New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 09:17 PM

Urdu Section ( 11 May 2017, NewAgeIslam.Com)

Love, Marriage and Divorce in Ancient Human Civilisations قدیم انسانی تہذیبوں میں محبت ، شادی اور طلاق






اے رحمان، نیو ایج اسلام

7مئی،2017

پچھلے کچھ عرصے میں طلاق (واحدہ ہویا ثلاثہ) کا موضوع اتنا گرما گرم رہاہے کہ عوامی خیالات بھی منفی ہوگئے ہیں اور عام گفتگو میں مثبت موضوعات جیسے دوستی ، محبت اور شادی زیر بحث نہیں آرہے۔ انسان کے معاشرتی تعلقات کی مختلف اقسام او ران کی تاریخ کا مطالعہ جتنا وسیع ، عمیق اور دقیق ہے اتنا ہی دلچسپ او رپر کشش بھی ہے۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ طبع انسانی کا میلان منفی سمت زیادہ ہے ( غالباً خود حفاظتی کی فطری جبلّت کے تحت) او رمثبت سمت کم جس کے سبب طلاق جیسے مسائل پر پرُ خوب پرُ جوش گفتگو ہوتی ہے مگر شادی کو موضوع بنتے ذرا کم ہی دیکھا گیا ہے۔ راقم کے تجربے میں آیا ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگوں کی معلومات بھی شادی کے معاملے میں قلیل اور ناقص ہیں ۔ عام تاثر یہ ہے کہ شادی۔ خواہ کسی معاشرے کی ہو۔ مذہبی حیثیت کی حامل ہوتی ہے یا مذہب کے ذریعے عائد شدہ چلن ہے لیکن یہ خیال یا تاثر قطعی ہے۔ دراصل ہر معاشرے میں انسان یہ خیال یا تاثر قطعی غلط ہے۔ دراصل ہر معاشرے میں انسان نے از خود مذہب کوکھینچ تان کر شادی پر چسپا ں کردیا۔ شاید اس رشتے کوتقدس عطا کرنے کے لیے ۔ اسلام کے پہلے او راہم ترین مورخ جعفر محمد ابن جریرالطبری نے تحریر کیا کہ حضرت آدم کا نکاح خود اللہ میاں نے پڑھایا تھا ۔( تاریخ طبری ، جلداوّل صفحہ 76) لیکن اس سلسلے میں نہ تو مذہبی رسومات کا ذکر ہے نہ کوئی عائدگی شرط وغیرہ بس اللہ کی طرف سے یہ اعلان ہے کہ ’’ جاؤ تم او رتمہاری زوجہ جنت میں رہو‘‘۔ یہ اس بات پر سند ہوجاتا ہے کہ شادی کی اہم ترین شرط ہے اس رشتے کا معاشرتی اعلان ۔ بائبل میں بھی یہ ذکر کچھ زیادہ مختلف نہیں ۔’’ 22: پھر خداوند خدا نے انسان (man) کی پسلیوں میں سے ایک پسلی لی اور اس سے (woman) تخلیق کی اور اسے آدم کے سامنے لایا گیا۔ آدم نے کہا یہ میری ہڈی ہے اور میرا ہی گوشت ہے۔ اسے womanکہا جائے گا کیونکہ man سے نکالی گئی ہے۔ (کتاب تکوین 24:22:2۔ نیا عہد نامہ) پھر خداوند خدا نے انہیں جنت میں رہائش عطا کی اس شرط کے ساتھ کہ وہ شجر ممنوعہ کے نزدیک نہیں جائیں گے ‘‘۔حضرت عیسیٰ نے تو شادی نہیں کی تھی لیکن بائبل میں شادی سے متعلق تیس (30) آیات ہیں جن میں سے مشہور آیت ہے ۔ ’’ جنہیں خدا نے ملایا ہو انہیں الگ ( منتشر) کرنے کا حق کسی کو نہیں God has pur together let no one put asunder whatاور عیسائی شادی بھی پادری کے محض ایک اعلانیہ فقرے سے مکمل ہوجاتی ہے ’’ آج سے میں تم دونوں کے شوہروزن ( یہی تریب ہے) ہونے کا اعلان کرتا ہوں ۔ انجیل کی مذکورہ آیت کے سبب ہی کیتھولک عیسائیوں میں طلاق کا تصور ہی نہیں تھا۔

