New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 09:52 PM

Urdu Section ( 26 May 2015, NewAgeIslam.Com)

Responsibilities of the New Generation in the Present Age دور حاضر میں نئی نسل کی ذمہ داری

 

 

 

 

 

عبد المعید ازہری ، نیو ایج اسلام

کسی بھی قوم کے نوجوان اس قوم کے مستقبل کی ضمانت ہو تے ہیں ۔ قوم کی ترقی اور تنزلی کا دارو مدار اور انحصار اسی نوجوان نسل پر ہوتا ہے ۔ یہ نوجوان قوم کا اثاثہ اور سرمایہ ہو تے ہیں۔ان کا رخ اگر صحیح سمت کی جانب ہوجائے تو قوم کا مستقبل روشن و تابناک ہوگا اور اگر اس قوم کو ایسے رہنما مل گئے جنہوں نے ان کو غلط سمت پر ڈال دیا تو اس قوم کو تباہ و برباد ہو نے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ کسی بھی پلان یا تجویز کو عملی انجام دینے کے لئے عمومی طور پر تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ پلان ،پروگرام یا خاکہ ، دوسرا وسائل وزرائع اور مالی تعاون اور تیسرا اسے عملی جامہ پہنانے والے افراد ۔ پلاننگ میں عام طور سے اھیڑ عمر کے لوگ ہو تے ہیں ۔ چالیس سے پچاس سال کی درمیانی عمر انسان کی سب سے پختہ اور بہترین عمر ہو تی ہے ۔ علم و تجربہ دور بینی اور دو ر اندیشی بالکل عروج پر ہوتا ہے ۔ صبر و استقامت پائے کا ہو تا ہے ۔ مثال کے طور پر تعلیمی بیدار ی مہم ۔ جب ملک تعلیمی میدان میں پیچھے ہو نے لگا تو قوم کے ذمہ دار طبقہ نے حکومت کے ذریعے تعلیمی بیداری کا پروگرام تیار کیا ۔تعلیمی پسماندگی کے اسباب و وجوہات تلاش کئے۔ان خامیوں اور کمیوں کے تدارک کے لئے ایک مستقل لائحہ عمل تیا کیا ۔ صنعت کاروں نے اپنا مالی تعاون پیش کیا او ر اس لائحہ عمل کو عملی اقدام کی منزل تک پہنچانے کیلئے وسائل و ذرائع کی سہولیات مہیا کرائی تاکہ یہ منصوبہ آسانی سے عام لوگوں تک رسائی حاصل کر سکے۔عوام تک اس پروگرام کو گھر گھر پہونچا نے کے لئے قوم کے نوجوان اپنے گھروں سے باہر نکلے کیونکہ یہ کام انہیں نوجوانوں کا تھا ۔نئی نسل کو نئی نسل ہی آسانی سے بیدار کر سکتی ہے ۔اس تعلیمی اور معاشی پسماندگی کی سب سے بڑ ی وجوہات میں سے ایک بے حسی اور عدم بے داری ہے ۔ لوگ اپنے حقوق تک سے واقف نہیں ۔لہٰذا اس تعلیمی بیداری مہم کے ذریعہ عوام الناس تک ان کے حقوق کے ساتھ تعلیم کی اہمیت ، تعلیم حاصل کرنے کیلئے ان کو دی گئی سہولیات سے اس نئی نسل نے نہ صرف آگاہ کیا بلکہ ان کے اندر ایک نئی روح پھونک دی۔

