New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 02:06 AM

Urdu Section ( 3 Oct 2009, NewAgeIslam.Com)

Our Leader Is Not Ours ہمارے لیڈر ہمارے لیڈر نہیں

ہارون الرشید

ہر چیز کامگر اللہ نے وقت مقرر کررکھا ہے ،ایک رہنما کے طلوع ہونے کا بھی۔اور صرف سچی دعا ہے جو انتظار کو مختصر کرسکتی ہے ۔قلب مضطر ب سے نکلتی ہوئی بے تاب دعا۔

تحریک انصاف کی مجلس عاملہ سارادن اس سوال سے بحث کرتی رہی کہ عمران خان کو لاہور سے قومی اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لینا چاہئے یا نہیں۔اکثریت اگر چہ حامی تھی مگر اتفاق رائے نہ ہوسکا۔ ایک دن پہلے کپتان نے کہا تھا کہ اجلاس ہوچکے گا تو رات کے کھانے پر تبادلہ خیال ہوگا۔ طبیعت ماندتھی اور پچاس منٹ کے طویل سفر پر دل آمادہ نہ تھا مگر وعدہ نبھانے کے لئے جانا پڑا ۔بحث تمام ہوچکی اور ہم اسے گھر چھوڑ نے گئے تو میں نے کہا:شب بستر پر دراز ہونے سے پہلے، دونفل پڑھے اور اللہ سے یکسوئی کی دعاکرے ۔سحر وہ سوکو اٹھے گا تو اس کا ذہن واضح ہوجائے گا۔ اسی کو استخارہ کہتے ہیں اور اللہ کے آخری رسول ﷺ کا فرمان یہ ہے کہ استخارہ کرنے والا کبھی نامراد نہ ہوگا۔ مجھے الجھن ہوئی کہ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ دوسری اور پھر تیسری بار۔آخر کاروہ مان گیا اور اس نے کہا کہ وہ ضرور دعا کرے گا۔

روحانی بالیدگی اور رہنمائی کے بغیر مسلمانوں کے لیے ذاتی اور اجتماعی زندگی میں نجات کا کوئی راستہ نہیں ۔ جو تقدیریں بناتا ہے ، وہی تقدیریں بدلتا ہے۔ وہی تو بہ قبول کرتا ہے اور وہی ظلمتوں میں راہ دکھاتا ہے ۔قرآن کریم میں ہے‘‘اللہ مومنوں کا ولی ہے،تاریکی سے وہ انہیں روشنی کی طرف لے جاتا ہے اور شیطان کفّار کا ولی ہے، روشنی سے وہ انہیں تاریکی میں لے جاتا ہے ’’ ۔سلطان محمود غزنوی کبھی کامران نہ ہوتے ،اگر ہندوستان پر حملہ کرنے سے پہلے ۔جس کے حکمرانوں نے غزنی کی رعایا کو عذاب میں مبتلا کررکھا تھا۔حضرت علی بند عثمان ہجویری (داتا گنج بخشؒ ) کی خدمت میں حاضر نہ ہوتے ۔شہاب الدین غوری خیرہ کن فتح حاصل نہ کرپاتا ،اگر یلغار سے پہلے اس کے پیامبر خواجہ معین الدین چشتیؒ سے وہ ورسم نہ  بڑھاتے۔ بلبن کبھی تاجدار نہ ہوتا ،اگر فرید الدین شکر گنج ؒ اس کی پشت پر اپنی پوری تائید کے ساتھ کھڑے نہ ہوتے ۔ دیبال پور کے نواح سے اس کا لشکر گزررہا تھا اور تب یہ دہلی کی شاہراہ تھی۔ لشکریوں نے اصرار کیا کہ وہ اپنے عصر کے سب سے بڑے سکالر اور روحانی پیشوا کی زیارت کئے بغیر نہ جائیں گے ۔صوفی کا سلیقہ ۔کچھ سپاہیوں سے انہوں نے ہاتھ ملایا لیکن پھر وہ قدرے بلندی پر جاکھڑے ہوئے اور اپنا کرتہ لٹکا دیا۔غازیوں کی سپاہ کا ایک ایک جانباز اس کرتے کو چھوتے ہوئے گزرگیا۔

