدیث کے زیادہ قریب ہوگی۔ ( اعتدال فی مراتب الرجال)

اگر احکام شرعیہ کے لیے صرف حدیث کا صحیح ہونا ہی کافی ہوتا ۔ تو صحابہ میں اختلاف کیوں ہوتا، ان کے حق میں تو تمام روایات صحیح سے بھی بڑھ کر قطعی یعنی قرآن کے ہم پلہ تھیں۔ انہوں نے احادیث کواپنے کانوں سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا، صحابہ میں سب سے زیادہ حدیث روایت کرنے والے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں، مگر فتاوی حضرت عمر و حضرت علی رضی اللہ عنہما وغیرہ کے چلتے تھے ۔ وجہ اس کی یہی ہے کہ احکام شرعیہ کے لیے صرف نصوص کافی نہیں ، بلکہ ا س کے لیے ’’ نفقہ‘‘ اور دینی سمجھ کا ہونا بھی ضروری ہے۔ ارشاد خداوندی، ترجمہ: کیوں نہیں نکلی ہر گروہ میں سے ایک جماعت کہ وہ دین میں سمجھ پیدا کرے اور قوم کے لوگوں کو جب لوٹ کر آئیں ،تو ان کو با خبر کرے،تاکہ وہ لوگ بچیں ( قرآن)۔

اسی فقہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ترجمہ :جن لوگوں حدیث پہنچائی جاتی ہے، ان میں بہت سے ایسے ہیں ،جو حدیث کو سننے والوں سے زیادہ حفاظت کرنے والے ہیں۔ (مسنداحمد ،ابو داؤد ، ترمذی، ابن ماجہ) اسی ملکہ کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے، یعنی بہت سے لوگ جو ( حدیث جس میں ) فقہ ( کا خزانہ ہے،اس ) کے حامل ہیں ( مگر) وہ ( خود) غیر فقیہ ہیں۔ (ترمذی) اسی ملکہ کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا : معاذ میرے صحابہ میں سب سے زیادہ حرام وحلال کو جاننے والے ہیں۔ (ترمذی) اگر صرف حدیث کا مضبوط ہونا ہی کا فی ہوتا، جیسا کہ یہ دین کے نادان دوست سمجھ رہے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے: جس نے سب سے زیادہ مجھ سے حدیثیں سنیں ہیں،وہی سب سے بڑا احکام شرعیہ کا جاننے والا ہے۔ چونکہ جس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست ( ڈائرکٹ) حدیث سنی ،اس کے حق میں وہ حدیث قرآن کے برابر ہے۔ چونکہ وہ بالکل قطعی اور یقینی ہے۔ وہاں کسی صحیح اور ضعیف کا احتمال ہی نہیں ۔

اہل علم جانتے ہیں کہ صرف احادیث کامضبوط ہوناہی عمل کے لیے کا فی نہیں ، انہی وجوہات کی بنا پر غیر مجتہد محدثین احکام شرعیہ نہیں نکالا کرتے تھے، بلکہ وہ خود بھی فقہاء ہی کی اتباع کرتے تھے۔ مشہور محدث حضرت امام شعبی کامقولہ مشہور ہے: ترجمہ: ہم محدثین تو دواخانہ والے ہیں، ڈاکٹر تو آپ ( فقہاء) حضرات ہیں۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کے طرز کو دیکھئے ! حضرت اپنی سنن ’’ ترمذی‘‘ میں جہاں حدیث کے صحیح اور حسن وضعیف وغیرہ ہونے کاحکم لگاتے ہیں، لیکن جہاں احکام شرعیہ ، حرام و حلال کو بیان کرتے ہیں ،وہاں فقہاء ہی کے اقوال نقل کرتے ہیں۔ ایک جگہ ’’ امام ترمذی‘‘ فقہائے عظام کے مسالک نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں : ترجمہ : فقہاء نے ایسا ہی کہا ہے اور وہی لوگ حدیث کے مطلب کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں ۔ ( ترمذی باب ماجاء فی غسل المیت)

اکثر محدثین خود بھی مقلد تھے ، چنانچہ مشہور غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن بھوپالی صاحب امام بخاری کے بارے میں لکھتے ہیں کہ : وہ شافعی المسلک تھے ۔ ( ابجد العلوم 810) اسی طرح امام مسلم رحمۃ اللہ کے بارے میں بھی نواب صاحب نے شافعی المسلک ہونا ذکر کیا ہے ۔ ( الحط 98) وجہ بالکل ظاہر ہے کہ احادیث کے مابین تطبیق دینا او ران سے احکام شرعیہ نکالنا ، اس کے لیے حدیث کا صحیح او رحسن ہونا ہی کافی نہیں ، بلکہ اس کے لیے او ربھی بہت سی دیگر چیزیں درکار ہوتی ہیں۔

