New Age Islam
Fri May 01 2026, 07:17 AM

Urdu Section ( 26 Aug 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Politics over the Sanctity of Muslim Girls مسلم لڑکیوں کی حرمت پر سیاست

عبدالحلیم منصور

23اگست،2025

کرناٹک کی سیاست ایک بار پھرنفرت اور منافرت کے گرداب میں الجھتی جارہی ہے۔ بی جے پی سے معطل شدہ وجے پور (بیجاپور) کے رکن اسمبلی بسوتاً گوڑا پاٹل یتنال کے حالیہ بیان نے نہ صرف ریاست بلکہ پورے ملک میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ’اگر کوئی ہندو نوجوان مسلم لڑکی سے شادی کرے گا تو اسے پانچ لاکھ روپئے نقد انعام دیا جائے گا‘۔ یہ جملہ محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ مسلم خواتین کی عزت و حرمت پر کھلا حملہ اور سماجی تانے بانے کو پارہ پارہ کرنے کی شعوری کوشش ہے۔

یہ بیان دراصل اس ذہنیت کا عکاس ہے جو عورت کو محض ایک ’شے‘ کے طور پر دیکھتی ہے او راسے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ہتھیار بناتی ہے۔مسلم خواتین کی توہین کے ساتھ ساتھ یہ قدم پورے طبقے میں خوف اورعدم تحفظ کی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش ہے، او ریہی وجہ ہے کہ اس پرنہ صرف قانونی بلکہ سماجی سطح پر بھی شدید رد عمل ناگریز ہے۔

شادی انسان کی زندگی کا سب سے پاکیزہ بندھن ہے۔یہ صرف دو افراد کا ملاپ نہیں بلکہ خاندانوں،رسم ورواج اور اقدار کو جوڑنے والارشتہ ہے۔ مگر یتنال نے اس مقدس تعلق کو سیاسی ہتھکنڈ وں کا حصہ بنا کر عورت کی عظمت کو مجروح کیا۔ گویا عورت ایک ٹرافی ہے جسے جیتنے پرپانچ لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔ یہ سوچ نہ صرف خواتین کی توہین ہے بلکہ سماج میں عدم تحفظ، خوف اور نفرت کو پروان چڑھانے کی سازش ہے۔ یہ بیانیہ عورت کے وقار، آزادی اورشخصیت کے انکار کے مترادف ہے۔ اور اس بات کا اظہار ہے کہ ہمارے سماج میں آج بھی خواتین کو ان کے حقوق سے زیادہ سیاست کا ایندھن سمجھا جاتا ہے۔

یتنال کا حالیہ بیان ان کی ذہنیت کاپہلا اظہار نہیں۔ ان کا سیاسی ریکارڈ نفرت اور اشتعال انگیزی کی طویل تاریخ رکھتا ہے۔ اور اس حقیقت کی گواہی دیتاہے کہ وہ بار ہا مسلم مخالف بیانات دے کر ماحول کو زہر آلود کرتے رہے ہیں۔ماضی میں انہوں نے کہا تھا کہ ”مسلمان جمہوریت کے دشمن ہیں، انہیں سرکاری اداروں میں جگہ نہیں دینی چاہئے۔“ایک موقع پر انہوں نے مسلمانوں کو ’غدا ر‘ قرار دے کر پورے طبقے کو بدنام کیا۔حساس مذہبی معاملات میں بھی انہوں نے غیر ذمہ دارانہ کلمات ادا کیے جن سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔

یہی وجہ ہے کہ بی جے پی نے مارچ 2025ء میں انہوں نے معطل کردیا۔لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ان کی زبان اور رویہ بی جے پی کے لئے بھی ناقابل برداشت تھا، تو ریاستی حکومت ان کی اسمبلی رکنیت برقرار رکھ کرکیا پیغام دینا چاہتی ہے؟ کیاخاموشی دراصل فرقہ پرستوں کو کھلی چھوٹ دینے کے مترادف نہیں؟ مسلم لڑکی سے محبت کی پاداش میں ہونے والے ایک قتل کے واقعے کو لے اس طرح کاغیر ذمہ دار بیان دیا گیا۔کوپّل شہر پہلے ہی گوی سدّ پاّ نائک کے قتل کے جو کشیدگی میں مبتلا تھا۔ ایک ذمہ دار رہنما کافرض تھا کہ وہ حالات کو ٹھنڈا کرے اور عوام کو اتحاد کا پیغام دے۔لیکن یتنال نے جان بوجھ کر آگ پر تیل ڈالنے کی کوشش کی۔ یہ بیان اس موقع پردینا دراصل واضح اشارہ ہے کہ ان کی سیاست کاایندھن ہی فرقہ واریت اور سماجی تقسیم ہے۔اس معاملے کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ کرناٹک کی کانگریس حکومت نے اب تک اس پر کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔ نہ اسمبلی میں اس پر سخت ایکشن لیا گیا اور نہ ہی رکنیت منسوخی کی بات کی گئی۔ حکومت کی یہ مجرمانہ خاموشی نہ صرف مایوس کن ہے بلکہ خطرناک بھی، کیونکہ اس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ اقتدار کی کرسی بچانے کے لیے فرقہ وارانہ زہر کو برداشت کیا جاسکتا ہے۔کیا حکومت کا فرض صرف اقتدار قائم رکھنا ہے یا پھر عوام، خواتین کی حرمت اور سماجی ہم آہنگی کاتحفظ بھی اس کی ذمہ داری ہے؟ یہ سوال آج ہر انصاف پسند شہری کے ذہن میں گونج رہا ہے۔