نوجوان کی ضرورت ہر محکمہ میں ہے کیونکہ نئے زمانے میں نئی نسل کے ذہنوں کے قریب ہونا سب سے بڑی ضرورت ہے ۔ ورنہ تجویز کار اور عمل درآمد عملہ کے درمیان فکر میں ہم آہنگی نہیں ہو پاتی ہے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ چالیس سے پچاس برس کا ادھیڑ عمر کا شخص جس کو لا شعوری اور غیر ذمہ دارانہ عمل تصور کرتا ہے نئی نسل اسے نئے زمانے کی کامیابی اور ترقی سمجھتا ہے ۔ قوم کا نوجوان ایک ہوا کی مانند ہو تا ہے اور ہوا کی خصوصیت ہے کہ ہوا جس رخ پر چلے گی اپنے پیچھے اچھے اور برے اثرات مرتب کرتی ہو ئی چلے گی ۔ اس ہوا پر کنٹرول رکھنا بڑوں اور قوم کے ذمہ داروں کا کام ہے کہ ہوا کی سستی میں بھی نقصان ہے اور یہی ہوا اگر طوفان بن جا ئے تو بھی ہلاکت اور بربادی ہے ۔اب قوم کے ذمہ داروں اور رہنماؤں کو یہ طے کرنا ہوگا کہ نئی نسل کی یہ ہوا کس رخ پر اور کس انداز میں چلے ۔

نئی نسل اپنے اکابرین کے افکار کے ساتھ پرورش پاتی ہے ۔ آباء واجداد سے جو فکروراثت میں ملتی ہے اس کے اثرات نئی نسل میں موجود ہوتے ہیں ۔ لیکن اسے اپنی زندگی میں عملی جامہ اسی وقت پہنا پاتا ہے جب نیا دور، نئی فکر نئے، وسائل وذرائع اکابرین کی فکر کو اپنے دامن میں جگہ دیتے ہیں یعنی دونوں فکریں میل کھا تی ہیں ۔ اگر افکار میں دور حاضر کے تقاضوں کا خیال نہ رکھا گیا ہو تو اس پر عمل کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور اسے نئے دور کی کامیابی سے جوڑنا اور بھی مشکل ترین ہو تا ہے ۔

ہر دور میں کامیابی کے معنی بدلتے ہیں ۔ دور حاضر میں بھی کامیابی نے اپنے معانی، اپنے اسباب اور اپنی نشانیاں خود مرتب کی ہیں ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دولت و شہرت ہر دور میں کامیابی کی علامت سمجھی گئی ہے ۔ دولت و شہرت کے آسمان کا سفر کرنے والا مسافر اپنے ماضی کے تمام عیوب اور نقوص سے خالی و عاری ہو جا تا ہے ۔ دنیا اس کے ماضی کو بھلا دیتی ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ اس کے ماضی کی زندگی سے یہ غفلت وقتی ہوتی ہے ۔ جیسے ہی دولت و شہرت کے بادل حقیقت کے سورج سے چھٹتا ہے اس کی تپش سے لوگوں کو آگہی حاصل ہوتی ہے ۔ ایک دہائی تک مسلسل محنت و مشقت سے کامیابی کی بلندی پر پہونچنے والا شخص لمحوں میں زمیں بوس ہو جا تا ہے ۔سوال یہ ہے کہ انٹر پاس بغیر ڈگری کا ایک شخص بی ٹیک پاس انجینئر کے ساتھ بی پی یو اور کال سینٹر میں نوکری کرتا ہے ۔ دونوں میں کامیاب کون؟ ایک لحاظ سے دونوں کامیاب ہیں کیونکہ دولت بھی ہے ، زندگی کے تمام تر عیش و آرام اور سہولیات بھی مہیا ہیں ۔ لیکن دونوں ناکام بھی ہیں کہ بنا ڈگری ،علم ،تجربہ اور فکرو دور اندیشی سے کمائی گئی دولت کا استعمال ملک و ملت کی ترقی میں ہونا مشکل ہے اورایک تکنیکی ڈگری حاصل کرنے کے بعد صرف دولت کا حصول بے سود ہے ۔