احکام شریعت کے لیے جو دیگر درکار ہیں ، ان میں سب سے اہم چیز صحابہ کے آثار ہیں ۔ احکام اسلام اور شریعت محمدی میں صحابہ کے آثار فیصلہ کن چیز ہوا کرتے ہیں ۔ چنانچہ حضرت ابراہیم نخعی (96ھ) ، جو خود بھی صحابہ کے شاگرد ہیں ، فرماتے ہیں : اگر صحابہ کو دیکھ لیتا کہ وہ کلائی تک وضو کرتے ہیں ، تو میں عمل اس پر کرتا ، جس پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دیکھتا اور قرآن میں جو آیا ہے: یعنی وضو میں کہنیوں تک ہاتھ دھوؤ( مائدہ) تو اس کو ایسے ہی پڑھتا ، جیسا کہ قرآن میں ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ صحابہ پر ترک سنت کی تہمت لگائی جاسکتی ، وہ اہل علم تھے اور تمام مخلوق میں سب سے زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے خواہاں اور مشتاق تھے ۔ ان کے عمل کے بارے میں کسی قسم کا شک وہی کرسکتا ہے ، جس کو اپنے دین میں شبہ ہو۔ ( الحجہ فی بیان المحجہ 401/2)

حضرت عمربن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ ( جن کو جامع احادیث کہا جاسکتا ہے ،یعنی احادیث نبویہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کو کتابی شکل میں جمع کرانے اور اس کے لیے سرکاری طور پر کام شروع کرانے کا سہرا آپ ہی کے سر جاتا ہے۔) صحابہ کی اتباع کی بابت اپنے ایک خط ( جسے امام ابوداؤد نے بھی نقل کیا ہے، اس) میں فرماتے ہیں ،ترجمہ :صحابہ کی اتباع نہ کرنا ( دین میں) کمی اور تفصیر ہے۔ اور ان سے آگے بڑھنا ( دین میں) زیادتی اور تکان ہے۔ ایک جماعت نے ( ان کی اتباع نہیں کی، بلکہ) ان سے کوتاہی کی، تو اس نے ظلم کیا اور دوسری ان سے آگے بڑھ گئی تو انہوں نے غلو کیا، صحابہ کرام اسی افراط و تفریط کے درمیان سیدھی راہ پر تھے ۔ ( الاعتدال فی مراتب الرجال) ۔

حضرت ابوزید قیروانی مالکی ( متوفی 386ھ) نے اپنی کتاب ’’الجامع‘‘ میں ’’ اہل سنت و الجماعت‘‘ کے عقائد اوران کے طریق کار کو اس طرح بیان کیا ہے:

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کے بارے میں یہ بات مسلم ہے کہ نہ اس کا مقابلہ رائے سے ہوگا او رنہ قیاس سے۔ اور سلف صالحین ( صحابہ) نے جہاں تاویل کی ہے، ہم بھی تاویل کریں گے اور جس پر عمل در آمد کیا، اس پر ہم بھی عمل کریں گے اور جہاں انہوں نے توقف اختیار کیا، ہمارے لیے بھی توقف کی گنجائش ہے او رجہاں انہوں نے کچھ بیان کیا ہے ، ہم اس کی اتباع کریں گے، اور جو استنباط کیا ہے، اس کی اقتدار کریں گے اورجہاں انہوں نے تاویل میں اختلاف کیا ہے، تو ہم ان کی جماعت سے نہ نکلیں گے ۔( الجامع)

امام احمد ابن حنبل فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک سنت کے اصول وہ ہیں، جن پر حضرت صحابہ کرام تھے ۔ ( فتاوی ابن تیمیہ 155/4)

حاصل کلام یہ کہ احادیث کا صرف صحیح اور مضبوط ہونا ہی عمل کے لیے کافی نہیں ہے ، بلکہ ا س کے لیے او ربھی بہت سی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اگر بالفرض تسلیم کرلیا جائے کہ جو روایت زیادہ مضبوط ہو، اس پر عمل کیا جائے اور اس کے بالمقابل جو کمزور ہو، اس کو ترک کردیا جائے ، تب تو دین کا جنازہ نکل جائے گا ۔ چونکہ سند کے اعتبار سے سب سے مضبوط ترین روایت ’’قرآن کریم‘‘ کی ہے، جو معناً اور لفظاً دونوں اعتبار متواتر ہے، ذخیرہ احادیث کی کوئی بھی روایت سندکی مضبوطی و قوت میں اس کا مقابل نہیں ہوسکتی ۔ قرآن مجید بہر صورت ’’ حدیث‘‘ کے مقابلے میں مضبوط ہے۔ اب اگر کسی جگہ قرآن و حدیث میں بظاہر تعارض نظر آئے ، یعنی قرآن سے ایک حکم نکل رہا ہو،جب کہ حدیث سے اس حکم کے بالکل خلاف دوسرا حکم نکل رہا ہو،تو کیا محض اس وجہ سے چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ اپنے مد مقابل کے سامنے کمزور ہے ؟اگر یہی اصول تسلیم کرلیا جائے ، تو ان احادیث کے بالمقابل مضبوط ہے ، اس کو تو حکم یہ ہے : یعنی بیک وقت صرف چار عورتوں سے ہی شادی کرسکتے ہو( اس سے زیادہ نہیں ) ( سورہ نساء آیت نمبر3) ۔ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ بھی یہود و نصاریٰ کی طرف اپنے طعن و تشنیع کا نشانہ بناؤگے ؟ ۔ نعوذ باللہ من ذٰلک!

