New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 04:35 PM

Urdu Section ( 15 Jul 2014, NewAgeIslam.Com)

Modi Government and Indian Muslims نئی حکومت اور مسلمانوں کی سرگرمیاں

 

عبدالعزیز

14 جولائی، 2014

مودی سرکاری کے آنے کے بعد  مسلمانوں کا وہ طبقہ  جو ہمیشہ  غور و فکر  سے کام لیتا ہے اور وہ تنظیمیں  جو اسلام او رمسلمانوں کے تحفظ  کے لئے فکر مند رہتی ہیں  اپنے انپنے انداز سے مسلمانوں کو مخاطب  کررہی  ہیں  کہ مسلمانوں کو یہ کرنا چاہئے  اور یہ نہیں کرناچاہئے ۔ عام  مسلمانو ں کا جہاں تک سوال ہے او ر مسلمانوں کی وہ تنظیمیں  جن کو حالات او رمسائل سے کوئی  سروکار نہیں ہے انکا رجحان یہ ہے کہ وہ جہاں تھیں اور جیسے تھیں اسی طرح رہیں گی اور اپنے کام سے کام رکھیں گی خواہ مسلمانوں کے سر پر پہاڑ گرے یا آگ برسے ۔ جو مسلمان یا تنظیمیں  عقائد کی جنگ  میں مبتلا  ہیں حسب  دستور  اپنا کام  انجام  دیتی رہیں گی جو مسلکی  جھگڑوں میں الجھا تے ہیں یا  الجھے ہیں وہ اپنی عادت سے باز نہیں آئیں گے۔

چھان بین  سے کام لیا جائے اور سروے  کیا جائے تو مسلمانوں  میں جو لوگ وسیع النظر ہیں اور اصلاح پسند  ہیں ان کی تعداد انتہائی کم  ہے اور اتنے بے اثر ہیں کہ جو نام نہاد مولوی ، مولانا یا علماء  ہیں وہ نام نہاد دینی جلسوں میں مسلمانوں کے ہی کسی  طبقہ  یا مکتبہ فکر کو نشانہ بناتے ہیں  اوراپنی  جیبیں بھرتے ہیں اگر اصلاح پسندوں  کی ٹیم  مضبوط  ہوتی تو یہ کرائے  کے لوگ فتنہ  و فساد سے کب کے باز آگئے ہوتے  اور معاشروں میں نکوبن کر زندگی  گذارتے مگر ایسے  لوگوں کی تقریروں کے لئے فیس ادا کی جاتی ہے جو مسلمانوں کو لڑانے او رٹکرانے کا کام انجام  دیتے ہیں۔

ان جھگڑوں کو مٹانے کے لئے بہتوں نے کام کیا ہے اور اب بھی کررہے ہیں مگر  مسلمانوں کوجھگڑا ہی راس آتاہے وہ بھی آپسی  اور باہمی کیونکہ  یہ بہت آسان اور غیر  مشکل کام ہے جسے سر انجام  دینے  کےلئے کوئی خاص  محنت  او رمشقت  سے گذرنا نہیں پڑتا نعیم صدیقی  نے کہا تھاکہ ۔

دشمن کے سامنے  بھی ہیں  ہم جدا جدا

علامہ  اقبال  نے مسلمانوں کو ان کی حیثیت  بتائی تھی  ان کے زوال اور تنزلی  پر روشنی بھی ڈالی تھی ان کے اشعار اصلاح  پسند جلسوں  میں پڑھے بھی جاتے ہیں ۔

منفعت  ایک ہے اس قوم کی نقصان  بھی ایک

 ایک ہی  سب کا نبی  صلی اللہ علیہ وسلم، دین بھی  ایک ، ایمان بھی

حرم پاک بھی ، اللہ بھی،  قرآن بھی ایک

 کچھ بڑی بات تھی  ہوتے جو مسلمان بھی ایک

 فرقہ بندی  ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں

 کیا زمانے میں پنپنے کی  یہی باتیں  ہیں

  یوں تو سید بھی ہو،  مرزا بھی ہو،  افغان بھی ہو

 تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو۔

علامہ اقبال نےاتحاد و اجتماعیت کی قدر و قیمت  بھی مسلمانوں  پر واضح کی تھی :

