New Age Islam
Thu Sep 16 2021, 12:48 PM

Urdu Section ( 7 Jan 2015, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Ameen اَمین

 

اداریہ

اللہ کے پیغمبروں کالقب صادق اور امین ہے ۔ إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ ( 26:107) دوسرے مقام پر ملاحظہ فرمائیے ۔ صادق بھی کہلائے۔ وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ ۚ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ...... ( 19:54) میری اس کتاب میں اسماعیل کے بارےمیں پڑھئے وہ سچا وعدہ کرتے تھے ۔ یہ دونوں وصف رسول اور انبیاء کے ہیں ۔ اللہ اپنے بندوں میں یہی اوصاف دیکھنا چاہتے ہیں ۔ صادق تو آپ جانتے ہیں ہوسکتا ہے کہ قارئین میں سے کچھ افراد لفظ امین نہ جانتے ہوں تو عرض ہے ۔ صندوق جمع صنادیق تو وہی چیز ہے جو ہمارے ہاں ۔ BOX ,CASE, TRUNK کہلاتا ہے مگر عربی صندوق کی خوبیاں  ذرا زیادہ ہیں ۔ صندوق  النقود کیش بکس اور امین الصندوق خزانچی  کیشئیر ۔عرب ممالک میں کہیں بھی فیس داخل کرنی ہوتو پوچھنا پڑے گا کہ : این الصندوق ۔ صندوق کہاں ہے؟ کھڑکی پر لکھا ہو گا ‘‘ صندوق’’  صندوق جو ایک مد ہے بیرونی امداد دینے کے لئے ۔ وہاں پہلے کوئی فیس نہیں ہوا کرتی تھی مثلاً ویزے کی دس ریال ریزیڈنٹ پرمٹ کی ایک سال کے لئے پندرہ ریال، علاج مفت، لائسنس فیس دس ریال یا ایک دینار، لائسنس تجدید کی بھی یہی  فیس تھی ۔ اب عوام بھی ہندی، پاکستانی کو لوٹ رہے ہیں ویزا اقامہ کے لاکھ دو لاکھ لیتے ہیں ۔ اور حکومت نے ہر چیز کی فیس بڑھادی ہے ۔ ہسپتالوں میں ایکسرے اور ادویات کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے اور وہ بھی معمولی نہیں ۔

یہ فیسوں کی رقم صندوق میں جمع ہوتی ہے یوں سمجھ لیجئے کہ اس صندوق میں پاکستانی بھارتی اور بنگلہ دیشیوں کا خون پسینہ ہوتا ہے۔ جو ان ہی ممالک کو امداد کے طور پر دیا جاتا ہے ۔ یہ کسی ایک ملک کی کہانی  نہیں  ہے بلکہ  مجلس خلیج التعاو نیہ کا تشکیل دیاہوا قانون ہے جو تمام خلیج پر لاگو ہے۔ اگر اس صندوق میں کبھی سکت  نہ ہو تو کسی کو کوئی امداد نہیں  دی جاتی ۔ یوں سمجھ لیجئے کہ عرب ممالک ہمارے ہی بھائی بندوں کا مارا ہوا حق ہمیں امداد کے طور پر دیتے ہیں ، جیسے بھوکے کتّے کو اس کی بھوک مٹانے کےلئے اسی کی دُم موڑ کر اس کے منہ میں  دیجائے کہ چباؤ۔ اور ایک ہم کہ برسوں سے اپنی دم چباتے آرہے ہیں اور اسی میں خوش ہیں ۔ یہ پتہ نہیں چلاتے کہ یہ پیسہ کہاں سے آتا ہے ۔

خیر میرا موضوع یہ نہیں ہے میرا موضوع   ہے  ‘‘ امین ’’ امانت دار حجر اسود کو جب اپنے مقام میں رکھنے کا معاملہ در پیش تھا تو طے یہ پایا کہ جو شخص پہلے آئے گا وہی یہ کام کرے گا، دیکھا  تو محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لارہے ہیں ۔ سب پکار اٹھے  ( جاء امین جاء امین ) یاد رہے کہ یہ واقعہ قبل از نبوت کا ہے ۔ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبلِ نبوت سے اَمین کے لقب سے  پکارے جاتے تھے اَمین یعنی قابل بھروسہ انگریزی زبان میں  RELIABLE امین المخزن اسٹور کیپر  TRUSTWORTHY امین العام ۔GENERAL SECRETARY ۔ محترم قارئین آپ نے امین کا انگریزی ترجمہ دیکھ لیا ہوگا ہر لفظ میں ذمہ داری راز داری بھروسہ اور اعتماد نظر آرہا ہے ۔ ہم سیکریٹری کو لیتے ہیں ۔ آپ نے اپنے دفتر میں ایک شخص کو سیکریٹری  رکھا تھا، اتفاق سے وہ آپ کے تمام رازوں سے واقف ہوگیا ۔ کچھ واقعات ایسے ہوگئے کہ آپ کو اسےنوکری سے نکالنا پڑا اب  وہ بیروزگار ہو کر آپ کے مخالفین کے تمبو میں جا جاکر وہ معلومات اگل رہا ہے یعنی وہ باتیں جو اُس پر دوران ملازمت آشکار ہوئی تھیں کیا ایسا  شخص بھروسے  کے قابل  ہے؟ ۔ چلئے دکان ، دفتر، ادارہ یا فرم تو کوئی خاص اہمیت  نہیں رکھتے اگر ایسا شخص سیاست سے تعلق رکھتا ہے کامیاب ہوکر اس کی رسائی حکومت کے رازوں تک ہوجائے ، کیا وہ  بھروسے کے قابل  ہے؟ وہ تو وہاں بھی یہی  کچھ کرے گا۔ ایسا شخص نہایت  خطرناک بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