ہندوستان کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ فسادات ہمیشہ ایسے اشتعال انگیز بیانات اور افواہوں سے جنم لیتے ہیں۔ بیلگاوی منگلور اور دیگر مقامات کے فسادات اس کے ثبوت ہیں۔ تینال جیسے لیڈران اسی آزمودہ حربے کو دوہرارہے ہیں۔ یہ کھیل وقتی سیاسی فائدہ تو پہنچا سکتاہے مگر اس کا نقصان نسلوں تک بھگتنا پڑتا ہے۔اگر آج ایسے بیانات کو کچلنے کی بجائے نظر انداز کیا گیا تو کل کو یہ زہر ہماری جمہوریت کے لیے ناسور بن جائے گا۔ہندوستانی آئین پرشہر کو مساوات، آزادی اور وقار کاحق دیتاہے۔ آرٹیکل 21/ کے تحت ’زندگی اور آزادی‘ کا تحفظ بنیادی حق ہے۔ خواتین کے وقار پر حملہ نہ صرف اخلاقی جرم ہے بلکہ آئینی خلاف ورزی بھی ہے۔ ایک عوامی نمائندے کی زبان سے نکلے ایسے الفاظ آئین کی روح کی پامالی ہیں۔

اب معاملہ محض پولیس گیس یارسمی مذمت تک محدود نہیں رہ سکتا۔ یتنال جیسے رہنما کی اسمبلی میں موجودی بذات خود جمہوریت کی توہین ہے۔ ان کی رکنیت فوراً منسوخ ہونی چاہئے تاکہ یہ پیغام جائے کہ خواتین کی تضحیک برداشت نہیں ہوگی۔ فرقہ وارانہ نفرت کی کوئی جگہ نہیں۔ اور عوامی نمائندے اپنے الفاظ کے ذمہ دار ہیں۔ یہ اقدام صرف ایک فرد کو سزا دینے کے لیے نہیں بلکہ ایک مثال قائم کرنے کے لیے ضروری ہے تاکہ آئندہ کوئی سیاست دان ایسی جرأت نہ کرے۔ آج سوال سیدھا ہے کہ کیا حکومت امن، انصاف اور خواتین  کے وقار کے ساتھ کھڑی ہے؟ یانفرت کے سوداگر وں اور فرقہ پرستوں کے ساتھ؟ اس سوال کا جواب صرف الفاظ سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے دینا ہوگا۔

اگر حکومت واقعی جمہوریت کی محافظ ہے تواسے یتنال جیسے عناصر کو بے نقاب کرکے ان کا سیاسی مستقبل ختم کرنا ہوگا۔یہی وہ دوٹوک فیصلہ ہے جو سماج میں امن اور خواتین کے وقار کو یقینی بنا سکتا ہے۔میرے خیال میں یتنال کاحالیہ بیان محض ایک سیاسی شگوفہ نہیں بلکہ مسلم خواتین کی تضحیک، سماجی ہم آہنگی پر حملہ او رجمہوری اقدار کی پامالی ہے۔ اس پر خاموشی ریاست کے ضمیر پر بدنما داغ ہے۔ اب وقت آگیا  ہے کہ حکومت دوٹوک فیصلہ کرے، یا وہ عوام اور خواتین کے ساتھ کھڑی ہے یا پھرنفرت کے سوداگروں کے ساتھ۔اگر واقعی ملک اور ریاست میں امن، بھائی چارہ او ر جمہوریت عزیز ہیں تو یتنال جیسے عناصر کو کٹہرے میں لانا اور ان کی رکنیت منسوخ کرنا ہی واحد راستہ ہے۔ یہی پیغام آج ہر انصاف پسند، ہر ذمہ دار شہری اور ہرباوقار خاتون کے دل کی آواز ہے۔

-----------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/politics-sanctity-muslim-girls/d/136600

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..