اللہ اپنے اختیارات بندوں کو سونپ نہیں دیتا ۔آخری تجربے میں شیخ اور مرید کا تعلق اصل میں استاد اور شاگرد کا ہوتا ہے ۔ داتا گنج بخشؒ ،خواجہ غریب نواز ؒ اور فریدالدین شکر گنجؒ اپنی طرف نہیں ،خلق خدا کو پروردگار کی طرف دعوت دیتے تھے۔سچے ایمان ،صداقت شعاری ،مظلوموں اور محتاجوں کی دست گیری کے لئے ۔مجھے اس میں رتّی برابر بھی شبہہ نہیں کہ تحریک انصاف کی کامیابی کا راستہ گوجر خان سے ہوکر گزرتا ہے۔ مکرّر عرض ہے کہ اختیار اللہ کا ہے، کسی بندے کا نہیں اور یہ تو ہر گز نہیں ہے کہ ان کی سب آرا سے اتفاق کیا جائے ۔ بات وہی ماننی چاہئے ، جس پر دلائل و شواہد موجود ہوں اور کوئی کتنا ہی لائق ودانا ہو، اس کی رائے سے گریز کرنا چاہئے۔ اگر وہ قائل نہ کرسکے ۔مگر آدمیوں میں، جن کی نگاہ برق اور چہرہ آفتاب نہیں ہوتا ،اہل علم اور اہل فضیلت ہوتے ہیں۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ جب کوئی الجھن یا تنازعہ آپڑے تو ‘‘ راسخون فی العلم’’ سے رجوع کرو۔عمران خان کی درخواست پر پروفیسر صاحب نے تحریک انصاف کی دسویں سالگرہ سے خطاب کیا۔ بعد میں حیرت سے اس نے کہا کہ قاضی حسین سے خطاب کیا۔ بعد میں حیرت سے اس نے کہا کہ قاضی حسین احمد ایسے خطیب اور خود اس کی تقاریر پر صوفی کا سخن غالب آیا ۔ گھنٹہ بھر درویش نے سیاست کے اخلاقی تقاضوں پر روشنی ڈالی۔ سامعین سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہی سب سے دلکش تقریر تھی۔ تحریک انصاف کا انہوں نے نام تک نہ لیا اور عمران خان کے بارے میں صرف یہ کہا:کپتان کے بارے میں مجھے یقین ہے کہ وہ کبھی میچ فکش نہ کرے گا۔ جبّہ وعمامہ اور نہ دستار، پروفیسر احمد رفیق اختر ایک عام آدمی کا حلیہ رکھتے ہیں۔ اصلاً انگریزی کے استاد ،مگر قرآن کریم، حدیث، سیرت ،تاریخ اور اس کے نتیجے میں سیاست پر ایسی نگاہ کہ آدمی حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ لیڈر ،دانشور اور اخبار نویس وہاں جاتے ہیں ششدر لوٹتے ہیں۔ سیاست کے نہیں دراصل وہ زندگی کے راز داں ہیں۔ وہ تاریخ کے دھارے ، جبلّوں کے تعامل اور انسانی مزاجوں کے سمجھتے ہیں۔ ادبی جمالیات اور مذبہی آموختہ نہیں ، زندگی کی کڑی سچائیاں ۔اللہ کے آخری رسول ﷺ نے فرمایا تھا:مومن اللہ کے نور سے دیکھتا ہے ۔عبقری آئن سٹائن کا قول یہ ہے: دیکھنا صرف یہ ہوتا ہے کہ اس ذاتِ قدیم (اللہ) کی منشا کیا ہے، باقی تفصیلات ہیں ۔ میاں شہباز شریف کو میں خوش قسمت نہیں پایا ۔ازراہِ ہمدردی، میں نے ان سے کہا تھا کہ وہ کسی وقت خاموشی سے گوجر خان چلے جائیں ۔ ادھر ادھر مختلف لوگوں سے وہ پوچھتے رہے کہ درویش کے بارے میں ان کی رائے کیا ہے ۔