تمام مورخین او رماہرین آثار قدیمہ اس بات پر متفق ہیں کہ زمانہ ما قبل تاریخ میں باقاعدہ شادی کا چلن ہوچکا تھا ۔ ا س کی کوئی زمانی حد متعین کرنا ذرا مشکل ہے لیکن اغلب یہ ہے کہ جب حضرت انسان نے غاروں کی رہائش ترک کی اور ’’ گھر‘‘ کا دوسرا تصو ر ان کے ذہن میں آیا تو خاندان کی ترتیب کا خیال لازمی طور پر آیا ہوگا۔ اس وقت تک عورت کے معاملے میں جس کی لاٹھی اسی کی بھینس کا قانون رائج تھا لیکن کسی عورت سے مستقل رشتے کی خواہش اور رشتے سے پیدا شدہ اولاد کی شناخت او را س کی ولدیت کے تعین کی ضرورت نے مجبور کیا ہوگا کہ اس مستقل رشتے کا اعلان بھی کیا جائے تاکہ کوئی دوسرا مرد اس عورت پر متصرف نہ ہو۔ شادی کے اعلان کی بنیاد یہیں سے پڑی اور آج تمام معاشروں میں رسم و رواج او رمذہب خواہ کوئی بھی ہو لیکن کسی نہ کسی صورت میں دنیا کو یہ ضرور باور کردیا جاتاہے کہ فلاں عورت آج سے میرے ساتھ مستقل طو رپر منسلک ہے۔

حضرت آدم کے ذکر کے سبب شادی کا ذکر پہلے کرنا پڑا ورنہ پہلا مقام تو محبت کا ہے۔ سائنس، فلسفہ، نفسیات، سماجیات اور ادب نے اپنے اپنے طور پر محبت کی تعریف اور تشریح کرنے کی کوشش کی ہے اور ان تمام مضامین اور مطالعات نے مخصوص انسانی جذبات کا احاطہ کرنے کے بعد مختلف نتائج اخذ کئے ہیں ۔ اگر ان تمام نتائج کو مفصل طریقے سے بھی سامنے رکھا جائے تو محبت کی کوئی حتمی تعریف برآمد نہیں ہوسکتی ۔ اس کی ایک وجہ تو یہی ہے کہ انسان کے تمام اظہار اس حد تک معروضی نہیں ہوسکتے کہ کوئی قاعدہ کلیہ قائم ہوجائے ۔ دیگر تمام جذبات واحساسات جیسے غصہ ، نفرت، خوف ، عقیدہ وغیرہ کی تعریفات و تشریحات تقریباً کائناتی ہیں ۔ اگر نہیں بیان ہوتا تو محبت کا بیان نہیں ہوتا ۔ دیکھا جائے تو یہ بھی اچھا ہی ہے کیونکہ محبت کی تعریف او راس کے اظہار کے سلسلے میں پوری دنیا میں اعلیٰ درجے کا ادب تخلیق ہوا، ہورہا ہے اور ہوتا رہے گا ۔ تمام مذاہب نے انسانی محبت کو نہایت اعلیٰ مقام دیا ہے۔ انجیل میں تو محبت کو ہی خدا کہا گیا ہے۔ او رایک انگریزی محاور ے کے مطابق یہ محبت ہی ہے جس کے محور پر دنیا گھوم رہی ہے باقی سب بکواس ہے۔ لیکن محبت کی اقسام ہیں ۔ بھائی کی بھائی سے محبت، بھائی کی بہن سے محبت، ماں باپ کی اولاد سے اور اولاد کی ماں باپ سے، دوست کی دوست سے او رانتہا درجے میں بندے کی خدا سے۔ یہاں فی الوقت اس محبت سے بحث ہے مرد کو عورت سے اور عورت کو مرد سے ہو کر شادی یاٹریجڈی پر منتج ہوتی ہے۔ ( یہ دیگر بات ہے کہ بہت سے حضرات کی شادی ہی ٹریجڈی ہوتی ہے) سائنس کہتی ہے کہ منشائے قدرت ہے کہ متضاد ایک دوسرے کے لئے کشش رکھتے ہیں ( opposites attract) یہاں کشش سے مراد جنسی کشش سے ہے جو افزائش نسل اور تسلسل دنیا کے لئے ضروری ہے۔ ایک شاعر نے حکم لگا دیا: محبت کے لئے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں ۔ یہ وہ نغمہ ہے جو ہر ساز پر گایا نہیں جاتا ۔ اس سے زیادہ غیر سائنسی او رغیر فطری بات ہو ہی نہیں سکتی ۔ محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو ہر جاندار میں اس کی استطاعت او رشاید ضرورت کے مطابق و دیعت کیا گیا ہے۔ یہ بھی متفقہ طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے کہ انسان ہی ایسا جاندار ہے جس کو محبت بے حد و حساب عطا کی گئی ہے۔ لہٰذا اب ضروری ہے کہ محبت کی شادی پر بات کی جائے ۔

