New Age Islam
Mon Dec 06 2021, 06:48 PM

Urdu Section ( 4 Jan 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Rahman is the One whose mercy is infinite, Rahim is everlasting Mercy رحمٰن وہ ہے جس کی رحمت بے پایاں ہے ، رحیم کا مطلب وہ ہستی جس کی رحمت ہمیشہ رہنے والی ہے


عبدالغفار حسن

1 جنوری ، 2021

سیاق وسباق:قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے دوسرا ذریعہ اس کا سیاق وسباق ہے۔ قرآن مجید کے آگے پیچھے کی عبارت اور آیات سے بھی مفہوم واضح  ہوجاتا ہے۔ اگر درمیان سے آپ نے کوئی ایک آیت لے لی اور نہ سیاق دیکھا نہ سباق۔ سباق کے معنی ہیں کہ پہلی آیات میں کیا ہے اور سیاق کے معنی کہ بعد کی آیات میں کیا ہے۔ سیاق و سباق سے بے پروا ہو کر اگر آپ قرآن مجید میں غور کرتے ہیں تو اس سے قرآن مجید کا اصل مفہوم آپ کو نہیں مل سکے گا اور فہم قرآن میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔

مثلاً قرآنِ مجید میں ایک جگہ آتا ہے:

’’کیا ان کے لئے یہ (نشانی) کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ پر (وہ) کتاب نازل فرمائی ہے جو ان پر پڑھی جاتی ہے (یا ہمیشہ پڑھی جاتی رہے گی)، بیشک اس (کتاب) میں رحمت اور نصیحت ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں۔‘‘ (سورۃ العنکبوت:۵۱)

اب اس آیت کو ان لوگوں نے مغالطہ دینے کے لئے چن لیا ہے جو حدیث کو حجت نہیں سمجھتے بلکہ کہتے ہیں کہ ہمارے لئے اس آیت کی رو سے قرآن کافی ہے۔ اس طرح کے  مغالطوں کی باقاعدہ کتابوں اور رسالوں میں اشاعت ہورہی ہے اور ان نوجوانوں کو جو قرآن مجید کو نہیں سمجھتے یا ان کا قرآن مجید سے تعلق نہیں رہا ہے، مغالطہ میں مبتلا کیا جارہا ہے۔  ان کے ذہن میں یہ بٹھانے کی کوشش ہورہی ہے کہ قرآن خود کہہ رہا ہے کہ ہمارے لئے توبس قرآن کافی ہے۔ لیکن آپ اگر یہ دیکھیں کہ اس کا سیاق و سباق کیا ہے، اس سے پہلے کیا ہے، کس کے جواب میں یہ کہا گیاہے تو سمجھنے میں دقت پیش نہیں آئے گی۔ مذکورہ آیت  سے پہلے یہ آتا ہے:

’’اور کفّار کہتے ہیں کہ اِن پر (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر) ان کے رب کی طرف سے نشانیاں کیوں نہیں اتاری گئیں۔‘‘( سورة العنكبوت:۵۰) ان کا مطالبہ معجزوں کے لئے تھا جس طرح حضرت موسیٰ ؑ کو معجزہ دیا گیا تھا کہ سمندر پھٹ گیا اور قافلہ گزر گیا۔ حضرت عیسیٰؑ  کو معجزات دیئے گئے تھے جنہیں لوگ آنکھوں سے دیکھتے تھے کہ کس طرح کوڑھیوں کو اچھا کرتے ہیں، اندھوں کو بینا بناتے ہیں۔  ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے معجزات اور اس طرح کی نشانیاں رسولِ اکرمؐ کو کیوں نہیں دی گئیں۔ تویہ تھا ان کا سوال ان آیات کو پھر پڑھئے :

’’اور کفّار کہتے ہیں کہ اِن پر (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر) ان کے رب کی طرف سے نشانیاں کیوں نہیں اتاری گئیں، آپ فرما دیجئے کہ نشانیاں تو اﷲ ہی کے پاس ہیں اور میں تو محض صریح ڈر سنانے والا ہوں، کیا ان کے لئے یہ (نشانی) کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ پر (وہ) کتاب نازل فرمائی ہے جو ان پر پڑھی جاتی ہے (یا ہمیشہ پڑھی جاتی رہے گی)، بیشک اس (کتاب) میں رحمت اور نصیحت ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں۔‘‘ (سورة العنكبوت:۵۰۔۵۱)