ہر قوم کی نئی نسل میں وہ قوت اور جذبہ ہو تا ہے جو کسی بھی تاریخ کو اپنے ہاتھ سے لکھنے کے لئے کافی ہو تا ہے ۔ قوم کے ذمہ دار اگر اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر لیں تو یہی قوم اپنے نوجوانوں کے کندھے پر سوار ہو کر ہر آگ کا دریا اور طوفانوں کا سفر طے کر نے میں کامیاب نظر آئے گی ۔ اور اگر قوم کے ذمہ دار نا اہل ہوں ،غیر ذمہ دار ہوں ،بے حس اور مردہ ضمیری سے جیتے ہوں تو پھر وہ قوم اپنے ہی نوجوانوں کے ہاتھ ایسی تباہی دیکھے گی جس کی اس نے کبھی توقع نہ کی ہوگی ۔ یہ نوجوان کی اہمیت اور خصوصیت ہے ۔

جاپان کے ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر نیو کلیر بم دھماکہ میں ملوث دو افراد انیس سال کے نوجوان تھے ۔ ان کا استعمال بڑی آسانی سے کیا گیا ۔ بڑی سوچی سمجھی سازش کے ذریعہ ان کے ذہنوں کو ترقی اور کامیابی کے جھوٹے خواب دکھا کر اس کا م کو انجام دیا گیا ۔انہیں اپنی غلطی کا احساس بعد میں ہوا لیکن بہت دیر ہو چکی تھی ۔ پورا ملک آنے والی نسلوں کے ساتھ تباہی و بربادی کی آگ میں کود چکا تھا ۔

آج پوری دنیا میں ترقی کے معنیٰ بدل گئے ہیں اور یہ نت نئے بدلاؤ نئی نسل کے دل و دماغ میں ایسا زہر بھر رہے ہیں جس سے یہ نئی نسل ہر قدیم روایت اور تہذیب فکر و عمل سے باغی نظر آتی ہے ۔دور حاضر کی بد عنوان سیاست نے معاشرہ کو تباہی و بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کر دیا ۔پیسے اور پاور کی چاہت نے انسان کی عقل کو ماؤف کر دیا۔نفرت و تشدد کے سودا گروں نے نئی نسل کو فکری طور پر مفلوج کر دیا ہے ۔اس فکر نے دولت و شہرت کواتنا آسان کر دیا کہ ہنر مندی او ر عقل و دانشوری از خود ضائع ہونے پر مجبورہو گئی ۔ ملک و ملت کے تئیں فکر اور اسے ترقی سے ہمکنار کرنے کی کوشش و کاوش بے سود اور بے وقوفانہ عمل قرار پاگیا ۔ انسانی ہمدردی اخوت و بھائی چارگی ، رشتوں و اقدار کی پاسداری جیسی روایتیں بے بنیاد ،بے حس اور بے معنی الفاظ محض بن کر رہ گئے ۔یہ نوجوان نسل آج پیسہ اور پاور کے لئے کچھ بھی کرنے کے لئے تیار ہے ۔ فرقہ وارانہ فسادات ،مذہبی منافرت پر مبنی واردات ، قتل وغارت گری ، لوٹ مار ہر جگہ یہ نسل نظر آتی ہے ۔ذات برادری ،فرقہ و مسلک ،مذہب وملت کے نام پر بہکنے کو تیار ہیں ۔

اکیسویں صدی بے مقصد اور محض نام نہا د کی آزادانہ زندگی گذارنے والے نو جوانوں کے لئے قہر ہے جس نے ان نوجوانوں کے ساتھ ملک و ملت کو بھی بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ دورحاضر کی بدعنوان سیاست ایسے نوجوانوں کو آلۂ کار بنا کر اپنے ذاتی اور سیاسی مفا د کے لئے بے جا استعمال کر رہی ہے ۔ہر انتخاب میں نوجوانوں کے نام پر ایک شور اٹھتا ہے اور پھر نوجوانوں کا استعمال ہی نہیں بلکہ استحصال بھی ہوتا ہے ۔ بغیر منزل کے رواں دواں یہ نئی نسل دولت و شہرت تو حاصل کر لیتی ہے لیکن مستقبل کی روشن حویلی کے سارے چراغ بدلے میں گل کر دئے جا تے ہیں ۔