اسی طرح احادیث سے ثابت ہے کہ قیامت کے دن شفاعت ہوگی، جب کہ قرآن کہتا ہے: (سورہ بقرہ آیت نمبر 254) یعنی قیامت کے دن شفاعت نہیں ہوگی، تو کیا محض اس وجہ سے شفاعت کی احادیث کا انکار کردیا جائے گا کہ وہ قرآن کے مقابلے میں سنداً کمزور ہیں۔ ایسے ہی حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،( ہم انبیاء وارث نہیں بناتے ، ہمارا جو کچھ ترکہ ہوتا ہے، وہ صدقہ ہوتا ہے۔) جب کہ قرآن کہتا ہے ، ترجمہ: اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے تمہاری اولاد (کی میراث) کے باب میں ۔ ( النساء) یعنی ہر بچے کا حصہ منجانب اللہ متعین ہے، ماں باپ اس کے حصے کو ختم نہیں کرسکتے ۔ تو کیا اس حدیث کو محض اس وجہ سے چھوڑ دیا جائے گا وہ اپنے مقابل والی آیت کے مقابلے میں سنداً کمزور ہے۔ ایسے ہی احادیث میں آتا ہے کہ ایک وضو سے متعدد نمازیں ہوجاتی ہیں ، جب کہ قرآن کہتا ہے:یعنی نماز کے لیے کھڑے ہو،تووضو کرو! اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی نماز کے لیے کھڑے ہو، تو وضو کیا کرو۔ تو کیا ان احادیث ، جن سے ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے،ان کا انکار کیا محض اس وجہ سے کردیا جائے گا کہ وہ سنداً قرآن کے بالمقابل کمزور ہیں؟ ہر گز ہرگز ایسا نہیں کیا جاسکتا ہے۔ چونکہ یہ اصول ہی غلط ہے۔ اگراس اصول کو تسلیم کرلیا جائے تو قرآن و حدیث کا ایک ٹکڑا اپنے ہی دوسرے حصے کی تکذیب کرتا ہوا نظر آئے گا۔ قرآن ’’ حدیث‘‘ کی تکذیب کرے گا اور حدیث ’’قرآن‘‘کی تکذیب کرے گی۔ اور یہ ایسی بھیانک مصیبت ہوگی ، جس کی وجہ سے پوری امت ہلاک ہوجائے گی۔ سابقہ امتیں اسی وجہ سے ہلاک ہوئیں ۔ حدیث میں آتا ہے ، ترجمہ: عمر بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے نقل کر کے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کے بارے میں سنا کہ وہ قرآن پاک میں باہمی اختلاف کررہے ہیں اورآپس میں ایک دوسرے سے جھگڑرہے ہیں تو ( سخت ناراض ہوئے اور ) فرمایا: تم سے پہلے جو لوگ تھے،ان کی ہلاکت و بربادی کا باعث یہی چیز بنی تھی کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کے ایک حصہ سے دوسرے حصے کی تردید ( تکذیب) کی ۔ سن لو! اللہ کی کتاب اس شان سے نازل ہوئی ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو سچا ثابت کرتا ہے۔ لہٰذااس کے کسی حصہ کو کسی دوسرے حصے کے ذریعہ مت جھٹلاؤ ۔ او راس ( طرح کی کسی آیت کے مفہوم و مراد کے بارے میں) تم وہی بات کہوجو( کتاب اللہ کے صحیح معنی ومراد جاننے اوربتانے والوں کے ذریعہ) تمہارے علم میں ( آئی) ہے او رجوچیز تمہارے علم میں نہیں ہے، اس کو علم رکھنے والوں کے حوالہ کردو۔ ( مسند احمد، بخاری فی خلق افعال العباد 30)

( نوٹ: طوالت کی وجہ سے قرآن کی آیات اوراحادیث کی عربی عبارت کو حذف کردیا گیا ہے اور ترجمہ باقی رکھا گیا)

( شفیق اعظمی ازائمۃ المساجد ، غیر العرب )

17مئی،2017 بشکریہ : روز نامہ ہمارا سماج، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/abdul-rahman-abid/instead-of-protecting-our-sect,-let-us-protect-our-religion--مسلک-جتانے-یا-بچانے-کے-بجائے-دین-کی-حفاظت-کی-جائے/d/111198

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..