یہ زندہ معجزہ ہے جوقیامت تک کے لئے ہے۔ اس معجزہ کے ہوتے ہوئے  وہ کہتے ہیں کہ ایسے معجزے دکھاؤ جیسے کہ دوسرے انبیاء کرام ؑنے دکھائے۔ یہاں وہ بات بنتی نہیں ہے جو منکرین حدیث بنانا چاہتے ہیں۔ یہاں نہ حدیث کے ردّ کا سوال ہے، نہ اس کے عدمِ حجیت کا معاملہ ہے۔ یہاں جو ان کا اصل سوال اور مقصد تھا کہ محسوس معجزات دکھاؤ، تواس کا ردّ کیا گیا ہے۔ تو معلوم یہ ہوا کہ قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ قرآن مجید کا سیاق و سباق بھی ہمارے سامنے رہے۔ لیکن اگر وہ سامنے نہیں رہتا تو ایسی صورت میں یہ عین ممکن ہے کہ ہم غلط مفہوم اخذ کرلیں۔

تعامل اُمت: قرآن فہمی کے لئے تیسرا ذریعہ تعامل اُمت ہے۔ یعنی پوری امت کا جو تعامل چلا آرہا ہے وہ بھی قرآن مجید کے فہم میں معاون ہے۔ اگر تعامل اُمت کو آپ نظر انداز کردیں تو پھر ایسی صورت میں قرآن مجید کا فہم حاصل نہیں ہوسکتا۔ تعامل سے مراد ہے عہد ِنبویؐ سے لے کر صحابہؓ کے دور میں، تابعین کے دور میں، محدثین اور فقہا کے دورمیں اس پر کیسے عمل کیا گیا۔ مفسرین کے دور سے لے کر اب تک جو بات لوگوں میں دین کے نام سے رائج چلی آرہی ہے، وہ قرآن کے لئے بہترین تفسیر ہے۔ یہ نہیں کہ ساتویں صدی ہجری سے لے کر اب تک جو رسم و رواج اور بدعات رائج ہوگئیں، ان کو ہم تعامل امت کہہ دیں۔ وہ تعامل اُمت نہیں کہلائی جاسکتیں۔ مثلاً قرآن مجید میں آتا ہے: ’’نماز قائم کرو۔ ‘‘ اب یہ نماز کس طرح قائم کریں، کتنی رکعات ظہر کی ہیں اور کتنی عصر کی ۔ یہ تعامل ہے، یہ تواتر ہے جس کا انکار ایسے ہی ہے جیسے قرآن مجید کا انکار۔ جس طرح قرآن مجید تواتر سے ثابت ہے، اسی طرح نماز کی رکعات بھی۔

امت کے تعامل سے احادیث کے مضمون کی تائید ہوجاتی ہے، اس طرح دونوں کو ایک دوسرے سے تقویت حاصل ہوجاتی ہے۔ قرآن مجید کے فہم کا یہ تیسرا ذریعہ ہے۔ ورنہ آپ حج کیسے کریں گے؟ حج نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے، صحابہ کرامؓ نے کیا ہے، جزئیات میں اختلاف ہے لیکن جو بنیادی اور اہم چیزیں ہیں مثلاً طواف، سعی، اِحرام ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

آثارِ صحابہ کرام ؓ:قرآن فہمی کا ایک ذریعہ آثارِ صحابہؓ  کا ہے، صحابہ کرامؓ  کے اقوال، بالخصوص عبداللہ بن مسعودؓ ، عبداللہ بن عباسؓ، اُبی بن کعبؓ اوروہ لوگ جنہوں نے قرآن مجید کی خدمت کی ہے،  ان کے سامنے قرآن مجید نازل ہوا ہے لہٰذا ان کی تفسیر کو مانا جائے گا۔ اگر کہیں ان میں اختلاف ہو تو جو قول قرآن مجید سے زیادہ قریب ہو، اس کو لیا جائے گا۔ یہ بھی ضروری ہے، اس کی مثال لیجئے۔

امام بخاریؒ نے صحیح بخاری میں نقل کیا ہے کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ ہم قرآن مجید پڑھتے ہیں اوراس کی آیات میں تعارض پایا جاتا ہے، ٹکراؤ اور تصادم پایا جاتا ہے۔ ایک جگہ ’’ہاں‘‘ ہے، ایک جگہ ’’نہیں‘‘  ہے تو وہاں ہم کیا کریں؟ آپؓ  نے کہا کہ بتاؤ وہ کون سی آیات ہیں تاکہ میں بھی جانوں کہ تمہارے ذہن میں کیا خلجان ہے؟سائل نے کہا کہ قرآن مجید میں ایک جگہ آتا ہے کہ جب قیامت قائم ہوگی تو مشرکین اللہ تعالیٰ کے دربار میں جاکر کہیں گے:

’’قسم اللہ کی! ہم تو مشرک نہیں تھے۔ ہم نے تو شرک نہیں کیا۔‘‘ (سورہ الانعام:۲۳)  وہ انکار کریں گے یعنی اس طرح وہ اپنے شرک کو چھپائیں گے جیسے دنیا کے رشوت خور کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے تو رشوت نہیں لی۔ جبکہ دوسری آیات میں آتا ہے:’’ اور وہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات نہیں چھپا سکیں گے۔‘‘ (سورہ النساء : ۴۲)  یہاں بظاہر ٹکراؤ ہوگیا کہ مشرکین نے چھپایا تو ہے جیسا کہ پہلی آیت میں ہے لیکن دوسری آیت میں آتا ہے کہ وہ چھپا نہیں سکیں گے تو اس کا کیا مطلب ہے؟

 اس وقت حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے وضاحت فرمائی کہ یہ ایک وقت میں نہیں بلکہ ایسا دو اوقات میں ہوگا۔ شروع میں تو کفار یہ سمجھیں گے کہ یہ دربار بھی ہمارے دنیاوی حکام اور بادشاہوں کی طرح ہے۔ اگر ہم یہاں جھوٹ بول دیں اورکچھ چھپالیں تو ہوسکتا ہے کہ کام چل جائے۔ اس بنا پر وہ کہیں گے کہ وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ وہ اس طرح جھوٹ بول دیں گے کیونکہ انہیں جھوٹ بولنے کی عادت رہی ہے۔ لیکن اس کے بعد پھر یہ ہوگا کہ: ’’اس دن ہم ان کے مونہوں پرمہر لگا دیں گے، ان کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے اور ان کے پاؤں اس کی گواہی دیں گے جو وہ کسب کیا کرتے تھے۔‘‘ (سورہ یٰسین: ۶۵) …  اللہ تعالیٰ مہر لگا دیں گے۔ جب مہر لگ جائے گی تو یہ اَعضا ءو جوارح گواہی دیں گے: منہ بند، زبان بند، مہر لگ گئی۔ اب یہ اعضاء و جوارح یہ ہاتھ پاؤں، آنکھ، کان گواہی دیں گے کہ کیا دیکھا تھا، ہاتھوں سے کیا پکڑا تھا،  قدم کہاں کہاں بڑھائے تھے، اس وقت کوئی بات نہیں چھپائی جاسکے گی۔ تو یہ دو مرحلے اور دو وقت ہیں۔ اب یہ ایک صحابیؓ  کی تفسیر ہے۔

عربی زبان:قرآن مجید کے فہم کے لئے ایک ذریعہ عربی زبان ہے۔ تفسیر قرآن کے لئے عربی زبان کا جاننا بھی ضروری ہے۔ بعض لوگ عربی زبان نہیں جانتے لیکن قرآن مجید کے مفسر بن جاتے ہیں۔ بلادِعجم میں بھی ایسے لوگ ہیں اور ہندوستان و پاکستان  میں بھی پائے جاتے ہیں جو عربی نہیں جانتے لیکن انگریزی یا اُردو ترجمہ دیکھ کر تھوڑی سی ذہانت کی بناء پر مفسر قرآن بن بیٹھتے ہیں۔ یہ انتہائی غیر ذمہ داری ہے کہ آدمی قرآن مجید کی تفسیر بیان کرتا ہو لیکن عربی زبان سے نابلد ہو۔ زبان کا ذوق پیدا کیا جانا چاہئے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سارے علامہ بن جائیں لیکن جب تفسیر لکھنے بیٹھے یا کوئی تفسیر بیان کرے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اس نے عربی زبان کی تعلیم میں کچھ وقت لگایا ہو۔ کم سے کم اتنی عربی تو آئے کہ قرآن مجید کو سمجھ سکے۔ ترجمہ کی مثال اس طرح سمجھئے کہ ایک چیز تو ہوتی ہے لسی، اور ایک ہوتا ہے خالص دودھ۔ جو مزہ خالص دودھ میں ہوتاہے وہ لسی میں نہیں ہے۔ ترجمہ ، ترجمہ ہے، ترجمہ کے اندر بھی مترجم کا کچھ نہ کچھ تخیل آجاتاہے۔ اس کے کچھ خیالات اور جذبات تواس میں آجاتے ہیں لیکن کلام کی اصل معنویت اور فصاحت و بلاغت انسان پا نہیں سکتا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ عربی زبان کی نزاکتوں سے واقفیت ہو تو پھر قرآن مجید کا فہم، اس کی حلاوت، اس کی مٹھاس اور اس کی شیرینی سے لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے۔ ورنہ ترجمہ سے صرف یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ حلال کیا ہے، حرام کیا ہے، اللہ تعالیٰ کو کیا چیز پسند ہے اورکیا ناپسند۔ میں سمجھتاہوں کہ بوڑھے بوڑھے لوگ اب اس عمر میں عربی کیا پڑھیں گے لیکن نوجوانوں کو سو چنا چاہئے کہ عربی زبان سیکھیں۔ جتنا وقت وہ معاش اور دوسرے کاموں میں صرف کرتے ہیں اس میں روزانہ یا ہفتہ میں کم ازکم دو تین گھنٹے عربی زبان سیکھنے کے لئے نکالیں۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو حقیقت میں وہ قرآن مجید کے بہت قریب ہوجائیں گے۔