تاریخ اس بات کا خلاصہ کر تی ہے کہ جس قوم نے جب بھی ترقی اور کامیابی کے منازل طے کئے ہیں ہر دو میں اسے ایسے نوجوان ملے ہیں جنہوں نے اپنی نوجوانی کو صحیح سمت دے کر انقلاب برپا کیا اور آنے والی نسلوں کے لئے عبرت اور مثال بن گئے ۔ بودھ سماج کے مذہبی رہنما مہاتما بدھ ،جین سماج کے مہاویر سوامی ہوں ، سمراٹ اشوک یا پھر سناتن دھر م کے مانے جا نے والے اوتار مریادہ پر شوتم رام یا مہابھارت میں کوروں کے خلاف پانڈو کے ارجن کو جنگ و زندگی کی سیکھ دینے والے کرشن ہوں یا پورے مہابھارت میں اکلوتی حیثیت رکھنے والے ابھی منیو ہوں ۔ ان سب کے پیچھے ایک تاریخ ہے جنہوں نے اپنی جو ش وجذبہ سے پر نوجوان زندگی کو صحیح رخ دیا اور انقلابی شخصیتوں میں ان کا شمار ہوا ۔

تاریخ اسلام نے بھی پیغمبر اعظم ﷺ کی نوجوانی کے واقعات دل کھول کر بیان کئے ہیں ۔ پچیس سال کی عمر میں انسانی اقدار ،عادات واطوار کے تمام مراحل طے کر لئے ۔ اخلاقی تہذیب میں بے مثل، محنت وتجارت میں لا ثانی ،کردار و گفتا ر میں بے جوڑ ،سیاسی اور سماجی ذمہ داریوں کا مکمل احسا س اور اس کے تئیں مسلسل کوشش و خدمت ۔،مذہبی رہنمائی میں یکتا ،حقوق انسانی سے بیدار نظر آتے ہیں ۔ پیغمبر اسلام نے قوم کے نوجوانوں کو بے راہ روی سے نکال کر نیک اور صحیح سمت کی جانب گامزن کیا تو نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا کی سب سے بدو ،جاہل و ظالم اور غیر مہذب قوم رہنمائی کے جوہر سے آراستہ و پیراستہ ہو گئی اور اسلام جیسے نظام حیات کو پوری دنیا میں پہنچا دیا ۔ چند برسوں ہی میں یہ قوم پیغام حیا ت کو لے کر حجاز کی وادیوں اور عرب کے صحراؤں کو پیچھے چھوڑتے ہو ئے پوری دنیا میں اپنی نمائندگی کا احساس دلا تی ہوئی نظر آئی ۔یہ وہ دور تھا جب پوری دنیا نے اسلام کے فلسفہ حیات کا مطالعہ کیا اور اس سے اپنی زندگی کی سمتوں کا تعین کیا ۔

ہر دور میں ایسے نوجوانوں کی سرداری اور سپہ سالاری رہی جنہوں نے اسلام کے نظام حیات اور پیغام عمل کو ساری انسانیت کے لئے عام کر دیا اور پوری دنیا کو انسانیت ، اخوت،محبت اور مذہبی ہم آہنگی کا ایسا سبق دیا جو آج تک کسی نظام میں نظر نہیں آئی ۔سترہ سال کے محمد بن قاسم کی بہادری اور جاں بازی کے قصے تاریخ نے اپنے سینے میں بڑی ہی قدر اور عزت کے ساتھ محفوظ رکھا ہے ۔وہیں طارق بن زیاد کے جو ش وجذبے کو آج تک تاریخ بھلا نہ سکی ۔ ان جیسے کئی نوجوانوں کے تاریخی کارنامے موجود ہیں جن کو پڑھ کر آج بھی قوم کا نوجوان جوش وجذبہ سے لبریز ہو جا تا ہے ۔یہ اور بات ہے کہ آج کی نئی نسل تاریخ سے دور ہوتی جا رہی ہے جس سے صحیح سمت میں زندگی کا بہاؤ مشکل سے مشکل تر ہو تا جا رہا ہے کیونکہ ہر نوجوان کے پیچھے خلیفہ ابن عبدالملک،، موسیٰ بن نصیر ،صلاح الدین ایوبی ،خالد بن ولید جیسے لوگوں کی تربیت اور سرپرستی کار فرما رہی ۔ ان نامور، دور اندیش، عاقبت شناس ،ذہن ساز ،سپہ سالاروں نے نئی نسل کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تربیت دی جس سے ان کی فکر میں وسعت کے ساتھ دلوں میں جذبۂ ایثار واخوت پیدا ہوا اور اپنی زندگی کو ایسے رخ پر ڈال دیا جس کی منزل صرف کامیابی اور ترقی ہے ۔

