New Age Islam
Sat Apr 04 2026, 07:42 AM

Urdu Section ( 18 Oct 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sir Syed Ahmed Khan and Secular Education in India سرسید احمد خان او رہندوستان میں سیکولرتعلیم

عبدالحافظ فاروقی

17 اکتوبر،2025

انیسویں صدی عیسوی کو مسلمانوں کی اصلاح اور تہذیبی فکر کیلئے ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ اس صدی میں نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں مختلف مصلحین نے اصلاحی تحریکیں شروع کیں جن کے اثرات انسانی زندگی اور معاشرے پردیرپا ثابت ہوئے۔ہندوستان میں ان مصلحین کی صف اوّل میں دونام بڑے نمایاں ہیں: راجہ رام موہن رائے اور سرسید احمد خان۔سرسید احمد خان کاتعلق اس دور سے ہے جب مغلیہ سلطنت زوال پذیر تھی اور ہندوستان کی عوام خصوصاً مسلمان انتہائی پستی کاشکار تھے۔ وہ قوم کو جہالت، معاشی پسماندگی اور فکری جمود کی دلدل میں پھنسا دیکھتے تھے۔ ایسے حالات میں سرسید نے جو تعلیمی تحریک شروع کی وہ نہ صرف مسلمانوں کی بقا کے لیے ایک روشنی کی کرن تھی بلکہ ہندوستان کے تمام باشندگان کے لیے امید کا پیغام بھی تھی۔ علیگڑھ نمائش میں اسٹیج پر کھڑے ہوکر انہوں نے اپنی بے بسی اور جذبہ خدمت کو ان الفاظ میں ظاہر کیا تھا: ”میں نے خو د لوگوں سے بھیک مانگی،جو بہت قلیل ملی، والنٹیر بنانے چاہے بہت کم بنے اور بنے بھی تو ان سے کچھ نہ بن سکا۔پس آج میں اس اسٹیج پراس لیے آیاہو ں کہ قوم کے بچوں کی تعلیم کے لیے کچھ کرسکوں“۔

یہ کلمات دراصل اس تڑپ کا آئینہ دار ہیں جو سرسید کے سپنے میں اپنی قوم کی ترقی اور فلاح کیلئے موجزن تھی۔ ان کے نزدیک تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ تھا جو مسلمانوں کو دوبارہ عزت ووقار کی منزل تک پہنچا سکتا تھا۔

سرسید احمد خان کی زندگی کا وہ پہلو جو سب سے نمایاں او ران کی شخصیت کو عظمت بخشتا ہے، وہ ان کی علمی اور فکری بصیرت ہے۔ وہ جانتے تھے کہ محض ماضی کی عظمت کے سہارے زندہ رہنا ممکن نہیں بلکہ بدلتے ہوئے حالات اپنے آپ کو ہم آہنگ کرنا ہی قوم کی بقا کا واحد راستہ ہے۔یہی سبب ہے کہ علی گڑھ تحریک محض ایک درسگاہ کے قیام کا نام نہیں بلکہ ایسی فکر اور ایک ایسا نظریہ ہے جس نے ایک نسل کونئی زندگی بخشی۔

سرسید کی نظر میں قوم کا اتحاد سب سے بڑی طاقت تھی۔انہوں نے ہمیشہ ہندو او رمسلمان دونوں کو ایک ہی دھرتی کا بیٹا قرار دیا اور قومی یکجہتی کو ترقی کازینہ بتایا۔ ایک موقع پراپنی تقریر میں فرمایا”مسلمانوں اور ہندوؤں میں کوئی مغائرت نہیں ہے۔ جس طرح آریا قوم کے لوگ ہندو کہلاتے ہیں اسی طرح مسلمان بھی ہندو یعنی ہندوستان کے رہنے والے کہے جاسکتے ہیں۔ہم نے متعدد بار کہا ہے کہ ہندوستان ایک خوبصورت دلہن ہے او رہندو اورمسلمان اس کی دوآنکھیں ہیں، اس کی خوبصورتی اسی وقت باقی رہ سکتی ہے جب اس کی دونوں آنکھیں رہیں“۔

