New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 05:56 AM

Urdu Section ( 29 May 2020, NewAgeIslam.Com)

Depressing Virus: All the Trees of Desire Are Withering یاسیت وائرس: مرجھا رہے ہیں سارے شجر ہائے تمنّا


اے۔ رحمان ، نیو ایج اسلام

30 مئی ، 2020

           ماضی پرستی  یا ماضی پسندی کو ایک منفی رویّہ قرار دے کر اس سے بچنے کی سفارش کی جاتی رہی ہے اور اس ضمن میں ماہرینِ نفسیات یہ کہہ کر متنبّہ کرتے تھے کہ اگر آپ کے گذشتہ کل نے آپ کے ’آج‘ کا زیادہ وقت لے لیا تو آپ کا مستقبل گھاٹے میں رہے گا اور ترّقی کے بیشتر دروازے آپ پر بند ہو جا ئیں گے۔لیکن جدید تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ ماضی کے کسی خوشگوار دور یا حسین تجربے کو یاد کر کے اس سے لطف اندوز ہونا موجودہ مصائب اور مسائل کی تکلیف کے لئے اکسیر ہے۔یادِ ماضی کو عذاب کہہ کر حافظہ چھین لئے جانے کی دعا کرنا محض شاعرانہ لفّاظی تھی اور کچھ نہیں،کیونکہ ذہنِ انسانی اپنے فطری رجحان کے تحت منفی اور تکلیف دہ تجربات کی تفاصیل کو تحت الشعور کی عمیق ترین گہرائیوں میں دفن کر دیتا ہے جن کو اکھاڑ کر پردہئ یادداشت پر لانے کے لئے کوئی طاقتور محرّک اور شعوری کوشش درکار ہے، اور اس شعوری کوشش کے زیرِ اثر ماضی اپنے تمام حسن و قبح کے ساتھ سامنے آ جاتا ہے۔پریم چند نے کہیں لکھا تھا کہ ماضی کتنا بھی تکلیف دہ رہا ہو اس کی یادیں بہت حسین ہوتی ہیں۔اس جملے کے معنی بھی جدید نفسیات کے اسی نظریے کی روشنی میں واضح ہوتے ہیں جس کے تحت یادِ ماضی کو  نہایت صحت مند ورزش کے طور پر اہمیت دی گئی ہے۔’یادوں کی گلی میں سفر کرنا‘،با الفاظِ دیگر ماضی کو رغبت سے یاد کر کے اس میں کھو جانا تمام جدید ترقّی یافتہ زبانوں کے ادب اور شاعری کا محور ہے جسے اصطلاحاً ناسٹلجیا (nostalgia) سے موسوم کیا جاتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یادوں کے اس مجموعی خزانے میں حادثات اور نامساعد حالات کی تفصیلات بھی تسلسل ِ واقعات میں اہم کڑیوں کی صورت مربوط رہتے ہیں لیکن بقیہ خوشگوار اور حسین یادوں سے پیوستگی کی بنا پر نہ صرف یہ کہ ان کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں بلکہ دور سے مڑ کر ان پر نظر ڈالنا موجودہ احساسِ تحفّظ میں مزید لذّت کا سبب بنتا ہے۔