پروفیسر صاحب سے میں نے تذکرے کے طور پر بات کی۔ ناراض وہ نہیں ہوتے لیکن قدرے الجھن سے انہوں نے کہا کہ حکمرانوں سے رہ ورسم کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں ، پھر اضافہ کیا: اللہ نے ہر چیز کا وقت مقرر کررکھا ہے۔لیڈر لوگ جائیں تو وہ خوش نہیں ہوتے نہ کوئی امید باندھتے ہیں لیکن سوال کرنے والے کے سوال کا جواب اور مشورہ مصیبت کے مارے آزاد کشمیر کے ایک وزیر اعظم کا ہاتھ پکڑ کر، میں اسے گوجر خان لے گیا۔ انہوں نے دعائیں تعلیم کیں اور اونچ نیچ سمجھادی ۔ رنجیدہ ہوکر مستعفیٰ ہونے پر تلے آدمی نے باقی برس خیریت سے گزردیئے مگر اللہ کا ایسا بندہ تھا کہ پھر لوٹ کرکبھی نہ گیا۔ لیڈروں کو میں ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے دیکھتا ہوں اور حیران ہوتا ہوں ۔ پروفیسر صاحب تو غیر معمولی رفعت کے آدمی ہیں مگر تعجب ہے کہ سیاسی جماعتیں اعجاز شفیع گیلانی ،ڈاکٹر خورشید رضوی اور محمد الغزالی سمیت نمایاں اور درد مند ایل علم کو اپنے ہاں مدعو کیوں نہیں کرتیں ۔سرخ سویت فوج افغانستان میں داخل ہوئی تو امریکی کانگریس نے افغان امور کے عالم لوئی وپری کو خطاب کے لئے مدعو کیا۔ جنرل محمد ضیا الحق کی کامیابی ادھوری تھی کہ جنرل کبھی پورا حاکم نہیں ہوتا لیکن وہ مولانا علی میاں ایسے لوگوں سے نیاز مندانہ ملتے تھے ۔ شاہ فیصل مرحوم نے بھی ایک بار انہیں مدعو کیا تھا۔ کچھ دیر میں محافظوں نے سلطان کی سسکیاں سنیں ۔وہ سمجھے کوئی حادثہ ہوگیا، لپک کر گئے تو بادشاہ کوگریاں دیکھا ۔ استفسار پر بتایا کہ جلیل القدر حکمرانوں کی سوانح کے اوراق پلٹے گئے تو وہ خود پر قابو نہ رکھ سکا۔

خبر ہے کہ نواز شریف جدّہ سے دبئی پہنچے ،جہاں ان کا مال رکھا ہے۔ وہاں سے وہ واپس لند ن جائیں گے۔یہاں ان کے صاحبزادے نے کمرشل پراپرٹی میں 66ارب روپے (500ملین پاؤنڈ ) کی سرمایہ کاری کررکھی ہے۔ راہ سجھائی نہیں دیتی ،فیصلہ نہیں کرپاتے کہ کیری لوگر بل پر اظہار خیال کریں یا نہ کریں ۔لاہور سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑیں یا نہ لڑیں ۔جماعت اسلامی اچھی ہے۔ کشمیر کے زلزلے اور سوات کے فساد میں محتاجوں کی مدد کی۔ استعمار کی مخالف ہے مگر حالت دیکھئے کہ الیکشن کا غلغلہ بلند ہواتو ق لیگ سے مدد مانگی ۔ شیخ رشید سے لین دین پر غور۔لال مسجد کے قتل عام اور امریکی چاکری پر فخر کرنیوالے پرویز مشرف کے کارندوں سے امید؟

شاعر نے کہا: بدّو! جس راستے پر تو روانہ ہے، وہ ترکستان کو جاتا ہے ، حجاز کو نہیں ۔ ہمارے لیڈر نہیں سرے سے وہ رہنما ہی نہیں اتنی ترجیحات انہیں معلوم نہیں راستے کی خبر نہیں رکھتے ۔ وہ تو خود محتاج ہیں ۔ راستہ تو بس ایک ہے، اللہ کا راستہ ۔سچائی ،ایثار، خودداری ،قومی اتحاد ،اعتدال اور جدوجہد کا راستہ۔ باقی پگڈنڈیاں ہیں ، تاریکیوں میں گم ہوجانے ، سرابوں پر تمام ہونیوالی پگڈنڈیاں ۔ہر چیز کا مگر اللہ نے وقت مقرر کررکھا ہے، ایک رہنما کے طلوع ہونے کا بھی ۔ اور صرف سچی دعا ہے جو انتظار کو مختصر کرسکتی ہے۔قلب مضطرف سے نکلتی ہوئی بے تاب دعا۔

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/our-leader-is-not-ours--ہمارے-لیڈر-ہمارے-لیڈر-نہیں/d/1843


 

Loading..

Loading..