سرسید کے نزدیک تعلیم کا مقصد صرف مسلمانوں کو پستی سے نکالنا نہ تھا بلکہ پورے ہندوستان کی فلاح اور ترقی ان کے پیش نظر تھی۔ وہ مذہبی تعصبات سے بالکل پاک ہوکر انسانیت کی خدمت کواصل نصب العین سمجھتے تھے۔ایک موقع پرانہوں نے کہا: ”میرے دوستو! مجھ کو افسوس ہوگا اگر کوئی شخص خیال کرے کہ یہ کالج ہندوؤ ں او رمسلمانوں کے درمیان امتیاز ظاہر کرنے کی غرض سے قائم کیا گیا ہے۔ اصل سبب اس کے قیام کا یہ تھاکہ مسلمان روزبروز ذلیل او رمحتاج ہوتے جاتے تھے۔ ان کے مذہبی تعصبات نے انہیں اس تعلیم سے فائدہ اٹھانے سے باز رکھاجو سرکاری کالجوں اور مدرسوں میں مہیا کی گئی تھی۔ اسی واسطے یہ امر ضروری خیال کیا گیا کہ ا ن کے لیے کوئی خاص انتظام کی جائے“۔

یہ سوچ اس بات کابین ثبوت ہے کہ سرسید کے نزدیک علیگڑھ کالج محض ایک ادارہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی دانش گا ہ تھی جو قوم کونئی فکری قوت او رعملی بصیرت عطا کرے۔ ان کے نزدیک ہندومسلم اتحاد ملک وقوم کی ترقی کا بنیادی سرمایہ تھا۔1883ء میں پنجاب کے ہندوؤں کو خطاب کرتے ہوئے سرسید نے کہا تھا:’’تم لفظ ہندو صرف اپنے لیے استعمال کرتے ہو، یہ درست نہیں ہے کیونکہ میرے خیال میں لفظ ہندو ایک خاص مذہب کوظاہر نہیں کرتا بلکہ ہر وہ شخص جو ہندوستان میں رہتاہے اپنے آپ کو ہندو کہنے کا حق رکھتاہے۔ لہٰذا مجھے افسوس ہے کہ اگر چہ میں ہندوستان میں رہتا ہوں مگرتم مجھے ہندو نہیں سمجھتے۔“

یہی وہ تصور قومیت تھاجو اگر دونو ں برادریاں سمجھ لیتیں تو ملک کی تاریخ کا دھارا بالکل مختلف ہوتا۔ سرسید مسلمانو ں کوبہتری میں ہندوستان کی بہتری او رہندوستان کی ترقی میں پورے ایشیا کی ترقی دیکھتے تھے۔ ان کی فکر کا یہ زاویہ ہمیں اس بات پر غور کرنے پرمجبور کرتاہے کہ وہ کس حد تک دوراندیش اور حقیقت پسند رہنما تھے۔

سرسید احمد خان نے ہندوستانی معاشرے کی جس کمزوری کو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ شدت سے محسوس کیا، وہ تعلیم کے میدان میں پسماندگی تھی۔ وہ دیکھتے تھے کہ مغربی دنیا میں علوم وفنون کی ترقی نے انسان کو کائنات کے رازوں سے روشناس کردیا ہے، مگر ہندوستان خصوصاً مسلمان اس قافلہ تہذیب سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ اسی احساس نے انہیں اس نتیجے پرپہنچا یا کہ قوم کو اگر زندہ رہنا ہے تو اسے اسی تعلیم طرف مائل کرنا ہوگاجو فرقہ وارانہ حدود سے آزاد او رسائنسی وعقلی بنیادوں پر استوار ہو۔

یہی تصور آگے چل کر ایک معقول سیکولر تعلیمی نظریے کی شکل میں علیگڑھ تحریک کی بنیاد بنا۔سرسید نے یہ بات بخوبی سمجھ لی تھی کہ اگر تعلیم کو مذہب کے محدود دائرے میں مقید کر دیا گیا تو اس سے معاشرہ مزید تقسیم کا شکار ہوگااس کے برعکس ایک ایسا نظام تعلیم چاہیے تھا جو سب کے لیے یکساں دروازے کھولے، چاہے وہ ہندو ہوں یا مسلمان،عیسائی ہوں یا سکھ۔ان کے نزدیک تعلیم کامقصد محض مذہبی معرفت حاصل کرنا نہ تھا بلکہ انسان کو عقل وشعور کی روشنی عطا کرنا تھا تاکہ وہ بدلتے ہوئے دور کے تقاضوں کو پورا کرسکے۔