              اس مضمون کے عنوان میں ’شجر ہائے تمنّا‘ کی جوترکیب ہے اس میں کلیدی لفظ ہے ’تمنّا‘۔انیس سو ساٹھ کے نصف دوئم سے انیس سو چھیاسی (جب کالج دوسری جگہ منتقل ہو گیا) تک پرانے دلّی کالج (جو اب ذاکر حسین دلّی کالج کہلاتا ہے)میں متعلّم رہے احباب آج تک  اس ’شجرِ تمنّا‘کو نہیں بھولے جس کی وجہ تسمیہ تھی کالج میں اس کا محلِ وقوع۔یہ پیڑ کالج کے عین وسط میں ایسی جگہ ایستادہ تھا کہ کالج میں داخل ہونے کے بعد کلاس،اپنے کامن روم، لائبریری اور کینٹین وغیرہ میں جانے یا وہاں سے واپسی میں کالج سے باہر جانے  کے سفر میں طلبا کا اس پیڑ کے سامنے سے گذرنا لازمی تھا۔لہذٰا لڑکے خالی اوقات میں یا حسبِ خواش و ضرورت کسی وقت بھی اس پیڑ کے نیچے کھڑے رہ کر اپنی کسی منظورِ نظر یا ہدفِ تمنّا کے دیدار کے لئے،یا بغرض نظارہئ عام،مصروفِ انتظار و شوق رہتے تھے۔غالباً انیس سو پینسٹھ میں کسی خلّاق ذہن نے پیڑ کو ’شجرِتمنّا‘ کے لقب سے نوازا جو فوراً مقبول ہو کر مستقل ہو گیا۔ آ ج بھی اس زمانے کے ہم عصر احباب کی گفتگو میں شجرِ تمنّا کا ذکر بڑی حسین اور چٹپٹی یادیں تازہ کر دیتا ہے۔ کالج چھوڑنے اور عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد اچانک احساس ہوا کہ شجرِ تمنّا کالج میں ہی نہیں رہ گیا بلکہ ذہن و دل میں اس کا حسین وجود مزید پنپ کر ایک تناور درخت بن گیا ہے جس کے پتّے پتّے پر زندگی سے متعلّق کوئی تمنّا درج ہے۔اور اب عمرِ عزیز کے آخری پڑاؤ پرآکر شدّت سے  احساس ہوتا ہے کہ یہ تمنّا یا تمنّائیں ہی ہیں جو زندگی کو پیہم دواں اور ہر دم جواں رکھتی ہیں۔ماہرینِ نفسیات کی جدید تحقیقات کے نتائج نے اس احساس پر مہرِ تصدیق بھی ثبت کر دی ہے۔