اس ضمن میں ایک مثال پیش ہے جو ایک  عیسائی کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ  '’’رحمٰن‘‘  اور’’رحيم‘‘  کا مادہ ایک ہی ہے تو یہ دونوں لفظ لانے کی کیا ضرورت تھی؟

حقیقت یہ ہے کہ رحمٰن اور رحیم میں فرق ہے۔ رحمان بروزن فعلان جس کے مفہوم میں جوش اور تلاطم پایا جاتا ہے، رَحِيْمٌ بروزن فَعِيْلٌ، اس کے مفہوم میں دوام اور پائیداری پائی جاتی ہے، یعنی رحمٰن وہ ہے جس کی رحمت بے پایاں ہے گویا رحمت کا سمندر جوش مار رہا ہے، رحیم کا مطلب ہے وہ ہستی جس کی رحمت ہمیشہ رہنے والی ہے، کبھی ختم نہ ہوگی۔

اسی طرح عربوں کے تمدن اور ان کے عادات سے بھی واقف ہونا ضروری ہے۔ جس ماحول میں قرآن مجید نازل ہوا تھا، اس سے بھی ہم باخبر ہوں۔ فہم قرآن کے لئے صرف لغت کافی نہیں۔ قرآن مجید کی تفسیر قرآن مجید سے، حدیث سے اور پھر لغت سے۔ اوریہ بھی سمجھ لیجئے کہ لغت کافی نہیں ہے کہ سنت کو آپ چھوڑکرمحض لغت کو لے بیٹھیں۔  بہت سے کلمات، بہت سے اَلفاظ ایسے ہیں کہ جن کی تشریح شارح نے کی ہے لیکن لغت میں اس کے کچھ اور معنی ہیں۔ اَب لغت میں صلوٰة کے معنی دعا (Prayer,Pray) کے آتے ہیں لیکن صلوٰة صرف دعا تو نہیں ہے۔ صلوٰة دین کی ایک خاص اصطلاح ہے۔ حج کے معنی عربی زبان میں '’’قصد کرنے‘‘ کے آتے ہیں لیکن شریعت میں اس اصطلاح کے ایک خاص معنی ہیں۔ یہ ایک عبادت ہے جس کے خاص آداب، خاص شرائط اور خاص تعریف ہے۔ اسی طرح زکوٰة اور صوم ہے۔ صوم ’’صبر‘‘کے معنی میں آتا ہے لیکن شریعت میں اس کے کچھ اور معنی ہیں۔ لہٰذا بہت سے اَلفاظ شریعت کے ایسے ہیں کہ جن کو سمجھنے کے لئے لغت کافی نہیں ہے۔ لیکن بہرحال بہت سے اَلفاظ قرآن مجید میں ایسے بھی ہیں کہ جن کے لئے ہمیں لغت کی ضرورت پڑتی ہے نیز جاہلیت کے اَشعار کی مدد سے بھی ہم قرآن مجید سمجھ سکتے ہیں۔

(قرآن فہمی میں معاون چند اور نکات آئندہ ہفتے ملاحظہ فرمائیں)

1 جنوری ، 2021،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/rahman-one-mercy-infinite-rahim/d/123977


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..