آبرو باقی تری ملت کی جمعیت سے تھی

جب یہ جمعیت گئی دنیا  میں رسوا تو ہوا

اپنی اصلیت پر قائم تھا جو جمعیت  بھی تھی

چھوڑ کر گل کو پریشان کارواں بھی ہوا

ا  س کے لئے دلیل بھی پیش  کی تھی

فرد قائم  ربط  ملت  سے  تنہا کچھ نہیں

  موج ہے دریا میں  اور بیرون دریا میں کچھ نہیں

ان حقیقتوں  کا اثر ان پرکچھ نہیں ہوا   جو مسلمانو کو ٹکڑے ٹکڑے میں دیکھنا چاہتے ہیں اور فرقہ  واریت  کو پسند کرتے ہیں ۔

اس نکتے پر اچھی طرح  سے غور و فکر کیا جائے تو ایسے لوگ  ایسی جہالت میں مبتلا  ہیں جو کفر سے بد تر  ہے مگر  وہ اپنے آپ کومسلمان کہتے ہیں اور اس کفر یہ  کام کو عین دین سمجھتے ہیں  جب کہ قرآن مجید  میں اللہ تعالیٰ  نے دین قائم  کرنے پر زور دی ہے اور تفرقہ سےبچنے کا حکم دیا ہے ۔ دین کی رسی کو مضبوطی  سے تھامنے اور  پکڑے رہنے کی تاکید کی ہے اور اس کے فائدے  پر روشنی ڈالی  ہے کہ اسلام کی نعمت نے کس طرح دشمنو کو بھائی بھائی بنادیا ایک دوسرے  کو شیر و شکر  کردیا جس کی مثال دنیا کے کسی دوسرے حصہ میں نہیں ملتی  ۔ آج صورت حال  یہ ہے کہ وہی دین جو بھائی بھائی بنا رہاتھا  اسی دین  کے نام پر رسہ کشی اور تنازعہ  کی ایسی دیوار  کھڑی دی گئی ہے کہ گرانے والے خود زخمی ہوجاتےہیں بسا اوقات  زندگی سےبھی ہاتھ  دھو بیٹھتے ہیں  اور دیوار کھڑی کرنے والے  غازی یا شہید کہلاتےہیں ۔

اوپر جن باتوں کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مسلمانوں  کی ہوا  اکھڑتی ہے  مسلمان کمزور ہوتے ہیں جیسا اللہ تعالیٰ  نے  اپنی کتاب  قرآن مجید  میں فرمایا ہے تو کیا  اس کمزوری کو دور کئے  بغیر بھی مسلمانوں  میں مضبوطی  یا استحکام ممکن ہے؟ یہ نکتہ  قابل غور ہے کہ جو لوگ  اندر رہ کر مسلمانوں  کے دیمک بنے ہوئے  ہیں ان دیمکوں  کے لئے  کوئی دوا ایجاد کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اندرونی بیماری  ظاہری  بیماری سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے ۔

اصلاح پسندوں کو عام مسلمانوں  کے سامنے اس حقیقت کو بتانا ضروری ہے کہ جو لوگ غیر وں کی تنظیموں سے وابسطہ  ہیں وہ ملت کے اپنے نہیں ہوپاتے خواہ  حالات کتنے ہی  خراب کیو ں نہ ہو جائیں بابری مسجد جب گری اس وقت مرکز میں کانگریس کی حکومت  تھی مسجد  کے انہدام سے پہلے  اس پارٹی کے ایک شریف ممبر تھے جو دوبار وزیر ریلوے بھی رہ   چکے تھے  انہوں نے اعلان کیا تھاکہ ان کی  پارٹی کی حکومت کی موجودگی میں اگر مسجد منہدم ہوتی  ہے تو وہ پارٹی سے استعفیٰ دے دینگے مگر انہوں نے مسجد گرنے کے بعد جب استعفیٰ نہیں دیا تو  جن لوگو ں نے وجہ  دریافت کی انہوں نے جواب میں کہا  کہ وہ مسلمانوں کے نمائندے نہیں ہیں  کانگریس  کے نمائندے ہیں ۔ اتر پردیش میں چھوٹے بڑے  ایک سو  دس فسادات  ہوئے ۔ مظفر نگر کے فساد میں کم سے کم ایک ہزار افراد مارے گئے  ، اربوں کی  جائیداد تباہ ہوئیں  اور تیس گاؤں نیست  و نابود کردیئےگئے مگر سماج وادی پارٹی سے ایک شخص نےبھی استعفیٰ نہیں دیا  اگر سارے  مسلمان  جو پارٹی میں ہیں وہ ملت  سے جڑے ہوتے اور مسلمانوں کے غم میں شریک ہوکر استعفیٰ دیتےتو کیا پارٹیوں کے دماغ پر کوئی اثر  نہیں پڑتا؟