           دنیا بھر میں پھیلی ہوئی مہلک کورونا وبا کے سبب نافذ شدہ پابندیوں اور محبوسیت نے عام انسان کے ذہن اور نفسیاتی رویّوں پر جو اثرات مرتسم کئے ان کا مطالعہ بڑے منظّم طریقے  سے کیا جا رہا ہے۔اس ضمن میں ماہرین بالآخر کس نتیجے پر پہنچتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع روابط و ابلاغ سے جو حالات سامنے آئے اور آ رہے ہیں ان سے صاف پتہ چلتا ہے کہ عوام کی اکثریت اُس خطرناک ذہنی کیفیت بلکہ عارضے کا شکار ہے جسے یاسیت کہتے ہیں اور جو ڈپریشن یعنی افسردگی کی انتہائی شکل ہے۔اور اس کیفیت یا عارضے کا بنیادی سبب ہے جبراً عائد کردہ حبسِ بے جا یعنی لاک ڈاؤن سے پیدا شدہ ’تنہائی‘ یا غیر فطری گوشہ نشینی۔یہ وہ تنہائی نہیں جس کو عام حالات میں کسی تخلیقی یا دوسرے اہم کام کے لئے مطلوب ارتکازِ توجّہ کی غرض سے تلاش کیا جاتا ہے۔یہ وہ تنہائی ہے جس نے لوگوں کو معمول کے معاشرتی اختلاط سے محروم کر دیا ہے۔ہر شخص کو اپنے کام،پیشے یادوسری کسی بھی سرگرمی کے لئے گھر سے نکلنا ہوتا ہے۔باہر کی دنیا  میں اس کا اپنے دوستوں، اقربا،ہمکاروں اور درجنوں اجنبیوں تک سے سابقہ پڑتا ہے جن سے وہ مصافہ،معانقہ،گفتگو، خوش گپیّاں،بحث مباحثہ،لین دین اور کبھی کبھی جھگڑا تک کرتا ہے،اور یہی سب تگا پوئے دمادم زندگی کی دلیل ہے۔لیکن موجودہ حالات میں وہ تمام مصروفیات جن سے ایک عام انسان کے اوقات عبارت ہوتے ہیں قطعاً موقوف کر دیئے گئے ہیں۔زندگی کا تسلسل منقطع ہو گیا ہے۔دنیا پر ایک سکتہ چھا گیا ہے جس کا کوئی انجام یا اختتام بھی دور دور تک نظر نہیں آتا۔کام کے تعطّل نے جو روز افزوں مالی مشکلات اور پریشانیاں پیدا کر دی ہیں وہ اس پر مستزاد ہیں۔جہاں تک ہمارے ملک کا تعلّق ہے مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ وبا کے شکار غریب مزدوروں اور دیگر عوام کے مصائب میں حکومتِ وقت کی مجرمانہ غفلت اور سفّاک لاپروایانہ رویّے نے آگ پر تیل کا کام کیا ہے۔جہاں ابتدا میں اس مہلک وبا اور اس سے ہونے والی اموات نے خدشات و خطرات سے دوچار کر کے افسردگی میں مبتلا کیا وہاں سخت نا مساعد حالات میں اربابِ اقتدار کی بے حسی اور بے مہری نے یاسیت تک پہنچا دیا۔اور جہاں افسردگی مصیبت اور راحت کے احساس سے بیگانہ کر تی  ہے وہاں یاسیت خود زندگی سے ہی بیزار کر دیتی ہے۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جب تک خواہش یعنی تمنّا باقی ہے یاسیت غلبہ نہیں پا سکتی۔زندہ رہنا ہو اگر،کوئی تمنّا ڈھونڈو۔یہاں ماضی کا ایک اہم کردارسامنے آتا ہے۔نفسین کا کہنا ہے کہ موجودہ نا مساعد حالات یا افسردگی اور ذہنی دباؤ ذہن کو ماضی کی جانب مائل ہونے کی تحریک دیتے ہیں اور یادِ ماضی تمنّا کو تحریک دیتی ہے۔حال ہی میں ایک مفصّل تحقیق کا نتیجہ اپنے موضوع پر دنیا کے سب سے موقّر جریدے Nature  میں شائع ہواجس میں کہا گیا ہے کہ nostalgia  یعنی وقتاً فوقتاً پرانی یادوں میں کھو کر لطف اندوز ہونا پژمردگی اور ذہنی دباؤ سے دور رکھتا ہے۔اس کے برعکس جیسا کہ اوپر مذکور ہوا یاسیت ایک نہایت منفی اور ضرر رساں ذہنی کیفیت ہے جو انسان کو خود کشی پر بھی مجبور کر سکتی ہے۔عام طور پر کہا اور یقین کیا جاتا ہے کہ امید پہ دنیا قائم ہے اور امید انسان کو زندہ رکھتی ہے۔امید تمنّا کا ہی دوسرا پہلو ہے۔تمنّا ہے تو امید ہے۔ہر انسان کے دل میں ایک شجرِ تمنّا ہے اور جب تک اس پر ایک پتّہ بھی باقی ہے وہ یاسیت کا شکار نہیں ہو سکتا۔یاسیت جو زندگی کی نفی ہے۔حالات کتنے ہی مخالف اور مہلک ہوں زندگی کے تئیں مثبت رویّہ رکھیئے۔ماضی کی حسین یادوں کو تحریک بنایئے تاکہ امید کی لو مدھم نہ ہونے پائے اور شجرِ تمنّا ہرا بھرا رہے۔شجرِ تمنّا اصل میں شجرِ حیات ہے۔

URL: https://newageislam.com/urdu-section/a-rahman,new-age-islam/depressing-virus--all-the-trees-of-desire-are-withering--یاسیت-وائرس-مرجھا-رہے-ہیں-سارے-شجر-ہائے-تمنّا/d/121985


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..