سرسید نے تعلیم کے لیے جو خاکہ پیش کیا اس میں سائنس اورجدید فلسفے کومرکزی مقام دیا گیا۔ وہ چاہتے تھے کہ ہندوستان کے نوجوان صرف روایت پراکتفانہ کریں بلکہ عقل واستدلال کی بنیاد پردنیا کامقالہ کریں۔اس حقیقت کونظرانداز نہیں کیاجاسکتا کہ سرسید نے اپنے تعلیمی منصوبے میں کسی ایک مذہب کوفوقیت نہیں دی بلکہ تمام طبقات کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے پرزور دیا۔ یہی وجہ ہے کہ علیگڑھ کالج کا دروازہ سب کے لیے کھلا رکھا گیا تاکہ وہاں سے نکلنے والے افراد نہ صرف اپنی کمیونٹی بلکہ پورے ملک کے لیے روشنی کا مینار ثابت ہوں۔ ان کی سوچ میں یہ پیغام پوشیدہ تھاکہ تعلیم مذہب یا مسلک کا نہیں بلکہ انسانیت کامشترکہ سرمایہ ہے۔

علی گڑھ تحریک اس خواب کی عملی شکل تھی۔ یہ تحریک اس بات کا اعلان تھی کہ تعلیم صرف مذہبی مفاہیم تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع اور ہمہ گیر تصور ہے جو عقل سائنس، فلسفہ، ادب او رقانون سب کو اپنے دامن میں سمیٹتا ہے۔سرسید نے اس تحریک کے ذریعے ہندوستانی سماج کو یہ پیغام دیا کہ تعلیمی کا اصل مقصد فرقہ وارانہ تقسیم کو ختم کرکے قومی یکجہتی اور روشن خیالی کوفروغ دیتاہے۔ یہ دراصل وہی معقول نقطہ نظر تھا جس نے ہندوستان میں سیکولر تعلیم کی راہیں ہموار کیں۔ سرسید کا یہ ایمان تھا کہ اگر تمام مذاہب کے ماننے والے تعلیمی نظام کے تحت پروان چڑھیں گے تو ایک دوسرے کو قریب سے جاننے او رسمجھنے کا موقع ملے گا۔ اس طرح نہ صرف باہمی نفرتیں ختم ہوں گی بلکہ ملک کی ترقی کا سفر بھی تیز ہوگا۔ ان کے نزدیک علم وہ طاقت تھی جو نہ صرف مسلمانوں کی تقدیر بدل سکتی تھی بلکہ پورے ہندوستان کو ایک نئے عہد کی طرف لے جاسکتی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ مذہبی تعصبات نے قوم کو بربادی کے دہانے پرپہنچادیا ہے، اس لیے انہوں نے ایسے نظام تعلیم پرزور دیا جو تمام امتیاز ات کوپس پشت ڈال کرمحض انسانی فلاح کے لیے قائم ہو۔

اسی سوچ کے نتیجے میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی وجود میں آئی۔ 1920ء میں جب یہ ادارہ وجود میں آیا تو یہ محض ایک یونیورسٹی نہ تھی بلکہ ایک ایسی دانش گاہ تھی جس نے سرسید کے خواب کو حقیقت کاروپ دیا۔ اس کے درودیوار اس بات کے گواہ ہیں کہ ایک مرد مومن کی تڑ پ کس طرح ایک عظیم تحریک میں ڈھل گئی۔ سرسید کی قربانیوں او رمحنتوں نے اس درسگاہ کو ہندوستان میں سیکرلر تعلیم کی روشن علامت بنادیا۔ اگرآج ہندوستان کی تعلیمی تاریخ میں کسی ایک شخصیت کو اس بات کا کریڈٹ دیا جاسکتاہے کہ اس نے تعلیم کو ایک معقول او رسیکولر نقطہ نظر سے دیکھا او رقوم کے سامنے اس کی ضرورت کو اجاگر کیا، تو وہ شخصیت بلاشبہ سرسید احمد خان کی ہے۔ وہ فرد نہیں تھے بلکہ ایک عہد، ایک تحریک اور ایک کارواں تھے۔ انہوں نے جو روشنی جلائی وہ نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ پورے ہندوستان کے لیے مینارہ نور ثابت ہوئی۔

---------------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sir-syed-ahmed-khan-secular-education-india/d/137302

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..