اس مضمون سے پہلے ایک مضمون  میں جس کا عنوان تھا ‘‘ عدل و انصاف کے علمبردار بنئے ’’ اس میں خاکسار نےاس حقیقت  پر زور دیا  تھا کہ اندرونی تبدیلی  کے بغیر مسلمانوں  میں کسی  بڑی اور قابل ذکر تبدیلی کی امید  نہیں کی جاسکتی اور اس پر روشنی ڈالی تھی کہ مسلمان اپنے اندر سےمنافقت کو بھی ختم کریں  اور دوسروں کو اسی بات  کی ہدایت کریں جو وہ خود کرتے ہیں یا کرنے کا ارادہ رکھتےہیں ۔ اللہ نے سورہ صف میں کہا  ہے کہ اللہ کو وہ بات سخت ناگوار اور نا پسند ہے کہ کرکچھ اور کہو کچھ ۔ حدیث شریف میں چار صفتیں ایسی ہیں کہ جس شخص  میں چاروں  پائی جائیں وہ خالص منافق ہے اور جس میں کوئی ایک صفت پائی جائے اس کے اندر نفاق کی ایک خصلت ہے جب تک  کے وہ چھوڑ نہ دے ۔ یہ کہ جب امانت اس کے  سپرد کی جائے تو اس میں خیانت کرے اور جب بولے تو جھوٹ بولے اور جب عہد کرے تو اس کی خلاف ورزی  کرجائے  او رجب لڑے تو اخلاق و دیانت کی ساری حدیں توڑ ڈالے ۔

اگر ہم میں منافقت  بڑھ گئی ہو صداقت اور عدالت کی کمی واقع ہو تو کیا اس کی طرف دھیان  دینے کی ضرورت  نہیں ہے  ؟ اس طرح اندرونی کئی اور چیزیں  جس کی طرف مضمون نگار نے توجہ دلائی تھی مثلاً تعمیر ذات  ، اہل و عیال کی تعلیم و تربیت اور اصلاح معاشرہ یہ وہ ذمہ داریاں ہیں جو ہم پر اللہ کی طرف سے فرض کی گئی ہیں ۔ ان ذمہ داریوں  کا نہ  پرانی سرکار کا کام تھا کہ وہ پوری کرتی او رنہ ہی اس بھگوا  سرکار کی ذمہ داری  ہے کہ وہ پوری کرے بلکہ نئی بھگوا سرکار کےمنصوبہ میں   یہ شامل ہے کہ مسلمانوں کے اندرونی جھگڑوں کو ہوا دیتا کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ کمزور بن جائیں الیکشن کے موقع  پر کسی نے واضح طور پر  اور کسی  نےدبے  لفظوں میں اس اندرونی  جھگڑوں کو ہوادینے  کی کوشش کی تھی ۔ سبرامنیم  سوامی اور راج ناتھ سنگھ  کے ناموں  کا اس سلسلے میں خاکسار نےاپنے ایک مضمون میں ذکر بھی کیا تھا ۔

جہاں تک نئی سرکار ہے اس سے پہلے  بھی منفی  کاموں کی توقع تھی  اور اب بھی یہی توقع ہے ۔ جس نے گجرات میں فساد برپا کیا تھا اور  فرقہ واریت  کو ہوا دی او رمسلسل دیتا رہا ہے اب وہ ملک  کا پردھان منتری  ہے اور جو اس کا دایاں ہاتھ تھا یعنی امت شاہ جس  نے مظفر نگر اور گجرات کے فسادات کو کرانے میں  حصہ لیا  اب وہ حکمراں جماعت  کا سربراہ بننے جارہا ہے  اب اندیشوں کی بات نہیں ہے بلکہ اب یقین کے ساتھ یہ با ت کہی جاسکتی ہے کہ شر کی باتیں اور شر کے کام زیادہ  ہونگیں ۔ ویسے اللہ کے ہاتھ میں ہے کہ شر میں خیر پیدا کردے  یہ اسی وقت شاید  ہوگا کہ مسلمان مسلمان  بننے کی طرف راغب ہوجائیں اور اپنے اندرونی جھگڑوں کوبالائے طاق رکھ دیں ۔

خدانے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت  کے بدلنے کا

14 جولائی، 2014  بشکریہ :  روزنامہ جدید خبر، نئی دہلی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/abdul-aziz/modi-government-and-Indian -muslims--نئی-حکومت-اور-مسلمانوں-کی-سرگرمیاں/d/98127

 

Loading..

Loading..