سناتن دھرم کے سب سے بڑے نمائندے سوامی وویکا نند نے کہا تھا کہ اگر مجھے سو نوجوان مل جا ئیں تو پوری دنیا میں انقلاب برپا کر سکتا ہوں ۔ گاندھی جی کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اگر مجھے امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ کربلا میں بہتّر ساتھیوں کا ساتھ مل جا تا تو ہندوستان کو ایک سال میں آزاد کرا دیتا ۔ نئی نسل کے بارے میں پیغمبر اعظم ﷺ کے کئی ارشادات موجودہیں۔آپ نے بتایا کہ قوم کا نوجوان قوم کا مستقبل اور قوم کا قیمتی اثاثہ ہوتا ہے ۔دہلی میں واقع ہونے والا ہیبت ناک واقعہ دور حاضر میں نوجوانوں کے کردار کی مثال ہے ۔جب ایک لڑکی کے ساتھ وحشانہ عصمت دری کا واقعہ پیش آیا تو دہلی کے ساتھ ملک کے تمام نوجوانوں میں بیداری کا احساس پیدا ہوا ۔ دہلی نے اس سے پہلے اپنی تنگ و دراز گلیوں میں نئی نسل کے اس جذبے کو محسوس نہیں کیا تھا ۔ انڈیا گیٹ اور جنتر منتر کے میدان آج بھی ان کے جذبے کی دھمک کو محسوس کرتے ہیں ۔ یہ نوجوان بیداری کا احساس لے کر جب سڑکوں پر نظر آئے تو زمانے نے کروٹ لی اور ایک انقلاب دیکھنے کو ملا ۔ایسے کئی واقعات ہماری نظروں کے سامنے ہے جو ہم سے بار بار ہماری ذمہ داری کے بارے میں سوال کرتے ہیں ۔ ہمارے مردہ ضمیروں میں جان پھونکنے کی کو شش کرتے ہیں ۔ ہمیں خواب غفلت سے جگانے کے لئے نت نئے طریقے استعمال کرتے ہیں اور عبرت ناک واقعات ہمیں بار بارغور وفکر کرنے کے لئے اکساتے ہیں ۔زمانہ انتظار میں ہے ۔ اکیسویں صدی کا نوجوان کب کروٹ لے گا ۔رواں صدی کی دوسری دہائی ظلمت و تاریکی میں ختم ہو نے کو ہے ۔

نوجوانو! ہوش میں آؤ اپنے آپ کو پہچانو ، اپنی اہلیت اور قابلیت کا صحیح استعمال کرو ، ملک و ملت کے تم پر کئی احسان ہے ۔تمام فرائض کو دیانت داری سے ادا کرو ورنہ آنے والی نسل تمہیں معاف نہیں کرے گی ۔

URL: http://newageislam.com/urdu-section/abdul-moid-azhari,-new-age-islam/responsibilities-of-the-new-generation-in-the-present-age--دور-حاضر-میں-نئی-نسل-کی-ذمہ-داری/d/103185

 

Loading..

Loading..