محترم جاوید ہاشمی صاحب نواز شریف کا دایاں ہاتھ تھے ، جب انہیں دل کا دورا پڑا تھا تو نواز شریف خود انہیں دیکھنے ہسپتال گئے تھے ۔ اب تحریک انصاف سے نکل کر وہی کچھ کررہے ہیں حالانکہ اب میری طرح ان کی حالت        یہ ہوگئی ہے کہ ۔

نہ اٹھا جائے ہے مجھ سے نہ بیٹھا جائے ہے مجھ سے

اگر کچھ جائے ہے مجھ سے تو ہانپا جائے ہے مجھ سے

ایکسپائرڈ دوا ، ریٹائر ڈ جنرل، ریٹائرڈ سیاست دان اورپرانا ٹائر کام نہیں  آتے مشکل  یہ ہے کہ ہر محکمہ سےریٹائرمنٹ ہوتی ہے مگر سیاستدان اس وقت ریٹائر ڈہوتا ہے ۔ جب قوم کی کشتی ڈوبنے تک پہنچا دیتا ہے ۔ انگریز بڑا شاطر تھا جب ہی تو دنیا کو غلام بنا رکھا تھا وہ اچھے خاصے صحت مند کو ایک خاص عمر میں ریٹائر کردیتا تھا کہ تم اب کام کے قابل نہیں رہے چاہے گورنمنٹ ملازم  ہو یا ڈیفنس  فورس کے ، ایک خاص عمر کے بعد اسے کہتے  کہ اب تم گھر جاؤ کچن گارڈن میں گوڈی کرو بچے جو پیار کے لئے منتظر ہیں انہیں پیار دو اور رات کی بچی  ہوئی روٹی چوری کر کے مرغیوں کو کھلاؤ اور باقی عمر گھر میں گزارو۔

مگر یہ اپنی  جان کے دشمن  بن کر چلے آتے ہیں قوم کی رہنمائی کرنے۔ حالانکہ جب یہ ایک پلاٹون کی رہنمائی  اور کنٹرول کے قابل نہیں رہتے تو انہیں پینشن دے کر فارغ کر دیا جاتا ہے تو یہ قوم کی رہنمائی کے لئے کیسے خم ٹھونک کر آجاتے ہیں ؟

 صرف انگریز ہی ایک خاص عمر  میں سرکاری ملازم کو فارغ نہیں کرتے ۔ اللہ کا فرمان ہے ۔وَمَن نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ ۖ أَفَلَا يَعْقِلُونَ (36:68) اور جس شخص کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں اس کی ساخت ( Shape) کو ہی ہم الٹ دیتے ہیں ( مجموعۃ صفات النفسیۃ Moral) ہی بدل دیتے ہیں کیا، انہیں یہ دیکھ کر عقل نہیں  آتی ( 36:65) دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰ أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِن بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا ( 22:5) او رکوئی بدترین عمر کو پہنچ جاتا ہے کہ جو کچھ یاد کیا ہوتا ہے وہ سب کچھ فراموش کر دیتا ہے۔ أَرْذَلِ الْعُمُرِ ۔ کے معنی ہیں کہ کوئی تم میں سے۔ Reject, Discard, To cast off or away ریجیکٹ عمر کو پہنچ جاتا ہے۔ اب خود اندازہ لگائیں کہ کیا اسے قوم کی قیادت سونپنی  چاہیے؟ ۔ قیادت کے انتخاب کو نشان دہی رب نے خود فرمائی ہے ۔ او ران کے نبی نے ان سے کہا کہ اللہ نے تم پر طالوت کو بادشاہ بنایا، یہ سن کر وہ بولے ہم پر بادشاہ بننے کا وہ کیسے حقدار ہوگیا ہے اس کے مقابلے میں بادشاہی کے ہم زیادہ مستحق  ہیں ۔ وہ تو کوئی بڑا مالدار آدمی نہیں ہے ۔ نبی نے جواب دیا اللہ نے تمہارے مقابلے میں اسے منتخب  کیا ہے ۔ اسے دماغی  اور جسمانی اہلتیں  دونوں فراوانی سے عطا ء کی گئیں ہیں اللہ  کو اختیار  ہے ہر چیز اس کے علم میں ہے ۔ ( 2:245)

نومبر، 2014  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ، کراچی

URL:

https://newageislam.com/urdu-section/a-letter-to-editor-of-monthly-sautul-haq/ameen--اَمین/d/100902

 

Loading..

Loading..