ہمارے دقیانوسی خیالات کے حامل مولوی ایک طویل عرصے تک ’’ محبت کی شادی‘‘ یعنی Love Marriageکے سلسلے میں اس طرح ناک بھوں چڑھاتے رہے جیسے محبت کی شادی کرنا گناہ ہو۔ اس روئیے پر پرھے لکھے اور وسیع النظر حضرات یہ سوچ سوچ کر حیران ہوتے رہے کہ کیا محبت کے بغیر بھی شادی ہوسکتی ہے؟ بچپن میں مولویوں کے ذریعے دی جانے والی یہ دلیل کان میں پڑی کہ شادی کے بعد اللہ دونوں کے دل میں محبت ڈال دیتا ہے۔ لیکن عرفِ عام میں جسے محبت کہا جاتا ہے اور پچھلے وقتوں میں جس ادراک صرف رومانی ناولوں اور فلموں کے ذریعے ممکن تھا مولویوں کے ذریعے لاحول ولاقوۃ کہہ کر اس سے احتراز کی تلقین ہی کی جاتی رہی ۔ اس سے یہ مطلب نہ نکالا جائے کہ بات صرف مسلمانوں کی ہورہی ہے۔

روایت سے جکڑے ہوئے ہندو سماج میں بھی یہی حال رہا اور شادی کے سلسلے میں جس قسم کے اصول اوررواج رائج رہے ان کا ذکر چانکیہ کی ارتھ شاستر میں ملتا ہے ۔ اپنی کتاب کے بعنوان ’’ عورت کی ملکیت، شادی اور ازدواجی ذمہ داریاں‘‘ میں چانکیہ نے آٹھ اقسام کی ہندوشادیوں کا ذکر کیا ہے۔ (1) لڑکی کو آرائش کر کے دھوم دھام سے بیاہنا ’’براہم‘‘ بیاہ کہلاتا ہے۔ (2) اگر میاں بیوی شادی کی رسومات مشترکہ طور پر ادا کریں تو اسے ’’پراجت‘‘ بیاہ کہیں گے ۔(3) معاوضے کے طور پر دوگائیں وصول کر کے لڑکے بیاہ دی جائے تو اسے ’’آرس‘‘ بیاہ کہیں گے ۔(4) کسی لڑکی کا اپنی من مرضی سے کسی مرد سے بیاہ کر لینا ’’گاندھرو‘‘ بیاہ کہلاتا ہے۔ (5) کسی لڑکی کو اغوا کرکے اس سے بیاہ کرلینا ( ایسا اکثر ہوتا تھا ) ’’راکھشس‘‘ بیاہ ہے۔ (6) کسی کنیا کو بہت سی دولت لے کر بیاہنا ’’آسور‘‘ ہے (7) لڑکی کو سوتے میں یا کسی نشے کے اثر بھگا کر لے جانا ’’پشاچ‘‘ کہلاتا ہے (8) لڑکی کو اس طرح دیوتا کی بھینٹ چڑھانا کہ کسی پجاری کو قائم مقام بنا لیا جائے ( یعنی اصلاً پجاری اس کا شوہر ہو) ’’دیوبیاہ‘‘ ہے۔ ان میں سے ہر قسم کا بیاہ ایک مخصوص مذہبی عقیدے سے وابستہ تھا لیکن وہ تمام عقیدے کن کن حالات میں کہاں اور کیسے ارتقا پذیر ہوئے یہ ایک نہایت دلچسپ مطالعہ ہے۔ اس کے علاوہ مرد اور عورت کی شادی کو جنم جنمانتر کا رشتہ یا بندھن ماننے کے مماثل قدیم یونانے صنمیات میں بھی ملتے ہیں ۔ ان میں سب سے اہم مماثل یہ کہانی ہے کہ ابتداً انسان Bisexual تھا یعنی ایک ہی جسم میں وہ مرد بھی تھا اور عورت بھی لیکن کسی بات پر ناراض ہوکر دیوتاؤں نے اس کے دو ٹکڑے کرکے انہیں مختلف سمتوں میں پھینک دیا ۔ اس وقت سے آج تک خود کو نا مکمل سمجھنے والا ٹکڑا اپنے ’’ نصف بہتر‘‘ کی تلاش میں بھٹکتا ہے ۔ ہندو فلسفے میں بیوی کی تعریف کے لئے جو لفظ ’’ اردھانگنی‘‘ ( آدھا جسم) استعمال کیا گیا ہے اس کا پس منظر اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔ (جاری)

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/a-rahman,-new-age-islam/love,-marriage-and-divorce-in-ancient-human-civilisations--قدیم-انسانی-تہذیبوں-میں-محبت-،-شادی-اور-طلاق/d/111112

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..